کُمہار

کُمہار

کُمہار
اپنے چاک پر
خُوب صورت گُل دان
مٹی کے پیالے
منقش صراحیاں
اور بہت سے برتن بناتا ہے
لوگ
انھیں استعمال کرنے کا سلیقہ بُھول چکے ہیں
گلیوں میں
ٹُوٹے ہوئے برتن
کُمہار کو
اپنے وجود کے ٹُکڑے لگتے ہیں
وہ
مٹی سے ایک چُھری بناتا ہے
لوگ اُسے
خود پر حملہ آور ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں
اور مسخرہ سمجھ کر
اس کی جانب سکے پھینکتے ہیں
وہ گیلی آنکھوں سے
مٹی کی چُھری کو دیکھتا ہے
پھر اعتماد سے
اپنے گلے پر چلا دیتا ہے
لوگ حیرت سے
کُمہار کو مٹی میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں
۔
(سندھی سے تخلیق و ترجمہ)

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Mustafa Arbab

Mustafa Arbab

Mustafa Arbab was born in a village of District Sanghar,Sindh in 1967.He obtained a masters Degree in urdu from Sindh University.He lives in Mirpur khas.He began his literary career as a short story writer in 1984. A collection of his poems,"Khawab aur Aadmi"was published in 1999.Writing both in Sindhi and Urdu, he is also acknowledged as a translator of Sindhi literature. His work are published in well-established literary journals of the Indo-Pak subcontinent.


Related Articles

رات زندگی سے قدیم ہے

نصیر احمد ناصر: اور پھر ایک دن ہم
اتر جائیں گے
اُن دریاؤں کے پار
جہاں راستے ہیں نہ مسافر
دھوپ ہے نہ شام
بس ایک خواب جیسی دھند ہے
اور پہاڑ جیسی رات

فلیش بیک سے باہر

نصیر احمد ناصر: ماضی کی ایک تنگ گلی میں کھڑے
چم چم اور گلاب جامن کھاتے ہوئے
تم لوگوں سے یوں مِل رہے تھے
جیسے سب تمھارے ہم جوار و ہم جولی ہوں

میں جنت میں بہت خوش ہوں

علی انکل یہ کافر کون ھوتا ھے؟؟
مجھے لگتا ھے
وہ ھوں گے
جنھوں نے ھم کو مارا تھا!!