کہیں افسوس کی شمعیں ۔۔۔۔۔۔

کہیں افسوس کی شمعیں ۔۔۔۔۔۔
کہیں افسوس کی شمعیں ۔۔۔۔۔۔
رات بیدار رہی
زیرِ گردابِ زمانہ کہیں دن سویا رہا
نیند میں چلتے ہوئے بھول گئے پاوٗں کہیں
کہیں سر میز پہ بکھری ہوئی
ضربوں میں پڑا چھوڑ آئے
وقت کو خواب پہ تقسیم کریں
خواب کو موت سے تفریق کریں
کانپتے ہاتھوں سے گر جائے کہیں
حاصلِ کارِ مسلسل
کہیں افسوس کی شمعیں
نہ صدائے ماتم
بے حسی بڑھتی چلی جاتی ہے
زندگی گھٹتی چلی جاتی ہے
رات بیدار تھی، بیدار رہی
زیرِ گردابِ زمانہ کہیں دن سویا رہا

Image: Anselm Kiefer

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Hussain Abid

Hussain Abid

Poet and Musician Hussain Abid, was born in Lahore and is currently living in Germany. His poetry collections; "Utri Konjain", "Dhundla'ay din ki Hidat" and Behtay Aks ka Bulawa" have been praised by the general audience and the critics alike. Hussain Abid collaborated with Masood Qamar to produce "Kaghaz pe Bani Dhoop" and "Qehqaha Isnan ne Ejad kia". Abid's musical group "Saranga" is the first ever musical assemble to perform in Urdu and German together.


Related Articles

تماشائی حیرت زدہ رہ گئے

علی محمد فرشی: تماشائی حیران تھے
کیسے جادو گروں نے
زمیں
راکھ کی ایک مٹھی میں تبدیل کر دی

تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے

نصیر احمد ناصر: تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا ٹھور ٹھکانہ بتانا مشکل ہے !

زیتون کے جھنڈ سے ابھرتی آواز

محمود درویش:میں کووں سے کہتا ہوں، مجھے ٹکڑے ٹکڑے مت کرو
شاید میں ایک بار گھر لوٹوں
شاید آسمان مینہ برسائے
جو شاید
ان لکڑیوں کو ٹھنڈا کر دے