کائنات یا کائناتیں؟

کائنات یا کائناتیں؟

فلپ بال گزشتہ بیس برس سے معروف سائنسی جریدے "نیچر" کے مدیر ہیں اور سائنس کے موضوع پر متعدد مضامین کے مصنف ہیں۔ ان کا یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

متوازی کائناتوں کا تصور جو کبھی سائنس فکشن کا حصہ ہوتا تھا اب سائنسدانوں یا کم از کم طبیعیات دانوں—جن میں یہ اہلیت ہے کہ وہ تصورات کو حقیقت کی حدوں تک لے جاتے ہیں-- کے درمیان بھی قابلِ تعظیم بنتا جا رہا ہے۔

درحقیقت یہاں بہت زیادہ دوسری ممکنہ کائناتیں ہیں۔ طبیعیات دانوں نے کثیرِنات(multiverse) کے لیے بہت سارے امیدوار تجویز کیے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کو طبیعیات کے قوانین کے مختلف پہلو ممکن بناتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم ممکنہ طور پر کبھی بھی ان دوسری کائناتوں میں جا کر ان کے وجود کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم کوئی ایسا راستہ نکال سکتے ہیں جن سے ہم ان تمام کائناتوں کے وجود کو پرکھ سکیں جن کو ہم دیکھ یا چھو نہیں سکتے۔
دنیاؤں کے اندر دنیائیں۔
یہ کہا جاتا ہے کہ ان متبادل کائناتوں میں سے کم از کم کچھ میں ہمارے جڑواں(doppelgangers) ہیں جو بالکل یا تقریباً ہماری ہی طرح کی کائنات میں رہ رہے ہیں۔

یہ تصور ہماری خودی کو جھنجھوڑتا ہے اور ہمارے تخیل کو بیدار کرتا ہے۔۔بلا شبہ یہی وجہ ہے کہ کثیرِنات کے نظریات کو نا آشنا ہو نے کے باوجود بھی مقبولیت کا درجہ حاصل ہے۔ہم نے متبادل کائناتوں کو فکشن کے کاموں جیسا کہ فلپ کے ڈک کے the man in high castle سے لے کر فلموں جیسا کہ sliding doors تک قبول کر لیا ہے۔

مذہبی فلسفی میری جین روبنسٹائن(Mary-Jane Rubenstein) 2014 میں لکھی گئی اپنی کتاب بے کنار دنیائیں(Worlds without ends) میں وضاحت کرتی ہیں کہ تصورِ کثیرِنات کے بارے میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔

سولہویں صدی کے وسط میں کوپرنیکس(Copernicus) نے دلیل دی کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں ہے۔ کچھ دہایئوں بعد گلیلیو نے اپنی دوربین سے ایسے ستاروں کو دیکھا جو پیمائش کی حدوں سے باہر تھے یہ کائنات کی وسعت کی ایک جھلک تھی۔

لہٰذا سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو (Giordano Bruno) نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہےاور اس میں لامتناہی تعداد میں دنیائیں آباد ہیں۔

سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی  گیاردانو برونو  نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہے۔

سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو (Giordano Bruno) نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہے۔

یہ خیال کہ کائنات میں بہت سارے نظامِ شمسی موجود ہیں اٹھارویں صدی میں عام موضوع بن چکا تھا۔

بیسویں صدی کے آغاز میں آئرش طبیعیات دان ایڈمنڈ فورنیئر دی البی(Edmund Fournier d’Albe) نے تجویز دی کہ ممکن ہے کہ زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم سائز کی متصل کائناتوں کا لامتناہی سلسلہ موجود ہو۔ اس تناظر میں ایک انفرادی جوہر(atom) ایک حقیقی آباد نظامِ شمسی کی طرح ہو سکتا ہے۔

آج سائنسدان روسی گڑیا (Russian doll)کثیرِنات کے خیال کو ٹھکراتے ہیں مگر انہوں نے اور بہت سے راستے تجویز کیے ہیں جن میں یہ کثیرِناتیں(Multiverses) وجود پذیر ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے پانچ کو اس رہنمائی کے ساتھ یہاں پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ کیسی ہو سکتی ہیں۔
بارہ دوزی کائنات (Patchwork Universe)
سادہ ترین کثیرِنات ہماری اپنی ہی کائنات کے لامتناہی سائز کا نتیجہ ہے۔ حقیقت میں ہم نہیں جانتے کہ کیا واقعی کائنات لامحدود ہے مگر ہم اس کو خارج الامکان بھی نہیں کر سکتے۔اگر یہ لامتناہی ہے تو پھر یہ ایسے علاقوں سے مل کے بنی ہوئی ہے جو ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ علاقے ایک دوسرے سے اتنے دور ہیں کہ روشنی اس فاصلے کو عبور نہیں کر سکتی۔ہماری کائنات صرف 13۔8 بلین سال پرانی ہے، لہٰذا وہ علاقے جو 13۔8 نوری سال سے زیادہ فاصلے پر ہیں مکمل طور پر منقطع ہیں۔

تمام اغراض و مقاصد کےلیے یہ علاقے علیحدہ کائناتیں ہیں۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا، روشنی بالآخر ان فاصلوں کو عبور کر لے گی اور کائناتیں آپس میں ضم ہو جائیں گی۔ اگر کائنات حقیقت میں ہمارے جیسی جزیرہ نما کائناتوں کی لامحدود تعداد اپنے اندر رکھتی ہے جن میں ستارےاور سیارے اور مادہ موجود ہے تو دور کہیں لازمی طور پر ہماری زمین کی جیسی بہت ساری دنیائیں ہونی چاہیں۔

