کبھی تصویر بھی حرام تھی

کبھی تصویر بھی حرام تھی

ہمارے مذہبی طبقے کا بلا استثناء کسی مسلک و جماعت یہ المیہ رہا ہے کہ ہر دور میں جدید مسائل سے نا واقفیت کے باوجود اپنی من چاہی سمجھ کو عین خدا و رسول کی منشاء و حکم باور کرواتے ہیں اور جو ان سے اختلاف کرے اسے گمراہ و کافر کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ ہر نئی آنے والی چیز پہلے حرام قرار پاتی ہے اور پھر درجہ با درجہ ترقی کرتے ہوئے مکروہ سے مباح اور پھر عین شرعی ضرورت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ چھاپہ خانہ سے لے کر تصویر اور لاؤڈ اسپیکر سے لے کر ٹیلی ویژن تک ہر چیز کا شرعی حکم زمانے کے ساتھ اسی طرح بدلا ہے۔

ہمارے علماء کرام انتہائی مہارت سے قرآن و حدیث کی انہی آیات و روایات سے انہی چیزوں کی حلت نکال لیتے ہیں جو اس سے پہلے عین حرام قرار پاتی تھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بعد میں بھرپور ڈھٹائی سے اس بات کا انکار بھی کیا جاتا ہے کہ پہلے کبھی ان چیزوں کا شرعی حکم یہی علماء کرام کچھ اور بیان کرتے آئے ہیں۔

ایسا ہی ایک معرکۃ الآراء مسئلہ تصویر کا بھی ہے جس کی شدید حرمت پر تمام مسالک کا بھرپور اتفاق موجود تھا اور یہ حرمت ہر طرح کی تصاویر کو شامل تھی چاہے وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہوں یا کسی کیمرے سے۔ مگر آج یہ حرمت خود مذہبی رہنماؤں اور علماء کرام کے ہاتھوں رخصت ہو چکی کیونکہ اب یہ حلال ہو چکی ہے۔ اب یہ تصویر وہ تصویر ہی نہیں رہی جو حرام تھی بلکہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ علماء کرام جن تصویروں کو حرام کہتے تھے وہ صرف ہاتھ سے بنائی جانے والی تصاویر تھیں اور کیمرے سے بنائی گئی تصاویر اس حرمت میں کبھی شامل ہی نہیں سمجھی گئیں۔ یہ بات سراسر حقائق کو جھٹلانے اور دھوکہ دینے کے مترادف ہے کیونکہ تمام کے تمام مسالک کے علماء ہر طرح کی تصاویر کو حرام سمجھتے تھے اور کیمرے کی تصاویر پر بھی شرعی وعیدوں کا اطلاق فرماتے تھے۔ اس مسئلہ میں شاید ہی کسی مسلک کے جید علماء میں سے کسی نے پہلے اختلاف کیا ہو لیکن آج جب تصویریں بنانا خود ان کی اپنی ضرورت بھی بن گیا تو تصویر اور فوٹو کا شرعی حکم بھی بدل دیا گیا۔

اس سلسلے میں تصویر اور فوٹو کی شدید حرمت کے بارے تمام مشہور مسالک و جماعتوں کے جید و معتبر علماء کرام کے شرعی فتاویٰ پیش کئے جا رہے ہیں تاکہ سند رہیں اور بوقت ضرورت کام آئیں۔ یاد رہے کہ تمام فتاویٰ صرف وہی پیش کئے گئے ہیں جو کیمرے سے بنی ہوئے تصاویر کے بارے پوچھے گئے سوالات پر دیے گئے تھے۔ اکثر فتاویٰ میں خود اس بات کی وضاحت بھی موجود ہے۔

بریلوی علماء

☆ بریلوی جماعت کے مرکزی دارالافتاء بریلی سے جاری ہونے والے فتویٰ میں کہا گیا: "کہیں بھی کسی بھی ذی روح کی تصویر کھینچنا کھنچوانا سخت حرام اور بد انجام ہے۔" (فتاویٰ بریلی، ص201)

☆ بریلوی جماعت کے مفتی اعظم ہالینڈ حضرت مولانا مفتی عبدالواجد قادری لکھتے ہیں: "تصاویر کھینچنے اور کھینچانے کی حرمت احادیث مشہورہ و متواترہ سے ثابت ہے اور نصوصِ ممانعت کے ہوتے ہوئے بغیر عذر شرعی کے اس کی اباحت کی کوئی صورت نہیں بنتی ہے۔ لہٰذا جن نام نہاد اسلامی ممالک کے سربراہوں نے اپنی رضا سے تصویریں کھینچوائیں اور انہیں عام کیا وہ سب اس حرام کے مرتکب ہوئے۔ ہاں اگر وہ اس کی اباحت کے بھی قائل ہوں تو اس کا حکم نہایت سنگین ہو گا۔ العیاذ باللہ تعالیٰ" (فتاویٰ یورپ، ص259-260)

