ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ؛ ایک خوشگوار تبدیلی

ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ؛ ایک خوشگوار تبدیلی
کرکٹ کی تاریخ میں 15 مارچ 1877 کا دن بہت اہمیت کا حامل ہے جب آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا گیا۔ پہلے ٹیسٹ میچ سے لے کر 27 ستمبر 2015 تک اگرچہ کرکٹ کے کھیل میں بہت سی تبدیلیاں آئیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں کھلاڑیوں کی وردی اور کھیل کا وقت تبدیل نہیں ہوا۔ روایتی طور پر ٹیسٹ کرکٹ کی اصل صورت برقرار رکھنے کے لیے سفید وردیاں، سرخ گیند اور دن کے وقت کھیل جیسی روایات برقرا رکھی گئیں مگر27 ستمبر 2015 کے دن یہ روایات بھی بدل گئیں جب آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ڈے اینڈ نائٹ میچ کھیلا گیا۔

کرکٹ ماہرین اور پنڈتوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر جتنے بھی کھیل کھیلے جا رہے ہیں ان میں سب سے زیادہ تبدیلیاں کرکٹ میں لائی جا رہی ہیں۔
کرکٹ کا کھیل بھی عجب کھیل ہے جو بہت تیزی سے اپنی شکل بدل رہا ہے۔ کرکٹ ماہرین اور پنڈتوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر جتنے بھی کھیل کھیلے جا رہے ہیں ان میں سب سے زیادہ تبدیلیاں کرکٹ میں لائی جا رہی ہیں۔ یہ تبدیلیاں کھیل کے قوانین اور کرکٹ کھیلنے کے انداز دونوں میں آئی ہیں۔ پہلے پہل گیند بازی کا انداز بدلا پھر کھیل کے میدان کا رقبہ، ایک اوور میں گیندوں کی تعداداور میچ کا دورانیہ تک کم زیادہ ہوتا رہا، سات دن کا ٹیسٹ پانچ دن کا ٹسٹ میچ ہوا، آٹھ گیندوں کا اوور چھ گیندوں کا ہو گیا، پہلے ایک روزہ کرکٹ مقابلے متعارف ہوئے اور اب ٹی ٹونٹی۔ ٹی ٹونٹی بلاشبہ کرکٹ کا سب سے مقبول فارمیٹ بن چکا ہے ار اس کی وجہ سے ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔

کرکٹ بہت سے دوسرے کھیلوں سے اس لحاظ سے منفرد رہی ہے کہ ہر دو ٹیمیں جو گراؤنڈ میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں ان میں ایک بات مشترک تھی کہ ان کی وردی (Uniform) ایک جیسی اور وہ بھی سفید رنگ کی رکھی گئی تھی۔ کرکٹ کے کھیل میں استعمال ہو نے والی سرخ گیندکی جگہ سفید گیند اور سفید وردی کی جگہ رنگ برنگی وردی نے لے لی ہے، دن کی روشی کے ساتھ رات کو مصنوعی روشی میں ڈے اینڈ نائٹ میچ بھی متعارف کرائے گئے۔ جنٹلمین سے فیشن کے رنگ تک کی کہانی کی تفصیل بھی بہت لمبی ہے۔