یہ ناقابلِ یقین حد تک غیر متوقع لگتا ہے کہ جواہر(atoms) اتفاقاً ایک دوسرے کے قریب آ کر ہماری زمین کی ہوبہونقل (replica)بنا دیں یا پھر ایک ایسی نقل بنائیں جو آپکی جرابوں کے رنگ کے علاوہ ایک جیسی ہو۔لیکن حقیقی لامتناہی دنیاؤں میں ایسی عجیب جگہیں ہونی چاہیں۔ بلکہ بہت ساری ہونی چاہیں۔ اگر ایسا ہے تو تصور سے بالاتر دور کسی جگہ پر میرے جیسا ہی کوئی شخص یہ الفاظ لکھ رہا ہو گا اور سوچ رہا ہو گا کہ ا اس کا مدیر اسے قطعی نظرثانی کا کہنے والا ہے۔

اسی منطق سے، اس سے بھی دور ہماری ہی کائنات کے جیسی ایک مشاہداتی کائنات ہے۔اس کے فاصلے کا تخمینہ دس کی طاقت نما دس کی طاقت نما ایک سو اٹھارہ((〖10〗^(〖10〗^118 ) میٹر لگایا گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا بالکل نہ ہو۔ہو سکتا ہے کائنات لامتناہی نہ ہو۔اور اگر یہ ہو بھی تو ممکن ہے کہ تمام مادہ کائنات کے اس حصے میں مرکوز ہو گیا ہو جہاں ہم ہیں ۔اس حساب سے باقی بہت ساری کائناتیں خالی ہوں گی۔ لیکن ایسا ہونے کی کوئی ظاہری وجہ موجود نہیں ہے۔ اور جیسے جیسے ہم دور دیکھتے جا رہے ہیں ہمیں مادہ کے کم ہونے کے کوئی شواہد نہیں مل رہے۔
افراطی کثیرِنات(the inflationary multiverse)
کثیرِ نات کا دوسرا نظریہ اس خیال سے جنم لیتا ہے کہ ہماری اپنی کائنات کا آغاز کیسے ہوا۔

انفجارِعظیم(Big Bang) کے سب سے غالب نقطہِ نظر کے مطابق کائنات کا آغاز ایک صغاری نقطے(infinitesimally small point) سے ہوا اورپھر وہ تقطہ ایک آتشی گولے میں پھیل گیا۔ اس پھیلاؤ کے آغاز کے بعد ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں یہ بہت زیادہ شرح سے اسراع پذیر(accelerated) تھی، روشنی کی رفتار سے بھی کہیں زیادہ۔ یہ دورانیہ افراط(Inflation) کہلاتا ہے۔

افراطی نظریہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ ہم جس جانب بھی دیکھیں ہمیں کائنات اشاری طور پر یکساں کیوں نظر آتی ہے۔ اس سے پہلے کہ آتشی گولہ منجمدہوتا افراط نے اسے کائناتی سکیل تک پھیلا دیا۔

تاہم یہ ابدی حالت(primordial state) ان اتفاقیہ تبدیلیوں کی وجہ سے تغیر پذیر ہوئی جو خود افراط کے وقت پیدا ہوئیں تھیں۔یہ تبدیلیاں(variations) اب پس منظری کائناتی خردموجی شعاعوں (cosmic microwave background radiations) میں محفوط ہیں۔ جو انفجارِ عظیم کے بعد میں بچ جانے والی مدہم روشنی ہے۔ یہ شعاعیں اب ساری کائنات میں پھیل چکی ہیں مگر یہ یکساں نہیں ہیں۔

سیارچوں پر لگی بہت ساری دوربینوں نے ان تغیرات کی تفصیلات کا نقشہ بنا کر ان کا موازنہ اس سے کیا ہے جس کی پیشین گوئی افراطی نظریہ کرتا ہے۔ یہ مماثلت ناقابلِ یقین حد تک درست ہے،جو اس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ افراط حقیقت میں وقوع پذیر ہوا۔ یہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انفجارِ عظیم کیسے ہوا، جس سے ہم مناسب طور پر یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ کیا یہ ایک سے زیادہ مرتبہ ہوا؟

multiverse-2-laaltain

موجودہ نقطہِ نظر یہ ہے کہ انفجارِ عظیم (big bang) اس وقت واقع ہوا جب حقیقی فضا(real space) کا ایک ٹکرا ایک دوسری طرح کی فضا میں ظاہر ہوا جسے "باطل خلا (false vacuum)" کہتے ہیں۔ اس فضا کے ٹکرے میں صرف توانائی موجود تھی اور کوئی مادہ موجود نہ تھا۔ پھر یہ ٹکرا ایک بلبلے کی طرح پھولتا گیا۔ لیکن اس نظریے کے مطابق باطل خلا کو بھی افراط سے گزرنا چاہیے جو اس کی بہت زیادہ رفتار سے پھیلائے۔ اسی دوران اس باطل خلا میں نہ صرف ہماری کائنات(جو صرف 13۔8 بلین سال پرانی ہے) بلکہ اور بھی بہت ساری کائناتوں کو یکساں شرح سے پیدا ہونا چاہیے۔
یہ منظر نامہ دائمی افراط(eternal inflation) کہلاتا ہے۔ یہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وقت میں ہر لمحے لامتناہی کائناتیں پیدا ہوتیں ہیں اور پھیلتی جاتی ہیں۔ لیکن اگر ہم ہمیشہ کے لیے روشنی کی رفتار سے بھی چلیں تو بھی ان تک نہیں پہنچ سکتے کیوں کہ یہ بہت زیادہ رفتار سے ہم سے دور جا رہی ہیں۔

