کیا واقعی مدارس کی اب بھی ضرورت ہے؟

کیا واقعی مدارس کی اب بھی ضرورت ہے؟
تاریخ بتاتی ہے کہ پچھلے زمانوں میں مدارس ایسی جگہوں کو کہا جاتا تھا، جہاں دینی و دنیاوی تعلیمات ایک ساتھ دی جاتی ہوں۔ عرفان حبیب نے اپنی کتاب عہد وسطیٰ کا ہندوستان : ایک تہذیب کا مطالعہ 'میں پندرہویں صدی میں قائم ایک ایسے سکول کی تصویر بھی دی ہے، جس میں لڑکوں کے ساتھ ایک لڑکی کو بھی وہاں پڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ظاہر ہے کہ باقاعدہ سکولنگ سسٹم یا وہ جدید تعلیمی نظام جو آج ہمارے ملکوں اور سوسائٹی میں قائم ہے، انگریزوں کا مرہون احسان ہے۔لیکن اس تعلیمی نظام کے ہوتے ہوئے بھی مذہبی درسگاہوں کا باقاعدہ وجود اپنے آپ میں ایک سوال ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ درس گاہیں سمجھتی ہیں کہ بچوں کو جس دینی یا مذہبی علم کی ضرورت ہے، وہ انہیں سکولوں سے حاصل ہوسکے گا اور جدید طرز کے سکول بچوں کو سائنسی اعتبار سے دنیا کو دیکھنے، سمجھنے اور نئے سوالات قائم کرنے کے لائق بنادیں گے، جن کی بنیاد پر کل کو ایک ایسا نظام وجود میں آجائے گا، جو ان کی قوم کے بچوں کو کسی بھی حال میں مذہبی متون کے لیے خطرناک ثابت کرسکتا ہے۔ان مذہبی متون کی رکھوالی کیسے کی جاتی ہے؟ بچوں کو پوری کتاب حفظ کرواکر یا مذہبی زندگی کے بارے میں ایک باضابطہ مینی فیسٹو تیار کر کے انہیں دے دیا جاتا ہے، جس کے مطابق یہ اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔

دنیا ایک ایسی جگہ ہے، جس میں محنت اور استقلال کے جذبے کے ساتھ ہر منصوبے کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے۔ ہر کمپنی یا ادارہ جب کسی شخص کو اپنے یہاں ہائر کرتا ہے تو دنیا میں ایک بہتر مستقبل کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر کام کرنے والا پوری ایمانداری، توجہ اور نیک نیتی کے ساتھ اس ادارے سے وابستہ رہے تو اسے ایک حد تک اس کا پھل بھی ملتا ہے۔ یہی حال دنیاوی تعلیم بانٹنے والی درسگاہوں کا بھی ہے۔ ان میں بھی بچوں کو ایک بہتر مستقبل کی امید میں داخل کرایا جاتا ہے، جہاں محنت کرنے اور ایک ڈھنگ کا انسان بن پانے کی خواہش ماں باپ کی آنکھوں میں اپنے بچوں کے لیے روشن رہا کرتی ہے۔ مگر مدارس میں زیادہ تر ایسے بچے داخلہ حاصل کرتے ہیں، جو یا تو بہت غریب ہوتے ہیں اور دنیاوی تعلیم حاصل کرانے کے لیے کی جانے والی مالی مشقت سے ان کے ماں باپ بچنا چاہتے ہیں یا پھر وہ بچے جن کے والدین یا عزیز و اقارب عقبیٰ میں ایک دائمی اور بہتر زندگی کا عکس تراشنا چاہتے ہیں۔ہم نے مدتوں سے یہ سوال طاق پر دھر رکھا ہے کہ عقبیٰ کی زندگی کو کس صورت بہتر بنانے کی بات کی جاتی ہے، کیا ایسے مدارس، جن میں تھرڈ کلاس قسم کے مدرس پائے جاتے ہوں، جن کا نظریہ راکھ کی بوند سے بھی زیادہ سکڑا ہوا ہواور جن کے دماغ بس مسجد میں نمازیں پڑھا کر، اذانیں دے کر حاصل ہوسکنے والی چھوٹی سی تنخواہ کے اردگرد پھرتے ہوں، کس طرح ان بچوں کو عقبیٰ کی ایک بہتر دائمی زندگی کا حقدار بناسکیں گے۔یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آیا مساجد اور ان میں پرورش پانے والے بچوں کا مستقبل کن لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور ان کی ذہنی و مالی حیثیت آخر کیا ہوتی ہے؟ ظاہر ہے کہ مدارس میں بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے اور یہ نظام آج سے نہیں کئی صدیوں سے جاری ہے، جس کو جانتے ہوئے بھی ہم نے آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سمجھیں کہ جنسی تشدد جھیل کر، آیتیں حفظ کرکے، اذانیں دے کر یا روزے رکھ کر کوئی بھی شخص عقبیٰ کی بہتر دائمی زندگی کا حقدار نہیں بن سکتا کیونکہ اس کی پہلی سیڑھی دنیا ور اس میں گزاری جانے والی ایک عزت دار زندگی ہے اور اب آپ کو یہ بات تسلیم کرنی ہو گی کہ بڑی سے بڑی دریافتوں کی جانب مائل ہونے والی سائنسی دنیا میں ایسے لوگوں کے لیے بالکل جگہ نہیں، جن کو دنیا کا مطلب ہی عقبیٰ نظر آتا ہو، زندگی کا مقصد ہی موت دکھائی دیتا ہو۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ دین کا مکمل علم اور مذہب کے سارے معاملات پر توجہ ہونے کے باوجود آخر ہمارے پاس ایسے کتنے لوگ ہیں، جو بتاسکیں کہ مدرسے کی تعلیم نے انہیں دنیا میں ایک نہایت عزت دار، وسیع نظریات پر محیط اور دوسروں کی مدد کرنے یا انہیں کسی لائق بنانے والی ایسی زندگی بخشی ہو، جو مرنے کے بعد ان کے کسی کام آ سکے۔ میں مانتا ہوں کہ اس نظریے پر میرا بالکل ایقان نہیں کہ مرنے کے بعد آدمی سے کسی قسم کا حساب کتا ب لیا جائے گا، مگر جو لوگ یہ سمجھتے ہیں یا اس بات پر ایمان لائے ہوئے ہیں، انہیں بھی یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ موت کے بعد پوچھنے والے سوالوں کا سلسلہ بہرحال موت کے بعد ہی شروع ہوگا اور اس سے پہلے ایک طویل زندگی، ماہ و سال کی وسعت لیے آنکھوں کے آگے دامن پھیلائے کھڑی ہے۔پھر جب آپ کسی قوم کی نمائندگی کرنے کا بوجھ اپنے کاندھوں پر لے لیتے ہیں تو آپ کے الفاظ، آپ کی وضع قطع، آپ کی حرکتیں اس قوم کی عملی تعریف بنتی جاتی ہیں اور اسی سے ان لوگوں کے طرز زندگی، فکریات و نظریات کا بھی تعین ہوتا ہے جو اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں، خواہ ان کا طرز زندگی اور نظریات کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں۔

