کاری

کاری
جس نے میرے کان میں پگھلا سیسہ ڈالا
بہرا تھا
جس نے میری آنکھیں پھوڑیں خنجر سے
نابینا تھا
جس نے میرے چلتے پاؤں کاٹے تھے
وہ لنگڑا تھا
جس نے میرے ہونٹ سیۓ تھے کانٹوں سے
وہ گونگا تھا
جس نے خدوخال مٹائے میرے
وہ بے چہرہ تھا
جس نے میری سانسیں مجھ سے چھینی تھیں
وہ مردہ تھا

اندھے، بہرے، مردہ، بے چہروں کی اس بستی کے بیچ
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی
اپنے ہی پاؤں پہ اٹھ کر
چل پڑنے کی ہمت بھی
اپنی بات سنانے کو
یہ گویائی کی طاقت بھی
اپنے دل کی چاہت بھی ہے
اپنے نام کی عزت بھی
سوچوں کا سندیسہ لاتی
جاں افروز بشارت بھی!

Image: Farah Mahmood Adnan

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Nasira Zuberi

Nasira Zuberi

Nazira Zuberi is a renowned journalist. She started her career from daily Business Recorder. She has three books "Shagoon", Kaanch ka Charagh" and "Teesra Qadam" on her credit.


Join the debate

Your opinion, analysis and feedbacks are welcomed.

Read More...

من کی ملکہ

شہناز شورو: ملکہ کا ذِکر اب شہر بھرکا موضوع تھا۔۔۔ ہر شخص کے پاس اپنا ہی ترازو تھا۔۔۔ اور ملکہ کے گناہوں کا پلڑا۔۔۔ بلاشبہ ہر جا، بھاری تھا

بڑھاپا جاگ جاتا ہے

کوئی چیز اپنے آپ کو بچانے کی تگ و دو میں گرداں رہتی ہے، کھوجتی ہے
اپنے حق میں دلیلیں، لیکن لفظ پھسل جاتے ہیں
مکھیوں کی مانند، اپنے ہی مطالب نکالتے

کتابوں میں زندگی تلاش کرنا بے سود ہے

نصیر احمد ناصر: کتابوں میں چھپے ہوتے ہیں
خود کش بمبار
جو اچانک نکل کر سامنے آ جاتے ہیں