کیران کا میلہ

کیران کا میلہ
ریگ مال سلسلے کی بقیہ کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

جن دنوں میں وہاں گیا تھا، شہری آبادی سے کوئی پکی سڑک بستی کیران کی طرف نہیں جاتی تھی۔ ریل گاڑی صوبے کے آخری کونے پر واقع ایک کم آباد ضلعے کے چھوٹے سے اسٹیشن پر اتار کر مشرق کو مڑ جاتی ہے۔ اسٹیشن کے پاس ایک پرانا قبرستان ہے۔ ایک کچی پگڈنڈی جنوب کی سمت قبرستان کو بیچ میں سے کاٹتی ہے، اسی سمت میں اونٹ کے کجاوے پر کوئی سولہ پہر کا سفر ہو گا۔ مقامی لوگ اساڑھ کی پہلی جمعرات کو ٹولیاں بنا کر پیدل کیران پہنچتے ہیں۔

ڈاچی بان نے مجھے بتایا کہ یہاں کی ریت پوہ ماگھ میں سوجی کی سی سفید نظر آتی ہے، جیٹھ کے آتے ہی ریت سنولانے لگتی ہے اور میلے کے دنوں میں پورا صحرا دیسی انڈے کے رنگ کا دکھنے لگتا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ پورے چاند کی راتوں میں صحرا کا سفر کرتے ہوئے خود کو دودھ کے سمندر میں جہاز تیراتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اندھیری راتوں میں اکثر اوقات مر چکے مقامی راکھشوں کی ارواح خبیثہ ٹیلوں پر نکل آتی ہیں اور بھیانک آوازے نکالتی ہیں، ساربان نے بتایا کہ وہ خود بھی انہی راکھشوں کی نسل سے تھا۔ گداز ٹیلوں پر چلتے ہوئے پگڈنڈی کے اطراف میں لومڑیوں کا مَل اور سنگچور سانپوں کی لکیریں بھی نظر میں آتی ہیں۔ ساربان کا کہنا تھا کہ حضرت شاہ کیران سے پہلے کے وقتوں میں، کری کی ویران جھنگیوں میں پیل کفتر رہا کرتے تھے۔ پیل کفتروں کا رنگ سفید تھا، دو ہاتھ برابر پر، اور گدھ جیسی گنجی گردن تھی۔ اس عجیب جانور کی بالشت بھر لمبی چونچ تھی، جس میں اوپر تلے آریاں بنی ہوتی تھیں، وہ صحرا میں مر چکے جانوروں کے خشک ڈھنچروں پر بیٹھتے اور ان کی ہڈیاں کھاتے تھے۔ ان کے غول راتوں کو کری کے جھنڈ میں اکٹھے ہوتے اور ان ویرانوں سے رات بھر زور سے رونے اور دیوانہ وار ہنسنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ صحرا میں سفر کرتے ہوئے اگر کسی بیاہتا کا اس سے سامنا ہوتا تو اس کی کوکھ بنجر ہو جاتی اور جو جوان ایک بار ان کے ویرانے سے ہو آتا، اس کے چہرے کا ماس لٹک آتا، ڈاڑھی سفید ہو جاتی اور وہ ہفتوں میں بوڑھا ہو جاتا تھا۔ جو شخص پیل کفتروں سے جنگ کا منصوبہ بناتا تھا، دنوں میں ہی اس میں دیوانگی کے آثار نمودار ہونے لگتے اور وہ صحرا کی ریت پھانکتا ہوا مر جاتا۔ کسی ریگستانی باشندے کو پیل کفتروں کی نحوست پر کوئی شبہ نہیں تھا، لیکن کوئی بھی ان کے ویرانے میں جا کر ان کے بندوبست میں دخل دینے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔

