کرلاہٹ

کرلاہٹ
اُس نے میرے سامنے اپنی کلائی کاٹ کر خودکشی کر لی تھی کیونکہ اُس کے بارہ دروازوں میں سے کوئی بھی کھلا نہیں تھا جس سے وہ فرار ہو سکتا۔ لیکن ٹھہرئیے کہانی یہاں سے شروع نہیں ہوتی۔ میں پندرہ سال کی تھی جب ایک رات میرے بالوں کو سنوارتے ہوئے میری ماں مجھے اپنے وجود کے اُس تہ خانے میں لے گئی تھی جہاں سوائے گھٹا ٹوپ اندھیرے کے کچھ نہیں تھا میں آنکھیں کھول کھول کر اُس میں راہ ڈھونڈنے کے بارے میں سوچنے لگی۔ میری ماں اپنا شوہر ڈھونڈنے نکلی تو ساس کی نفرت میں مبتلا ہو گئی اور انجام کار ساس سے ایسا انتقام لیا جو ایک عورت ہی لے سکتی ہے۔ یہ میری پیدائش سے پہلے کا واقعہ ہے جب وہ اپنے شوہر کی تصویر پرس میں ڈالے اپنے سسسر کے ساتھ گھر سے فرار ہوئی۔ اور اُس کا سسر بھی ایک ہاتھ سے تہبند سنبھالے دوسرے ہاتھ میں میری ماں کی کلائی تھامے نکلا۔ اُس نے میری ماں کی طرح بیٹے کی تصویر نہ اُٹھائی لیکن یہ تصویر تو میری ماں کے وجود پہ چسپاں تھی۔ میری ماں مجھے بتاتی ہے کہ وصل کہ انتہائی لمحوں میں وہ اُٹھ بیٹھتا اور لائٹ بند کرنے کو دوڑتا اور اُس کے ہاتھ کپکپانے لگتے۔۔ ٹھیک دو سال بعد اُس نے کھڑکی سے کود کے خودکشی کر لی۔ میں کس کی بیٹی ہوں؟ اس کا جواب میری ماں کے پاس نہیں تھا یا وہ مجھے دینا نہیں چاہتی تھی۔ یہ پہلا دن تھا جب میرے وجود پر نا معلوم کی چھاپ لگی۔

صبح میں اُٹھی تو میں نے دیکھا کہ بستر پر میری ماں پہلے سے کہیں زیادہ عریاں لگ رہی ہے۔ بالوں کی ایک لٹ اُس کے چہرے کو چھوتے ہوئے اس کی گردن کر گرد لپٹی ہوئی تھی۔ کاش وہ ایک پھندہ ہوتا مٰیں نے سوچا۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ وہ ایک پھندہ ہی تھا۔ میرا سر تپ رہا تھا اور پیٹ میں عجیب سا درد اُٹھ رہا تھا۔ میں ٹکٹکی باندھے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی رات کسی فلم کی طرح میری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ بالاخر میں تیزی سے بیڈ کے پاس آئی جھٹکے سے بیڈ کے اوپر سے ہوتی ہوئی ماں کے پیٹ پر چڑھ گئی۔ میرا سانس پھولا ہوا تھا اور حلق خشک ہو رہا تھا۔ وہ ہربڑا کر اُٹھنے لگی میں نے اُسے بازوں سے پکڑا اور لٹا دیا اور اسے جھنجھوڑنے لگی۔ میں ٹھہر ٹھہر کر چیخ رہی تھی۔ پہلے وہ گبھرا گئی پھر وہ مسکرائی۔ اُس نے مجھے زور سے بھینچ لیا اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے۔ کمرے میں پسینے، گیلی مٹی اور کچے پیاز کی ملی جلی خوشبو پھیلنے لگی۔

