کاشی

کاشی

گنگا کی چھاتی پر
سر رکھ کر سوئی کچھ دیر
بوڑھے بنارس کے بڑھے ناخنوں
جھریوں سے بنی تھیلیوں
اور چپچپی چمڑی والے ہاتھوں کو چھو کر
یوں لگا کہ تم وہی ہو، جو میں ہوں
اوریہ میری جگہ ہے
میں ہوں منی کرنیکا
اور تم میرے کاشی
یہ جو گنگا ہے نا
اسی میں بہتے بہتے ہم ایک کنارے
ملے تھے کبھی
اور ہمیشہ کے لیے ایک ہوگئے
یہ گنگا ہی ساکشی، گنگا ہی رشتہ
گنگا ہی پریم، سوتر بھی گنگا
ہم گنگا کے کنکر، گنگا کی اولاد
اور اسی میں موہ، موکش بھی اسی میں
میں منی کرنیکا، تم میرے کاشی


Related Articles

اور خدا کرے وہ تمھیں کبھی معاف نہ کرے

برخوردار گولی تم اتنا چیختی کیوں ہو؟ کیا تمھیں شرم نہیں آتی کہ تمھیں چلانے والوں کے اندر کوئی چیخ

لعوقِ عشق و عرقِ آگہی

حسین عابد: تجسس کی ہوا لگتے ہی ایسا عارضہ لاحق ہوا
کوچہ بہ کوچہ مانگتا ہوں وہم کی خیرات
رہ چلتوں کی جیبوں سے ڑا لیتا ہوں سکے بے یقینی کے
جھپٹ کر چیل کی منقار سے شک کا نوالہ چھین لیتا ہوں

ایک مجسمے کی زیارت

سید کاشف رضا: میں دکھ اپنے خواب کا
تم نے جس کی مزدوری نہیں دی
میں دکھ اپنے خواب کا
جو تمہارے بدن پر پورا ہو گیا