کائی میں لپٹی بیوہ

کائی میں لپٹی بیوہ

وہ بدن پہ مرد کے نام کی
جمی کائی کھرچتی رہی
کھرچن
چاردیواری کے سوراخوں میں
کبھی رستہ نہ بنا پائی تھی
یہ تو
آنگن میں لگے پیڑ نے
ھوا کو پاؤں پہنائے
یہ کم بخت! ایسی کٹھور نکلی
جاتے جاتے ھر پتے پہ
کتھا لکھ گئی
اب سارا جنگل
بھانت بھانت کی بولیاں بولتا ھے۔
کل بھی نیم کے پتے
اس کے عیب لکھ لائے۔
آج بانسوں کے سبزیلے پہ
نامردی کو عورتانہ نااہلی لکھا دیکھا
وہ جنگل کی طرف
ھوا خوری کے لئے نہیں جاتی
سب سرگوشیاں کرتے ہیں۔
اسے دیکھ کر
بوڑھا برگد انھیں خاموش کرواتا ھے۔
وہ مسکراتی بہری
نصیحتوں کے ریشم کو کاٹتی ھے
عزم مصمم کے تیزدانتوں سے
ان گنت لہراتے
بل کھاتے سوالوں کی گھنجلوں میں
الجھی زمانہ سے لڑتی عورت
اپنے زیور
اور
اس کی غیرت و مردانگی کا ادلہ بدلہ کرتی
خوب مطمئن رھتی ھے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

وہ مجھے کیوں مارنا چاہتے ہیں؟

نصیر احمد ناصر: ایک عام آدمی کی طرح
تاریخ کا حصہ ہوں
نہ کسی لشکر کی راہ میں رکاوٹ
بے وجہ پکڑے جانے سے ڈرتا ہوں
جلسوں، جلوسوں اور دھرنوں میں

تنہا

تنہا، بالکل تن تنہاکوئی شخص
بلکہ کوئی بھی شخص
اکیلے اس کا سُراغ نہیں لگا سکتا

شکاری چینل

سلمیٰ جیلانی: شکاری چینل کو خبر مل گئی ہے
تہذیب و تمدن گلے مل کے روتے ہیں
اور اسمارٹ ریموٹ کے بٹن دبا کر
قدیم دیو مالائی چینل دیکھنے لگتے ہیں