مجھے ہر طرف بالوں کی لٹ نظر آنے لگی۔ کھانا بناتے ہوئے وہ ہنڈیا کے بیچ میں تیر رہی تھی۔، کتابوں کے اندر، کمرے کی دیواروں سے گھورتی ہوئے، میری چھاتیوں اور رانوں سے لپٹی ہوئی وہ ایک لٹ۔ رات میں نے اُسے درخت سے لٹکتے ہوئے دیکھا وہ بڑھتے بڑھتے آسمان تک پہنچ گئی اور زمین پر گھاس کی طرح اگنے لگی وہ تیزی سے میری طرف بڑھ رہی تھی میرے پاوں اُس گھاس میں الجھنے لگے اور میری چیخ حلق میں پھنس کے رہ گئی۔میں آئینے کے سامنے کھڑی اپنے عکس کو شکست دینے کی کوشش کر رہی تھی کہ میری اُس سے پہلی ملاقات ہوئی۔ وہ سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اُس کی ہنسی بہت وحشت ناک تھی میں گبھرا کر پیچھے ہٹ گئی۔ پھر وہ ہر جگہ ہی نطر آنے لگا۔ایک دن میں ٹیبل پہ بیٹھی کھانا کھا رہی تھی کہ وہ ایک لال بیگ کی پشت پر سوار ہو کر نیچے سے گزرا اس نے کسی سورما کی طرح جنگی سامان سینے پہ سجا رکھا تھا۔ مجھے ہنسی آ گئی۔ میری ماں نے جُھک کر نیچے دیکھا اور لال بیگ کو پیر کے نیچے کچل دیا اس کا سب خون کھانے میں پھیل گیا۔ مجھے کراہت محسوس ہونے لگی اور میں کھانا چھوڑ کر واش روم بھاگ گئی۔ وہ ٹونٹی کے اندر سے نکلا۔ میں نے دیکھا اُس کی پسلیاں زخمی تھیں اور اس کی انتڑیاں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ میں نے اُس کی مرہم پٹی کی۔ ایک دفعہ میں کمرے میں آئی تو میں نے دیکھا کہ سارا فرش شیشے کا ہو گیا ہے جس پر اس نے تیل گرا دیا ہے اور خود کنارے پہ کھڑا مجھے آوازیں دے رہا ہے۔ میں اُس کو پکڑنے بھاگی لیکن پھسل کر گر پڑی۔ وہ کمرے کے ایک کونے سے دوسرے کونے پر پھسلتا جا رہا تھا اور مجھے پیچھے بلا رہا تھا۔ میں بھاگ بھاگ اور پھسل پھسل کر تھک سی گئی تھی پر وہ مجھے رُکنے نہیں دیتا تھا۔ میرا پورا وجود چپ چپا اور لیس دار ہو رہا تھا۔ میری ماں کمرے میں داخل ہوئی اور کمرے کی حالت دیکھ کر غصے سے مجھے کوسنے لگی وہ جلدی سے ایک بل میں چھپ گیا تھا۔ میری ماں مجھے پکڑ کر شاور کے نیچے لے گئی۔ وہ مجھے نہلا رہی تھیں پر میری ہنسی ہی بند نہیں ہو رہی تھی۔

وہ جرمن زبان بولتا تھا پھر بھی مجھے اُس کی ہر بات سمجھ آتی تھی۔ وہ مجھے جرمن زبان کے شعر سناتا تھا۔ کچھ کچھ شعر مجھے اب بھی یاد ہیں

"ہاں اب میں ایک چکنا پتھر ہوں لیکن میرے اندر وہ لمحہ فوسلز کی طرح قید ہے جب میں نے خود میں روح پھونکی
تھی۔ تم کسی نوک دھار آلے (تمہاری آنکھو ں سے زیادہ نوک دار کیا ہو سکتا ہے) سےمجھے عین دل کے پاس سے چیروں تو اولین بوسے کو پڑھ سکتی ہو "