☆ بریلوی اعلیٰ حضرت کے صاحبزادہ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مصطفیٰ رضا قادری فتویٰ دیتے ہیں: "جاندار کا فوٹو کھینچنا کھینچوانا حرام ہے۔" (فتاویٰ مصطفویہ، ص449)

☆ بریلوی جماعت کے مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقار الدین قادری چھپی ہوئی تصویروں کے بارے فتویٰ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: "تصویر بنانا بہرحال حرام ہے۔ وہ کعبہ میں ہوں یا کہیں اور۔ اور تصویر کو اعزاز کے ساتھ رکھنا اور لٹکانا بھی حرام ہے۔" (وقار الفتاویٰ، ج2 ص509)

مزید ایک جگہ لکھتے ہیں: "جاندار کی تصویر کھینچنا اور کھچوانا حرام ہے۔ کوئی عالم کھنچوائے یا غیر عالم، سب کے لئے ایک ہی حکم ہے۔" (وقار الفتاویٰ، ج2 ص513)

دیوبندی علماء

☆ سوال کیا جاتا ہے کہ "زید عالم ہے، وہ کہتا ہے کہ تصویر دستی یعنی قلم (سے ہاتھ) کی بنی ہوئی کا بنوانا یا مکان میں رکھنا حرام ہے لیکن فوٹو کا لیا جانا اور مکان میں رکھنا حرام نہیں، بدیں دلیل کہ فوٹو آئینہ عکس ہے۔"

اس کے جواب میں دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:

"زید کا قول بالکل غلط ہے اور یہ قیاس مع الفارق ہے۔ آئینہ کے اندر کوئی انتقاش باقی نہیں رہتا، زوال محاذہ کے بعد وہ عکس بھی زائل ہو جاتا ہے، بخلاف فوٹو کے اور یہ بالکل ظاہر ہے اور پھر صنعت کے واسطے سے ہے، اس لئے بالکل مثل دستی تصویر کے ہے۔" (امداد الفتاویٰ، ج4 ص253-254)

☆ اسی طرح بائسکوپ وغیرہ پر متحرک فلم چلانے اور دیکھنے کے بارے فتویٰ دیتے ہوئے حضرت تھانوی صاحب فرماتے ہیں: "شریعت اسلامیہ میں جاندار کی تصویر بنانا مطلقاً معصیت ہے، خواہ وہ کسی کی تصویر ہو اور خواہ مجسمہ ہو یا غیر مجسمہ۔" (امداد الفتاویٰ، ج4 ص258)

☆ مشہور دیوبندی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے مولانا سمیع الحق کی زیر نگرانی شائع ہونے والے مجموعہ فتاویٰ میں بیان کیا گیا ہے کہ "ذی روح اشیاء کی فوٹو گرافی کرنا یا شبیہ بنانا تخلیق خداوندی کے مترادف ہے جو کہ گناہ کبیرہ ہے، اس لئے جاندار اشیاء کی تصاویر بنانا شرعاً حرام و ناجائز ہے۔" (فتاویٰ حقانیہ، ج2 ص428)

☆ مفتی رشید احمد لدھیانوی فتویٰ دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: "تصویر کھنچوانا باجماع امت حرام ہے۔۔۔۔ عوام کے مقابلہ میں کسی عالم یا مفتی کا تصویر کھنچوانا کئی وجوہ سے زیادہ شنیع اور قبیح ہے۔" (احسن الفتاویٰ، ج8 ص191)

☆ تصویر کی حرمت علماء کس قدر شدید سمجھتے تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ کرایہ پر جو سائیکل ملتی ہے اس پر تصویریں لگی ہوتی ہیں تو کیا ایسی سائیکل کا استعمال جائز ہے؟ اس پر مفتی رشید احمد لدھیانوی لکھتے ہیں:

"ایسی سائیکل پر سوار ہونا جائز نہیں، اگر بغیر تصویر سائیکل نہ ملتی ہو اور ضرورت شدیدہ ہو تو گنجائش ہے مگر تصویر کو کسی چیز سے چھپا دے، یہ بھی نہ ہو سکے تو تصویر سے حتی المقدور اغماض واجب ہے۔" (احسن الفتاویٰ، ج8 ص196)

