کالے تجھے کتا کھالے

کالے تجھے کتا کھالے

کالے تجھے کتا کھالے
کالے کی ماں نے کہا۔ کالے نے جواب دیا کتے کو کتا کیسے کھا سکتاہے۔ ہوں ! کالے کی ماں نے سر جھٹکا۔ کتا ہی تو کتے کا ویری ہوتاہے۔ ہاں، کالے کتے کو تو سفید کتا ہی کھائے گا۔ ہاں۔۔۔یا پھر ڈب کھڑبا،کالے نے اپنے اگلے پاؤں سے کان پے چپکے ہوئے چیچڑ کو کھجاتے ہوئے پوچھا۔ ماں یہ ڈب کھڑبا کیسے بنتاہے۔ کالے کی ماں نے کہا۔ اگر ڈب کھڑبے کی ماں سفید ہو اور اس کاباپ کالا ہو۔ تو ڈب کھڑبا کتاپیدا ہوتاہے۔سب سفید کتے کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اس کی زیادہ عزت ہوتی ہے اور ڈب کھڑبے کی ؟۔۔۔ہاں اس کی بھی عزت ہوتی ہے۔ لیکن سفید سے کم۔ اور کالے کتے کی۔نہیں۔ اس سے فرشتے ڈرتے ہیں۔ اسے دیکھ کر فرشتے بھاگ جاتے ہیں۔ تو ماں کیا خدا بھی نسل پرست ہے۔

لیکن خدا کو تو نسل انسانی زیادہ پسند ہے کیونکہ سب نسلوں کے خاندان میں نسل انسانی سب جانداروں میں خوبصورت ہے۔ پر ماں کالی نسل بھی تو خوبصورت ہے۔ اسے خدا پسند کرتاہے یا نہیں۔ وہ توہے کالا۔ حلقہ بگوش ہے۔ داس ہے۔ وہ تو بن داموں کے نوکر ہے۔ تو ماں کیا خدا رنگ پرست بھی ہے۔ تم خدا کو بیچ میں مت لا۔ وہ بڑی ہستی ہے۔ یہ تو کالے کاقصور ہے۔ اسے کس نے کہاتھا۔ سفید مادہ سے عشق کی پینگیں بڑھا۔اور اگر گدھا کسی گھوڑی سے عشق کر بیٹھے اور پیدا ہوخچر تو اس میں ہستی والے کا کیا قصور ہے۔
لیکن ماں یہاں پر بھی تو بڑی ہستی والے گھومتے پھرتے ہیں جاگیروں کے کے مالک ہیں۔ لیکن ما ں یہاں بڑی ہستی والوں کے طویلے میں گھوڑے اور خچر تو ہوسکتے ہیں، لیکن طویلے میں کالا کتا تھوڑا ہوتاہے۔ کتا تو اندر بڑی ہستی والوں کے ڈرائنگ روم میں ہوتاہے۔ کالے نے سرجھٹک کر کہا۔

پر ماں میں تو ڈرائنگ روم میں نہیں ہوتا۔ بلکہ میں تو نوکروں کے کوارٹر میں بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ کوارٹر کے باہر بیٹھتاہوں۔ ڈرائنگ روم میں تو کتے ہوئے ہیں جو مہمانوں کا بچا کھچا کھانا صاف کرتے ہیں۔ انہیں بڑے سلیقے سے ڈائننگ ہال میں بھیج دیا جاتاہے۔ اوروہ کھانے کا لباس زیب تن ہوتے ہیں۔ جو ان کے سونے والے لباس سے مختلف ہوتاہے۔ اور تجھے پتہ ہے ماں جب کتے چہل قدمی کے لیے نکلتے ہیں۔ اس وقت چہل قدمی والی پوشاک زیب تن ہوتے ہیں۔ جب بڑی ہستی والے یہ فیصلہ سناتے ہیں،اب اپنی حاجت پوری کرسکتے ہیں۔

جب ان کی حاجت پوری ہوجاتی ہے تو بڑی ہستی والے پلاسٹک کی تھیلیوں میں جوکچھ بھی انہوں نے ڈائننگ ٹیبل پررکھا ہوتا ہے۔ اسےباندھ لیتے ہیں۔ اسے جمع کرلیتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے سرمایہ دار اصل زر سے منافع کما کر بھر کسی بڑے پلازہ پر صرف کرتاہے۔ اس سو منزلہ پلازے کے کونے کو وہ کتا سونگھتا ہے۔ اگر بلند عمارت سے زیادہ سرمایے کی خوشبو آئے تو۔ بچی ہوئی مہنگی فرانسیسی وائن۔ ا نگوری شراب۔ کو اپنی ٹانگ اٹھا کر نکال دیتاہے۔بالکل ایسے جیسے اصل سرمایہ میں منافع کا تھوڑا سا حصہ اس عمارت کی بنیادوں کو اور مضبوط کردیتاہو۔