ہمارا بنیادی سوال یہ ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے ہم دیکھتے آئے ہیں کہ مسلسل مذہب اور خاص طور پر اسلامی فکر کے حامل افراد نے دنیا بھر میں اتھل پتھل مچا رکھی ہے۔ ان کے تشدد پسند نظریات نے نہ صرف ان پر بلکہ ان کے ہم مذہب افراد پر بھی دنیا تنگ کردی ہے۔ تو ایسے میں ریشنل طریقے سے سوچتے ہوئے ان افراد اور ایسے انسٹی ٹیوشنز پر پابندی کا مطالبہ میرے خیال میں وقت کی ایک اہم ضرورت ہے، جس سے انسانی زندگی کو بجائے فائدے کے متواتر نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔

مدرسے کی زندگی بہرحال ایک فرسٹریشن پیدا کرتی ہے۔ وہاں کا طالب علم جب اپنے تین یا اس سے زائد سال مختلف کورسز کی نذر کرکے باہر نکلتا ہے تو بہت سے اہم سبجیکٹس میں خود کو دوسروں سے کمزور پاتا ہے۔ ایسے شخص کے آگے دو راستے ہوتے ہیں۔ یا تو وہ خود کو معاشی طور پر غنڈوں پر مشتمل ایسی کمیٹیوں کے حوالے کردے، جو اس کو قوم سے چندہ سمیٹنے، انہیں مسجد کی تعمیر میں ہاتھ بٹانے اور مذہبی معاملات میں اکسانے یا کسی سیاسی پارٹی کی حمایت کرنے کے کام میں لاسکیں۔یا پھر سخت محنت کرکے خود کو اس پورے چکر سے باہر نکال لائے۔دوسری صورت اس لیے بہت حد تک مشکل ہوجاتی ہے، کیونکہ مدرسوں میں گزارا جانے والا وقت کسی بھی فرد کو ایک خاص طرز زندگی کا عادی بنادیتا ہے۔کاہلی، مذہبی جوش، نعروں، فضائل و وظائف جیسی غیر حقیقی باتوں میں اس کا ذہن الجھ جاتا ہے۔اگر دارالعلوم تبلیغی جماعت والوں کا ہو تو چلہ کشی اور مذہبی تبلیغ کا چسکہ لگ جاتا ہے۔ان ہر دو معاملات میں نقصان اس ننھی جان کا ہوتا ہے جو دراصل 'علم' کی تلاش میں اس مدرسے میں داخل ہوا تھا، جبکہ علم دے پانا، چندے پر پلنے والے چند مولویان کے بس کی بات کبھی ہوہی نہیں سکتی، جن سے زیادہ ذہین اور باخبر پرائیوٹ سکولوں میں پڑھنے والے چوتھی جماعت کے طالب علم ہوا کرتے ہیں۔