ساربان نے بتایا کہ صدیاں پہلے ملک عرب میں وہاں کے ایک خدا رسیدہ بزرگ کو ایک عجیب و غریب مرض لاحق ہوا۔ شیخ کی ڈاڑھی کے بال جھڑ گئے اور قوت مردانہ جاتی رہی۔ خدا نے انہیں بے پناہ مال و حشم سے نوازا تھا، لیکن انہیں اپنے ترکہ کے وارثِ صلبی کا ابھی انتظار تھا۔ حکماء نے انہیں بتایا کہ پیل کفتر کا جگر، ان کے مرض کا علاج ہے۔ شیخ نے پیل کفتر کا غول شکار کرنے کی ٹھانی۔ وہ تیر اندازوں، عقاب و شہباز بردار دستوں اور پیل کفتر کی نحوست کا توڑ کرنے کے لیے عاملوں ساحروں کی الگ الگ فوج کو ساتھ لیے، طویل مسافت کے بعد کیران کے قریب ایک ٹیلے پر خیمہ زن ہوئے۔ پیل کفتر اڑ اڑ کر آتے اور ہڈی کے بنے طلسماتی منکے شیخ کے دستوں کی طرف پھینکتے۔ منکا گرتے ہی شیخ کے شہباز و شاہین پھڑپھڑانے اور اپنے پروں کو نوچنے لگتے۔ ادھر شیخ کے ساحر و عامل اپنے سفالی کٹوروں سے پانی چھڑک کر منکے کا طلسم توڑ دیتے اور ادھر پیل کفتروں کے سینوں کی شست باندھے تیر انداز سوفاروں سے انگلی چھوڑ دیتے۔ چالیس دن اور چالیس راتیں بستی کیران کے لوگ اپنے گھروں میں دبک کر اس جنگ کا شور و غوغا سنتے رہے۔ چالیسویں دن بستی کے لوگ گھروں سے نکلے تو پورے ریگستان میں کوئی پیل کفتر باقی نہیں تھا۔ اس عجیب نسل کے سبھی پکھشی مارے گئے تھے، ان کا گوشت عقابوں کو کھلایا گیا اور ان کے جگر بھون کر شیخ کے خوان پر سجائے گئے۔ شیخ نے اپنی تجوریوں اور غلے کے ذخیرے بستی والوں کے لیے کھول دیے، دور ویرانے میں جہاں پیل کفتروں کا بسیرا تھا، سبھی بدشگون کریوں کو جلا دیا گیا۔ گھروں کے دروازوں پر سبز شاخوں کے دستے آویزاں کیے گئے اور بستی میں رات بھر جشن منایا گیا۔ پیل کفتر کے جگر کی تاثیر سے شیخ کا شباب لوٹ آیا اور بستی والوں نے اپنی کنواری لڑکیاں شیخ کے حرم کے لیے نذر کیں۔ بستی کی وہ سب عورتیں جن کی کوکھ پیل کفتر کے نحس سائے نے بنجر کر دی تھی، انہیں شیخ کے خیمے میں پیش کیا گیا اور ان سب کی کوکھ بارآور ہوئی۔

ٹبہ شاہ کیران کا منارہ صحرا میں چلتے ہوئے کافی دور سے نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اساڑھ کی دوپہروں میں سراب کے پار یہ منارہ دور سے پرچم کی طرح پھڑپھڑاتا ہوا نظر آتا ہے۔ جوں جوں اس کے قریب آتے ہیں، پیلائے ہوئے مرمر کا یہ منارہ واضح اور جامد ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس کے آس پاس ٹیلے پر زائروں کی ٹولیاں، بساطیوں کے خیمے اور اونٹوں گھوڑوں کی چہل پہل، یہاں کسی لوک اجتماع کا پتہ دینے لگتے ہیں۔ مقبرے کے صدر دروازے کی جانب جانے والے راستے کے دونوں طرف بازار سجا ہوا ہے۔ حلوائی، منکے فروش، سپیرے، مداری، کوزہ فروش، جواری اور فال والے اپنی اپنی بساطیں بچھائے زائروں کو لبھاتے اور بلاتے ہیں۔ صدر دروازے کی لکڑی سیاہ پڑ گئی ہے، جس کے تختوں پر قطار میں بڑے ٹوپ کی میخیں گڑی ہیں۔ صدر دروازہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں سے ایک سوار، بنا جھکے گزر سکتا ہے۔ لیکن یہ دروازہ صرف میلے کے دنوں میں کھولا جاتا ہے، عام دنوں کے لیے دروازے کے اندر ایک ذیلی دروازہ ہے، جس سے بمشکل جھک کر گزرا جا سکتا ہے۔ دروازے میں داخل ہوتے ہی پکی اینٹوں کا وسیع صحن ہے، جس میں زائر ٹہل رہے ہیں، کچھ دیوار کے سائے میں سو رہے ہیں، کچھ چٹائی بچھا کر عبادت میں مصروف ہیں۔ صحن کے وسط میں ایک کنواں ہے جو صدیوں سے خشک ہے۔ مقبرے کی مرکزی عمارت بھی لال کیری اینٹوں سے بنی ہے۔ صحن میں ٹھیک سے جھاڑو کیا گیا ہے لیکن ریگستانی ہواؤں نے پوری عمارت پر گرد کا تازہ لبادہ چڑھا دیا ہے۔ دیواروں کی سنگھا شاہی طرز کی اینٹیں بنیادوں سے گل کر لال مٹی گرا رہی ہیں، اوپر اینٹوں کی درزوں میں اڑسی اگر بتیوں نے ساری فضا کو روحانیت سے معمور کیا ہوا ہے۔ عمارت کا اگلا حصہ ایک محراب دار برآمدہ ہے جہاں پکے رنگ کی ایک عورت ڈھولکی پر مقامی بولی میں مناجات پڑھ رہی ہے؛