لیکن بڑی ہستی والوں کے گھر کے باہر ایک بھکاری جس کا نام لےزیرس ہے۔ نہ تو اس کی پیٹ کی بھوک مٹائی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے سینے پرنپکن باندھا جاتاہے۔ نہ ہی اسے بچا کھچا کھانا دیا جاتاہے۔ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کی جان بچای جاے۔اس لیے کہ خدا وندقدوس اس پر اپنا معجزہ آزمانا چاہتا ہے۔ کیونکہ اس سے زیادہ کتے صفائی پسند ہیں۔ کیونکہ وہ بیٹھنے سے پہلے اپنی دم سے زمین صاف کرلیتے ہیں۔

کالے ہوسکتاہے۔۔۔۔۔۔وہ گناہ گار ہو۔کالے کی ماں نے کندھا اچکاتے ہوئے کہا۔ خدا اسے سزا دے رہاہو۔ کالے نے سرجھٹکتے ہوئے جواب دیا۔ ماں وہ گناہ گار کیسے ہوسکتاہے۔ وہ تو خون چاٹ لیتاہے اپنا۔ وہ بہت بھوکا رہتاہے جب بہت زیادہ بھوک ستاتی ہے تو اپنے زخموں کو کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتاہے یا پھر کسی بڑی ہستی والے سے التجا کرتاہے۔ میرے پیٹ پر زور سے چٹکی بھر دو۔ لیکن بڑی ہستی والے اتنا بھی نہیں کرتے کہ اس کے پیٹ پر چٹکی بھر دیں۔ وہ تو خود ہی اپنے پیٹ پر چٹکی بھر لیتاہے۔

ماں کیسی باتیں کررہی ہو۔ میری سمجھ سے یہ سب باہر ہے۔ مجھے لگتاہے یہ سب خواب ہے۔ نہیں یہ سب خواب نہیں حقیقت ہے۔ ماں نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا۔

لیکن ماں !کالے نے حیران ہو کر کہا۔ماں ماں دیکھ۔وہ کون ہے جس نے ابھی چٹکی بھری ہے۔ میرے پیٹ پر۔
تم نے نہیں دیکھا۔ ماں نے سرکو دائیں سے بائیں طرف گھمایا جیسے نماز ختم کرنے پر سلام پھیرتے ہیں۔

وہ ہستی والا تھا۔ ہستی والا۔ کالے نے پھر حیران ہو کر پوچھا۔ یہ ہستی والا کون ہوتا ہے۔ ماں نے جواب دیا اوہ جس کی کئی بستیاں ہوتی ہیں۔ قمقوں والی، امیروں کی بستیاں، لالٹینوں اور دیو ں والی،غریبوں کی بستیاں جھونپڑپٹیاں، ہاں ان سب بستیوں کا وہ مالک ہوتاہے۔۔ جتنی زیادہ بستیاں کا مالک اتنی بڑی ہستی کامالک ہوتاہے۔ جتنی بڑی اور مضبوط ہستی اس کی باہر سے ہوتی ہے اتنا ہی کمزور، بزدل وہ اندر سے ہوتاہے۔ اس لیے اندر کے خوف سے وہ باہر سے مضبوط عمارتیں بناتا جاتاہے۔ پر ماں یہ خوف کیسا؟ ہاں بیٹے۔ مرنے کا خوف۔ پر ماں مرنے کاخوف کیوں ہوتاہے۔ کیونکہ وہ گناہگار ہوتاہے۔ لیکن گناہ تو مذہبی احکام کی خلاف ورزی کو کہتے ہیں۔ وہ تو میں بھی کرتا ہوں۔ کالے نے کہا۔میں بھی بہت زیادہ کرتاہوں۔ اس لیے میں کہتاہوں کہ گناہ کا انعام موت ہے۔ مجھے تو انعام چاہیے۔ چاہے وہ موت ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن ان کے لیے۔کن کے لیے، ماں نے پوچھا بڑے ہستی والے لوگوں کے لیے موت کاقبول کرنا بہت مشکل ہے۔ کتنے جتن کرتے ہیں۔ موت سے بچنے کے لیے۔ سائنس کی،نت نئی ایجادیں،مہنگا سے مہنگا علاج خرید لیتے ہیں۔ تاکہ موت سے بچ سکیں۔ لیکن وہ تو گناہ بھی کرتے ہیں اورموت سے بھی ڈرتے ہیں۔ لیکن گناہ کون نہیں کرتا ہر کوئی کرتاہے۔ اگر ہم کہیں کہ ہم گناہ نہیں کرتے تو ہم اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ہمارے میں سچائی نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ تو پھر کیوں نہ ہم گناہ کو پیار کریں۔ جس کی منزل موت ہے۔ ہمیں ویسے بھی مر ہی جانا چاہیے کیونکہ موت کو کوئی نہیں مار سکتا۔ موت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

