کسی کے سمجھدار ہونے تلک

کسی کے سمجھدار ہونے تلک

قبر کیا ڈھونڈنا
مٹ گئے ہوں گے اس کے نشاں
کہیں بھی جلا کر لگا دوں اگر بتیاں
مدتوں بعد بھی
ورد کرتے ہوئے سورۂ فاتحہ کا
وہی گونج کانوں میں ہے
ترا باپ کیا روز پیتا ہے؟
اف
وہ جو شرمندگی کا سبب ہو بھلا اس سے کیسی محبت
اور ویسے بھی
ایک بچے کی نفرت سے سچا کوئی اور جذبہ نہیں
دفن کے وقت بھی تو میں دل میں کہیں ان سے ناراض تھا
مگر آج خود جب میں اس عمر میں ہوں
جو پاپا کی شاید رہی ہو گی تب
جب میں روٹھا تھا ان سے
مرے دل میں احساس جرم اور شرمندگی کے سوا کچھ نہیں
آپ سن تو رہے ہیں نہ پاپا
معافی مجھے چاہیے
کیا یہ ممکن ہے؟
پھر خود سے کہتا ہوں شاید نہیں
وہ گئے
کوئی رکتا نہیں ہے کسی کے سمجھ دار ہونے تلک
سچ کی تہہ میں اترنے کے لائق گنہ گار ہونے تلک

Image: Davit Mirzoyan

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

عرفان

اور وہیں کہیں مالک
اس سوال چہرے پر
ان خیال آنکھوں میں
میں نے تجھ کو دیکھا تھا
تو بھی سوچتا ہو گا
کتنا خوبصورت تھا
یہ جو ایک منظر تھا

جسم کی توہین

شارق کیفی: حیا پرانی تھی اس کی
بس جرم نیا تھا
پاک محبت میں اس ساری
چالاکی کا مطلب کیا تھا

ساگردیوتا

نصیر احمد ناصر: میں صدیوں کے ساحل پہ تنہا
تمہارے جنم روپ، ساروپ کا منتظر ہوں