کرکٹ، حب الوطنی اور عدم برداشت

کرکٹ، حب الوطنی اور عدم برداشت
2007 میں پہلا ٹی ٹوینٹی کرکٹ ورلڈ کپ کھیلا گیا تھا جس کے فائنل میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو انڈیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اختتامی تقریب میں اُس وقت کے کپتان شعیب ملک نے اپنے بیان میں پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ "دنیا بھر کے مسلمانوں" کا شکریہ ادا کیا اور فائنل ہارنے پر ان سب سے معافی بھی مانگی تو اس وقت کے بعض لبرل اور آزاد خیال حلقوں کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور شعیب ملک کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ فائنل رمضان کے مہینے میں کھیلا گیا تھا اور شعیب ملک نے اپنا یہ بیان انگریزی میں دیا تھا جو کہ ان کی پہلی نہیں، دوسری بھی نہیں، تیسری زبان ہے۔ ناقدین نے موقع کی مناسبت کو نہ سمجھتے ہوئے شعیب ملک کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ کیا مذہب سے وابستگی کھیل کے عمومی ماحول پر اثرانداز ہوتی ہے یا نہیں لیکن جس تناظر میں شعیب ملک نے یہ بات کہی تھی وہ قابل فہم ہے۔

اگر کسی غیر ملکی کھلاڑی کا پرستار ہونا ملکی سلامتی کے لئے خطرہ ہے تو فٹبال دیکھنے والے سارے پاکستانیوں پر یہ مقدمہ چلنا چاہیئے کیونکہ ان سب کے پسندیدہ کھلاڑی غیر ملکی ہیں۔
2015 کا ایک روزہ کرکٹ ورلڈ کپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلا گیا تھا۔ اس ورلڈ کپ میں پاکستان سے ہجرت کرنے والے آسٹریلیا میں مقیم ہزارہ برادری کے کچھ افراد پاکستانی ٹیم کی حمایت کے لئے ایڈیلیڈ اور برسبین کرکٹ گراؤنڈ میں گئے تھے اور پاکستان کا جھنڈا لہرا کر پاکستانی کھلاڑیوں کو داد دے رہے تھے۔ ان کی اس حرکت پر اچھے خاصے پڑھے لکھے اور آزاد خیال نظر آنے والے افراد نے ان کا مذاق اڑایا اور ان پر لعن طعن کی کہ پاکستان سے بھاگنے والے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی حمایت کر رہے ہیں۔ اول تو ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی ملک کا سفر کرے اور اس ملک کی شہریت اختیار کرے۔ اور دوئم یہ بات بالکل صحیح ہے کہ پاکستانی ریاست ہزارہ برادری کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس کی ذمہ داری ہم کرکٹرز پر ڈال دیں۔ اگر حکومت ناکام ہوچکی ہے تو اس میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا کوئی قصور نہیں کیونکہ کرکٹرز کا کام ہوتا ہے کرکٹ کھیلنا اور ہمیں ان سے صرف بہتر کھیل کی ہی توقع رکھنی چاہیئے۔

دو مہینے پہلے آسٹریلیا اور ہندوستان کے مابین ٹی ٹوینٹی سیریز کھیلی جارہی تھی جس میں ویرات کوہلی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ویرات کوہلی کی کارکردگی سے خوش ہوتے ہوئے ان کے ایک پاکستانی پرستار "عمر دراز" نے اپنے مکان پر ہندوستان کا جھنڈا لہرا دیا جس کی پاداش میں انہیں حراست میں لے لیا گیا اور ان پر نقصِ امن (ملکی سلامتی کے خلاف عمل) کا مقدمہ چلایا گیا۔ ایک مہینہ جیل میں رہنے کے بعد جب عمر دراز رہا ہوا تو انہوں نے کہا کہ انہیں جیل میں کافی مار پڑی تھی اسی لئے اب وہ ویرات کوہلی کے پرستار نہیں بلکہ آفریدی کے پرستار ہیں۔ اگر کسی غیر ملکی کھلاڑی کا پرستار ہونا ملکی سلامتی کے لئے خطرہ ہے تو فٹبال دیکھنے والے سارے پاکستانیوں پر یہ مقدمہ چلنا چاہیئے کیونکہ ان سب کے پسندیدہ کھلاڑی غیر ملکی ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے کھیل کو کھیل کی بجائے سیاست کی متعصب عینک سے دیکھنے کی وجہ سے شاید یہ مقدمہ صرف ہندوستانی کھلاڑیوں کے پرستاروں پر چلایا جاتا ہے۔

