کوزہ گر

کوزہ گر

youth-yell

اماں کہتی تھیں "بیٹیاں گیلی مٹی کی مانند ہوتی ہیں جدھر موڑو، مڑتی چلی جاتی ہیں اور جس شکل میں ڈھالو، ڈھل جاتی ہیں"۔

وہ ہمیشہ سے اماں کی اس بات کے خلاف تھی۔ ساری عمر اماں نے آدھا سبق پڑھایا۔ یا شاید ساری مائیں ہی آدھا سبق پڑھاتی ہیں۔ یا شاید ہر عورت ہی باقی کا آدھا سبق خود پڑھتی ہے۔
وہ ہمیشہ سے اماں کی اس بات کے خلاف تھی۔ ساری عمر اماں نے آدھا سبق پڑھایا۔ یا شاید ساری مائیں ہی آدھا سبق پڑھاتی ہیں۔ یا شاید ہر عورت ہی باقی کا آدھا سبق خود پڑھتی ہے۔

وہ اماں سے پوچھنا چاہتی تھی کہ آخرکتنا؟ اور کب تک؟

وہ بدلتی چلی گئی۔ جیسا کُوزہ گر چاہتا اسی شکل میں۔

وہ سچ مچ میں کوئی بُت تراش تھا یا کوزہ گر۔ ہر رات ایک شاہکار تراشتا اور اپنے تصور کی دنیا سے ایک نئی 'تخلیق' بنا کر اپنی ہی پوروں پہ بوسہ دینے لگتا اور ایسے خوش ہوتا جیسے نیا نیا تخلیق کرنے والا ہوتا ہے۔
شروع میں تو وہ سمجھ ہی نہ پائی کہ اصل میں کُوزہ گر اسے کس نقش میں ڈھال رہا ہے۔

وہ اس کی چکنی مٹی کو پوروں سے ترتیب دیتے ہوئے یوں کھو جاتا جیسے کوئی ماہر کوزہ گر مٹی کو کہیں سے انگوٹھے اور انگلی کی مدد سے باریک کر کے فالتو مٹی اتارنے لگتا ہے اور کہیں مٹی کی دبیز تہہ چڑھا کر اسے موٹا کر کے تراشتا ہے۔

اس کی شادی کو چند ماہ ہی گزرے تھے جب اس نے یہ عمل شروع کیا "سنو! آؤ! آج میں تمہیں اپنی مرضی کا تراشتا ہوں" وہ اس کی کلائیوں کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر کہنے لگا۔ اور وہ زمانے بھر کی حیرت سے اُسے تکنے لگی۔

" یہ دیکھو، یہاں پہ ذرا سی مٹی اور لگائی، کلائیاں گول کیں۔ اور ہاتھ۔۔ ہاں ہتھیلی پہ تھوڑی سی اور مٹی لگا کر اسے بھر دیا۔۔ اب یہ چپٹی ہتھیلی نہیں رہی۔ نرم اور بھری بھری ہو گئی ہے اور۔۔ اور انگلیاں، ان کو بھی تھوڑی سی مٹی اور لگا کر اس کے ہرجوڑ کی ہڈی کو چھپا کر نرم اور لچکدار بنا دیا۔ " وہ انتہائی دلچسپی سے اور شرمیلی سی مسکراہٹ سے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگی وہ اس کو تراشتے ہوئے مکمل جذب کے عالم میں بول رہا تھا۔

ابتدا میں یہ سب دلچسپ لگ رہا تھا مگر ہر دوسرے یا تیسرے روز یہی عمل دُہرایا جانے لگا تو وہ بیزار ہونے لگی۔ اور پھر کئی شکلوں میں بٹ کر اسے محسوس ہونے لگا جیسے وہ گم ہوتی جارہی ہے۔
" یہ کُہنیاں۔۔۔ اس کی نوکدار ہڈی پہ مٹی کی ذرا سی تہہ چڑھائی اور اسے گول کیا۔ اور یہ گردن اس کو چھوٹا کر کے ہنسلی کی ہڈی کو چھپا دیا۔۔۔ اور یہ بہت ساری مٹی گولائیوں پہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " وہ اس قدر محو تھا کہ اسے لگا جیسے وہ ہپنا ٹائز ہو گئی ہو اور وہ کسی عامل کی طرح اپنے معمول سے کہہ رہا ہو مر جا۔۔۔۔ اور وہ سچ میں مرگئی ہو۔

ابتدا میں یہ سب دلچسپ لگ رہا تھا مگر ہر دوسرے یا تیسرے روز یہی عمل دُہرایا جانے لگا تو وہ بیزار ہونے لگی۔ اور پھر کئی شکلوں میں بٹ کر اسے محسوس ہونے لگا جیسے وہ گم ہوتی جارہی ہے۔ دب گئی ہے تہہ در تہہ مٹی کے نیچے۔

ہر بار وہ ایک نیا عنوان دیتا۔۔۔۔۔ عورت، عنکبوت، مہر ماہ، آفرین ۔۔۔۔۔ جانے کتنے نام

وہ عجیب و غریب 'خبط' میں وہ مبتلا تھا۔ اور وہ چاہتے، نہ چاہتے، جانے انجانے کسی خاموش اور محکوم کردار کی طرح اس کے اس خبط کو بڑھاوا دیتی رہی۔ دلچسپی سے شروع ہونے والی تصوراتی دنیا تجسس پہ آکے ٹھہر سی گئی تھی، ' آج کون؟ ' کا بھید کھولتی ہر شب ۔