☆ ٹیلی ویژن دیکھنے کو حرام قرار دینے کی ایک علت تصویر کو ہی قرار دیتے ہوئے مفتی صاحب فرماتے ہیں: "ٹی وی دیکھنا بہرحال وجوہ ذیل کی بنا پر حرام ہے۔۔۔۔ اس میں عموماً اصل کی بجائے فلم آتی ہے جو تصویر ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور جس مجلس میں تصویر ہو وہاں جانا بھی حرام ہے۔ حدیث میں تصویر والوں پر لعنت وارد ہوئی ہے، جہاں تصویر ہوتی ہے وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔" (احسن الفتاویٰ، ج8 ص191-200)

اہلِ حدیث علماء

☆ نماز وغیرہ سیکھنے سکھانے کے لئے فوٹو لے کر رسالہ شائع کرنے کی اجازت پوچھنے پر مشہور اہل حدیث عالم فقیہ العصر محدث عبداللہ روپڑی نے لکھا:

"تصویر کا بنانا تو کسی صورت درست نہیں اور (پہلے سے) بنی ہوئی کا استعمال دو شرطوں سے درست ہے ایک یہ کہ مستقل نہ ہو، کپڑے وغیرہ میں نقش ہو۔ دوم نیچے رہے بلند نہ لٹکائی جائے۔" (فتاویٰ اہلحدیث، ج3 ص345)

☆ جماعت اہل حدیث کے محدث العصر شیخ محب اللہ شاہ راشدی فرماتے ہیں: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاندار کی تصویر بنانے سے منع فرمایا ہے اور جو ایسا کرتا ہے اس پر لعنت فرمائی ہے اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ تصویر بنانے والے اللہ کی مخلوق میں سے بدترین لوگ ہیں۔۔۔۔ اور یہ عمل کبیرہ تباہ کرنے والا گناہ ہے اگرچہ یہ آج پورے عالم اسلام میں بھی پھیلا ہوا ہے۔" (فتاویٰ راشدیہ، ص495، نعمانی کتب خانہ لاہور)

☆ مشہور اہل حدیث مفتی مبشر احمد ربانی لکھتے ہیں: "یہ بات درست ہے کہ شریعت اسلامیہ نے جاندار اشیاء کی تصاویر کو حرام قرار دیا ہے۔ تصاویر کو مٹانے کے حکم کے ساتھ جاندار اشیاء کی تصاویر بنانے والے پر لعنت کی گئی ہے اور قیامت کے دن کے سخت ترین عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔۔۔۔" (احکام و مسائل، ص625، دارالاندلس لاہور)

☆ سوال کیا جاتا ہے کہ "تصویر کے بارے میں شریعت نے سختی سے روکا ہے۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس جدید دور میں جو تصویر کیمرہ کے ساتھ لی جاتی ہے وہ اس ضمن میں نہیں آتی بلکہ یہ ممانعت ان تصاویر کے بارہ میں ہے جو ہاتھ سے بنائی جاتی ہیں اور کیمرہ کی تصویر تو ایک عکس ہے۔ لہٰذا یہ جائز ہے؟"

اس کے جواب میں جماعت اہل حدیث کے نامور شیخ الحدیث و مفتی حافظ ثناء اللہ مدنی صاحب فرماتے ہیں: "اسلام میں بلااستثناء ہر ذی روح کی تصویر حرام ہے۔ چاہے جونسی بھی صورت میں تصویر کشی کی جائے۔۔۔۔ معلوم ہوا کہ سائے دار یا غیر سائے دار ہر طرح کی تصویر حرام ہے۔ کیمرہ سے بنی ہو یا غیر کیمرہ سے۔" (فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ، ج1 ص533، دارالارشاد لاہور)

☆ نامور اہل حدیث عالم و مفتی حافظ عبدالمنان نور پوری فرماتے ہیں: "ٹی وی، وی سی آر اور فلموں کا کاروبار شرعاً درست نہیں کیونکہ ان میں جاندار کی تصویر بنتی ہے اور تصویر کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بالکل واضح ہیں کہ تصویروں والے روزِ قیامت عذاب دیے جائیں گے۔" (احکام و مسائل، ج1 ص377، المکتبۃ الکریمیہ لاہور)

مزید ایک جگہ حافظ نورپوری لکھتے ہیں: "ہر ذی روح کی تصویر خواہ ہاتھ سے بنائی گئی ہو خواہ کیمرہ سے ممنوع تصویر میں شامل ہے۔" (احکام و مسائل، ج2 ص771)

☆ جماعت اہل حدیث کے معتبر مفتی شیخ عبدالستار الحماد لکھتے ہیں: "شریعت میں تصویر کشی حرام ہے، اس بنا پر فوٹوگرافی کا پیشہ اختیار کرنا بھی حرام ہے، حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے سنگین عذاب تصویر بنانے والوں کو ہو گا۔" (فتاویٰ اصحاب الحدیث، ج3 ص470، مکتبہ اسلامیہ لاہور)

