کومل راجہ کی نظمیں

کومل راجہ کی نظمیں
ابھی میری دریا سے دوستی نہیں ہوئی

ابھی میری دریا سے دوستی نہیں ہوئی
ابھی میں نے صرف اسکے کنارے بیٹھنا شروع کیا ہے
اسکی بپھری لہریں کس سوز کا ساز بجاتی ہیں؟
ریاضت بنا وہ گنگنایا جا نہیں سکتا
دلوں اور دریاؤں کے سوز ایک ہو جائیں
تو ڈوبے بنا رہا جا نہیں سکتا
ابھی میری انگلیوں نے کنارے کی مِٹی کو چھوا ہے
تہہ ِ دریا میں سیاہ کائی ہے یا نیلا پتھر
ابھی سے بتایا جا نہیں سکتا
دریا کنارے کی مٹی گیلی ہوتی ہے
اس میں کمزور جڑ کا پودا اگایا جا نہیں سکتا
کہتے ہیں لہریں بہا لے جاتی ہیں جس کو چاہیں
مگر لہروں کا چلن جانے بنا کچھ بھی بہایا جا نہیں سکتا

دکھ سچ جتنا سادہ ہے

سنتے آئے ہیں کہ
رنگ و بو، ادا و زائقے
زندگی کی علامتیں ہیں
زندگی جینا اور اسکی علامتوں کو جینا
دو الگ باتیں ہیں
اس فرق کو دلیل نہیں
احساس سے مانا جا سکتا ہے
علامتوں کے سچ کو
صرف دکھ سے جانا جا سکتا ہے
اور دکھ اتنا ہی سادہ ہے
جتنا کہ خود سچ !

نظمیں اور پھول

جب وہ بادلوں کا عاشق
اور میں آوارہ جوگن تھی
وہ اکثر زرد دوپہروں میں
اپنے چھت پر جایا کرتا تھا
اور نیلے حیرت کدے میں پھرتی سفید بدلیوں پہ
پر اسرار نظمیں لکھا کرتا تھا
اور میں سورج ڈھلے سرمئی شاموں میں
خالی سڑکوں کے کنارے گلاب چنا کرتی تھی
شب بھر وہ مجھے اپنی نظمیں سناتا
اور میں ایک ایک کر کے گل اس کے نام کرتی
اس کی بادل صفت خنک نظمیں
میری آنکھوں سے سدا کی راکھ دھو کر
مجھے آسمانوں میں لیے اڑے پھرتیں
اور وہ پھولوں کے رنگوں میں گھل کر
پنکھڑیوں کی نازکی کو
اپنی انگلیوں کی پوروں سے محسوس کرتا
اسکی انگلیاں مسلے جانے کے دکھ سے اتنی ہی واقف تھیں
جتنی میری آنکھیں جھلسنے کے درد سے
وہ اب بھی بادلوں کاعاشق ہے
مگر چھت پر نہیں جاتا
میں اب بھی جوگن ہوں
مگر سڑک کنارے سے پھول نہیں چنتی

نیلا بادل

آدھی رات کے سناٹے میں
دائرہ دائرہ سوچ کے اندر
آنکھ کا کاجل پھیل رہا ہے
میز پہ رکھا کورا کاغذ
پھڑ پھڑ کرتا ناچ رہا ہے
رات کی کالی جھلمل چادر
سو سو جگہ سے ادھڑی ہوئی ہے
چپ کی ڈور میں سانس پروتی
پاگل لڑکی!
الٹی کٹوری کو انگلی سے چھوتی،
نیلا بادل سوچ رہی ہے!

بارش میں ایک منظر

گھر کی اور گھر کی حفاظت میں کھڑی دیوار کے
درمیاں میں ایک مکڑی کا جالا ہے
ایک دیوار بارش میں گیلی اور
دوسری کے سر پر منڈیر کا سایہ ہے
پیڑ سے پتے جھڑ کر جالے میں اٹک گئے ہیں
منڈیر کے کناروں سے پانی کے قطرے پھسل کر
پتوں سے لٹک گئے ہیں
روشنی کے گزر نے جالے کو آئینہ
اور قطروں کو فانوس بنا دیا ہے
دو پتھر کی دیواروں کو ملانے والا پل
گویا کانچ کا ہو گیا ہے

Hysteria

میرا دماغ ایک خالی کمرہ ہے
جس میں شاہی سانپ
میرا بھیجا نگلے،کنڈل مارے، پھن اٹھائے
عین میرے ماتھے کے پیچھے بیٹھا ہے
اسکی دم میرے ہائینڈ برین میں پھنس گئی ہے شاید
میری آنکھ جب بھی کسی 'درخت' سے الجھتی ہے
میری ہائینڈ سائٹ میں روشنی کا جھپاکا پڑتا ہے
اور سانپ کے پیٹ میں پانی ٹھاٹھیں مارتا ہے
میرا بھیجا تیر کے اس کے منہ کو آتا ہے
ایک سایہ میرے چہرے پر سے گزر جاتا ہے
بے صوت پسینے کے قطرے میری پیشانی پر
سانس روکے رقص کرنے لگتے ہیں۔ ۔ ۔
سائیکولوجی والے اس واردات کو ہیسٹیریہ کہتے ہیں

Image: Catrin Welz-Stein

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

The Insane Sufi

Translation of a Pashto poem by Syed Bahauddin Majroh Name of book: Na-ashna Sandari (Stranger's songs) Name of the poem

لکھتے رہو

ابرار احمد: تو پھر لکھتے رہو
بیگار میں
بیکار میں لکھتے رہو
کیا فرق پڑتا ہے

اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں

تم ہمارے حصے کی اینٹیں
اپنی آنکھو ں میں ڈال کر
کوئی ایسا مکان بنا سکتے ہو؟
جس میں ہمارے خواب قیا مکر سکیں
اس رات تک