کیا مجیب الرحمن واقعی پاکستان توڑنا چاہتے تھے؟

کیا مجیب الرحمن واقعی پاکستان توڑنا چاہتے تھے؟

تینتالیس برس بعد بالآخر راجہ خان نے زبان کھول ہی دی۔تاریخ کے اوراق میں کہیں نہ کہیں تشنگی باقی رہ جاتی ہے، جس کی تشفی کے لیے سیاست اور تاریخ کے طالب علم عموماً references کا سہارا لیتے ہیں، ایسے میں تاریخ جن کی آنکھوں کے سامنے بیتی ہو وہ لوگ کتابوں سے بھاری ثابت ہوتے ہیں۔ راجہ خان بھی انہی میں سے ایک ہیں، پورا نام تو راجہ انار خان ہے، عمر کے اعتبار سے اب اسی کی دہائی میں قدم رکھنے والے ہیں، سنہ اکہتر میں سب انسپکٹر تھے، عارضہ قلب کے باعث دو بار سینہ چاک کروا بیٹھے ہیں، پچھلے ہفتے سٹروک ہوا، خوش قسمتی سے بر وقت اسپتال پہنچے اور قدرت نے عمر کی نقدی میں چند گھڑیوں کا اضافہ کر دیا۔ بلا کا حافظہ، بیان ایسا کہ سننے والا خود کو ماضی کے کسی واقعہ کا حصہ سمجھ لے، راجہ خان سرگودھا سے تعلق رکھتے ہیں، بھر پور اور کامیاب زندگی گزارنے والے راجہ خان ہمارے اصرار پر سینے میں دفن کئی رازوں سے پردہ ہٹانے پر رضا مند ہو گئے۔

