کوڑے کے ڈھیر پہ پڑا سچ

کوڑے کے ڈھیر پہ پڑا سچ

کل اس نے شراب کے دو پیگ لئے
پھر نفاست سے سچ بولا
" بھوک چمک جاتی ہے"

کبھی دھلے دھلائے چہروں کو دیکھ کر
کبھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات ادھوری رہی
کوڑا چنتے
بدبودار نسوانی وجود کی تاک میں بھٹکتی نظر
دائروں اور قوسوں میں رستہ ڈھونڈنے لگی

زچگی کے دن ماں کے گھر گزارتی بیوی
بستر کے ساتھی کو
ساتھ لانا بھول گئی

عورت کی بھول
رات کے کسی پہر جاگی
بھاگتی ہوئی
کوڑے کی بدبو اٹھا لائی
بستر کی چادر پہ ہوس کے داغ پکے نکلے
کبھی نہ دھلے

کوڑے پہ پڑی ہوس
اکثر
آدھی رات کو مرد کے پہلو میں سو جاتی ہے
اور سگریٹ کا دھواں اڑاتا آدمی
سو نہیں پاتا
بدبو
نیلی شرٹ کے بٹنوں میں گھسی رہتی ہے
مٹی سے اٹے بالوں پہ رکھے بوسے
اس کے منہ پہ تھپڑ رسید کرتے ہیں

عورت نومولود کو دودھ پلاتے
اس کو
شراب کے پیگ پیتے دیکھ کر
ہراساں ہو جاتی ہے
سو نہیں پاتی
جب وہ سچ بولنے لگتا ہے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

پل بھر کا بہشت

سرمد صہبائی: ہم دونوں آدم اور حوا
پَل کے بہشت میں رہتے ہیں

گزرتا ہُوا وقت

تمہاری جِلد ایسی کہ جیسی صبح
میری (جلد ایسی) جیسے رات

مضافِ دریا

علی اکبر ناطق: مضافِ دریا کے رہنے والو تمہیں ہارا سلام پہنچے
مضافِ دریا کے رہنے والوں تمہارے قریوں میں زندگی ہے