وہ ایک خوشحال اورقدرے مذہبی گھرانے کا تعلیم یافتہ مگر کم گو اور شرمیلا نوجوان تھا۔ دن میں پر اسرار سی خاموش نگاہوں سے اسے یوں تکتا جیسے وہ اس سے بالکل بے خبر ہو۔ اجنبی سا ۔۔ مگر اگلے ہی لمحے یوں لگتا جیسے چپکے چپکے وہ اس کے وجود کی اوک میں رکھے اس کے اپنے تراشے ہوئے تصوراتی وجود کو۔جی بھر کر دیکھتا ہو ۔۔
شبِ تنہائی میں وہ بہت بولتا تھا۔ بولتا کیا تھا اپنی صوتی قوت سے ایک تصوراتی دنیا آباد کر لیتا تھا اور وہ کسی محکوم ہپنا ٹئزڈ ڈمی کی طرح نئے نئے وجودی لباس پہنتی جاتی۔

اسے پیاس لگتی یا وہ کھانستی یا جمائی لیتی تو اس کی جھنجھلائی ہوئی غصے والی کیفیت اسے جامد کر دیتی گویا وہ صرف وجود ہو جس میں وہ جب چاہے گا، روح پھونکے گا۔

وہ اسے محض جسم سمجھتا تو وہ اسے جسم میں ہی مار ڈالتی، مگر وہ تو ' کُن ' کا ہنر بھی جانتا تھا اور اب تو کُن سے بھی آگے کا سفر شروع ہو چکا تھا 'پڑھو ۔۔ جو میں پڑھاؤں' ۔۔۔۔۔۔۔

اذیت، بے بسی درد، اپنے وجود کے کھو جانے کا احساس بہت طاقتور ریلے کی طرح اسے بہانے لگا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔ اور عورت بن گئی۔
اور وہ اپنے کُن کے زیر اثر اپنا پڑھایا بلوانے لگا تو وہ گُنگ ہو گئی، مگر اپنی جادوئی کیفیت میں اس نے جب اس سے بولنے کو کہا تو وہ اس کے الفاظ دُہراتی ہوئی خود اپنے وجود سے انکاری ہو گئی ' ہاں، ہاں میں انبساط ہوں، مہر ماہ ہوں، آفرین ہوں۔ اور وہ سب ہوں جو تم کہو "

وہ ایک بہت خیال رکھنے والا اچھا شوہر تھا اور وہ خوش تھی یا نہیں مگر اس کے والدین خوش تھے کہ وہ ایک اعلیٰ خاندان کے با وصف سپوت کی بیوی ہے جس کو اپنے سسرال میں کوئی پریشانی نہیں ہے ۔ بظاہر تو ایسا ہی تھا مگراندر ہی اندر وہ اس کے بڑھتے ہوئے خبط سے پریشان تھی۔ کیا کرے؟ کیسے اپنے وجود سمیت چاہی جائے ۔۔۔۔۔ یا کم از کم مان ہی لی جائے۔ کیا وہ کسی ماہرِ نفسیات کو بتائے؟ آخر وہ کیا کرے، کیسے نجات ممکن ہو؟ کیسے اپنے رشتے کو پورے معنی سے اس کو آشکار کروائے۔

اور پھر کُوزہ گر نئے عنوان دینے لگا جن کے وجود بھی تھے اور جو محض تصور بھی نہ تھے۔

وہ سُن سی اسے دیکھنے لگی۔ تصوراتی دنیا میں کسی وجود کا چہرہ نہ تھا مگر اب ۔۔۔۔۔ اب تو نئے نئے چہرے اپنے مکمل وجود کے ساتھ، شبِ تنہائی میں ان کے درمیان سر اٹھانے لگے۔ اس کے وجود اور اس کی ذات کو ' لا ' کے معنی بتانے لگے تو وہ اپنی پوری قوت سے چیخ اٹھی، مگر وہ تو اس کی آواز سے کہیں باہر اپنی مرضی کا جہان بسائے، مگن تھا۔ جہاں وہ حاکم تھا اور وہ محکوم۔

حاکم کا جی چاہے تو آواز سنے اور جی چاہے تو سماعتوں میں ہی اس کے بول مار ڈالے۔ اور بس وہی سنے جو وہ خود ہی کہے اور خود ہی جھومے۔

اذیت، بے بسی درد، اپنے وجود کے کھو جانے کا احساس بہت طاقتور ریلے کی طرح اسے بہانے لگا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔ اور عورت بن گئی ۔

اس کے بازو اپنے ہاتھوں میں لے کر مسکرا ئی تو وہ حیرانی سے اس کا بدلا ہوا روپ تکنے لگا۔

" یہاں سے مٹی کم ۔۔۔۔۔۔ یہاں ذرا زیادہ ۔۔۔ اور۔۔۔۔۔اور اس کا عنوان ہوگا ' مرد، کوئی بھی مرد ' ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ایک دم یوں اٹھ کے بیٹھ گیا جیسے کسی بچھو نے ڈس لیا ہو یا ایک طویل نیند سے کسی نے پوری قوت سے جھنجھوڑ کے اٹھا دیا ہو۔

" نہیں " اس کی آواز کا بھاری پن کمرے کے درودیوار میں ارتعاش برپا کر گیا۔ اور اس کے چہرے پہ ملکیت کا بھر پور احساس، اذیت اور درد کا گہرا عکس لیے پوری شدت سے نمایاں نظر آنے لگا ۔

Related Articles

ہاں،یہ بھی روشنی ہے!

ناصر عباس نیر: مجھے بسواس ہے کہ یہ رات ایک نئے سویرے کو جنم دے گی،اور اس مرتبہ تم اسے اپنی روشنی پانے کے سفر میں اکیلا نہیں چھوڑ گے!

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو

کلیشے

چار سو مرے پھیلی
زندگی کلیشے ہے