لیکن ماں کیا میں مختلف ہوں۔ ہاں میں بالکل مختلف ہوں۔ بالکل ہوں۔ نہ تو میں سفید انسان ہوں اور نہ ہی میں کالا کتاہوں۔ نہیں بلکہ میں تو انسان بھی ہوں۔ اور حیوان بھی ہوں۔ یعنی میں کتا بھی ہوں اور انسان بھی ہوں۔ پر ماں میں ایسا ہوں کیوں ؟

ماں نے جواب دیا بیٹے تمہیں میں بتاؤں۔ آدم نے مجھے اپنی پسلی کی ہڈی سے بنایاتھا۔ ہم دونوں ہنسی خوشی رہتے تھے۔ لیکن ہمیں منع کیا گیاتھا سب کچھ کھا لینا۔ مگر سیب نہ کھا نا۔ شیطان نے سانپ کے روپ میں ہمیں ورغلایا اور ہم نے جنت کامیوہ کھالیا۔ کسی بھی پھل میں اتنی لذت نہیں تھی جتنی اس جنت کے پھل میں ہے اور پھر ہمیں سزا ملی۔ عورت کانچلا حصہ ہر مہینے خون رونے لگا۔ مرد ہمیشہ عورت کی منتیں کرتا رہے گا، ہم بستر ہونے کے لیے۔ لیکن اس لذیذ پھل کے بدلے یہ سب سزائیں قبول تھیں۔

لیکن۔۔۔۔۔۔لیکن کیا ماں۔۔۔۔۔۔یہ سب کچھ۔۔۔ ماں نے کہا۔سب سزائیں مجھے قبول تھیں۔ لیکن مرد کی بے وفائی مجھے قبول نہ تھی۔ اور میں نے اسے سبق سکھانے کے لیے گاکالے کتے سے محبت کرلی۔ ہم دونوں نے پیار کا کھیل کھیلا۔ یہ کھیل بہت ہی لطف اندوز تھا۔ اس کے نتیجے میں تم پیداہوگئے۔ تمہارا سر اور پچھلا حصہ کالے کتے کی مانند ہے۔ لیکن تمہارا جسم انسانی ہے، لیکن ماں۔۔۔مجھے۔۔۔

مجھے کتا بنناہے یا پھر انسان بنناہے۔ مجھے یہ دوغلا پن بالکل پسند نہیں۔ میں کیا کروں ماں۔۔۔میری عادات تو انسانوں والی ہیں اور نہ ہی میں مکمل طور پر کتاہوں۔ ماں میں جب بھی خوش ہوتا ہوں تو میری دم نہیں ہلتی۔ بھاگتی چیز کے پیچھے مجھے بھاگنا اچھا نہیں لگتا۔ نہ ہی مجھے ہڈی چبانے میں مزا آتاہے۔ میرے کان بھی کھڑے نہیں ہوتے۔ ڈھلکتے ہوئے کانوں کو لوگ تو کاٹ دیتے ہیں۔

ماں نے غور سے سنتے ہوئے کالے کو ایک نصیحت کی ’’میری بات مانو۔ تمیں ایک مہم پر جانا ہو گا۔ ہاں جاوں گا۔ کالے نے سینے پر ہاتھ مارتے ہوے کہا۔تم ایسے کرو یہاں سے دور۔۔۔بہت دور ایک سائیں بابا ہے۔ اس کانام ہے سائیں چٹا۔۔۔کالے نے اپنے آپ کو دیکھنے کی کوشش کی اور اس نام کو دہرایا۔۔۔سائیں چٹا۔۔۔ماں نے کہا سنو!