مزید ایک جگہ لکھتے ہیں: "آج امت مسلمہ جن فتنوں میں بڑی شدت سے مبتلا ہے، ان میں ایک فتنہ تصویر بھی ہے حالانکہ دینِ اسلام میں تصویر کشی کی بہت حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ صورت مسئولہ میں سیاسی راہنماؤں کی قد آور تصاویر آویزاں کرنا انتہائی گھناؤنا فعل ہے، علماء حضرات بھی اس فتنہ میں پوری طرح ملوث ہیں، اضطراری و مجبوری کی بات زیربحث نہیں کیوں کہ بوقت ضروت تو خنزیر اور مردار بھی کھایا جا سکتا ہے، اگرچہ اس کی بھی حدود و قیود ہیں، تاہم پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور کرنسی نوٹوں کی آڑ میں شوقیہ تصاویر کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔" (فتاویٰ اصحاب الحدیث، ج1 ص450)

سعودی علماء

☆ سعودی عرب میں شیخ عبدالعزیز بن باز، شیخ محمد بن صالح عثیمین اور شیخ عبداللہ الجبرین جیسے کبار علماء پر مشتمل و زیر نگرانی کام کرنے والی فتویٰ کمیٹی "اللجنۃ الدائمۃ للافتاء والارشاد" نے لکھا:

"ہر جاندار کی تصویر حرام ہے خواہ وہ انسان ہو یا حیوان اور تصویر خواہ برش سے بنائی جائے یا بُن کر یا رنگ سے یا کیمرہ سے یا کسی اور چیز سے اور خواہ وہ مجسم ہو یا غیر مجسم۔ تصویر ہر طرح حرام ہے، کیونکہ تصویر کی حرمت پر دلالت کرنے والی احادیث کے عموم سے یہی ثابت ہے۔" (فتاویٰ اسلامیہ، ج4 ص384، دارالسلام ریاض)

☆ یہ فتویٰ کمیٹی مزید ایک جگہ لکھتی ہے: "جس طرح دلائل تصویریں بنانے والوں پر لعنت اور آخرت میں ان کے لئے جہنم کی وعید کے بارے میں ہیں، اسی طرح یہ تمام دلائل اس شخص کے لئے بھی ہیں جو اپنے آپ کو تصویر بنوانے کے لئے پیش کرے۔" (فتاویٰ اسلامیہ، ج4 ص384)

ان تمام فتاویٰ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان سب مسالک و جماعتوں کے ہاں بالاتفاق کسی جاندار کی ہر طرح کی تصاویر بشمول کیمرہ سے کھینچی گئی فوٹوز حرام تھیں اور ایسی تصاویر کے کھینچنے کھنچوانے والوں پر لعنت کا استعمال بھی وافر مقدار میں کیا جاتا تھا۔ مگر آج آہستہ آہستہ یہ سب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

جہاں آج کے علماء اپنی ضرورت بننے پر اس فہم تک آ پہنچے ہیں کہ یہ تصویر وہ نہیں جو حرام ہے اور جس پر لعنت و وعید کی بشارتیں سنائی جاتی تھیں تو امید کی جانی چاہئے کہ آنے والے دور میں موسیقی، رقص اور سُود کی کچھ شکلیں بھی 'گنجائش' پا جائیں گی کہ موجودہ موسیقی، رقص یا سود بھی وہ نہیں جو حرام تھا۔ حرام سے حلال کے اس سفر کی علت تو ایک ہی ہے بس دیکھئے کہ ہمارے علماء اس حد تک جانے میں اور کتنا وقت لیتے ہیں۔


Related Articles

خدا عورت سے بیزار نہیں ہے

درحقیقت خدا اور مذہب عورت کے معاملے میں اس قدر متعصب نہیں جس قدر مرد مذہبی مبلغین ہیں یا جس قدر وہ معاشرے تھے جہاں مذاہب کی ابتداء ہوئی۔

شیعہ سُنی اختلافات کی نوعیت

امجد عباس: اسلام میں شیعہ اور سُنی دو بڑے فرقے شروع سے موجود رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت و جانشینی کے سیاسی نوعیت کے اختلاف سے یہ اُمت کھُل کر اِن دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔

مذہبی مسائل پر مردانہ 'اجارہ داری'

مذہب و شریعت میں حقیقی طور پر عورت کا کوئی بھی مقام متعین ہو، یہ بات طے ہے کہ اس کی تعبیر و تشریح پر صدیوں سے صرف مردوں کی ہی اجارہ داری قائم ہے۔