پانچ دن یا چار اننگز کے بجائے کرکٹ اب ٹی ٹونٹی کی شکل میں پسند کی جاتی ہے جو تیز رفتار، سنسنی خیز اور گلیمر سے بھرپور مختصر دورانیے کی کرکٹ ہے۔
اگرچہ اب ون ڈے اور ٹی ٹونٹی فارمیٹ بے حد مقبول ہیں لیکن کرکٹ کا اصل معیار ٹسٹ میچ میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یوں تو بہت سے ممالک کی کرکٹ کی ٹیمیں ہیں جن میں سے کئی ممالک کی ٹیمیں انٹرنیشنل میچ بھی کھیل چکی ہیں مگر ٹیسٹ ٹیم کا درجہ ابھی تک صرف نو ممالک کے پاس ہے۔ ماہرینِ کھیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرکٹ کے کھیل میں تبدیلیاں اصل میں اس کھیل کو زیادہ سے زیادہ مقبول بنانے کی خاطر کی گئیں۔ ٹیسٹ میچ جو عام طور پر پانچ دن پر محیط ہوتا ہے کے ساتھ جب ایک روزہ میچ متعارف کرایا گیا تو اس کھیل کو واقعی فروغ ملا، اور اس کے شائقین کی تعداد بھی بڑھی۔ ون ڈے میچ کا نتیجہ یقینی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی دلچسپی بڑھ گئی جہاں ٹسٹ میچ فری ٹکٹ تھا وہاں ون ڈے میچ کے ٹکٹ قطاروں میں بکے اور ٹی ٹونٹی کا ٹکٹ تو ملتا ہی چور بازار سے ہے۔ پانچ دن یا چار اننگز کے بجائے کرکٹ اب ٹی ٹونٹی کی شکل میں پسند کی جاتی ہے جو تیز رفتار، سنسنی خیز اور گلیمر سے بھرپور مختصر دورانیے کی کرکٹ ہے۔

ٹی ٹونٹی کی آمد اور مختلف ملکوں میں کرکٹ لیگوں کے آغاز کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کی مقبولیت کم ہونے لگی ہے۔ کرکٹ کی اس حقیقی اور خالص شکل کو بچانے کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کے لئے ایک اور تبدیلی تجویز کی گئی اور دن کے بجائے "ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ" کھیلنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ روایتی ٹسٹ کو تبدیل کرنا ضرورت اور مجبوری بن گیا تھا۔ 27 سمبر 2015 کوآسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ نے کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا باب شامل کیا ہے۔ 138 سال میں یہ پہلا موقع تھا جب ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کھیلا گیا۔ اب کرکٹ روایتی اور کلاسیکی نہیں بلکہ ایک جدید اور روایت شکن کھیل بن چکا ہے۔ 1877 سے شروع ہونے والی ٹیسٹ کرکٹ کی روایت جو کئی تبدیلیوں کے باوجو اپنی اصل حالت میں موجود تھی ٹی ٹونٹی کی چکاچوند سے بچ نہیں سکی۔ گزشتہ ایک دہائی سے ٹیسٹ کرکٹ کی تیزی سے کم ہوتی مقبولیت کی وجہ سے آج اسے بچانے کی خاطر اس میں جدت کا رنگ بھرنا لازمی ہو چکا ہے۔ ان حالات میں جب شائقین نہ میدان میں ملیں اور نہ ہی ٹی وی پر، تو کب تک روایت کے نام پر ٹیسٹ کرکٹ کی اصل شکل کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

