کایا کلپ کے بعد

کایا کلپ کے بعد

ایک روز صبح سویرے شہر جاگا
تو اُس کے وقت پہ سُرخ اور سیاہ کا
قبضہ ہو چکا تھا
اس روز سارا دن شہر کے نتھنوں سے
سُرخی قطرہ قطرہ ٹپکتی رہی
اور ستارے اپنی آنکھیں ملتے رہے
اس دن کے بعد سے مہا بلی
آدھی آنکھ سے شہر کو تکتا ہے
کہ شہر کے حصے میں فقط
آدھی آنکھ کی سیاھی رہ گئی ہے
اب اس شہر پہ دندناتے بونوں کا راج ہے
جو لمبی داڑھیوں پہ قدم جما کے
اپنا قد بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں
اور صبح سے شام تک
اذانیں ایک دوسرے کا پیچھا کرتی کرتی
تھک جاتی ہیں
یُو این او میں بیٹھے درویش کے کان
آج بھی دھواں دیتے ہیں
اور شہر ہٹ دھرمی کے عفریت کے آگے
بھیگی بِلی بن چکا ہے
Image: Gerome Kamrowski

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

ہم تمہیں اورتمہارے فیصلوں کو منسوخ کرتے ہیں

نسیم سید: تم نے آج تک عورتوں
کو ریوڑ کے طرح رکھنے
اورگولیاں پھانک کے
آسودگی کے لمحات کو
برا بھلا گزارنے کے سوا کیا کیا ہے؟

کسی دن مِلیں گے

نصیر احمد ناصر: مِلیں گے کسی دن مِلیں گے
فراغت ہوئی تو
خدا سے بھی، تجھ سے بھی
دونوں جہانوں سے باہر مِلیں گے
کسی دن عروضی زمانوں سے باہر مِلیں گے

وادھو پیٹ

جمن توں لے کے مرن تک
عورت صرف اک پیٹ ہوندی اے