کچرے کی حکومت

کچرے کی حکومت

صاف گھروں کے باہر کس نے
کُوڑے کا یہ ڈھیر لگایا؟
اور اُس ڈھیر میں پیدا ہوئے پھر
فوج، حکومت اور ہتھیار
کس نے دیا ان کو اختیار!

کُوڑے پر کتوں کے پِلے دن کی دھوپ میں کھیلتے ہیں
اور کُتیا کے گندے تھنوں سے کڑوی خشکی چوستے ہیں
بے چینی میں پھدک پھدک کر اپنی دم کو نوچتے ہیں
ایک رسیلی ہڈی کی خاطرچاؤں چاؤں بولتے ہیں
صاف گھروں کی جانب اپنے بزدل جبڑے کھولتے ہیں

صبح چماروں کے بچے کچرے میں قسمت چننے آتے ہیں
پلّے اُن کے قدموں میں
امن کے جھنڈے کی ماننداپنی دُمیں ہلاتے ہیں
جب بچا ہوا روٹی کا ٹکڑا بچے کے ہاتھ میں آتا ہے
کتوں کے پیٹ میں بھوک کا پودا اُگنے لگتا ہے
آنکھوں میں بے صبری بھونکنے لگتی ہے
بھاگتے بچوں کا رستہ روکنے لگتی ہے

جب اس ہنگامے کا شور
ہماری نیند آلودہ کرتا ہے
ہم کروٹ کروٹ کڑھتے ہیں
اور اونگھتے اونگھتے سوچتے ہیں
صاف گھروں کے باہر ہم نے
کیوں کوڑے کا ڈھیر لگایا؟
اور اس ڈھیر میں پیدا ہوئے پھر
فوج، حکومت اور ہتھیار
کس نے دیا اِن کو اختیار!

Image: Ibrahim El-Salahi

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Zahid Imroz

Zahid Imroz

Zahid Imroz is a poet, writer and physicist. He has published two books of poems. He teaches physics and also works on global peace and security.


Related Articles

Eid in the Paradise of Blood

Zeeba T. Hashmi     [On 27th Ramzan (7th August, 2013), one Colonel belonging from Peshawar, one from Lahore and another

انا کا کون سا چہرہ تھا وہ

شارق کیفی: کہا پورا نہ ہو نے کی مری
بے عزتی
کسی کی جان سے بڑھ کر بھی ہو سکتی ہے
مجھ کو یہ نہیں معلوم تھا

بدتمیز

وجیہہ وارثی: میں سوجاتا ہوں خواب آور گولیاں کھا کے
وہ خواب میں بھی نہیں آتی
صبح جب آنکھ کھلتی ہے
وہ سو رہی ہوتی ہے
میرے سینے پر اپنی دونوں ٹانگیں رکھ کے