کچرے سے کائنات بنانا

کچرے سے کائنات بنانا

آئیں ایک خیالی تجربے کا تصور کریں۔

ایک جارحیت پسند سمیی طاعون (viral plague) نے انسانیت کو آ لیا ہے۔جو حیران کن تیزی کے ساتھ گنجان آباد شہروں اور بین الاقوامی ائر لائنز کی دنیا میں پھیل رہا ہے۔ہم یہ جنگ کچھ ہفتوں میں پہلے ہی ہار چکے ہیں۔تہذیب زمین بوس ہو گئی ہے اور انسانیت کا بیشتر حصہ مر چکا ہے۔لیکن آپ بچ گئے ہیں۔ آپ بہت زیادہ بیمار ہو جاتے ہیں۔ لیکن کسی پیدائشی قوتِ مدافعت کی وجہ سے آپ اس بیماری کو سہہ جاتے ہیں۔جب آپ کی آنکھ کھلتی ہیں تو آپ ایک گھرمیں موجود ہیں جو بہت زیادہ سرد ہے،جہاں نہ بجلی ہے، نہ پانی اور نہ ہی چولہے یا بوائلر کو چلانے کے لیے گیس۔ گلیاں مضطربانہ حد تک سنسان ہیں اور آسمان پر ایک دوسرے کو قطع کرتے ہوائی جہازوں کے دنبالے بھی نہیں ہیں۔آپ تباہی کے بعد بنجر زمین میں بچ جانے والوں میں سے ہیں۔

ان تمام استعاروں سے ہم canticles of Leibowitz اور the road جیسی کتابوں ،حالیہ کمپیوٹر گیمز جیساکہ the last of us یا پھر فلمیں جیسا کہ I am legend یا mad Max کے توسط سے متعارف ہیں۔کلی طور پریہ کہانیاں ہیرو کو چمڑے کے چست لباس میں دکھاتی ہیں اور یہ کہ وہ بیاباں سے بچ نکلنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔لیکن یہ کہانیاں کتنی حقیقی ہیں؟

اگر آپ کبھی خود کو ایک عالمگیر تباہی، جس نے زیادہ تر انسانیت کا خاتمہ کر دیا ہو، میں بچ جانے والوں میں پائیں تو آپ اس کے بارے میں کیا کریں گے؟وہ کون سا علم ہوگا جس کو آپ ترقی کرنے کے واسطے محفوظ کریں گے؟یہ وہ مقام ہے جہاں پہ تنہا ہیرو والا استعارہ دھڑام سے آ گرتا ہے۔حفاظت تعداد میں ہے اور بے شک ہم تاریخ میں ترقی اور جدید دنیا کو تعمیر کرنے کے قابل اکٹھے کام کرے کی وجہ سے ہی ہوئے ہیں۔نوع انسانی جبلی طور پر سوشل اور تعاون کرنے والی ہے۔بلاشبہ تباہی کے بعد کچھ دور ہنگاموں کا ہو گالیکن جلد ہی لوگ برادریوں میں رہنا شروع کر دیں گے۔

سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہو گا؟ آپ کی فی الفور ترجیحات کیا ہوں گی۔اور وہ کون سی چیزیں ہیں جن کو آپ کی برادری کو آنے والے سالوں میں حاصل کرنے کی کوش کرنی چاہیے؟ ذیل میں ایک ممکنہ تاریخ ہے۔

ابتدائی چند ایام:

ایک بار جب لوگ قوت گاہوں کی دیکھ بھال اور مرمت کرنا بند کر دیں گے تو گرِڈ (Grid) تیزی سے گرے گا۔لیکن کسی عمارت کے ملبے سے سولر پینل اور سفری جنریٹر ڈھونڈ لینے سے آپ اپنی زندگی میں کچھ دن بجلی فراہم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔جیسے ہی انٹرنیٹ کو پاور فراہم کرنے والے بیک اپ جنریٹروں کا ایندھن ختم ہو گا تو یہ جاتا رہے گا۔لہذٰا آپ علم کے لیے وکی پیڈیا پر انحصار نہیں کر سکیں گے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا موبائل ایک بیکار اینٹ بن گیا ہے۔قطب نما ایک اندرونی میگنیٹو میٹر کا سہارا لیتا ہے جس سے آپ ارد گرد جانے کا راستہ دھونڈ پائیں گے۔اور درحقیقت جو آخری نقشہ آپ نے ڈاون لوڈ کیا ہو گا وہ جی پی ایس کے ساتھ آپ کو حرکت کرنے میں مدد دے گا۔