برطانوی شاہی ہیئت دان(Astronomer Royal) مارٹن ریز(Martin Rees) کا کہنا ہے کہ افراطی نظریہ چوتھے کوپرنیکسی انقلاب کو ظاہر کرتا ہے۔چوتھی مرتبہ ہمیں آسمانوں میں اپنے درجے کو کم کرنا پڑا ہے۔کوپرنیکس(Copernicus) کے یہ بتانے کے بعد کہ ہماری زمیں بہت سارے دوسرے سیاروں میں سے ایک ہے ہمیں پتہ چلا کہ ہمارا سورج ہماری کہکشاں میں محض ایک ستارہ ہے اور دوسرے ستاروں کے بھی سیارے ہو سکتے ہیں۔ پھر ہم پر انکشاف ہوا کہ ہماری کہکشاں پھیلتی ہوئی کائنات میں بہت ساری کہکشاؤں میں سے ایک ہے۔ اور اب ممکن ہے ہماری کائنات بھی بہت ساری کائناتوں میں سے ایک ہو۔

multiverse-3-laaltain

ابھی ہم منطقی طور پر نہیں جانتے کہ افراطی نظریہ صحیح ہے یا غلط۔تاہم اگر دائمی افراط عظیم انفجاروں(big bangs)کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں کثیرِنات (multiverse) کو جنم دیتا ہے تو یہ جدید طبیعیات میں ایک بہت بڑے مشکلے(problem) کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

کچھ طبیعیات دان بہت لمبے عرصے سے نظریہِ کل (theory of everything) کی تلاش میں ہیں جو کہ کچھ بنیادی قوانین یا ممکن ہے ایک مساوات پر مشتمل ہو اور اس سے طبیعیات کے باقی تمام اصول اخذ کیے جا سکیں گے۔ لیکن انہوں نے دیکھا کہ معلوم کائنات میں جتنے ذرات ہیں ان کی تعداد سے زیادہ کائناتیں موجود ہیں۔

وہ طبیعیات دان جو ان کی کھوج میں رہتے ہیں یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک تصور جو سٹرِنگ نظریہ (string theory) کے نام سے جانا جاتا ہے نظریہِ کل (theory of everything) کا سب سے بہترین امیدوار ہے۔لیکن اس کے تازہ ترین نسخے (latest version) کے بہت زیادہ (ایک کے بعد ٥00 صفر) جوابات(solutions) ہیں۔ ہر جواب اپنے طبیعی قوانین فراہم کرتا ہے اور ہمارے پاس بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم ایک کے اوپر دوسرے کو ترجیح دیں۔

افراطی کثیرِنات ہمیں اس چناو سے چھٹکارہ دلاتی ہے۔ اگر پھیلتی ہوئی باطل خلا میں متوازی کائناتیں کروڑوں سالوں سے پیدا ہو رہی ہیں، تو ہر ایک کے مختلف طبیعی قوانین ہو سکتے ہیں جن کا تعین سترنگ نظریے کے بہت ساروں میں سے کوئی ایک حل(solution) کرے گا۔

اگر یہ درست ہے تو یہ ہمیں ہماری اپنی کائنات کی ایک عجیب خوبی کی وضاحت کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں(fundamental constants) کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔]اس کو فائن ٹیوننگ(fine tuning) کہتے ہیں[

طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں کی قیمتیں  زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔

طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں(fundamental constants) کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔

مثال کے طور پر اگر برقناطیسی قوت(electromagnetic force) کی مقدار تھوڑی سی بھی مختلف ہوتی تو جواہر مستحکم نہ ہوتے۔صرف چار فیصد کی تبدیلی ستاروں میں نیوکلیائی ایتلاف(nuclear fusion) کو روک دے گی، ایتلاف وہ عمل ہے جس میں کاربن کے وہ جواہر بنتے ہیں جن سے ہمارے جسم کا زیادہ تر حصہ بنا ہواہے۔ اسی طرح کششِ ثقل اور تاریک توانائی(dark energy) میں ایک نفیس توازن ہے۔ ثقل مادہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے جب کہ تاریک توانائی اسے اور زیادہ شرح سے پھیلاتی ہے۔اوربالکل یہی وہ ضرورت ہے جو ستاروں کا بننا ممکن بناتی ہے اور کائنات کو خودتصادم سے روکتی ہے۔

اس اور بہت ساری دوسری وجوہات کی بنا پر یوں لگتا ہے جیسے کائنات کو ہمارے رہنے کے لیے فائن ٹیونڈ(fine tuned) کیا گیا ہے۔ اس نے بہت سارے لوگوں کو اس شک میں مبتلہ کر دیا ہے کہ اس میں خدا کا ہاتھ شامل ہے۔
تاہم ایک افراطی کثیرِنات جس میں تمام قابلِ فہم قوانین عمل کرتے ہیں ایک متبادل وضاحت بھی پیش کرتی ہے۔
وجود دوست طریقے سے بنائی گئی ہر کائنات میں ذہین مخلوق اپنی خوش بختی کے ادراک کے لیے اپنا سر نوچ رہی ہو گی جب کہ دوسری بہت ساری کائناتوں میں جو مختلف طریقے سے بنائی گئی ہیں کوئی بھی یہ سوال کرنے کے لیے موجود نہیں ہے۔