دور بہت دور۔۔۔اس کا دربار ہے۔۔۔۔وہاں تم چلے جاؤ۔۔۔اس کے دربار کی چار دیواری ایک دروازے سے کھلتی ہے۔

لکڑی کے دروازہ پر ایک کنڈا لٹکتاہے جو دروازے کی چوکھٹ پر لگے آنکڑے میں پھنسا ہے۔ اسے کھول دینا اور اگر تم زندہ رہے اور تمہیں گل گھوٹو نہ ہوا۔ تو پھر تم وہ کنڈا بالکل آرام سے ایسے ہی کھولنا جیسے مچھلی کے منہ میں چبھے کانٹے کو بڑے آرام سے نکالتے ہیں۔ اس کا مطلب ہوگاکہ سائیں چٹا نے تمہیں اندر آنے کی اجازت دے دی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا، اور سائیں چٹا نے تمہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی تو تم پھر وہیں مر جاؤ گے۔ کالا چاروں ٹانگوں پر کھڑا سر کو اوپر اٹھاتے ہوئے بولا۔۔۔ماں مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا کیونکہ موت تو مرنہیں سکتی۔ اور پھر یہ چٹا۔۔۔چٹا سائیں۔۔۔کالے کو پسند کیوں کرے گا۔ وہ تو خود چٹاہے۔۔۔ماں نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔۔۔یہ تم اسی سے پوچھنا۔

کالے نے چٹا سائیں کے دربار کا رخ کیا۔ کافی دنوں کی مسافت کے بعد چٹے سائیں کے دربار جا پہنچا۔ کالے نے چٹا سائیں کے دربار کے باہر جا کر زور زور سے چیخنا شروع کردیا۔
’’کالے مجھے کتا کھالے۔‘‘’’کالے مجھے کتا کھالے۔‘‘

کالے نے چٹے سائیں کے دربار کا کنڈا کھول دیا۔ کالا زندہ رہا۔ نہ تو اس کو گل گھوٹو ہوا اور نہ ہی اس کے دل نے پھولنا اور سکڑنا بند کیا اور اور نہ ہی اس کے دماغ کی شریان نے پٹاخہ بجایا۔ کالا بے دھڑک دروازے کے بٹ کھولے اندر داخل ہوا۔ سامنے برآمد ے کے پار دو کچی اینٹوں کے ستونوں پر کھڑی پڑچھتی کے اندر بہت بڑے کمرے میں سائیں چٹا لنگوٹ پہنے چوکڑی بھر کے بیٹھاتھا۔ اس کے دونوں ہاتھ اس کے گھٹنوں کی چپنی پر چپنی بنا رہے تھے۔ وہ کالے کو دیکھ کے مسکرایا۔

لیکن کالا دوازے سے ہی بآواز بلند چلایا۔ ’’مجھے اچھنبا ہے میں کالا ہوں اورتو چٹا کیوں ہے۔ ‘‘
چٹے سائیں نے بھی بآواز بلند جواب دیا’’میں چٹا نہیں ہوں۔ میں گرد و غبار کے غبارے پر چٹا کوٹ چڑھائے بیٹھاہوں۔ میں وہ آلو بخارا ہوں جس کی کھال سفید ہے۔

اوئے کالے تجھ میں تو سب رنگ ہیں تیرے سب رنگ نکل جائیں تو میں بچتاہوں۔ چٹا صرف بے رنگ۔۔۔چٹا سائیں۔ تو جمع ہے میں تفریق ہوں۔ آؤ ہم آنکھوں کے ڈھیلوں کو بدل لیتے ہیں تمہاری آنکھین کالا دیکھیں اور میں سفید۔ ‘‘

کالے نے اپنے جسم کو جنبش دی۔ ’’پر میں تو دوغلا ہوں۔ ‘‘ میں کتا بھی ہوں، انسان بھی ہوں۔ میں ڈھیلے بدلنے سے بالکل نہ بدلوں گا۔ مجھے انسان بنناہے یا کتا۔‘‘

چٹے سائیں نے اپنے گھٹنے سے ایک ہاتھ اوپر اٹھا کر چسپنی بنے ہاتھ کو سیدھا کیا۔۔۔’’تمہیں کچھ کرناہوگا۔ ‘‘’’مجھے کچھ کرناہوگا۔ ‘‘
’’مجھے کیا کرناہوگا۔‘‘ کالے نے حیران ہو کر پوچھا۔ ’’تجھے کالے کتے کو سات ہڈیاں کھلانی ہوگی۔ ‘‘ سائیں چٹے نے اپنی دوہری کمر کو سیدھا کرتے ہوئے اپنی چوکڑی بھری ٹانگوں کو سیدھا اور لمبا کیا۔ سات ہڈیاں۔۔۔ہاں۔۔۔ہاں سات ہڈیاں۔ اور وہ بھی گناہ کی سات ہڈیاں۔ جو صرف پسلیاں ہوں گی۔ ‘‘ سائیں چٹے نے سانس کو اندر کھینچا اور پھیپھڑوں کی ہڈیاں باہرنکالتے ہوئے کہا۔
’’مرد کی بارہ پسلیاں ہیں۔ پہلے وہ تیرہ ہوتی تھیں۔ اس نے اپنی ایک پسلی سے عورت کو تراشا۔ جس کی وجہ سے سات گناہ پیداہوئے۔‘