جی پی ایس سٹیلائیٹ نیٹورک تباہی کے کچھ عرصے بعد تک کام کرتا رہے گا۔مگر چھ ماہ کے بعد درستگیِ مقام اس حد تک گر جائے گی کہ یہ بالکل بیکار ہو جائیگا۔تباہی کے فوری بعد کی ترجیحات میں بوتلوں میں محفوظ پانی، ڈبوں میں بند خوراک اور باہر جانے کے لیے محفوظ کپڑوں کا حصول یقینی بنانا ہونا چاہیے۔

ابتدائی ہفتے:

ممکن ہے ابتدائی ہفتوں میں بچ جانے والے دوسرے لوگوں سے ہو۔ اجنبیوں کے ساتھ اس وقت تک اھتیاط برتیں جب تک آپ ایک ایسے گروہ کو نا دھونڈھ لیں جن پر آپ یقین اور باہمی حفاظت کے لیے انحصار کر سکیں۔اور یہ ضروری سامان کو دھوندنے اور منتقل کرنے میں بہت مفید ثابت ہو گا۔

اس وقت تک وہ شہری علاقہ جہاں سے آپ نے شروعات کی تھی ناخوشگوار ہونا شروع ہو جائے گا۔ہوا بے شمار گلتے سڑتے اجسام کی بدبو سے بھر جائے گی اور بھوکے گھریلو کتے لڑاکا گروہوں کی شکل اختیار کر لیں گے۔کسی بھی حالت میں ایک جدید شہر ایک مصنوعی بلبلے کی طرح ہے جس کو وہی تہذیب سہارا دیتی ہے جو اس کو پیدا کرتی ہے۔

جہاں لفٹوں یا بتیوں کو جلانے کے لیے بجلی نہ ہو، زمینی پانی ممکنہ طور پر غیر خالص ہو اور جگہ جگہ ملبہ بکھرا ہو تو ایسے میں آپ دیہاتی علاقے میں زندگی گزارنے کو زیادہ آسان پائیں گے۔تباہی کے بعد ایک ٹیکنالوجی سے مزین جدید اپارٹمنٹ کی نسبت ایک روایتی قسم کا فارم ہاوس جہاں گرمائش حاصل کرنے اور کھانا پکانے کے لیے فائر پلیسز موجود ہوں زیادہ مناسب ہو گا۔نئی چیزوں کو بنانے اور کام کرنے کے عمل کو پھر سے سیکھنے کے دوران آپ ضروری اشیا کے حصول کے لیے آپ ہمیشہ ہی تباہ ہوئے شہری علاقے کا چکر لگا سکتے ہیں۔

ابتدائی مہینے:

آپ کا سب سے اہم سروکار یہ ہونا چاہیے کہ پینے کے لے صاف پانی کو کیسے یقینی بنایا جائے۔تاکہ ان بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے جو پانی سے پھیلتی ہیں اور ہزاروں سالوں تک انسانوں کے لیے آفت رہی ہیں۔ ابالنا مرض آور جراثیم کو مارنے کا یقینی عمل ہے لیکن اس کے لیے بہت زیادہ ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔پانی کو صاف کرنے والی گولیاں camping stores سے ڈھونڈی جا سکتی ہیں لیکن یہ یقینی بنانے کے لیے کہ جو پانی آپ پیتے ہیں آپکو نہیں مارنے والا ، دیر یا سویر آپکو کیمیا کی کچھ ٹیکنیکس کو استعمال کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

پانی میں کچن بلیچ یا سوئمنگ پول میں ڈالی جانے والی کلورین(سوڈیم ہائپو کلورائیٹ اور کیلشیم ہائپو کلورائیٹ) کو ملا کر جراثیم سے پاک کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے سلوشن کو بہت زیادہ پتلا کرنا ہو گا تاکہ یہ کیمیکل جراثیموں کو تو مار دیں پر آپ کو زہر آلود نہ کریں۔یہاں ہم کلورین کی کیمسٹری کا استحصال کر رہے ہیں۔جو ٹینکیوں والے اس پانی کی بھی بنیاد ہے جس کو آج ہم پیتے ہیں۔تاریخی طور پر حفظانِ صحت اور عوامی صحت میں یہی وہ ترقیاں ہیں جن نے ہمیں گنجان آباد شہروں میں رہنے کے قابل بنایا۔