یہ بشری اصول(anthropic principle) کی مثال ہے، جو یہ کہتا ہے کہ چیزیں جیسی ہیں ان کو ویسا ہی ہونا چاہیے تھا کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم یہاں موجود نہ ہوتے اور یہ سوال کبھی نہ پیدا ہوتا۔

بہت سارے طبیعیات دانوں اور فلسفیوں کے قریب یہ دلیل ایک دھوکہ ہے۔ فائن ٹیوننگ(fine tuning) مشکلے کی وضاحت کی بجائے اس سے جان چھڑانے کا ایک راستہ ہے۔

وہ سوال کرتے ہیں کہ ہم ان دعووں کو کیسے جانچ سکتے ہیں؟یقیناً یہ قبول کرنا شکست ماننے کے مترادف ہے کہ اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ قوانینِ قدرت جیسے ہیں ویسے کیوں ہیں اور یہ کہ یہ دوسری کثیرِنات میں مختلف ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس فائن ٹیوننگ(fine tuning) کی کوئی اچھی وضاحت نہیں ہے تو کوئی بھی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ان کو خدا نے اسےایسے سیٹ کیا ہے۔ماہر فلکی طبیعیات برنارڈ کر (Bernard Carr) نے اسے دوٹوک الفاظ میں یوں بیان کیا ہے کہ اگر آپ خدا سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس کثیرِنات(multiverse) ہونی چاہیے۔
کائناتی فطری چناؤ : (Cosmic Natural Selection)
ایک اور طرح کی کائنات بشری اصول(anthropic principal) کی مدد لیے بغیر فائن ٹیوننگ(fine tuning) کے مشکلے کا حل فراہم کرتی ہے۔

اس کی بنیاد واٹرلو کینیڈا(waterloo Canada) میں موجود پیری میٹر انسٹیٹیوٹ کے لی سمولن(Lee Smolin of Perimeter institute) نے ڈالی۔ اس نے 1992 میں تجویز دی کہ ہو سکتا ہے کائنات بھی زندہ چیزوں کی طرح تولید کرتی اور ارتقا پاتی ہو۔زمین پر فطری چناؤ کارآمد خصلتوں جیسا کہ تیز ڈور اور مخالف انگوٹھوں کے کے پنپنے میں مدد دیتا ہے۔سمولن دلیل دیتا ہے کہ کثیرِنات میں ایسا دباؤ موجود ہو سکتا ہے جو ہمارے جیسی کائناتوں کے بننے میں مدد دے۔وہ اسے کائناتی فطری چناؤ کا نام دیتا ہے۔

سمولن کا خیال یہ ہے کہ ایک مادر کائنات (mother universe)طفل کائناتوں(baby universes) کو جنم دیتی ہے جو اس کے اندر بنتی ہیں۔ مادر کائنات ایسا صرف اس وقت کر سکتی ہے جب اس کے اندر ثقب اسود(black holes) موجود ہوں۔
ایک ثقب اسود اس وقت بنتا ہے جب کوئی ستارہ اپنے ہی انجذاب کے تحت منہدم ہو کر اپنے تمام جوہروں کو اس وقت تک بھینچتا ہے جب تک وہ لامتناہی کثافت کو نہ پہنچ جائیں۔

multiverse-5-laaltain

1960 کی دہائی میں سٹیفن ہاکنگ اور راجر پینروز (Stephen Hawking and Roger Penrose) نے نشاندہی کی کہ یہ انہدام ایک انفجارِ عظیم کی طرح ہی ہے جس کی سمت الٹ دی گئی ہو۔ اس سے سمولن کو خیال آیا کہ ایک ثقب اسود انفجارِ عظیم بن سکتا ہے جس نے اپنے اندر ایک پوری نئی کائنات کی افزائش کر رکھی ہو۔ اگر ایسا ہے تو اس نئی کائنات کی طبیعی خصوصیات اس کائنات سے تھوڑی مختلف ہوں گی جس نے اس ثقب اسود کو جنم دیا۔یہ ایک بے ترتیب جینیاتی تغیر کی طرح ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ بچے اپنے والدین سے مختلف ہوں گے۔

اگر کسی طفل کائنات کے طبیعی قوانین ایسے ہوں جو جوہروں، ستاروں اور زندگی کے بننے کی اجازت دیں تو اس میں لازمی طور پر ثقب اسود (Black holes) بھی موجود ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی مزید اپنی طفل کائناتیں ہو سکتی ہیں۔وقت کے ساتھ یہ کائناتیں ان کائناتوں سے زیادہ عام ہو جائیں گی جن میں ثقب اسود نہیں ہوں گے اور جو افزائش نسل نہیں کر سکتیں۔

