کون جانے نہیں دیتے

کون جانے نہیں دیتے
کسی بھی دفتر، ادارے، معاشرے، قوم یا ملک میں سماجی و معاشی ترقی کی کچھ سیڑھیاں ہوتی ہیں۔ جو ترقی کرنے میں تجربہ کار ہوتے ہے وہ ان گلیوں، راہداریوں اور چوباروں کو نا صرف خوب جانتے بلکہ پہچانتے بھی ہیں۔ وطنِ عزیز کے بھی ہر ادارے کی طرح اپنے خاص رنگ کے ترقی کے زینے ہیں اور ترقی کی دیوی کے پُجاری خانوادوں کو بہت پتا ہوتا ہے کہ کون سی گلی بَلماں کے "گھر شریف" کو جاتی ہے۔

ہر ادارے کی طرح وطنِ عزیز کے بھی اپنے خاص رنگ کے ترقی کے زینے ہیں اور ترقی کی دیوی کے پُجاری خانوادوں کو بہت پتا ہوتا ہے کہ کون سی گلی بَلماں کے "گھر شریف" کو جاتی ہے۔
ہم کچھ جملے ابھی کہیں گے تو لگے گا کہ کس طرح وطنِ عزیز کا ماضی اس کے بے حال قسم کے حال میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ یہاں وقت ایک تسلسل ہے اُسی دھارے کا، جو چلتا ہی آ رہا ہے۔ آپ نے یونہی تو نہیں پڑھا سنا ہوگا کہ پہلی قسط کا نجات دہندہ ہیرو اور 'باوردی صدر" کسی کا "ڈیڈی" بھی تھا۔ حالانکہ ان کو "ڈیڈی گرامی" قرار دینے والے صاحب کے قومی شناختی کارڈ کے ولدیت کے خانے میں کسی اور محترم کا نام ہی تھا۔ لیکن یہاں ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ ویسے بھی حقیقی والد سے زیادہ سیاسی والد زیادہ بہتر سرپرست ثابت ہوتے ہیں۔ پھر کچھ وقفہ آتا ہے۔ مقامِ عدم حیرت ہے کہ غریب کے بچوں کی ولادت کے درمیانی وقفے کی طرح کچھ خاص بڑا وقفہ بھی نہیں۔ تو جناب ایک نئے نجات دہندے کی آمد ہوتی ہے۔ آمد ہوتے ہی کئی شُرَفاء دن دیہاڑے دانت نکالتے، مونچھیں لشکاتے ایک اور باوردی صدر کو اپنا پِدرِ روحانی قرار دے دیتے ہیں۔ دیکھئے وطنِ عزیز میں سب رنگ ہی نرالے ہیں۔ آپ نے وہ محاورہ تو سُنا ہوگا کہ خُدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں لیکن یہاں تو نجات دہندوں کی اتنی آمد ہوتی ہے کہ محاورے تک کی گنگا الٹی بہنے لگتی ہے۔ یہاں تو یہ نا مناسب سی بات کہنا زیادہ مناسب لگے گا کہ وطنِ دلپذیر میں سیاسی والدانِ گرامی کی آمد میں نا تو دیر اور نا ہی اندھیر ہے۔ خدا دوسرے ایڈیشن کے روحانی ابا جان کے فیصل مسجد کے پاؤں تلے "مدفون جبڑے" کی سنگِ مرمر سے مزین قبر کو سیاچن جتنا ٹھنڈا کرے۔

پہلی قسط میں "نجات دہندگی کے میلے" میں ملے ڈیڈی کے سیاسی برخوردار کی دُخترِ دانش مند نے یہ کہہ کے حال میں ملے ماضی کے داغ کو دھونے کی کوشش کی تھی کہ ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنا لیا جاتا ہے۔

ہیں، ہیں کیا ہوا؟ کیوں صاحبِ زمان و صاحبِ مقام! ہم سے گستاخی ہوگئی کیا؟

لیکن صاحب یہ شہیدہ کے شبد ہیں ہم نے تو صرف نا عقلی سے نقل ہی کئے ہیں، غصہ آنے لگے تو پریس ریلیز میں جو من آئے کہہ لیجئے گا آپ پہ کون سا کسی ہائی کورٹ نے "چُپ کردن" کے آرڈر نکالنے ہیں۔ زیادہ موزوں ہے کہ معاف کر دیجیے گا۔ کج فہم ہیں سویلین جو ہوئے۔ ہارون و ڈاکٹر و دانش غارت کرے انہیں ایک تو یہ بلڈی سویلینز محاورے بہت بولتے ہیں، کچھ فکر نہیں ہوتی انہیں وسیع تر ملکی مفاد کی!