جب تک آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ کلورین کو خود کیسے بنایا جاتا پانی کو صاف کرنے کے لیے بہت کم ٹیکنالوجی والا طریقہ اپنایا جا سکتا ہے۔یہ وہ تیکنیک ہے جو بین الاقوامی تنظیم برائے صحت ترقی پذیر ممالک میں سکھا رہی ہے۔اس میں آپ غیر شفاف پانی کو پلاسٹک کی بوتلوں میں بھر کر ایک یا دو دن کے لیے دھوپ میں رکھ دیتے ہیں۔سورج سے آنے والی بالائے بنفشی شعاعیں پانی میں سے گزرتی ہیں اور جراثیموں کو مار دیتی ہیں۔

بیماری کی اشاعت کو روکنے کے لیے صرف ہاتھ دھو لینا کی بہت فائدہ مند ہے۔صابن جانوروں کی چربی کو آب پاشیدگی کے عمل سے گزار کر یا پھر پودوں کے تیل کو الکلیوں (Alklies) کے ساتھ ابال کر بنایا جا سکتا ہے۔الکلیاں ساری تاریخ میں کیمیکلز کی سب سے اہم کلاس رہی ہیں اور آپ کے قدرتی ماحول سے نکالی جا سکتی ہیں۔پوٹاش( پوٹاشیم کاربونیٹ) کو لکڑی کی راکھ سے ٹپکتے ہانی سے نکالا جا سکتا ہے۔سوڈا ایش(soda ash) کو جلی ہوئی سمندری جڑی بوٹیوں یا پھر دوسرے ساحلی پودوں جیسا کہ samphire یا saltwort سے نکالا جا سکتا ہے۔سوڈا کی پیدا کاری کے لیے سمندری جڑی بوٹیوں کو اکٹھا کرنا صدیوں تک سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے اٹلانٹک ساحلوں پر ایک بہت بڑی انڈسٹری رہی ہے۔

ابتدائی سال:

اگر آپ نے اپنی کاشتکاری شروع نہ کی تو جیسے ہی ذخیرہ شدہ خوراک ختم ہو گی آپ فاقوں میں ہوں گے۔پھل یا سبزیاں اگانا ایک سیدھا سادھا عمل ہے لیکن ہم میں سے آج کتنے لوگ جانتے ہیں کہ کیسے دلیہ یا اناج کی فصلیں جیسا کہ گندم، چاول یا مکئی اگائی جاتی ہے؟

دلیے دراصل گھاس کی اجناس ہیں۔وہ تیزی سے اگتی ہیں اور غذائیت سے بھرپور دانے پیدا کرتی ہیں۔ لیکن انسانی معدہ حیاتیاتی طور پر اس کے لیے موضوع نہیں ہے اور ہمارے پاس گاے کی طرح چار معدے بھی نہیں ہیں کہ گھاس کو ہضم کر سکیں۔اس کے برعکس اس کے لیے ہمیں ہمارے دماغ کو استعمال کر کے نئی ٹیکنالوجیز ڈھونڈنا پڑیں گی۔جس سے ہمارے جسموں کو مدد پہنچے۔ہمیں طبیعی طور پر گندم کے دانوں کو پیسنا پڑتا ہے اور پھر چولہے میں آگ کے تحلیلی اثر کو استعمال کر کے آٹے کو روٹی میں پکایا جاتاہے۔اور وہ نیوٹرنٹس خارج کرائے جاتے ہیں جن کو ہمارا جسم جذب کر سکے۔اس لحاط سے ہوا چکی یا آبی پہیے میں استعمال ہونے والے پتھر ہمارے دانتوں کی ہی توسیعی شکل ہیں۔اور وہ چولہا جو ہم پکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں یا وہ برتن جس مین چاولوں کو ابلا جاتا ہے ایک پری نظامِ انہضام کی طرح ہیں۔

