کبھی ہم بھی "چائے والے" تھے

کبھی ہم بھی
احمد شمیمؔ صاحب کی نظم "کبھی ہم بھی خوبصورت تھے" کی پیروڈی "کبھی ہم بھی چائے والے تھے" فیاض محمود نے کی ہے۔ یہ پیروڈی اسلام آباد کے اس چائے والے کی شہرت کو سامنے رکھتے ہوئے تخلیق کی گئی ہے جس کی تصویر سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہے۔ سب سے پہلے jiah_ali@ نے اسلام آباد کے اس چائے والے نوجوان کی تصویر پوسٹ کی تھی، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔


کبھی ہم بھی "چائے والے" تھے
کبھی ہم بھی چائے والے تھے
چائے کا پوا پکڑے
ہاتھ ساکن تھے !
روزانہ بہت سے کپوں میں
چائے بناتے تھے
پھر ٹرے میں رکھ کر
بنچوں پر بیٹھنے والے گاہکوں
کو تھماتے تھے
جو ہم سے دودھ پتی
مانگتے تھے، لیکن مایوس ہوتے تھے
نئے دن کا سویرا، جب دیہاڑی لگانے کو
ہمیں نیند سے جگاتا تھا
تو ہم کہتے تھے
صبح دیر تلک سونا کتنا خوبصورت ہے
ہمیں وہ نیلا کرتا دو کہ
ہم کو لڑکیوں کے
کیمروں کے دیس جانا ہے
ہمیں لڑکیوں کی نظریں، کیمروں کی
سیلفیاں آواز دیتی ہیں
نئے دن کی مشقت ، چائے کے ڈھابے
پر بیٹھے ہوئے
سیلفی کے لیے بلاتی ہے
ہمیں وہ نیلا کرتا دو !
ہمیں وہ نیلا کرتا دو !
ہمیں وہ نیلا کرتا دو !

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

زید حامد کا ایک فرضی کالم

الحمد اللہ، انشاء اللہ وہ وقت جلد آئے گا جب دلی کے لال قلعے پر ہمارے فوجیوں کی بنیانیں دھو کر سکھائی جائیں گی۔

ضرورت "اجتہاد" کی ماں ہے

کوئی چیز جو پہلے ہمارے مولوی صاحبان کی جانب سے حرام قرار پائی ہو اور پھر بتدریج حلال بن گئی ہو اس کا ایک اہم ضابطہ و اصول، شرعی نصوص (جو کہ ہمیشہ ایک ہی ہوتے ہیں) سے کہیں زیادہ یہ ہے کہ وہ چیز کسی خاص طبقے اور عوامی ضرورت سے آگے بڑھ کر مولوی حضرات کی ضرورت بن جائے۔

صاحب کی نماز

میری جو شامت آئی، مجھے خداوندان ِدفتر سے ایک بار پھر حُکم ہوا کہ فلاں سرکاری ادارے کے سربراہ کے دفتر جاو اور فلاں فلاں فائل کا پیچھا کرو۔۔۔ اور کام پڑا بھی تو پولیس کے ایک بڑے عہدیدار سے