کلیشے

کلیشے
آپ ٹھیک کہتے ہیں
میں جو روز لکھتا ہوں
یہ ادب کلیشے ہے
سب کا سب کلیشے ہے
یہ گھسے پٹے مضمون
یہ سنی ہوئی سطریں
سب کہی ہوئی باتیں
لیکن اے مرے نقاد
مسئلہ کچھ ایسا ہے
عشق پہلے جیسا ہے
حسن پہلے جیسا ہے
اور تڑپ بھی پہلی سی
آج کا مرا محبوب
خال و خد میں صورت میں
سر سے پا کلیشے ہے
ہر ادا کلیشے ہے
وصل بھی کلیشے ہے
ہجر بھی کلیشے ہے
حسن کی طلب مجھ میں
یہ طلب کلیشے ہے
آگ ہے مرے اندر
آگ بھی کلیشے ہے
رات رات سنا ٹا
شام شام تنہائی
دل پہ جو گزرتا ہے
سب کا سب کلیشے ہے
سب کا سب بدل دیجے
میں جدید لکھوں گا
چار سو مرے پھیلی
زندگی کلیشے ہے
ظلم بھی کلیشے ہے
بھوک بھی کلیشے ہے
حکمراں رعایا کا جیسے خون پیتے ہیں
اہل ۔ زر غریبوں پر جو ستم گراتے ہیں
یہ سبھی کلیشے ہے
یہ سبھی بدل دیجے
زندگی بدل دیجے
میں جدید لکھو ں گا
Iftikhar Haider

Iftikhar Haider

Iftikhar Haidar is a Karachi based poet and a federal government servant.


Related Articles

محشر-1

کوہ سلیماں کی
خاک سے آندھیاں لپٹی ہیں
اوردو سربریدہ
پیغمبروں کا ظہور ہے

مفرور

نصیر احمد ناصر: اس سے پہلے کہ سمندر بھی اُن کی دسترس میں آ جائیں
مجھے نکل جانے دو
اُن جزیروں کی طرف
جہاں کبھی وحشی قبائل آباد تھے

فلیش بیک سے باہر

نصیر احمد ناصر: ماضی کی ایک تنگ گلی میں کھڑے
چم چم اور گلاب جامن کھاتے ہوئے
تم لوگوں سے یوں مِل رہے تھے
جیسے سب تمھارے ہم جوار و ہم جولی ہوں