کھرے عشق کا المیہ

کھرے عشق کا المیہ
کھرے عشق کا المیہ
بزدلی کی بھی حد ہے
کس لیے اور کیوں
ہم اچھل کود کرتے پھرتے پھریں منزلوں منزلوں
لاش سینے سے اپنے لگائے ہوئے
ان دنوں کی
کہ جب عشق آدھا ادھورا تھا اور راستے میں تھے ہم
محبت کا حد سے گزرنا ہی بے کیف کرتا ہے اس کو
کھرا عشق یوں بھی اداسی ہے
گہری اداسی
کسی بھی طرح کے جنوں
اور لفظوں سے خالی
ٹھیک بارش سے پہلے کی جیسے گھٹن
سانس لینا بھی مشکل ہو جس میں
بے وفائی کا پنکھا جھلو
مان لو
اس مسلسل اذیت سے
الزام سر لینے والا ہی اچھا
اٹھا لے جو خود بے وفائی کی تہمت
وہی ہم میں سچا

Related Articles

روزنامچہ

قاسم یعقوب:
مکتبوں ،دانش کدوں سے زندگی کے فلسفے پرمشتمل
جھوٹی کتابیں پڑھ کے آنا
موت کو آسان کرنے کے جتن کرنا

ایک مجسمے کی زیارت

سید کاشف رضا: میں دکھ اپنے خواب کا
تم نے جس کی مزدوری نہیں دی
میں دکھ اپنے خواب کا
جو تمہارے بدن پر پورا ہو گیا

ہماری خاموشی، تمہاری داستانیں

تنویر انجم: ہمیشہ رہے گا
ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
ایک گہرا ربط
جوتمہیں نہیں معلوم