کور چشم ولدیت

کور چشم ولدیت

میں نے
کوکھ میں پلنے والے ابدان کو
بطن سے گود میں لا کر
دنیا کے دوزخ میں سزا
خوب پائی

میں الجھی ہی رہتی ہوں
کبھی جاڑے کے
کبھی گرما کے کپڑے
چھوٹے پڑتے جوتے
اور نئے سال کے
نئے نئے خرچے مجھے
بچوں کی
بڑھوتی کی خوشی بھی منانے نہیں دیتے

میں دن بھر سڑکیں ناپتی ہوں
گھروں کی دہلیز یں ٹاپتی ہوں
سکول بیگز کی زپ کھلتی بند ہوتی رہتی ہے
کتابوں میں اسباق کی ٹیوشن دیتی
میں فریج میں جھانکتے
کسی پرانے سالن میں
آنکھوں سے بہتے کھارے پانی سے
نمک تیکھا کر دیتی ہوں

تم اندھے ہو
مگر اپنی کورچشمی کا احساس نہیں
تم بہرے ہو
تمہیں ننھی خواہشات کی
چیخ و پکار کبھی سنائی نہیں دیتی

کسی طرح بھی
تمہارا نام
ولدیت کے خانے کے لئے مناسب نہیں
تم بے فکرے سے
گھر کے کونوں سے فراغت اکٹھی کرتے ہو
نیند میں بڑبڑاتےمجھے کوستے ہو
مجھے فرشتوں کی لعنت سے ڈراتے
اپنے حقوق فراموش کر دیتے ہو

میں عورت ہوں
مگر تم سے ولدیت چھین لوں گی
بس آج سے
میں ولدیت کے خانے میں
نام اپنا ہی لکھواؤں گی
خواہ سوسائٹی مجھے
باغی عورت کہے


Related Articles

سرمئی شام میں گھٹی چیخیں

میں نے سنا ہے
ایک شام ہے سرمئی سی سبز قدم
جو آتی جاتی رہتی ہے
اس شام نے مستقل
مجھے دیوار چنا ہے

انسانی حقوق کا بینر(جس پر چیونٹیاں رینگ رہی ہیں)

حفیظ تبسم:سلمان حیدر!
تمہاری نظمیں اس دریا کے لئے ہیں
جس میں انسانوں کی لاشیں بہتیں
پہچان سے عاری ہیں

بھائی، سب اونگھ رہا ہے

یہ آسمان نہیں ہے
یہ آنکھیں ہیں
یہ مجھے اور تمھیں دیکھ رہی ہیں
ہمیں دیکھ رہی ہیں
ہم کون ہیں؟
ہم گھبراہٹ ہیں