دسمبر انیس سو ستر کے انتخابات میں واضح (تین سو میں سے ایک سو ساٹھ نشستیں) اکثریت حاصل کرنے کے باوجود شیخ مجیب کو اقتدار سے محروم رکھا گیا، متحدہ پاکستان میں سیاسی کشیدگی عروج پر جا پہنچی اور جنرل یحیٰ خان نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کر دیا۔ مارچ یااپریل انیس سو اکہتر میں عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمان کو ڈھاکہ سے فوج نے حراست میں لیا، ہوائی جہاز کے ذریعے انہیں پہلے کراچی، پھر چکلالہ لایا گیا اوربعدازاں میانوالی جیل کی ایک کوٹھڑی میں قید کر دیا گیا۔ اُن دنوں راجہ انار خان شاہی قلعہ لاہور کے تفتیشی سیل میں سپیشل برانچ کے سب انسپکٹر تھے، اس وقت کے ڈی ایس پی شیخ عبدالرحمان راجہ خان کو میانوالی لے آئے جہاں انہیں شیخ مجیب الرحمان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے قیدی کا روپ دھارنا پڑا۔
jami
راجہ خان اپنی روداد بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں :"اس سیل میں کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک اور شخص ایوب بھی تھا، مجھے ایک قیدی کا روپ دھارنا پڑنااور یوں ایک مشقتی کے طور پر شیخ مجیب الرحمان کے سیل میں داخل ہوا۔" راجہ خان کہتے ہیں کہ چند ہفتوں تک تو شیخ مجیب الرحمان انہیں مشکوک سمجھتے رہے ، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ مانوس ہو گئے اور پوچھا کہ کیوں بھئی، یہاں کس جرم میں پہنچے؟ جواب دیا، "بابا! ہم نے ایک لڑکی کو اغوا کیا تھا، تین سال قید ہوئی ہے اس لیے اب یہاں پہنچ گئے ۔" سیل میں ایک برآمداہ تھا، چھوٹا سا صحن، جہاں صرف ریت تھی، ایک کچن اور شیخ مجیب الرحمان کے سونے کے لیے ایک کمرہ تھا، ایوب اور راجہ خان مل کر شیخ صاحب کے لیے کھانا پکاتے۔راجہ خان کے مطابق وہ انہیں بابا کے نام سے پکارتا تھے۔
شیخ مجیب کبھی کبھی ماضی میں کھو جاتے اور کہا کرتے:"راجہ خان! ہم نے اپنی جوانی اور کیرئیر پاکستان کے لیے صرف کر دیا، ڈھاکہ سے چٹا گانگ اور مضافات تک کشتیوں میں سفر کرتے اور پاکستان کے قیام کا پیغام عام کرتے رہے"
راجہ خان اپنی یادیں بیان کرتے ہوئے بتانے لگے کہ شیخ مجیب الرحمان عموماً چپ رہتے، جیل میں انہیں ملکی سیاسی حالات سے بالکل بے خبر رکھا جاتا، اخبار، ٹی وی، ریڈیو حتیٰ کہ خط و کتابت تک کی بھی اجازت نہ تھی۔ مجیب مچھلی اور مٹن شوق سے کھاتے، پائپ پیتے تھے اور ایلن مور کا تمباکو استعمال کرتے۔وہ اپنی دھوتی اور بنیان خود دھوتے، اردو روانی کے ساتھ بولتے اور کچھ لفظ پنجابی کے بھی سیکھ چکے تھے۔ شیخ مجیب کبھی کبھی ماضی میں کھو جاتے اور کہا کرتے:"راجہ خان! ہم نے اپنی جوانی اور کیرئیر پاکستان کے لیے صرف کر دیا، ڈھاکہ سے چٹا گانگ اور مضافات تک کشتیوں میں سفر کرتے اور پاکستان کے قیام کا پیغام عام کرتے رہے" وہ موجودہ سیاسی منظر نامے کا ذکر کرتے ہوئے افسردہ ہو جاتے۔
چند ماہ بعد انہیں ساہیوال جیل منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں فیصل آباد سنٹرل جیل لایا گیا۔ ان دنوں اکہتر کی جنگ شروع ہو چکی تھی، بھارتی فضائیہ کے چند گولے جیل کے قریب گرے جس پر شیخ مجیب نے پوچھا یہ کیا ہورہا ہے؟ راجہ خان نے بتایا کہ قریب ہی فضائیہ کی رینج ہے ، مشقیں کی جا رہی ہیں۔ راجہ خان بتاتے ہیں کہ خطرہ تھا کہ کہیں بھارتی فضائیہ جیل پر حملہ نہ کردے لہذا انہیں پھر سے میانوالی جیل منتقل کر دیا گیا۔ فیصل آباد قیام کے دواران جیل ہی میں ان کا ٹرائل شروع ہو گیا، وہ پر اعتماد طریقے سے ٹرائل میں پیش ہوتےلیکن انہیں یقین تھا کہ ٹرائل کا فیصلہ ان کے خلاف آئے گا ۔ راجہ انار خان سکیورٹی آفیسر کے روپ میں شیخ مجیب الرحمان کے مشقتی تھے جو آہستہ آہستہ ان کے قریب ہوتے جا رہے تھے۔ ایک بار جب راجہ خان نے ان سے عوامی لیگ کے بارے سوال پوچھا تو شیخ صاحب نے تاج الدین (جو بعد میں بنگلہ دیش کے وزیر اعظم بھی بنے) کے بارے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ ملکر کوئی چال نہ چلے لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایسے سیاستدانوں کو پارٹی کی ضرورت بھی قراردیا۔
پاکستان ٹوٹنے کی خبر سن کر شیخ مجیب الرحمان صدمے کی حالت میں کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بے اختیار چیخ اٹھے کہ نہیں، ایسا تو میں ہرگز نہیں چاہتا تھا۔
میانوالی جیل میں چند روز قید کے بعدانہیں چشمہ بیراج کیمپ میں لایا گیا، اور یہاں سے پھر انہیں سہالہ پولیس کالج کے آفیسر ہاسٹل میں منتقل کر دیا گیا جو ان کی پاکستان میں آخری قیام گاہ ثابت ہوئی۔ راجہ انار خان کے بقول سہالہ میں ان کے کمرے کی کرسی میں ٹرانسمیٹرز نصب تھے اور آپریٹر کے ذریعے ان کی تمام نقل و حرکت اور گفتگو ریکارڈ کی جاتی۔ شیخ صاحب کی رہائی کے لیے حالات سازگار ہو رہے تھے، سقوط ڈھاکہ کا واقع پیش آچکا تھا کہ ایک روز بھٹو صاحب ان سے ملنے آئے ۔ بھٹو صاحب کے ذریعے انہیں تما م تر واقعات کا علم ہوا، اس ملاقات کے دوران راجہ خان پردے کے پیچھے پستول تھامے اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے کیونکہ اس ملاقات میں ناخوشگوار واقعے کا خدشہ تھا۔ شیخ مجیب سقوط ڈھاکہ سے یکسر لاعلم تھے، بھٹو کو دیکھتے ہی بولے کہ تم یہاں کیسے پہنچے؟ بھٹو صاحب نے بتایا کہ وہ اب سول چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ہیں اور پاکستان ٹوٹ چکا ہے۔ راجہ خان بتاتے ہیں کہ پاکستان ٹوٹنے کی خبر سن کر شیخ مجیب الرحمان صدمے کی حالت میں کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بے اختیار چیخ اٹھے کہ نہیں، ایسا تو میں ہرگز نہیں چاہتا تھا۔بھٹو صاحب ادھر ہم ادھر تم تو آپ کہا کرتے تھے میں نے تو ایسا کبھی نہ چاہا تھا۔بھٹو صاحب نے بتایا کہ جلد آپ کو یہاں سے روانہ کر دیا جائے گا۔
راجہ خان کے مطابق بھٹو صاحب سے ملاقات کے بعد شیخ مجیب الرحمان مغر ب تک روتے رہے اور افسوس کا اظہار کرتے رہے۔شام کے وقت میں اندر داخل ہوا، انہیں درخواست کی کہ واش روم جائیں اور ہاتھ منہ دھولیں، اسی اثنا میں ان کی کرسی کا ٹرانسمیٹر خراب ہو گیا، اور میں نے جلدی سے کرسی تبدیل کی اور دوسری کرسی جس میں پہلے ہی سے ٹرانسمیٹر نصب تھا وہ کمرے میں رکھ دی اور کمرے سے باہر نکل گیا، عشا کی نماز کے دوران آپریٹر جو بنگالی زبان بھی جانتا تھا نے بتایا کہ شیخ مجیب الرحمان سجدے میں گر کر روتے رہے اور کہتے رہے ، یااللہ!! میں نے تو کبھی ایسا نہ چاہا تھا، یہ کیا ہوگیا۔ " یہ سب بیان کرتے ہوئے راجہ خان کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں اور ان کی زبان لرزتے ہوئے بند ہو چکی تھی اور راجہ خان ہچکیاں لیتے ہوئے روتے رہے، ہمیں انٹرویو کچھ لمحوں کے لیے روکنا پڑا اور یوں محسوس ہوا جیسے ہم بھی راجہ خان کے ساتھ سہالہ کالج کے آفیسرز ہوسٹل کے اس کمرے میں ہیں جہاں شیخ مجیب الرحمان رات گئے تک روتے رہے۔
 