" میں عدم میں سو رہا تھا کہ میرے اندرچیخ بھر دی گئی۔ پھر میں شیشے کی طرح ٹوٹا اور میری آگ اور چیخ کرچیوں کی طرح ہر سو پھیل گئی"

"جس نے بھی سورج سے آگے نکلنے کی کوشش کی اُس کے سائے نے خود کشی کر لی، اب وہ آسمان کے متوازی غروب ہو رہا ہے"
" اگر تم کرب سے نکلنا چاہتے ہو اور تمہیں ہمیشگی کی تلاش ہے (جیسے تمہارے پہلوں کو تھی) تو تمہیں نہ ختم ہونے والے خواب کا حصہ بننا پڑے گا"

وہ مجھے شعر سناتا رہتا اور میں گھنٹوں اُن کی دھنیں ترتیب دیا کرتی تھی ایسے میں میری ماں مجھے حیرت سے دیکھتی رہتی۔ ایک رات میں چھت پہ کھڑی اُس کی شاعری کو سوچ رہی تھی اور وہ نیچے ٹیبل میں بیٹھا تصویر بنا رہا تھا۔ میں نے گنگنانا شروع کر دیا۔ میری آواز لبالب اندھیرے میں بہتی چلی جا رہی تھی پھر وہ سیلاب کی طرح منہ زور ہو گئی پھر وہ پھن اٹھا کر کھڑی ہو گئی پھر ایک چیخ بن گئی جو آسمانوں تک جا رہی تھی پھر وہ ناخنوں سے آسمانوں کُھرچتی ہوئی واپس آنے لگی پھر اُس کے سانس بے ترتیب ہونے لگے یہاں تک کہ پوری فضا ایک نامعلوم اداسی میں ڈوب گئی۔ اب صرف ایک دھیمی سی نا سمجھ میں آنے والی دھُن گونج رہی تھی جو کائنات کے سبھی کناروں سے باہر نکل رہی تھی۔ میں نے نڈھال ہو کر ریلنگ پر سر رکھ کر اُس کی طرف دیکھا۔ وہ اس دوران وہی تصویر بنا رہا تھا جس میں ایک کلی کو درمیان سے کاٹا گیا تھا جس کی ڈنڈی سلگ رہی تھی اور اُس کا دھواں پوری تصویر میں پھیل رہا تھا کٹی ہوئی کلی سے پتیاں بے جان ہو کر تصویر کے پیندے میں گر رہی تھیں ایک انگارہ کلی کے اندر سے طلوع ہو رہا تھا جس کی پیشانی سے پسینے کے قطرے ڈنڈی کے اندر گر رہے تھے اور وہ مزید سلگتی جا رہی تھی۔ اُس کی پوری تصویر کو آگ لگ چکی تھی۔ میں نے اپنے اندر بھڑکتی ہوئی آگ محسوس کی اور بھاگ کر بستر میں گھس گئی۔ میرے اندر کا سب پانی لاوہ بن کر بہہ رہا تھا۔