گزشتہ سال ہم نے سنا تھا کہ حکومت ایسے مدرسوں کو جاری رکھے گی، جن میں معاشیات، سائنس یا انگریزی جیسے سبجیکٹس کی تعلیم بھی دی جائے گی۔ یا تو حکومت ان لوگوں کو بے وقوف بناتی ہے جن سے مختلف قسم کے خالی خولی وعدے کرکے اسے کرسی حاصل ہوئی تھی، یا ان لوگوں کو معصوم سمجھتی ہے جو اس فیصلے سے اس لیے خوش ہوتے ہیں کہ چلو اب مدرسے میں میرے بچوں کو کچھ دنیاوی تعلیم مل سکے گی اور وہ ترقی کی راہ پر چل سکیں گے۔ یاد رکھیے! مدرسے کی تعلیم کا نظام جن لوگوں کے ہاتھ میں ہے، اعلیٰ تو دور کی بات بنیادی بہتر دنیوی تعلیم دینا بھی ان کے بس کی بات نہیں۔نہ وہ تاریخ ٹھیک پڑھا سکتے ہیں، نہ جغرافیہ تو معاشیات، سائنس اور انگریزی تو دور کی منزلیں ہیں۔ان مدرسوں میں کون سے مدرس جاکر پڑھائیں گے یا ان کو کس طرح موڈرن بنایا جائے گا۔ اس کا کوئی خاکہ حکومت کے پاس نہیں، مدرسے کا بچہ زیادہ سے زیادہ کمپیوٹر پر عربی سیکھ سکتا ہے، ٹائپنگ جان سکتا ہے یا قرآن کی آیتوں کو کمپیوٹر سکرین پر دیکھ کر رٹ سکتا ہے، مگر اس کی ذہنی مفلسی بدستور قائم رہے گی اور تب تک اس کا علاج ممکن نہیں، جب تک مدرسے کا طالب علم، دوسرے سکولوں کے طلبا کی طرح اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ کسی سویلائزڈ استاد سے ضروری سبجیکٹس نہ پڑھے۔

متواتر مذہب کی تعلیم، بچے میں ایک قسم کا فریب پیدا کرتی ہے۔ کچھ بچے اس سے اکتا جاتے ہیں، مگر زیادہ تر اسی کو اصل دنیا سمجھ لیتے ہیں اور بعد میں اس کی ضرورت اور لازمیت پر زور دیتے ہیں، کیونکہ ان کی روزی روٹی بھی ایسے ہی بچوں پر منحصر ہوتی ہے۔ ظاہر ہے اگر مدرسوں کو بند کردیا جائے تو یہ موجودہ مولویان اکرام کی زیادہ تعداد اچانک بے روزگار ہوجائے گی۔مگر اس بے روزگاری کے خوف سے آئندہ نسل کو مستقل ایک ذہنی بیماری میں مبتلا کرنا اور ان کے مستقبل کو دائو پر لگانا عقلمندی نہیں ہے۔

جس دور میں ہم سانس لے رہے ہیں، وہاں ماڈرن مدرسے کا تصور محض ایک فریب سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس لیے مدرسوں کو مکمل طور پر تالا لگا کر ان کی جگہ ایسے سکولوں کی بنیاد ڈالنے کی ضرورت ہے، جو آئندہ نسلوں کے لیے کارگر ثابت ہوسکیں اور انہیں دنیا کے باقی بچوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر بہتر مستقبل کا نقشہ تیار کرنے میں مدد دے سکیں۔ ورنہ تعلیم نہ تو کسی ڈگری کی محتاج ہے اور نہ ہی کسی ہری پگڑی کی۔اس کے لیے تو اصل زندگی سےجڑنا پڑتا ہے اور اس کے مسائل کو جھیل کر تجربوں سے بہت کچھ سیکھنا ہوتا ہے، اصل سوال تو یہی ہے کہ ہم ان تجربوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے بچوں کو ماضی پرست اور نام نہاد موڈرن مدرسے کی جانب دھکیلتے ہیں یا مستقبل کی سمارٹ سکولنگ کی طرف۔
Tasneef Haider

Tasneef Haider

Tasneef Haider is running Adabi Dunya. He is working as a freelance scriptwriter and trying to promote Urdu literature through internet.


Related Articles

Cynicism and the Theory of Lesser Evil - iv

It’s the constitution which provides us with that yardstick that helps see and identify good and evil in the realm of politics especially.

The Future of Faith is the Story of Social Media

The world is clearly becoming more spiritual than religious. In an increasingly more inter-connected, information saturated society where the natural

کرایہ دارانہ زندگی

میں جس زندگی کو فخر سے کبھی کبھی گردن اکڑائے اور کمر تانے ہوئے گالی بکتا ہوں، کمبخت نے مجھے بڑے گھر جھنکوائے ہیں۔