crimepunishment
روانگی سے پہلے شیخ مجیب الرحمان نے راجہ انار خان المعروف راجہ خان کو معروف روسی ادیب دوستوفسکی کا شہرہ آفاق ناول "جرم و سزا" (Crime and Punishment)تحفے میں پیش کیا اور جاتے جاتے اپنا پائپ بھی راجہ خان کو تھما دیا۔ کتاب کو راجہ خان کے نام کرتے ہوئے شیخ مجیب الرحمان نے لکھا؛

To
Raja Anar Khan (Raja Khan)
In the long war between the falsehood and the truth,Falsehood wins the first battle and truth the last.
Sheikh Mujib ur Rahman
5-1-72

Ajmal Jami

Ajmal Jami

Ajmal Jami is a journalist currently working with Dunya News as an anchorperson and special correspondent. His M. Phil thesis on Mumbai Attacks and Role of Media in Peace Process has been published as a book. He writes regularly on national politics and social issues for Laaltain and Dunya Blog.


Related Articles

جنگ، جہاد اور پاکستان؛ ایک مختصر جائزہ-دوسرا حصہ

ان سینکڑوں فوجیوں جنہیں کشمیری سویلین مجاہد کہہ کر پاکستانی تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا تھا، کی بے اعزاز موت کی زمہ داری مشرف اور ان کے ساتھ کارگل جنگ میں شریک جرنیلوں پر عائد ہوتی ہے۔

“We are overcoming history”

Ammara Ahmad talks to the Afghan ambassador to Pakistan, His Excellency Janan Mosazai, about trade, terrorism, and cricket.
Ammara Ahmad: A few months ago, you said that this is the ‘new chapter” for relations between Pakistan and Afghanistan. What exactly did you mean?

یہ کہنا غلط ہے کہ پنجابی طالبان، پاکستان فرینڈلی طالبان ہو گئے ہیں

پنجابی طالبان بنیادی طور پر پاکستان کی فرقہ وارانہ جماعتوں کا مجموعہ ہے جس میں لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ، جیش محمد، حرکت الانصار جو پہلے حرکت المجاہدین کہلاتی تھی اور آجکل انصارالامہ کہلاتی ہے، جیسے گروہ شامل ہیں۔