کراچی ہوں

کراچی ہوں
کراچی ہوں!
میں اپنی چاک دامانی کا قصہ خون سے اپنے لکھوں اور کھارے پانی میں
بہا دوں
آنسووں کی بے ثباتی کو
کناروں پر سفینے ڈوبتے دیکھوں
دلا سا دوں تو کیسے دوں مچلتی سرپٹکتی ٹوٹتی بے تاب لہروں کو
کہ میرے حرف پر بندش مری سانسوں پہ پہرے ہیں
مری اس خاک میں پیوست بوٹوں کے نشاں اب اورگہرے ہیں
بھنور ہے ، شور ہے ، اور تندی ء موج ِ ہوا !! جیسے
کہ بالکل بے خبر ہے ظرف سے میرے
کراچی ہوں
مرا سینہ سمندر ہے
میں آنے والوں کو رستہ ، نمک تسکین دیتا ہوں
میں صحراوں ، جزیروں ، جنگلوں ، دریاوں کا داتا
یونہی بھرتا رہوں گا خواب کے کشکول تعبیروں سے روز و شب
کسی سائل کو کیا پروا
اگرزخمی ہوں تنہا ہوں
کراچی ہوں

Image: Hamid S Alavi

Naina Adil

Naina Adil

Naina Adil is a graduate of Urdu and English Literature and is associated with the field of Education as an administrator. Poetry is her primary literary identity. She also writes short stories, articles and stories for children.


Related Articles

نظم (تصنیف حیدر)

تصنیف حیدر: خودکشی حرام نہیں
بلکہ ایمان کی پہلی شرط ہے

سوم رس

رضوان علی: میں ایک ایسا درخت ہوں
جس کی جڑیں زمین سے باہر نکل آئی ہیں

وہ بھی تم ہو گے

ابرار احمد: اور وہ بھی تم ہو گے
جو کبھی ۔۔۔ بارشوں سے دھڑکتی کھڑکی کے شیشے سے
اپنی نمناک آنکھوں سے
میری جانب دیکھو گے
جب میں
دنیا کی خوبصورتی برداشت کرنے سے
انکار کرنے والا ہوں گا