یہ ایک واضح تصور ہے کیوں کہ پھر ایسی صورت میں ہماری کائنات کو محض ایک خالص اتفاق کا نتیجہ نہیں ہونا پڑے گا۔اگر ایک فائن ٹیونڈ(fine tuned) کائنات بہت ساری دوسری کائناتوں کے ساتھ جو فائن ٹیونڈ(fine tuned) نہیں ہیں اتفاقاً پیدا ہو سکتی ہے تو کائناتی فطری چناؤ کا مطلب ہو گا کہ آہستہ آہستہ فائن ٹیونڈ(fine tuned) کائناتیں میعار بن جائیں گی۔

multiverse-6-laaltain

اس خیال کی تفصیلات ابھی دھندلی ہیں مگر سمولن اس کے ایک بہت بڑے فائدے کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم اسے پرکھ سکتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر سمولن صحیح ہے تو ہماری کائنات کو ثقب اسود(black hole) بنانے واسطے خاص طور پر موزوں ہونا چاہیے۔ لیکن یہ اس سے بھی زیادہ تقاضہ طلب کسوٹی ہے کہ اس کو جوہروں کے وجود کی حمایت کرنی چاہیے۔لیکن ابھی تک اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایسا ہی معاملہ ہے، اس بات کو تو چھوڑ ہی دیں کہ ثقب اسود اپنے اندر کائنات کی افزائش کر سکتا ہے۔
برین (جھلی) کثیرِنات(the brane multiverse)
جب 1920 کی دہائی میں آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت عام لوگوں کے زیر بحث آنے لگا تو بہت ساروں نے چوتھی جہت(fourth dimension) کے متعلق قیاس آرائیاں کی جس کو آئن سٹائن نے متعارف کرایا تھا۔ اس میں کیا ہو سکتا ہے؟ کیا اس میں ایک مخفی کائنات ہو سکتی ہے؟ یہ فضول سوالات تھے۔آئن سٹائن ایک نئی جہت کا تصور نہیں دے رہا تھا، وہ صرف یہ کہہ رہا تھا کہ مکان (space) کی باقی تین ابعاد(dimensions) کی طرح وقت بھی ایک بعد ہے۔اور یہ چاروں ایک چادر میں بنی ہوئی ہیں جو زمان و مکاں (spacetime)کہلاتی ہے، مادہ جس کا حلیہ بگاڑ کر انجذاب(gravity) پیدا کرتا ہے۔

تاہم دوسرے طبیعیات دانوں نے پہلے سے ہی سپیس(space) کی نئی جہتوں(dimensions) کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔مخفی ابعاد کے بارے میں پہلا اشارہ نظری طبیعیات دان تھیوڈور کیلوزا(Theodor Kaluza) کے کام سے ملا۔ 1921 میں لکھے گئے ایک تحقیقی مقالے میں اس نے ثابت کیا کہ اگر آئن سٹائن کی عمومی اضافیت کی مساواتوں میں ایک اور بعد ملا دی جائے تو ہمیں ایک زائد مساوات حاصل ہوتی ہے جو ضیا(light) کےوجود کی پیشین گوئی کرتی ہے۔
یہ کافی معقول لگا پر پھر سوال یہ تھا کہ یہ زائد جہت ہے کہاں؟

1926 میں سویڈش طبیعیات دان آسکر کلائن(Oscar klein) نے ایک جواب پیش کیا۔ ہو سکتا ہے پانچویں بعد ناقابلِ تصور صغیر فاصلوں میں لپٹی ہو(curled up)۔جو کہ ایک سینٹی میٹر کا ایک بلین ٹریلین ٹریلین واں حصہ ہے۔
ہو سکتا ہے کہ لپٹی بعد(curled up dimension) کا تصور عجیب لگے پر حقیقت میں یہ ایک معروف مظہر ہے۔ایک باغ نلی(garden hose) سہ ابعادی(three dimensional) جسم ہے مگر بہت زیادہ فاصلے سے دیکھنے پر یہ یک جہتی(one dimensional) معلوم ہوتی ہے کیوں کہ باقی دونوں جہتیں بہت چھوٹی ہیں۔اسی طرح کلائن(Klein) کی زائد جہت، جسکو ہم محسوس نہیں کرتے، کو سمجھنے میں بہت کم وقت لگتا ہے۔تب سے طبیعیات دان کیلوزا اور کلائن کے تصورات کو سترنگ نظریے میں بہت آگے تک لے کر گئے ہیں۔ یہ بنیادی ذرات کی وضاحت سترنگز (strings)کے اہتزازات(oscillations) کی صورت میں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

جب 1980 میں سترنگ نظریے(string theory) کو مرتب کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ صرف زائد ابعاد(extra dimensions) کی موجودگی میں ہی کام کر سکتی ہے۔سترنگ نظریے کا جدید نسخہ،جو ایم نظریہ(M theory) کہلاتا ہے، میں سات مخفی ابعاد ہیں۔مزید یہ کہ ان ابعاد کو منضبط (compact) ہو نے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پھیلے ہوئے علاقے(extended regions) ہو سکتے ہیں جو جھلیاں(branes) کہلاتے ہیں اور ممکن ہےیہ کثیرجہتی(Multi-dimensional) ہوں۔

multiverse-7-laaltain

ایک جھلی(brane) ایک مکمل کائنات کے چھپنے کے لیے معقول جگہ ہو سکتی ہے۔ایم تھیوری مختلف ابعاد کی جھلیوں(branes) کی کثیرِنات ہے جو آپس میں کاغذ کے گڈھی (stack of papers) کی طرح رہتی ہیں۔

اگر یہ بات سچ ہے تو ہمارے پاس ذرات کی ایک نئی جماعت ہونی چاہیے جو کیلوزا کلائن(Kaluza-Klein) ذرات کہلاتے ہیں۔نظری طور پر ہم ان کو عظیم ثقیلہ تصادم گر(large hadron collider) جیسے اسراع گردوں(accelerator) میں بنا سکتے ہیں۔ان کے بہت واضح نشانیاں ہوں گی کیوں کہ ان کے میعارِ حرکت(momentum) کی کچھ مقدار مخفی ابعاد میں چلی جائے گی۔