میری امی کو لگتا تھا کہ میرے اوپر کوئی سایہ ہو گیا ہے وہ سورتیں پڑھتی اور مجھ پر پھونکتی رہتی۔ اس دوران وہ پاس کھڑا مسکراتا رہتا اور مجھے شعر سناتا اور میں بے خود ہو کر ان کی دھنیں بنانے میں کھو جاتی۔ ایسے میں میں بہت استغفار کرتی پر دھنیں کہیں میرے اندر سے پھوٹ رہی ہوتی تھیں اور میں بے قابو ہو کر ناچنے لگتی اور ماں کی باہوں سے نکل نکل جاتی تھی۔ایک دن میری ماں نے مجھ سے پوچھا"تمہاری اُس سے پہلی ملاقات کہاں ہوئی"۔ “ آئینے میں” میں نے جواب دیا۔ “ بیٹا وہ تیرے عکس کے قید خانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نکل آ اُس سے باہر میری جان” وہ کچھ کھوجتے ہوئے بولی۔ مجھ سے رہا نہ گیا میں پنجوں کے بل کھڑی ہو گئی “آئینے میں تو ہم سب ہیں امی جان، ایک وہی تو آئینے کے باہر ہے۔ ہم سب اپنے اپنے دائروں میں آئینے کے اندر آزادی ڈھونڈتے ہیں۔ ہم ایک پرچھائی ہیں جو خود سے بڑھ جانے کی جستجو میں مبتلا ہیں۔ ہم آئینے کے کسی خانے میں پوشیدہ ہونا چاہتے ہیں پر وہ ہمیں ڈھونڈ لیتا ہے۔ وہ جب آئینے کے سامنے آتا ہے ہمیں باہر آنا ہی پڑتا ہے۔ تم خود سوچو تم نے جو کچھ بھی کیا وہ آئینے سے باہر نکلنے کی سعی کے سوا کیا تھا۔ تم مجھے اُس سے بچانا چاہتی ہو؟ تم تو مجھے خود سے بھی نہ بچا پائی۔ ہمارے بارہ دروازوں میں کوئی بھی تو کھلا نہیں ہے۔ ”۔ میں روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان بولتی چلی جا رہی تھی۔ میری ماں کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔

آج پھر جب وہ مجھے ملا تو اس کے ہاتھ میں ایک خالی کاغذ تھا۔وہ مجھے آزار پہنچانے پر شرمسار تھا۔ مجھے تو اُس سے کوئی شکایت نہیں۔ وہ مجھے اپنے شیش محل میں لے گیا۔ وہ کسی کہانی کے دیو کی طرح آئینوں میں اپنا عکس دیکھ کر غُرا رہا تھا۔ اُس نے ایک ایک کر کے سارے آئینے توڑنا شروع کر دئیے۔ فضا میں ہر طرف کرچیاں اُڑ رہی تھیں۔ سبھی عکس زروں میں تقسیم ہوتے چلے جا رہے تھے۔ میں نے اونچی آواز میں opera گانا شروع کر دیا۔ جب میں شہزادی کے بین پر پہنچی میری آواز اتنی بلند تھی کہ میں اندر سے چیری جا رہی تھی۔ وہ کانچ کا ایک بڑا ٹکڑا اُٹھائے کھڑا تھا۔ ہمارا لہو ہمارے عکس کو دُھندلا رہا تھا۔ میری ماں نے بال کھول لئے تھے اور سر پیٹنا شروع کر دیا تھا

Image: Morteza Loghmani

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Asad Raza

Asad Raza

Asad Raza is an anthropologist. He is a researcher by profession and is interested in reading and writing stories.


Related Articles

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 14 دسمبر 1971- بونگلہ دیش سے پہلے۔۔۔

میں صبح وردی پہن کر باہر نکلا تو دیکھا کہ اسمبلی گراونڈ میں چھے بنگالی درختوں سے بندھے کھڑے تھے اور کوت نائیک صاحب ان سے برآمد ہونے والے اسلحے کا معائنہ کررہے تھے۔

ہاں،یہ بھی روشنی ہے!

ناصر عباس نیر: مجھے بسواس ہے کہ یہ رات ایک نئے سویرے کو جنم دے گی،اور اس مرتبہ تم اسے اپنی روشنی پانے کے سفر میں اکیلا نہیں چھوڑ گے!

نولکھی کوٹھی-چوتھی قسط

علی اکبر ناطق: گاؤں میں پردے کا کوئی رواج نہیں تھا اس لیے مولوی کا گھر بھی گاؤں والوں کی طرح ہر لحاظ سے کھلا تھا۔نہ کسی کو تانک جھانک کی عادت تھی اور نہ ہی اس طرح کا ابھی خیال پیدا ہوا تھا۔ جو جب چاہتا ہر گھر میں اپنے ہی گھر کی طرح داخل ہو سکتا تھا۔