یہ اسی روایت کا تسلسلِ خُوباں و نازاں ہے کہ جب "حق" کے بعد پھر سے نئے نجات دہندہ نے وطن کو اپنی آمد سے مشرف بہ کیا تو ہمارے پڑھے لکھے پنجاب کے پرویزیوں اور الٰہیوں نے ساداتِ وقت کو بِیس بیس بار باوردی صدر منتخب کرانے کے نعرے مار کے اپنی حبِ الوطنی کا ثبوت ارزاں کیا۔
ہمارے معزز قاری ہماری طرف سے معذرت قبول کیجئے گا لفظیات و نشریات میں کچھ خلل واقع ہوگیا تھا اور ہمارے سامنے جناب سلیم شہزاد کے جسدِ خاکی کے بارے اور منڈی بہاؤالدین کی نہر کے کنارے کی خبر گھوم گئی تھی۔ چلیں خیر یہ رسم تو ابھی کچھ عرصہ اور چلنی ہی ہے جب کہیں آ کے یہ خوب صورت خوابوں کی دھرتی نکھرنی ہے۔ تو بات یہ تھی کہ شہید محترمہ نے ایک جُملے میں بہت کچھ کہہ دیا تھا لیکن اسّی کی دُہائیوں سے لبریز دَہائی میں وارد شدہ "روحانی والدِ گرامی" کی گدّی کو کسی شریفانہ جملے نے ابھی نہیں دھویا۔ پر بات وہیں پہ آ جاتی ہے کہ وطنِ عزیز کے سماج و سیاست و سیادت و صنعت میں بھی "داغ تو اچھے ہی ہوتے ہیں" کی روایت قائم ہے۔

یہ اسی روایت کا تسلسلِ خُوباں و نازاں ہے کہ جب "حق" کے بعد پھر سے نئے نجات دہندہ نے وطن کو اپنی آمد سے مشرف بہ کیا تو ہمارے پڑھے لکھے پنجاب کے پرویزیوں اور الٰہیوں نے ساداتِ وقت کو بِیس بیس بار باوردی صدر منتخب کرانے کے نعرے مار کے اپنی حبِ الوطنی کا ثبوت ارزاں کیا۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اس لیئے کیا کہ انہیں زمانے میں پنپنے کے نفسیات و سیاسیات کے سبق ازبر یاد تھے۔ تو ہمارے اچھے قاری ہمیں ایک بار پھر سے دُہرانے دیجئے کہ کسی بھی دفتر، ادارے، معاشرے، قوم یا ملک میں سماجی و معاشی ترقی کی کچھ سیڑھیاں ہوتی ہیں۔ جو ترقی کرنے میں تجربہ کار ہوتے ہے وہ ان گلیوں، راہداریوں اور چوباروں کو نا صرف خوب جانتے بلکہ پہچانتے بھی ہیں۔ اپنے ہی خاص رنگ کی دیگر چیزوں کی طرح وطنِ عزیز میں ترقی کرنے کے بھی نرالے ہی زینے ہیں اور ترقی کی دیوی کے پُجاری خانوادوں کو بہت پتا ہوتا ہے کہ کون سی گلی بَلماں کے "گھر شریف" کو جاتی ہے۔