یہ جھلی دنیائیں(brane worlds) ایک دوسرے سے جداجدا رہتی ہیں کیوں کہ تجاذب جیسی قوتیں ان کے درمیان سے نہیں گزرتی۔لیکن اگر دو جھلیاں ٹکراتی ہیں تو نتائج کافی شاندار ہو سکتے ہیں۔قرین قیاس ہے کہ ایسے ہی کسی تصادم سے ہمارے اپنے انفجارِ عظیم(big bang) کا آغاز ہوا ہو۔

یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے تجاذب جھلیوں میں سے گزر جاتی ہو۔یہ بہاو اس چیز کی وضاحت کر سکتا ہے کہ بنیادی قوتوں میں تجاذب اتنا نحیف کیوں ہے۔جیسا کہ ہاورڈ یونیورسٹی کی لیزا رینڈل(Lisa Randall) کا کہنا ہے کہ اگر تجاذب زائد ابعاد (extra dimensions) پر پھیلی ہوئی ہو تو اس کی قوت کافی نحیف ہو گی۔

multiverse-8-laaltain

1999 میں رینڈل اور اس کے ہم منصب رامن سندرم (Raman Sundrum) نے تجویز دی کہ جھلیاں نہ صرف تجاذب رکھتی ہیں بلکہ یہ سپیس کو منحنیٰ کر کے اسے پیدا کرتی ہیں۔نتیجتاً اس کا مطلب ہے کہ ایک جھلی تجاذب کو مرتکز کرتی ہے جس کی وجہ سے قریبی دوسری جھلی میں یہ نحیف دکھائی دیتی ہے۔یہ اس چیز کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ ہم کسی لامحدود زائد جہتوں والی جھلی پر ان کو محسوس کیے بنا کیسے رہ سکتے ہیں۔
کوانٹم کثیرِنات(the Quantum Multiverse)
نظریہِ کوانٹم میکانیات سائنس کےکامیاب ترین نظریات میں سے ایک ہے۔یہ چھوٹی چیزوں جیسا کہ جوہر اور اس کے جزوِترکیبی ذرات کے رویوں کی وضاحت کرتا ہے۔یہ سالموں کی اشکال سے لے کر مادہ اور ضیا کے تعاملات تک ہر طرح کے عوامل کی پیشین گوئی بہت درستی سے کر سکتا ہے۔

کوانٹم میکانیات کے مطابق ہر ذرے کے ساتھ ایک موج منسلک ہوتی ہے جس کو ایک ریاضیاتی مساوات سے بیان کیا جاتا ہے جو موجی تفاعل(wave function) کہلاتا ہے۔موجی تفاعل کی سب سے مضبوط خوبی یہ ہے کہ یہ کسی بھی کوانٹم ذرے کو ایک ہی وقت میں بہت زیادہ حالتوں میں رہنے کی اجازت دیتا ہے۔یہ عمل انطباق(superposition)کہلاتا ہے۔لیکن جب ہم اس ذرے کی کسی بھی طرح سے پیمائش کرتے ہیں تو یہ انطباقات فنا ہو جاتے ہیں۔مشاہدہ اس ذرے کو کوئی ایک حالت پسند کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔پیمائش کے دوران انطباق سے کسی ایک حالت میں آنا "موجی تفاعل کا فنا ہونا" کہلاتا ہے۔ مسلہ یہ ہے کہ اس فنا کے عمل کو کوانٹم میکانیات سے بیان نہیں کیا جا سکتا اس لیے کوئی نہیں جانتا کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا۔

1957میں لکھے اپنے ڈاکٹری کے مقالے میں امریکی طبیعات دان ہف ایوریٹ(Hugh Everett) نے تجویز دی کہ ہمیں موجی تفاعل کے انہدام کی ناموزوں فطرت کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایوریٹ نے تجویز دی کہ جب چیزوں کی پیمائش یا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو وہ بسیار حالتوں سے ایک حالت میں نہیں جاتیں بلکہ موجی تفاعل میں موجود تمام ممکنات برابر کی حقیقت رکھتی ہیں اور جب ہم پیمائش کرتے ہیں تو ہم ان میں سے صرف ایک حقیقت کو دیکھ سکتے ہیں حالانکہ باقی بھی وجود رکھتی ہیں۔ یہ کوانٹم میکانیات کی "کثیر دنیاوی تاویل(Many worlds interpretation)" کہلاتی ہے۔