کالے نے جواب دیا۔ ’’لیکن میں تو کتا بھی ہوں۔ ‘‘
چٹے سائیں نے سانس باہر نکالتے ہوئے جواب دیا۔
’’اسی لیے تمہارے ایک طرف تیرہ پسلیاں ہیں اور دوسری طرف بارہ۔‘‘
برآمدے میں لگا ہوا نلکا خود بخود چلنے لگا۔ لیکن اس میں سے پانی نہیں نکل رہاتھا۔ صرف ہوا نکل رہی تھی۔ جیسے کالے کتے کے گلے میں ہڈی پھنس گئی ہو۔ اور وہ کافی کھانسی کھانسنے لگاہو۔ اور وہ یہ کہنے کی کوشش کررہاہو۔
’’کالے تجھے کتا کھالے۔ ‘‘

’’ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔۔تجھے سات گناہ کی ہڈیاں کالے کتے کو کھلانی ہوں گی۔ ‘‘ کالے نے حیران ہو کر پوچھا ’’کیسے گناہ سائیں۔ ‘‘
’’پہلی ہڈی۔۔۔غرور کرنے کاگناہ۔‘‘،’’غرور ‘‘۔۔۔کالے نے تفصیل جاننے کے لیے لفظ غرور کو دہرایا۔ سائیں چٹے نے وضاحت کی۔ ’’غرور۔۔۔تکبر۔۔۔۔۔۔شیخی۔۔۔ناز۔۔۔شوخی۔۔۔گھمنڈ۔

تمہیں وہ رتبہ،مرتبہ مل جائے جس کا گھمنڈ کرو۔ جس کے تم قابل نہ ہو، تو وہ تمہیں نیچا دکھا ئے گی۔‘‘
کالے نے پھر پوچھا سائیں دوسری ہڈی؟؟

چٹے سائیں نے جواب دیا ’’دوسری ہڈی ہے پیسہ کی۔ ‘‘ کالے نے جیب میں اتھ ڈالنے کی کوشش تو اس کی جیب ہی نہیں تھی۔ لیکن اس نے خیالوں میں ہی سکوں کو اپنے پنجوں میں گھمانا شروع کردیا اور پھر اور پوچھا ’’اور۔۔۔۔۔۔‘‘
چٹے سائیں نے جواب دیا ’’تیسری ہڈی عورت۔۔۔‘‘۔۔۔’’عورت ‘‘ کالے نے سائیں چٹے کے ہلتے ہونٹ جو لفظ ع۔ و۔ ر۔ت کہہ رہے تھے۔ غور سے دیکھا اور کہا ’’کیا میں عورت کی تیرہویں پسلی لے کر آؤں۔ جو مرد کی ایک پسلی سے زیادہ رکھتی ہے۔ وہ تو خود مرد کی پسلی ہے اور وہ خود ہی مرد کی۔ مادہ ہے۔ زن ہے، جسم کا وہ حصہ جسے کھولنا موجب شرم ہے۔ ‘‘

چٹے سائیں نے ہونٹوں کو بھینچتے ہوئے ’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’مجھ سے زیادہ وضاحت نہ مانگو۔ ‘‘
کالے نے پوچھا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

۴۔چٹے سائیں نے جواب دیا ’’آزادی کی ہڈی۔‘‘ کالے نے فوراً اپناہاتھ گردن پر پھیرا اورشکر کا سانس لیا کہ اس کے گلے میں پٹہ نہیں تھا اور بڑبڑایا۔

’’رہائی۔۔۔خودمختاری۔۔۔بااختیاری۔۔۔میں تو خود آزادی کی چوکھٹ کا آساں بوس ہوں۔ ‘‘
چٹے سائیں نے اپنا دایاں ہاتھ اوپر اٹھایا اور کہا:۔’’گھر کا بن گھاٹ کا نہ بن۔ ‘‘ کالے نے سرا اوپر نیچے ہلایا۔ ’’میں دھوبی کا آسہ ہوں۔ ‘‘
’’اور۔۔۔اور۔۔۔پانچویں۔ ‘‘

۵۔ چٹے سائیں نے کہا۔ ’’شہرت کی ہڈی۔۔۔وہ ہڈی۔ہڈی لا جو تیری پہچان ہے۔ جس ہڈی سے تو چناہے۔ نہ کہ جس کو تونے نے جناہے۔ جس کی وجہ سے تجھے شہرت ملی ہے۔ ‘‘

