کرکٹ؛ صلاح الدین ایوبی کی ایک بے مثل ایجاد

کرکٹ؛ صلاح الدین ایوبی کی ایک بے مثل ایجاد
کرکٹ اور بیس بال کے حوالے سے مشہور ہے کہ یہ یورپی اقوام کی ایجاد ہے، درحقیقت بارہویں صدی عیسوی میں جب دوسری صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا تو صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ اور یورپی صلیبی افواج کے درمیاں معرکہ صلیب و ہلال اپنے عروج پر تھا۔ اس دوران یورپ والے اپنی فوج کے ساتھ لکڑی کی صلیبیں لے کر چلتے تھے اور جہاں کہیں جاتے وہاں صلیب گاڑ دیتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جب تک یہ صلیب زمین میں گڑی رہے گی ان کی فوج محفوظ رہے گی۔ اسی طرح مسلمان بھی اپنا کلمہ طیبہ اور تلوار والا جھنڈا لے کر پڑاو کرتے تھے اور جہاں کہیں رکتے اپنا جھنڈا زمین میں گاڑ دیتے تھے۔ ہر جھنڈے پر حفاظت کے لئے بیک وقت دو مجاہد موجود رہتے تھے۔ عیسائی بزدل سپاہی جو رات کے اندھیرے میں مسلمان افواج کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے تھے موقع پاتے ہی ان افواج پر پتھراو کرتے تھے جس سے بسا اوقات مسلمانوں کے جھنڈے کو نقصان پہنچتا تھا۔

صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کے کہنے پر مسلمانوں نے کلمہ طیبہ والے جھنڈے کو بے حرمتی سے بچانے اورصلیبی فوجیوں کی طرف سے آنے والے پتھروں کو روکنے کے لئے لکڑی کی پھٹیاں استعمال کرنا شرع کر دیں۔
یہ معاملہ جب صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے ایک انوکھی تجویز دی۔ صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کے کہنے پر مسلمانوں نے کلمہ طیبہ والے جھنڈے کو بے حرمتی سے بچانے اورصلیبی فوجیوں کی طرف سے آنے والے پتھروں کو روکنے کے لئے لکڑی کی پھٹیاں استعمال کرنا شرع کر دیں۔ وہ ان پھٹیوں سے پتھروں کو ضرب لگا کر واپس عیسائی سپاہیوں کی طرف دھکیل دیتے تھے، جب ایک مجاہد تھک جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لینے کے لئے بھاگ کر زمین میں ایستادہ پرچم کے قریب آجاتا تھا۔ مجاہدین کی کوشش ہوتی تھی کہ پتھر کو پوری قوت سے ضرب لگائی جائے اور دور گرایا جائے، جب کہ عیسائی سپاہیوں کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ مسلم فوج کے مقدس جھنڈے کو پتھر مار کر گرا دیں۔ان بزدلانہ حملوں کے جواب میں مسلمانوں نے بھی صلیبی افواج پر ایسے ہی حملے شروع کر دیے اور ان کی ناپاک مشرکانہ صلیبوں پر ایسا ہی پتھراو شروع کر دیا۔

صلاح الدین ایوبی کے سالار کا تاریخی بلا

صلاح الدین ایوبی کے سالار کا تاریخی بلا

مسلمانوں کی دیکھا دیکھی یورپی سپاہیوں نے بھی اپنی مقدس صلیب کو بچانے کے لئے لکڑی کی پھٹیاں استعمال کرنا شروع کر دیں، جس سے ایک مقابلے کی فضا پیدا ہو گئی۔ شروع میں عام لکڑی کے ڈنڈوں سے کام چلایا گیا لیکن جلد ہی ڈنڈوں کی جگہ چپٹے لکڑی کے پھٹے اور ہتھی والی پھٹیاں استعمال ہونے لگیں۔ رچرڈ شیردل کے لیے اس مقصد کے لیے صندل کی لکڑی کا خصوصی بلا تیار کیا گیا، جو اس کی شکست کے بعد صلاح الدین ایوبی کی تحویل میں آ گیا اور ان کی وفات تک انہی کے پاس رہا۔ روایت ہے کہ صلاح الدین ایوبی کے ایک سپہ سالار نے ایک رات میں تن تنہا تین ہزار پتھر اپنے ہھٹے سے واپس صلیبی لشکروں کی طرف دھکیلے۔

رچرڈ شیر دل کے لیے صندل سے بنایا گیا خصوصی بلا

رچرڈ شیر دل کے لیے صندل سے بنایا گیا خصوصی بلا

ان جنگوں میں بری طرح شکست کے بعد یورپی سپاہی جب واپس اپنے وطن لوٹے تو انہوں نے اسے ایک باقاعدہ کھیل کی شکل دی، پتھرو کی جگہ ربڑ کی گیند نے لے لی، پھٹیوں کی جگہ بلا اور صلیب کی جگہ وکٹیں اپنا لی گئیں۔ رفتہ رفتہ مسلمانوں کا ایجاد کیا گیا یہ کھیل ترقی کرتا گیا اور آج یہ کھیل امریکہ میں بیس بال اور باقی دنیا میں کرکٹ کے نام سے بھی کھیلا جا رہا ہے۔ فلسطین کے جنوب مغرب کے شمال مشرقی حصے کی بالائی سطح کے نشیبی علاقے میں وہ میدان آج بھی موجود ہے جہاں کرکٹ کی ابتداء صلاح الدین ایوبی کے ذہن رسا کی بدولت میدان جنگ میں ہوئی۔
Baba Mafrooz-A- Sazashi

Baba Mafrooz-A- Sazashi

Baba Mafrooz-ullah-Sazashi is an international conspirator who is an agent of all secret agencies of the world. He has successfully plotted many conspiracies such as 9/11, Mumbai Attacks, Attack on Malala and Neil Armstrong's Landing on Moon.


Related Articles

زندگی نام ہے جی، جی کیے جانے کا

ہم جب اس دنیا میں آئے اور ہماری زبان پہ لفظوں نے ابھی پوری طرح آنکھ بھی نہ کھولی تھی کہ ہمیں شروع دن ہی سے جی، جی کرنے کی عادت ڈال دی گئی۔

روشن خیال

روشن خیالوں کے مطابق الباکستان کو کئی قسم کے مسائل کا سامنا ہے جن میں ملک میں امن وامان کی مخدوش صورتحال، بڑھتی ہوئی انتہاپسندی ا ورعدم برداشت، آزادیِ اظہارِ رائے پر قدغن، اقلیتوں کا استحصال اورخواتین کوجنسی طور پر ہراساں کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان وغیرہ جیسے فرضی دکھڑے شامِل ہیں۔

پاکستان کے ہمسائے

14اور 15اگست 1947کی درمیانی شب ایک ساعتِ سعید میں کرہ ارض پر براعظم ایشیا میں پاک باشندوں کاپاک وطن، پاکستان المعروف الباکستان وجود میں آیا۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھےا کہ اس پاک سرزمین کو چاروں طرف سے ناپاک ممالک نے اپنے نرغے میں لے رکھاہے۔