ایوریٹ اس بارے میں واضح نہیں تھا کہ یہ باقی حالتیں کہاں پائی جاتی ہیں۔لیکن 1970 کی دہائی میں طبیعات دان برائس دی وٹ(Bryce de Witt) نے دلیل دی کہ ہر متبادل نتیجے کو ایک متوازی حقیقت(دوسری دنیا) میں موجود ہونا چاہیے۔فرض کرو آپ برقیے(electron) کا راستہ دیکھنے کا ایک تجربہ کرتے ہیں۔ اس دنیا میں وہ ایک راستے پر چلتا ہے مگر ایک دوسری دنیا میں وہ کوئی اور راستہ اختیار کرے گا۔اگر ایسا ہے تو پھر برقیے کے گزرنے کے لیے آپ کو ایک متوازی پیمائشی سامان کی ضرورت ہو گی۔آپ کو ایک اپنے ہی متوازی جڑواں کی بھی ضرورت پڑے گی تا کہ وہ الیکٹران کی پیمائش کر سکے۔درحقیقت آپ کو اس الیکٹران کے گرد ایک پوری متوازی کائنات کی ضرورت ہو گی جو ہر طرح سے آپ کی کائنات کے جیسی ہو گی سوائے اس کے کہ اس میں الیکٹران کسی دوسری جگہ جائے گا۔قصہِ مختصر یہ کہ اگر آپ موجی تفاعل کو منہدم ہونے سے بچانا چاہتے ہیں توآپ کو ایک اور کائنات بنانا پڑے گی۔

multiverse-9-laaltain

جب ہم پیمائش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو تصویر اور مبالغہ آرا ہو جاتی ہے۔ دی وِٹ کے مطابق کسی ستارے میں، کسی کہکشاں میں یا دور کسی کائنات میں ہونے والی کوانٹمی تبدیلی زمین پر ہماری مقامی دنیا کو بہت زیادہ نقلوں(copies) میں تقسیم کر رہی ہے۔

ہر کوئی ایوریٹ کی بسیار دنیاوی تاویل کو ایسے نہیں دیکھتا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ریاضیاتی آسائش ہے اور ہم متوازی کائناتوں کے مندرجات کے بارے میں کوئی بھی معانی خیز رائے نہیں دے سکتے۔

لیکن دوسرے لوگ اس تصور کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ جب بھی کوئی کوانٹمی پیمائش کی جاتی ہے تو آپ کے لاتعداد جڑواں جنم لیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ چونکہ کوانٹم نظریہ آپ کو صحیح نتائج دیتا ہے لہٰذاکوانٹم کثیرِنات حقیقی ہونی چاہیے کیوں کہ کوانٹم نظریہ اس کا مطالبہ کرتا ہے ۔

آپ یا تو اس دلیل کو مان لیں گے یا نہیں۔ لیکن اگر آپ اسے مان لیتے ہیں تو آپ کو کچھ پریشان کر دینے والی چیز کو بھی ماننا پڑے گا۔

schrodinger's-cat-laaltain

دوسری متوازی کائناتیں جیسا کہ وہ جو دائمی افراط(eternal inflation) میں پیدا ہوئیں، حقیقت میں دوسری کائناتیں ہیں۔وہ زمان اور مکان میں یا دوسری ابعاد میں کسی اور جگہ اپنا وجود رکھتی ہیں۔ممکن ہے وہاں آپ کی ہو بہو نقلیں موجود ہوں، پر وہ نقلیں مختلف ہوں گی بالکل ایسے جیسے کوئی جسم کسی دوسرے براعظم میں رہ رہا ہو۔
اس تناظر میں کثیر دنیاوی تاویل کی دوسری کائناتیں(universes of many worlds interpretation) سپیس کی دوسری ابعاد یا مقامات میں نہیں ہیں۔بلکہ وہ بالکل یہیں ہیں اور ہماری کائنات کے ساتھ منطبق(superimposed) ہوئی ہیں لیکن نہ تو وہ نظر آتی ہیں اور نہ ہی قابلِ رسائی ہیں۔ اور ان میں جو آپ کے جڑواں موجود ہیں وہ حقیقی معنوں میں آپ ہی ہیں۔

درحقیقت "آپ" کا کوئی معانی خیز وجود ہی نہیں ہے۔ "آپ" ہر لمحے مضحکہ خیز تعداد میں تقسیم ہو رہے ہیں۔اس کے لیے آپ ان تمام کوانٹمی واقعات(quantm events) کا تصور کیجیے جو اس وقت واقع ہوتے ہیں جب کوئی برقی اشارہ(electrical signal) آپ کے دماغ میں ایک عصبیے (neuron) کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ "آپ" ایک ہجوم میں گم ہو جاتے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں ایک خیال جو ریاضیاتی آسانی کے طور پر شروع ہوا تھا یہ بتاتا ہے کہ انفرادیت جیسی کسی شئے کاکوئی وجود نہیں ہے۔
کثیرِنات کی جانچ(Testing the multiverse)
متوازی کائناتوں کے عجیب مضمرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے آپ کے ذہن میں ان کے وجود پر شک جائز ہے۔لیکن ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ کیا عجیب ہے اور کیا نہیں؟ سائنسی تصورات تجرباتی جانچ سے پروان چڑھتے ہیں یا ختم ہو جاتے ہیں نہ کہ اس سے کہ ہم ان کو لے کر کیسا محسوس کرتے ہیں۔ اور یہ ایک مسلہ ہے۔ ایک متبادل کائنات ہماری اپنی کائنات سے علیحدہ ہے اور تعریف کی حد تک یہ ہماری نظر اور پہنچ سے باہر ہے۔ قصہ ِ تمام یہ کہ کثیرِنات کے نظریات کی جانچ دوسری دنیاؤں کی تلاش سے نہیں ہو سکتی۔

اگرچہ دوسری کائناتوں کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ ممکن ہے کہ ایسے ثبوت تلاش کر لیے جائیں جو ان کے وجود کے حق میں دیے جانے والے دلائل کی توثیق کرتے ہوں۔