کالے نے اپنے سر کو بغیر دم والی پیٹھ کی طرف موڑ کر دائرے میں گھومنا شروع کردیا۔اپنی پیٹھ کا پیچھا کرنا شروع کردیا۔
’’میں تو۔۔۔۔۔۔پر میں تو کتے اورانسان کی ہڈی کے ملاپ سے جناہوں۔ میں انسان ہوں یا حیوان میں اپنے باپ کی ہڈی لاؤں یا ما ں کی۔ چٹے سائیں نے جواب دیا۔ دونوں ہڈی جو غلیل بنانے اور ان دو ہڈیوں کے درمیان بندھے ہوئے ربڑ میں اٹکا وہ ڈھیلا تو ہے۔۔۔جا۔۔۔جا۔۔۔وہ ہڈی لا۔۔۔اور تو اٹھایا جائے گا۔ اس غلیل کی ہڈی کے درمیان سے جس سےاس جہاں سے تو پھینکا گیاتھا۔ اس جہان سے اس دنیا میں۔۔۔اسی کے نام سے تو اٹھایاجائے گا۔ آخرت کے دن وہی تیری شہرت ہے۔ تو وہی چمکتاہوا ستارہ ہے۔ اسی ستارے سے تیری دھوم مچی ہے۔ تیری نیک نامی ہے۔ رسوائی ہے۔ بدنامی ہے تو تو ایک افواہ ہے، تو چرچاہے وہ وہ ہڈی ہے جوبنسری ہے،الغوزہ ہے جس کے بجنے سے میٹھا اور کڑوا شور اٹھتاہے۔

’’اور کون سی ہڈی ‘‘ ہے کالے نے چٹے سائیں سے پوچھا۔

’’چھٹی ہڈی ہے جنس کی ہڈی یہ وہ ہڈی ہے جو اشارہ ہے۔ جو مرد اور عورت کو ایک واردات کرنے کے لیے اکساتی ہے اور وہ واردات ایک اہم واقعہ ہوتاہے۔ سرگزشت ہوتی ہے اور یہ سرگزشت جو بے اختیاری۔۔۔بے اتنای۔۔۔بلاجبر و کراہ ہے۔۔۔یہ طبعی ہے۔ یہ ہے۔ یہ بلا ارادہ ہے۔ یہ تو خود رو پودے کی مانند ہے جو قوت عمل رکھنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ایک قوت ہے۔ بس یہ تو قوت آفرین ہے۔ یہ ہڈی قوت کا وہ گھونسلا ہے جس میں زندگی کی بھوک کا چوگا مرد اور عورت دونوں چگتے ہیں۔ شدت سے۔ ہیجان سے، بدمستی سے اور یہ بدمستی وہ انعام ہے جو ان گھونسلے کے تنکوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ لیکن سائیں بابا میں تو چٹا ہوں۔ انسان اور حیوان کے ملاپ سے بنا ہوں۔
چٹے سائیں نے جواب دیا ’’ہاں تبھی تو تجھے ڈھونڈناہے۔ اس ہڈی کو جو احتجاج ہے۔ اور قیمت لگانی ہے یقین کرناہےتعین کرنا ہے۔ اچھائی کا،کالے نے کہاتو کیا یہ میری ماں کا احتجاج تھا انسانوں کے خلاف۔
’’پتہ نہیں۔۔۔‘‘چٹے سائیں نے کہا۔ تبھی تو تمہیں ڈھونڈناہے۔ اس ہڈی کو۔

کالے نے پوچھا ’’ساتویں ہڈی کون سی ہے۔ ‘‘ ہاں چٹے سائیں نے جواب دیا ’’قہر و غضب۔ بغض و خلق کی ہڈی۔۔۔جسے غصے کی ہڈی بھی کہتے ہیں۔ جسے کنٹرول کرنابہت مشکل ہوتاہے۔ اگر اس پر قابو نہ پاسکو تو یہ اپنے آپ کو تباہ کرتی ہے۔یہ بالکل لکڑی کے مڑے ہوئے اس کی لکڑی کی مانند ہوتی ہے۔ جس سے آسٹریلیا کے لوگ کھیل کھیلتے ہیں۔ جسے پھینکنے کے بغیر پھینکنے والے کے پاس واپس آجاتی ہے۔ اگر یہ نشانے پر نہ لگے تو یہ پھینکنے والے کو آلگتی ہے۔ اور اس کا درد اندرونی بھی ہوتاہےاور بیرونی بھی۔
اور اس کا گناہ اندرونی اور بیرونی حالتوں میں بھینچ لیتاہے۔ اگر اس کے اسلوبی بیان کا راگ جذباتی ہو تو یہ خدا کے دیے ہوئے زندگی کے حصے کو رد کردیتاہے۔ ‘‘

