ڈسکہ سانحہ؛ ریاست سے نفرت کی ایک جھلک؟

ڈسکہ سانحہ؛  ریاست سے نفرت کی ایک جھلک؟

Nara-e-Mastana
 

ڈسکہ میں پولیس اور وکلا میں تصادم خونیں لڑائی میں تبدیل ہو ا تو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو مدا خلت کرنا پڑی اور رینجرز کو شہر میں امن و امان کی ذمہ داری سنبھالنے کا حکم دینا پڑا۔ پنجاب میں یہ واقعہ پہلی بار نہیں ہوا۔ ماڈل ٹاؤن سانحہ میں پولیس گردی سے تو سب ہی واقف ہیں۔ پنجاب پولیس کی بے حسی اور وزیر اعلی شہباز شریف کی خا موشی سمجھ سے بالا تر ہے۔ واقعےکے حقائق تو چند روز میں سامنےآ جائیں گے لیکن ہمیشہ کی طرح خدشہ یہی ہےاعلیٰ حکام سمیت تمام ملزمان باعزت بری کردیے جائیں گے۔ یہ جنگ تو وکلا اور پولیس کے درمیان تھی لیکن عام آدمی نے جس طرح غنڈہ گردی کی وہ تشد د پسند معاشرے کی ایک جھلک تھی۔انصاف سے محروم عام آدمی تو موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور جب بھی موقع ملتا ہے تو وہ ریاست سے نفرت کے اظہار میں دیر نہیں کرتا۔
انصاف سے محروم عام آدمی تو موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور جب بھی موقع ملتا ہے تو وہ ریاست سے نفرت کے اظہار میں دیر نہیں کرتا۔
پنجاب میں امن و امان کی صورتحال تو کھبی بھی ٹھیک نہیں رہی لیکن دوسروں کوقانون کی باتیں سمجھانےوالوں نےخودہی قانون کی دھجیاں اڑادیں۔ایک وکیل نے تو تمام حدود بالائے طاق رکھتے ہوئے پولیس اہلکارسے سرکاری بندوق چھین کراسے ہی ہتھیاربنالیا، اس کا ساتھ دینے کو دوسرےوکیل بھی دوڑے آئےاورپولیس اہلکارکی یوں ٹھکائی شروع کردی جیسےکوئی بےدردی سےسالوں پرانی کسی رنجش کابدلہ لےرہاہو۔ایک سپاہی سے اس کی سرکاری بندوق چھین کر اسے تشدد کا نشانہ بنا نے پر کون سی دفعات لگیں گی یہ ان وکلا سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
خا کی پتلون اور کالی قمیص پہننے والے ہیں تو عام شہری لیکن یہ وردی ریاست پاکستان کی ملکیت ہے۔ مگروکلا کو جہاں مو قع ملا انہوں نے تشدد کیا، ان کےسامنےجوچیزبھی آئی اسےتہس نہس کردیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وکلا کی ہلاکتوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مگردوسروں کوانصاف دلانے والوں نےآج سڑکوں پراپنی عدالت لگا لی،اورخود ہی گواہ،وکیل اور منصف بن کر تشدد کا فیصلہ سنایا۔وکلا ءنے تشدد کا راستہ اپنا یا اور ریاست پر حملہ کیا تو عام عادمی بھی نے بھی بے بس اور خاموش ریاست پر دھا وا بول دیا۔ عام آدمی کا ریا ستی اداروں پر حملہ سمجھ سے باہر ہے۔
کالے کوٹ والوں اور عام آدمی کا کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا تو انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کے سرکاری گھر کو گھیر لیا اور اسے بھی شعلوں کی نذر کر دیا شکر ہےکہ اُن کے اہل خانہ کو پہلے ہی نکال لیا گیا تھا