ٹیسٹ میچوں کے مقابلے میں ایک روزہ مقابلوں کو تقریباً 50 فیصداور ٹی ٹونٹی میچوں کو 70 سے 80 فیصد تک زیادہ دیکھا اور پسند کیا جاتا ہے۔
ٹیسٹ میچوں کے مقابلے میں ایک روزہ مقابلوں کو تقریباً 50 فیصداور ٹی ٹونٹی میچوں کو 70 سے 80 فیصد تک زیادہ دیکھا اور پسند کیا جاتا ہے۔ کرکٹ آسٹریلیا کے جیمز سدرلینڈ اور سابق آسٹریلوی کپتان مارک ٹیلر کا کردار اہم ہے جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کو دوبارہ مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے خاص طور پر جیمز سدرلینڈ جس نے گزشتہ سات سالوں سے اس مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے نت نئی تجاویز دی ہیں۔ جیمز نے میدان میں شائقین اور ٹی وی پر ناظرین کی گھٹتی تعداد کے پیش نظر ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کا خیال بھی پیش کیا میدان اور ٹی وی دونوں پر اس اقدام سے یقیناً ناظرین کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ جیمز سدرلینڈ کے انہی خیالات سے مطمئن ہو کر آئی سی سی نے ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ کی منظوری دی ہے۔ ابھی صرف آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان ڈے اینڈ نائٹ ٹسٹ میچ ہوا ہے اور اس کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں جس کے بعد ایک اور تبدیلی کی بھی بات کی جا رہی ہے اور وہ ہے پچیس پچیس اوورز کی چار اننگز کا ٹیسٹ میچ۔ ماہرین اس تجویز کی حمایت یہ دلیل دیتے ہوئے کرتے ہیں کہ آج یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کرکٹ کس سمت میں جا رہی ہے۔ آج لوگ فوری نتائج چاہتے ہیں ایسے میں پانچ دن تک دلچسپی برقرار رکھنے کے لئے اوورز محدود کرنا بہت ضروری ہے۔ کچھ سینئر سابق ٹیسٹ کرکٹرٹیسٹ کرکٹ کی روایت سے چھیڑ چھاڑ کو ٹیسٹ کرکٹ کا چہرہ بگاڑنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں اور اس کی مخالفت کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ٹی 20 کرکٹ کی چکاچوند سے ٹیسٹ کرکٹ متاثر ہو رہی ہے جسے بچانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس میں بھی و ہی رنگ بھر دیئے جائیں جو ٹی ٹونٹی کرکٹ میں ہیں۔ بعض ماہرین ٹیسٹ کرکٹ کو اس کے اصل رنگ میں برقرار رکھتے ہوئے ایک روز کرکٹ ختم کرنے کی تجویز پیش کر رہے ہیں، ان کے خیال میں ون ڈے کرکٹ کی کمی ٹی ٹونٹی کرکٹ کے ذریعے پوری ہو سکتی ہے لیکن ٹیسٹ کرکٹ کا اصل رنگ روپ ختم کر دیا گیا تو یہ کرکٹ کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ کچھ بھی ہو بہر طور یہ بات طے ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کے لیے اہم فیصلے کرنا پڑیں گے وگرنہ یہ اپنی جگہ برقرار نہیں رکھ سکے گی۔

Related Articles

ایگزیکٹ کمپنی سکینڈل اور میڈیا

ایگزیکٹ کمپنی کی جعل سازی کا انکشاف نیو یارک ٹائمز نے کیا ، وزیر داخلہ نے تحقیقات کا حکم دے دیا ، ایف آئی اے نے چھاپے مارنے شروع کر دیے ، دفتر بند ہو گئے لیکن یہ سب ایک اخباری رپورٹ کے بعد ہونے والی معمول کی کارروائی ہے۔

کاش میں صحافی بن سکتا

نہ تو میرا باپ کوئی مشہور اداکار ہے نہ ہی میں سپریم کورٹ سے اپنا لائسنس معطل کروانے والا وکیل ہوں، نہ ہی میں مشرف اور بلاول کا مشیر اور تیسرے درجے کا وکیل رہا ہوں نہ ہی میں اشتہارسازی کی دنیا کا گرو یا کسی فلم کا ہدایت کار ہوں شاید اسی لیے مجھے صحافی بننے کا کوئی حق نہیں۔ مجھے اپنے سینئرز سے اپنے یونیورسٹی کے اساتذہ سے بہت گلا ہے ،انہوں نے مجھے کامران شاہد، بابر اعوان، فواد چوہدری، مبشر لقمان اور شاہد مسعود، شاہ زیب خانزادہ ، فریحہ ادریس، مہر بخاری یا منزہ جہانگیر کی طرح کا صحافی بننے کا طریقہ نہ پڑھایا نہ سکھایا۔

Paris Attacks: In Defense of Secularist Principles

Months after the Charlie Hebdo incident, ISIS is using fear to polarise communities in the West, to mirror its own twisted vision of ideological purity, where like medieval times, your faith is your uniform on the battlefield.