کالے نے دونوں آنکھوں کو چٹے سائیں پر مرکوز کرتے ہوئے کہا۔ وہ اس کی شکل دیکھنی ہو تو انسان کتے والے سر کا ہوتاہے۔ اور جب یہ غصے میں آتاہے تو ان کی آنکھیں چہرے سے اُتر کر سینے پر آلگتی ہیں۔ اور سر جسم کے اندر دھنس جاتاہے اور غائب ہوجاتاہے۔ بالکل ایسے جیسے مسجد کے سرسے گنبد غائب ہوجاتے ہیں۔ مسجد، مسجد کے بغیر رہ جائے۔ یہ سب کچھ تب ہوتاہے جب پر امن رہنے کا غصہ مطلوب و مرغوب ہو۔ جو تمہارے پڑوسی کے پاس ہو اسے دیکھ کر۔ اس سے تمہاری آنکھیں سِل جاتی ہیں۔ سوئی دھاگے سے۔ جب تم افسوس کرو پڑوسی کی چیز کو اپنانے کے لیے۔ ‘‘

کالا یہ سب ہڈیاں لینے کے لیے نکل کھڑاہوا۔ سڑک سے چلنے والے بچے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
بہت اونچی اونچی عمارتوں کے وسط میں دو بہت بلند وبالا عمارتیں جس کی بنیادوں روپے نوٹوں اور بانڈز کے چھپے ہوئے کاغذوں پر رکھی تھیں۔

دروازے پر گھومتی ہوئی فرانسیسی طرز کی موٹی مونچھوں والا دربان جس کے لباس کی تراش و طبع۔یورپ کے شاہی دربان جیسی تھیں۔ جو بادشاہ سلامت کی کمر پر لٹکتی ہوتی ہے۔ لباس کو جھاڑو دینے سے بچانے کے لیے اٹھا رکھتا ہے۔ لیکن یہ دربان لمبے قد کاتھا۔ کالے کا دل چاہاکہ اپنی دائیں ٹانگ اٹھا کر اس دربان پر چٹے سائیں کی ساری باتیں نکال دے۔ لیکن اس کی گول بل کھاتی سانپ کی کنڈلی نما مونچوں میں اس کا سرگھوم گیا۔

دربان نے سرجھکا کر اسے اندر جانے کا راستہ دکھایا۔ سامنے بالکل سامنے معلومات والے ڈیسک پر ایک بہت ہی خوبصورت سنہری بالوں والی باکرہ بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ کالے نے پوچھناچاہا،تم بن بیاہی ہو۔ لیکن جیسے ہی اس نے اپنے ہی پھیپھڑوں میں کھجلی ہوتی۔ کالے نے ہاتھ لگا کے دیکھا تو اس کی ایک پسلی کم ہوگئی تھی۔ کالے نے اس سے پوچھا۔

’’مجھے سات ہڈیاں چاہئیں۔ ‘‘ سنہری بالوں والی دوشیزہ نے بائیں جانب اشارہ کیا اپنی موٹی موٹی آنکھیں مٹکاتے ہوئے۔ کالے نے ایک شیشہ کاڈبہ نما کمرھ دیکھا۔ خود کار دروازے قدموں کی آہٹ محسوس کرتے ہی کھل گئے۔ شیشے کا کاڈبہ نما کمرہ تیزی سے بدلتے نمبروں کو گنے بغیر ایک منزل پر جا کر رک گیا۔ سامنے تنگ ملبوس میں جکڑا ایک دبلا پتلا پھولے بالوں کا جوان چہرے پر مسکراہٹ سجائے ٹیڈی بالم نے استقبالیہ آنکھوں سے بیٹھنے کی التجا کی اپنے ہونٹوں پر انگریزی کے لفظ یوں پھینکے جیسے ۱۹۷۰ء کاٹائپ رائٹر ایک ایک ہندسہ کو پھٹاک پھٹاک کی آواز سے کاغذ کی سطح پر ڈینٹ ڈال رہاہو۔ May I Help you.

کالے نے گلہ صاف کرتے ہوئے دائیں باتیں دیکھ کررازدارانہ انداز میں دریافت کیا۔مجھے سات ہڈیاں درکار ہیں۔۔۔پیمنٹ Paymentکیسے کریں گے۔ کیش یا کریڈٹ کارڈ سے۔۔۔ٹیڈی بالم نے اپنی ٹیڈی ٹائی کو پتلون کی کمر سے سجی Loveلیٹر زوالے بکل کے نیچے ایسڑتے ہوئے پوچھا۔ کالا بھونچکا سا گیا۔ میرے پاس تو کیش نہیں ہے اور نہ ہی کریڈ ٹ کارڈ۔

ٹیڈی بالم نے پھر مسکراہٹ کو اپنے ہونٹوں پر بکھیرا۔ نو پرابلم تم کچھ گروی رکھ کے مارگیج لے لو۔