کھیل کے مقابلوں کو وطن پرستی، قومیت اور حب الوطنی کے ساتھ گڈمڈ کرنا کھیلوں کی اصل روح کے منافی ہے۔ آپ اپنے ملک سے محبت کے ساتھ کھیلتے ہیں دوسرے ممالک سے نفرت کے اظہار کے لیے نہیں۔
پچھلے کچھ دنوں سے فیس بک پر لوگ 2016 کی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلنے والی اپنی اپنی پسندیدہ ٹیموں کی حمایت کے لئے اپنی پروفائل کی تصویر کو تبدیل کر رہے ہیں۔ کچھ ایسے پاکستانی بھی ہیں جو ہندوستان کی ٹیم کی حمایت کرنے کے لئے بھی اپنی پروفائل تصویر تبدیل کر رہے ہیں۔ ایسے میں حب الوطن پاکستانیوں کا ضمیر جاگ اٹھا ہے اور ان لوگوں کو مختلف القابات سے نواز رہے ہیں۔ ایک صاحب نے تمام حدود پار کرتے ہوئے لکھا کہ ہندوستانی ٹیم کی حمایت کرنے والوں کی مثال ایسی ہے جو اپنے نام کے ساتھ اپنے باپ کا نام نہیں بلکہ اپنے پڑوسی کا نام لگاتے ہیں۔ اب بھلا ان کو کون سمجھائے کہ کسی بھی ٹیم کی حمایت کرنا ان کا حق ہے۔

دو دن پہلے ہندوستان میں پریس کانفرنس کے دوران شاہد آفریدی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ہندوستان میں بہت سپورٹ ملی ہے اور پاکستان سے زیادہ پیار ملا ہے (تکنیکی اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کی بات صحیح ہے :p)۔ اس بیان پر پاکستان کے تنگ نظر حلقوں میں کھلبلی مچ گئی اور انہوں نے آفریدی پر غداری کا الزام لگایا اورایک خبر کے مطابق انہیں حب الوطن پاکستانیوں کی طرف سے قانونی نوٹس بھی بھیج دیا گیا ہے۔ ہمیں پورا حق حاصل ہے کہ آفریدی کے خراب کھیل کی وجہ سے ان پر تنقید کریں لیکن ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم ان کے ایک بیان کو توڑ مروڑ کر انہیں غدار ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ایک سفارتی بیان تھا جو ہر ٹیم کسی بھی ملک میں کھیلتے ہوئے دیتی ہے، صحافی، ادیب، فنکار ، کھلاڑی سبھی اپنے ملک کے سفیر ہوتے ہیں اور دوسرے ممالک میں جا کر خیر سگالی کے طور پر ایسی باتیں کرتے ہیں انہیں کھیلوں کے ذریعے سفارت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیئے نا کہ وطن دشمنی اور غداری کے طور پر۔

کھیل کے مقابلوں کو وطن پرستی، قومیت اور حب الوطنی کے ساتھ گڈمڈ کرنا کھیلوں کی اصل روح کے منافی ہے۔ آپ اپنے ملک سے محبت کے ساتھ کھیلتے ہیں دوسرے ممالک سے نفرت کے اظہار کے لیے نہیں۔ ہندوستان یا پاکستان کے مابین سیاسی معاملات کسی بھی نہج پر ہوں کھیل کو کھیل کی روح کے مطابق کھیلنا اور دیکھنا چاہیئے۔ نا تو ہندوستان کے کسی کھلاڑی کو پسند کرنا یا ہندوستان کی ٹیم کی حمایت کرنا کسی طرح غداری ہے اور نا ہی خیر سگالی بیانات کی بناء پر کسی کو غدار قرار دیا جا سکتا ہے۔ کرکٹ سمیت تمام کھیلوں کو شدت پسندی، عدم برداشت، مذہبی و ملی جنونیت اور تنگ نظری کی بجائے برداشت، پرامن بقائے باہمی اور خیرسگالی کے جذبات کے تحت ہی کھیلیے تا کہ کھیل کے میدانوں کو جنگ کے میدان بننے سے بچایا جا سکے۔

Related Articles

The Spell of Silence: Cancellation of Event at LUMS and the Aftermath

The forced cancellation of an academic talk titled ‘Unsilencing Balochistan’ at the Lahore University of Management Sciences(LUMS) last Thursday has

کیا یہ واقعی ادبی میلہ تھا؟

لاہور کا ادبی میلہ بھی اس کلکتے سے کچھ مختلف نہیں تھا، سجا سنورا الحمرا اور اس میں رنگ و بو کا ایک سیلاب جس کے بیچ کہیں کہیں تھوڑا بہت ادب تبرکاً شامل کرلیا گیا تھا۔

کیا واقعی مدارس کی اب بھی ضرورت ہے؟

تصنیف حیدر: مدرسوں کو مکمل طور پر تالا لگا کر ان کی جگہ ایسے سکولوں کی بنیاد ڈالنے کی ضرورت ہے، جو آئندہ نسلوں کے لیے کارگر ثابت ہوسکیں اور انہیں دنیا کے باقی بچوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر بہتر مستقبل کا نقشہ تیار کرنے میں مدد دے سکیں۔