بنیادی مسلہ یہ ہے کہ آپ پہلی بار کس طرح دلیے لی فصلیں کاشت کر سکتے ہیں۔----خوراک کی زیادتی کسی بھی تہذیب کی بنیاد ہے، اگر آپ دس ایسے لوگوں کو خوراک مہیا کر سکتے ہیں جو کھیت سے منسلک نہیں ہیں بلکہ دوسرے کاموں میں ماہر ہیں تو آپکی سوسائٹی اور باصلاحیت ہو جاتی ہے۔کھیتوں میں کام کرنے کے اوزار جیسا کہ ہل یا سہاگا ڈھونڈنے یا پھر سٹیل کی چیزوں کو لوہار خانے میں ڈھال کر بنایا جا سکتا ہے۔لیکن سب سے اہم ٹرِک(trick)، جو کہ قرونِ وسطیٰ کے کسانوں کی سمجھ میں نہ آیا، یہ ہے کہ کیسے کھیتوں کی زرخیزی سالوں تک برقرار رکھی جائے۔جدید مصنوعی کھادوں کی غیر موجودگی میں آپ کو مٹی میں نائٹریٹس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہل میں دلیے کی فصل کے ساتھ جانوروں کے فضلے اور پھلی دار پودوں جیسا کہ مٹر، مسور، تپتا گھاس اور لوسن کو بھی ڈالنا ہو گا۔ ہڈیوں کو تیزاب میں حل کرنا فاسفیٹ مہیا کرے گا اور مٹی پر لائم سٹون(limestone) یا پیسا ہوا چاک(chalk) ڈالنا اس کی تیزابیت کو بڑھنے سے روکے گا۔

ابتدائی دہائیاں:

جب آپ کی کمیونٹی بچی کھچی چیزوں کو ڈھونڈنے کی بجائے خود کفیل ہو جائے گی تو آپ کو انجنوں کو مشینوں کو چلتا رکھنے اور دھاتی اوزار بنانے کے لیے روایتی مہارتوں جیسا کہ لوہار گری کو پھر سے سیکھنا ہو گا۔تہذیب مشینی طاقت جیسا کہ آبی پہیے، ہوا چکیاں، بھاپ انجن، ٹربائن اور انٹرنل کمبسچن انجن(internal combustion engine) کی مرہون ہی آگے بڑھی ہے اور انسانی پٹھوں کو سخت محنت سے نجات دلائی۔

ایک باصلاحیت تہذیب کو ایندھن کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اٹھارویں صدی کے آخر تک، کوئلے اور زمینی تیل کے استحصال سے پہلے اہم کیمسٹری ۔۔۔ تیزابوں ، الکوحلوں، محلولات اور تارکول۔۔۔کا منبع لکڑی کی خشک کشید کاری تھی۔اس عمل میں ٹمبر کو ایک ہوا بند جار میں جلایا جاتا ہے اور خارج ہونے والے بخارات کو تارکول میں بدل لیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ لکڑی کے جلنے سے پیدا ہونے والی گیسوں سے آپ کاریں بھی چلا سکتے ہیں۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران تقریباً بیس لاکھ کاریں اس عمل سے یورپ کی سڑکوں پر رواں دواں تھیں۔
زمینی تیل کی غیر موجود میں(ہماری تہذیب پہلے ہی اس کو چوس چکی ہے)مشینری کو چلانے کے لیے آپ بائیو ڈیزل جانوروں کی چربی یا پلانٹ آئل کو میتھانول(الکوحل جو ٹمبر کی خشک کشید کاری سے حاصل ہوتا ہے)یا لائی(lye)(جو کہ سوڈا کو چاک یا لائم سٹون سے حاصل ہونے والے کویک لائم سے تعامل کرا کے حاصل کیا جاتا ہے)سے تعامل کرا کے حاصل کر سکتے ہیں۔

آپ کی نوزائیدہ کیمیائی انڈسٹری میں دوسرے آسانی سے حاصل ہونے والے عناصر کے بہت سارے استعمالات ہوں گے۔مثال کے طور پر ایتھانول ---جو کہ گندم کی تخمیر اور اور الکوحل کو گاڑھا کرنے کے لیے کشید کیا جاتا ہے---ایک زبردست محلول اور جراثیم کش ہے۔تارکول نہ صرف اینٹوں اور شیشے کو بنانے یا دھاتوں کو ڈھالنے کے لیے زیادہ درجہ حرارت فراہم کرتا ہے بلکہ ایک reductant بھی ہےاور دھاں کو ان کی چٹانی کچ دھاتوں سے علیحدہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ابتدائی صدیاں:

لمبے عرصے میں کسی بھی تباہی کے بعد والی سوسائٹی کے لیے ترقی کرنے اور علم کو پھر سے اکٹھا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ قدرتی دنیا کو سمجھے۔اور اس فہم کو ان اصولوں کے استحصال میں لگائے جو نئی ٹیکنالوجی کو جنم دیتے ہیں۔پُر اعتماد طریقے سے کہنا کہ کیسے چیزیں کیسے کام کتی ہیں، سائنسی طریق کار کہلاتا ہے۔----بار بار اپنے نظریات کو قدرتی دنیا کے لیے بنائے گئے تجربات اور مشاہدات کے ساتھ چیک کرنا----سائنسی طریق کار بذاتِ خود ایک ایجاد ہے۔ ایک عظیم علم پیدا کرنے والی مشینری۔
دنیا کی بااثر طریقے سے تحقیق کرنے کے لیے آپ کو اوزاروں کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک عنصر ہماری ساری سائنسی تاریخ میں ناگزیر رہا ہے۔ یہ مقابلتاً مضبوط، کیمیائی لحاظ سے غیر تعامل اور شفاف ہے۔بے شک یہ حیران کن میٹیرئل شیشہ ہے۔

آپ کو شیشے کی ضرورت ٹیسٹ ٹیوب بنانے کے لیے ہے جس سے آپ کیمیائی تعاملات کو سٹڈی کریں گے اور تھرمامیٹر اور بیرومیٹر بنانے کے لیے جس سے آپ درجہ حرارت اور دباؤ کو ماپیں گے(جو کہ سٹیم اور کمبسچن انجن بنانے کے لیے بنیادی ضروریات میں سے ہیں)، حتیٰ کہ یہ خوردبین اور دوربین کے لیے عدسے اور آئینے بنا کر خود روشنی کا استحصال بھی کر سکتا ہے۔ایک سادہ شیشہ بنانے کے لیے آپ کو تین اجزا کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ سلیکا، سوڈا اور لائم ہیں اور ان کو ریت، سمندری جڑی بوٹی اور چال یا لائم سٹون سے اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ایک حقیقی رابنسن کروسو کوشش مین آپ اپنا شیشہ ایک ہی ساحل سے بنا سکتے ہیں۔

لہذٰا سائنس کے ان اوزاروں اور ایک ریشنل اور تحقیقی دماغ کے ساتھ آپ یہ امید کر سکتے ہیں کہ جلد ہی یہ بعد از تباہی سماج تباہی کے اثرات سے باہر آ جائے گا اور اسے ایک تاریک دور نہیں دیکھنا پڑے گا۔ہو سکتا ہے اس کے لیے کچھ دہائیاں یا اس سے بھی زیادہ وقت لگے مگر ایک نئی تہذیب تباہی کے بعد ابھر سکتی ہے۔ یہ صرف ایک اندازہ ہی ہو سکتا ہے کہ وہ نئی دنیا کیسی دکھے گی لیکن تھوڑی سی انسانی ذہانت کے ساتھ ہم میں یہ صلاحیت ہے کہ ہم اس سوسائٹی کو جس کو ہم جانتے ہیں پھر سے تعمیر کر سکیں یا پھر پہلے سے بہتر بھی بنا سکیں۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Fasi Malik

Fasi Malik

Fasi Malik teaches physics at a federal college.


Related Articles

عورتوں کی تعلیم پر ایک آزاد خیال عورت کی نظر

جس طرح انسانی آزادی کی تحریک نے ممالک کو آزاد کیا۔ حرفتی تحریک نے پیشہ ور کا عقدہ وا کیا اسی طرح ہم بھی عورتوں کے تعلیمی نصاب میں ایک سریع السیر انقلاب چاہتے ہیں تاکہ عورت بندی خلاص ہو۔

فنون لطیفہ میں اختلال ذہنی کی مختصر تاریخ

فنون لطیفہ نے ذہنی عارضے کو نامانوس اور حقارت آمیز جاننے کی بجائے اسے انسانی حالت کا ایک حصہ سمجھنے کی راہ ہموار کی ہے یہاں تک کہ اسے مثبت اور کارآمد بھی سمجھا گیا ہے۔

توہین رسالت پر ایک فراموش شدہ فتویٰ

دیوبندی اور بریلوی، دونوں فرقوں کے بانیوں نے اس فتوے کے ذریعے اس رائے کی توثیق کی ہے کہ کسی غیر مسلم کو توہینِ مذہب و رسالت کے محض ایک مرتبہ ارتکاب پرسزائے موت نہیں دی جا سکتی اور اسی بناء پر وہ معافی کا مستحق ہے۔