ڈسکہ کے مقامی افراد نے وکیلوں کے ساتھ مل کر ڈی ایس پی آفس کا گھیراؤ کیا، اور اندر موجود کسی چیز کوصحیح سلامت نہ رہنے دیا۔ گملے توڑے،عمارت کے اندر گھس کر دفتر کا فرنیچر توڑااورپھربھی تسلی نہ ہوئی توآگ لگا دی۔ مشتعل ہجوم نے ٹی ایم اے آفس اوراسسٹنٹ کمشنر کا گھر بھی جلا دیا۔مقامی افرادبھی اسپتا لوں کے اندر اور باہر وکیلوں کے ساتھ مل کر پولیس اوردوسرےافرادپر تشدد کرتے رہے۔مشتعل ہجوم نےمعاملہ سلجھانےکی بجائےآگ مزیدبھڑکا دی۔ معا ملہ کچھ بھی ہو لیکن ایک بات واضح ہے کہ عام آدمی کے ہاتھوں خوب قانون شکنی ہوئی۔
کالے کوٹ والوں اور عام آدمی کا کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا تو انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کے سرکاری گھر کو گھیر لیا اور اسے بھی شعلوں کی نذر کر دیا شکر ہےکہ اُن کے اہل خانہ کو پہلے ہی نکال لیا گیا تھا۔آگ دوسرے شہروں میں پہنچی تو کالے کوٹ والوں کے کالے کرتوت کھل کر سامنے آئے۔ ملتان میں وکلا نے پولیس اہلکاروں کا عدالتوں میں داخلہ ہی بند کر دیا جبکہ لاہور میں وکلا نے پہلے تو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی گاڑی کا گھیراؤ کیا اور پھر مال روڈ سے گذرنے والی کمشنر لاہور کی گاڑی کو روک کر اس کے شیشے بھی توڑ دیئے۔ انتقام کی آگ میں جلنے والے وکیلوں کے گروہ چُن چُن کر سرکاری عمارتوں اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بناتے رہے لیکن کسی نے انہیں روکنے کی جُرات نہیں کی۔ جس کا جو جی چاہا اُس نے وہی کیا اور گڈ گورننس کا ڈھول پیٹنے والی پنجاب حکومت چُپ چاپ سب کچھ دیکھتی رہی۔سیالکوٹ کے شہر ڈسکہ میں ایک گولی چلی جس نے کچھ ہی دیر میں پنجاب میں گڈگورننس اور مثالی امن وامان کے دعوؤں کو سربازار ننگا کردیا۔ پنجاب بھرمیں پھیلنےوالی اس بدامنی کو حکومت کی پسپائی تصور کیا جائے،یا حکومت جان بوجھ کر آگ کو بھڑکنے دےرہی ہے اس بات کا فیصلہ تو بعد میں ہو گا لیکن کمزور طرز حکومت نے لوگوں کو ریا ست کے خلاف اٹھنے پر مجبور کیا اور لوگوں نے ایک بار اپنی نفرت کا اظہار کھل کر کیا۔
Ajmal Jami

Ajmal Jami

Ajmal Jami is a journalist currently working with Dunya News as an anchorperson and special correspondent. His M. Phil thesis on Mumbai Attacks and Role of Media in Peace Process has been published as a book. He writes regularly on national politics and social issues for Laaltain and Dunya Blog.


Related Articles

قوم کے منہ پر طمانچہ

جشن آزادی کےموقع پر اس دفعہ کراچی کے عوام میں کافی جوش و خروش دیکھنے میں آیا ۔

کومبنگ آپریشن بلوچوں کے خلاف جنگ میں تیزی لانے کا بہانہ ہے

زہری مشک اور محمد تاوہ میں داعش کے کیمپ موجود ہیں، جن کی سرپرستی بعض سیاسی رہنما خود کر رہے ہیں۔

آزاد ہو کر بھی ہم آزاد نہیں

گلگت بلتستان کے عوام پچھلے اڑسٹھ سالوں سے یکم نومبر کو یوم آزادی بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ مناتے آرہے ہیں۔