بقول باوثوق ذرائع اس نئی نویلی آنکھ کھولتی سیاسی پارٹی کے "عوامی رہنماؤں" کے ملک کے اہم صنعتی شہر فیصل آباد میں اچھے خاصے کاروبار اور بیوپار ہیں
اب اگر کوئی "کیوں جانے کی بات کرتے ہو" پہ لجاجت بھرے انداز سے سجناں کے پاؤں پڑا ہے تو اسے بے وقوف ہرگز نا جانیے گا۔ یاد رکھئیے کہ وہ پوسٹر جن پہ "شریفِ عصر" کو جانے سے روکا جارہا ہے اسے آدھا مت پڑھیئے گا۔ اسلام آباد کے مکینوں کی سہولت کے لئے ان ترقی کی دیوی کے پجاریوں نے بڑی سہولت کی کہ انہیں اس چوک میں زیادہ تعداد میں نصب کیا جہاں سے ہر چند سالوں بعد گہرے سبز رنگ کے ٹرک ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور شاہراہِ (بے) دستور کے لئے مڑتے ہیں۔ یہ پوسٹر وہاں لگائے گئے جہاں ٹریفک کا اشارہ کم از دس سال کے لئے بند ہوتا ہے۔ تھوڑا اور مکلف ہوئیے تو جان جائیں گے کہ انہیں پوسٹروں کے نیچے کسی نوزائیدہ سیاسی پارٹی کا نام بھی لکھا ہے۔

اسلام آباد میں ایک نئی سیاسی جماعت کی جانب سے لگائے گئے پوسٹر

اسلام آباد میں ایک نئی سیاسی جماعت کی جانب سے لگائے گئے پوسٹر

تو اس نا جانے کی بات کرو والے پوسٹر کے پاؤں میں اس اس نونہال پارٹی کا نام ہے۔ بقول باوثوق ذرائع اس نئی نویلی آنکھ کھولتی سیاسی پارٹی کے "عوامی رہنماؤں" کے ملک کے اہم صنعتی شہر فیصل آباد میں اچھے خاصے کاروبار اور بیوپار ہیں۔ گھر کی روٹی چل رہی ہے اور کچھ بچ بھی جاتی ہے، جو ایسے ہی پھینکنی پڑتی ہے۔ کچھ پیسے بھی بچے رہتے ہیں۔ کمپنی کو تو بس اب مشہوری اور تاریخ میں لکھا ہوا نام چاہئیے۔ اور اس ملک میں ہر کھاتے پیتے گھرانے کے دو ہی تو شوق ہیں: کہ یا تو ان کا اپنا نیوز چینل ہو، یا اس وطنِ عزیز کی "عوام کی مزید خدمت" کرنے کا کوئی اور ذریعہ کہ ملک کے لئے اسلحہ خریدنے کے بعد جو سِکے بچ جائیں ان کو پلکوں سے چُن سکیں۔ اور! اجی ظالم سیّاں آپ کو پاکستان کے سیاسی پُلوں کے نیچے اتنے بہہ گئے ہوئے پانی کے بعد ابھی بھی پتا نہیں چلا کہ جُگنی کو وطنِ عزیز کی کس گلی میں "وڑنا" ہوگا۔ آپ بھولے بن رہے ہیں، ترقی کی دیوی کے پُجاری بَھولے نہیں سوہنیو!
Yasser Chattha

Yasser Chattha

The author teaches English at Model College for Boys Islamabad. In the past he was affiliated with Council for Social Sciences Pakistan. His translation of English poetry has recently been published as a book.


Related Articles

روٹی کپڑا اور مکان

روٹی، کپڑا اور مکان کس طرح عوام کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔ تاشفین مجید کا کارٹون۔

گلگت بلتستان؛ جبر کا نظام کب تک؟

قانون کے رکھوالوں کا سیاسی انتقام لینے کے لیے عوام کو ہراساں کرنے کا یہ سلسلہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہاں تو گاوں گاوں، قریہ قریہ پولیس کا سپاہی خود کو محلے کا حکمران سمجھتا ہے۔

جنرل کیانی پر الزامات؛ کیا فوج اپنے احتساب کو تیار ہے؟

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ فوج کس بنیاد پر ڈی ایچ اے جیسے ادارے چلارہی ہے اور کیا فوج کے زیر انتظام چلنے والے تجارتی اور کاروباری ادارے واقعی ہر قسم کی مالی بدعنوانیوں سے پاک ہیں؟