مثال کے طور پر ہم انفجارِ عظیم (big bang) کے افراطی نظریے(inflation theory) کے لیے بہت ٹھوس ثبوت تلاش کر سکتے ہیں جو افراطی کثیرِنات (inflationary multiverse) کے مسلے کو( ثابت کیے بنا ) کافی تقویت بخشیں گے۔ کچھ کونیات دانوں(Cosmologists) نے تجویز دی ہے کہ افراطی کثیرِنات کی زیادہ براہِ راست طریقے سے جانچ کرنا بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری اور ایک اور پھیلتی ہوئی کائنات کے درمیان تصادم پس منظری کائناتی خردموجی شعاعوں (cosmic microwave background radiations) پر قابلِ پیمائش اثرات چھوڑے گا اور اگر ہم اس کے قریب ہوئے تو اس کو دیکھ سکیں گے۔

multiverse-10-laaltain

اسی طرح عظیم ثقیلہ تصادم گر(large hadron collider) کے لیے جو تجربات سوچے گئے ہیں وہ زائد ابعاد(extra dimensions) اور ان ذرات کو تلاش کر سکتے ہیں جن کی پیشین گوئی جھلی دنیاوی نظریہ(braneworld theory) کرتا ہے۔
کچھ کا یہ کہنا ہے کہ تجرباتی تصدیق کو بڑھا چڑھا کے پیش کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی سائنسی تصور کی معقولیت کا اندازہ دوسرے طریقوں سے بھی لگا سکتے ہیں جیسا کہ کیا اس کی بنیاد واضح منطق پر رکھی گئی ہے جو ایسے مقدمہِ تمہید(premises) سے جنم لیتا ہو جس کومشاہداتی امداد حاصل ہو۔

آخر میں ہم شماریاتی پیشین گوئی بھی کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر ہم افراطی کثیرِنات کے نظریے کو استعمال کرتے ہوئے بہت ساری کائناتوں میں طبیعیاتی مستقلوں(physical constants) کی قیمتوں کا اندازہ لگا کر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے والی قیمتوں کے قریب ہیں یا نہیں۔ ان بنیادوں پر ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم کثیرِنات میں خود کا خاص تصور کریں۔

یہ کسی بھی طور بہت عجیب نظر آتا ہے کہ ہم جس طرف بھی دیکھیں یہ کائنات پھیلتی ہوئی نظر آتی ہے۔۔ طبیعیات دان میکس ٹیگمارک(Max Tegmark) کا کہنا ہے کہ ایسا نظریہ بنانا بہت مشکل ثابت ہوا ہے جو بالکل ایسی کائنات دے جیسی ہم دیکھتے ہیں" اس کے باوجود یہ واضح نہیں ہےکہ آیا اخباروں کی سرخیاں مستقبل قریب میں کسی دوسری کائنات کی ایجاد کی خبر دیں گی۔فی الحال یہ تصورات طبیعیات اور مابعدالطبیعیات کی سرحد پر موجود ہیں۔
کسی بھی ثبوت کی غیر موجودگی میں ذیل میں مختلف کثیرِنات کے امکانات کی درجہ بندی ہے۔ زیادہ ممکنہ کثیرِنات کو سب سے پہلے رکھا گیا ہے۔

بارہ دوزی کائنات: اگر ہماری کائنات حقیقت میں لامحدود اور یکساں ہے تو پھر بارہ دوزی کائنات سےجان چھڑانابہت مشکل ہے۔

افراطی کثیرِنات: اگر افراطی نظریہ صحیح ہے تو افراطی کائنات زیادہ ممکنہ ہے اور فی الحال افراط(inflation) انفجارِ عظیم (Big Bang) کی ہماری سب سے اچھی وضاحت ہے۔

کائناتی فطری چناو: ایک زبردست خیال ہے مگر اس میں بہت زیادہ تصوراتی طبیعیات موجود ہے اور بہت سارے ایسے سوالات ہیں جن کے جواب موجود نہیں۔

جھلی دنیاؤں: کا نظریہ اور زیادہ تصوراتی ہے اور اس کا وجود تبھی ممکن ہے جب زائد ابعاد کا وجود ممکن ہو اور ابھی اس کا کوئی براہِ راست ثبوت نہیں ہے۔

کوانٹم کثیرِنات: بحث کی حد تک کوانٹم نظریے کی سادہ تریں تاویل ہے مگر یہ بہت مبہم ہے اور انفرادیت کے ایک غیر مربوط نقطہِ نظر کی طرف لے جاتی ہے۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Fasi Malik

Fasi Malik

Fasi Malik teaches physics at a federal college.


Related Articles

نرم گھاس میں سرگوشیاں

ہانس بورلی: تنہا پرندے
سورج کی روشنی میں تیرتے رہتے ہیں
اور تیرتے ہوئے خوشی میں گانے لگتے ہیں

کوانٹم میکانیات کے مسائل

سٹیون وائن برگ: کوانٹم میکانیات میں کسی نظام کی حالت کلاسیکی طبیعیات کی طرح ہر ذرے کا مقام اور رفتار اور مختلف میدانوں کی تبدیلی کی شرح کی قیمتیں دے کر بیان نہیں کی جاتی۔

غیر حاضر مالک مکان

چارلس سیمیِچ: یقینآ آسان کر سکتا ہے وہ
مسئلہ جب یہ ہو
کہ ہمیں اس کا اتا پتا معلوم ہو
لگام دے سکتا ہے ہمارے تخریبی شکوک کو
ٹھنڈا کرسکتا ہے ہمارے بلند بانگ غصے کو