کالا پھر مچلا۔۔۔پر میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ گروی رکھنے کے لیے۔ ٹیڈی بالم نے پھر مسکراہٹ کو ہونٹوں پر پھیلایا۔ نو پرابلم تم اپنی روح کو گروی رکھ سکتے ہو۔ کالا بہت خوش ہوا۔ ارے واہ رو ح کے بھی دام لگتے ہیں۔

’’ہاں،بالکل۔۔۔‘‘ ٹیڈی بالم نے جواب دیا۔ وہی سب سے مہنگے داموں پے گروی رکھی جاسکتی ہے۔

ٹیڈی بالم نے ایک لمبی سی درخواست سامنے رکھ دی۔ جس پر لمبے چوڑے قواعد و ضوابط لکھے تھے۔ کالے کو ضرور ت تھی۔ اس نے بغیر پڑھے لکھ ے agree والےخانے پر اچھائی کا نشان لگایا۔ نیچے والی جگہ پر دستخط اپنے نام کے ساتھ کردیے۔ ٹیڈی بالم نے اپنےڈیسک کے نیچے لگے بٹن کو دبایا اور ایک اور سنہری بالوں والی باکرہ رانوں سے اوپر سکرٹ پہنے ہائی ہیل میں مٹکتی ایک امریکن ایکسپرس کا ڈبہ کالے کو تھما دیا۔

کالے ڈبہ کھول کر تسلی کرلی کہ اس میں سات ہڈیاں موجود تھیں۔

کالا تمام ہڈیاں لے کر چٹے سائیں کے دربار پر گیا۔ چٹے سائیں نے کالے کو اپنے دربار کے پچھوڑے جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کالےکتے کی طرف بھجوادیا۔ وہ کالا کتا جو چینی نئے سال کے شروع ہونے کے ہی دو دن پہلے پیدا ہوا تھا۔

کالے نے ساتوں ہڈیاں ایک ایک کرکے کالے کتے کو کھلا دیں۔ کالے کتے نے اپنا منہ آسمان کی طرف کرکے زور سے آؤں۔۔۔کی آواز نکالی۔ کالے کا جسم آہستہ آہستہ انسانی جسم میں بدلنا شروع ہوگیا اور چند ہی لمحوں میں وہ مکمل انسان ہوگیا۔

جیسے ہی وہ چلنے لگا اسے ایک ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوا اور اسے ہلکا ہلکا سرور آنے لگا۔ جیسے بھنگ پی کے آیاہو۔ اس کا سر گھومنے لگا۔ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ عین کانوں کے اوپر سے اسے محسوس ہواکہ اس کے دو چھوٹے چھوٹے سینگ نکل آئے ہیں اور بالکل اس کے سامنے سرخ چہرے اور جسم پر سرخ لباس زیب تن کیے سرخ رنگ کا شیطان ہاتھ میں سرخ رنگ کی جمع بندی تھامے کھڑاتھا۔ اس نے سرخ رنگ کے قلم کے نب کو اپنے تھوک سے نم کیا اور جمع بندی کے صفحے پر کالے کے نام کے آگے اچھے ہونے کانشان لگاتے ہوئے زور داد قہقہہ لگایا۔

’’کالے۔۔۔تجھے کتا کھالے۔‘‘

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Mumtaz Hussain

Mumtaz Hussain

Mumtaz Hussain is an artist, film maker and a writer. He has also served as an art director for Calvin Klein, Ralph Lauren and Simon & Schuster. Mumtaz directed 13 episodes of an informative talk show for channel 9 "Ask a Lawyer." His Urdu book of short stories, GOOL AINAK K PECHAY, LAFZON MAIN TASVEERAIN is published. His script The Kind Executioner received finalist award at Hollywood Screenplay Contest Hollywood and first award at Jaipur International film festival. His paintings and films have been shown at numerous museums, universities, art galleries and international film Festivals.


Related Articles

ستیہ وان ساوتری

"تمہارے پتی کی موت تو قسمت میں لکھی تھی۔ اس کو تو کوئی بھی نہیں بدل سکتا۔ البتہ تم ایک مراد اور مانگ سکتی ہو، اس کے بعد واپس لوٹ جاؤ۔"

بَکاسُر

سب نے مل کر راکشس سے سمجھوتا کر لیا ہے کہ ہر روز کھانے سے بھری ہوئی ایک گاڑی، دو بیل اور ایک آدمی راکشس کے کھانے کے لیے بھیجے جائیں گے۔

The Red Light of Hope

Anas Baqi The circular red light in front of me suddenly came to life, signaling to speeding drivers that they