کائنات کا آخری دکھ

کائنات کا آخری دکھ

خدا کے گھر میں نقب لگاکر
روٹیاں چرانے والے
جب فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کھانے لگے
کئی دن سے بھوکے کتوں نے شور مچاکر
پہرے داروں کو آگاہ کر دیا

وہ تین تکونی بارگاہ میں پیش کئے گئے
تو انصاف کی اونچی مسند پر
تسبیح کے دانوں نے دستک دی
جو مسمار شہر سے برآمد ہوئے
اور سستے داموں خریدے گئے فتوؤں کا عکس
ایک دائرے میں
روحانی مسرت سے جھومنے لگا

سوچ کے سناٹے میں بیان کیا گیا
کائنات کا آخری دکھ
مگر خاموشی کے ساتھ طے کردی گئی
شہر کے وسطی چوک میں شورمچاتی
موت کے جشن کی تاریخ
اور پتھروں کی بارش کے ڈر سے
ڈسٹ بن میں پھینک دیاگیا
بھوک کا دستخط شدہ خط بھی

پھر خداکے نام کی تختی دیکھ کر گھنٹی بجانے والوں نے
کٹہرے کو کئی بار چوما
اور اندھیرے کے آگے سجدہ ریز ہو گئے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

لکھتے رہو

ابرار احمد: تو پھر لکھتے رہو
بیگار میں
بیکار میں لکھتے رہو
کیا فرق پڑتا ہے

اونگھ

عشق وہ سرحدِ افلاکِ تمنا پہ کھڑا
طائرِ کوتاہ
جو پھیلائے اگر پنکھ
زمانوں میں سما جائے
مگر ڈرتا ہے

نظم مجھے ہر جگہ ڈھونڈ لیتی ہے

نصیر احمد ناصر: میں اُسے نہیں لکھتا
وہ مجھے لکھتی رہتی ہے
اَن کہے، اَن سنے لفظوں میں
اور پڑھ لیتی ہے مجھے
دنیا کی کسی بھی زبان میں