تیرا ڈیوا چڑھے ہر سال وو
دے عمراں والڑا بال وو
سائیں شاہ کیراں لجپال وو

برآمدے سے گزر کر مقبرے کے اندر داخل ہوں تو گلاب کی خوشبو اچانک دماغ تک آتی ہے، لیکن کہیں گلاب کی کوئی پتی نظر نہیں آتی۔ شاید یہاں عرق گلاب چھڑکا گیا ہے۔ مقبرے کی مرکزی عمارت میں قبر سے مشابہہ کوئی چیز نہیں ہے۔ گنبد کے عین نیچے ساگوان کے ایک نفیس جنگلے کے درمیان سبز و سرخ چادروں میں لپٹا چکنی مٹی اور پھونس کے گارے سے بنا انسانی لِنگ کا ایک مجسمہ ایستادہ ہے۔ اس ریگزار میں چکنی مٹی کا وجود بھی مرمر کی طرح ہی بیش قیمت ہے، لنگ کی لیپائی تازہ ہے، اس کی اونچائی کوئی سوا گز ہو گی، جس کا کوئی چوتھائی حصہ خشک میووں، گڑ مشری کی ڈلیوں، بتاشوں اور تمباکو کے سوٹوں میں گھرا ہوا ہے۔ ساتھ نقد چڑھاووں کے لیے ایک چوبی گلہ دھرا ہے۔ دیواروں پر روشندان ہیں جن میں نہایت قرینے سے چھوٹے چھوٹے ہشت پہلو روزن بنائے گئے ہیں۔ اوپر چھت کے وسط میں بہت بڑے پیالے جیسا گنبد ہے، چھت سے پیتل کے بڑے بڑے تین ناقوس لٹکے ہیں۔ میرے پیچھے کھڑی ایک مقامی عورت فرفر ہونٹ مٹکاتی زیر لب کچھ پڑھ رہی ہے۔

عورت نے لنگ کے پیچھے ایستادہ ایک بڑے مرمریں کتبے کے پہلو میں پڑی چادر کو سرکا کر ہاون دستے جیسی ایک چوبی چیز نکالی جس کا ایک پہلو پٹ سن کے دھاگے کے ساتھ کتبے کے پہلو میں کہیں بندھا ہوا تھا۔ میں نے کن انکھی سے عورت کے ہاتھ میں اس چیز کو دیکھا۔ یہ کسی بڑھئی کی خراد پر گھڑی گئی انسانی لنگ کی ایک اور شبیہہ تھی، جس پر کھاٹ کے پایوں والے رنگ سے سرخ، زرد اور سیاہ رنگ کی خوشنما دھاریاں بنی تھیں۔ اس عورت نے چڑھاووں کے گلے پر اپنا ایک پیر جمایا اور بلا جھجک دائیں ہاتھ میں تھامے ہوئے اس چوبی لنگ کو اپنے لہنگے میں چھپا لیا۔ وہ دوسرے ہاتھ سے اوپر لٹکا پیتل کا ناقوس بجائے جا رہی تھی، جبکہ اپنے لہنگے میں چھپائے ہاتھ کو ناقوس بجاتے ہاتھ سے کہیں رواں آہنگ کے ساتھ حرکت دیے جا رہی تھی اور زیر لب کچھ پڑھے جا رہی تھی۔ میرا دھیان اس مرمریں کتبے کی طرف گیا، جس کے پہلو کے ساتھ ایسے کوئی درجن بھر چوبی لنگ باندھے گئے تھے۔ نفیس دہلوی نستعلیق میں لکھا ہوا یہ کتبہ کافی پرانا لگ رہا تھا؛

"حضرت شیخ حیی بن حیان، المعروف بہ حضرت شاہ کیران، متولد در ارض نجران بمطابق سال ٦٣٣ھجری، ثمّ متہاجر در ریگزار ہندوستان، در سال ٦٧٧ھجری۔ مؤلف تذکرۃ الکبار در بارۂ وی می نویسد؛ شیخ موصوف بہ عون خدائے متعال معمورۂ دنیا میں صاحب نعمت و مال اور معرفت حق میں صاحب کشف و کمال ہیں۔ عہد غلاماں میں وطن مالوف عرب سے ریگزار ہند میں سریر آرائے توطن ہوئے ہیں اور اس خرابے کو اپنا جوار مطلع انوار بنایا ہے۔ پرند توحش نشین و ادبار آفرین موسوم بہ پیل کفتر سے بعد از مبارزۂ خونین فتح مبین پائی ہے اور دہ نشینان کیران کو اس حیوان موذی کےمنقار بد آثار سے نجات دوام دلائی ہے۔ آپ کا فیضان مراد امکان بے بار ارحام مادر کے لیے مژدۂ اولاد نرینہ کا سامان ہے۔ جسد مبارک ان کا وطن مالوف میں مدفون ہے، جبکہ قضیب مبارک ان کا قریۂ کیران میں مرجع حوائج خاص و عام ہے۔"

مقبرے کے باہر مجھے کچھ الف ننگے سادھو نظر آئے، جن کے پہلو میں لنگ کی جگہ پرانے زخم تھے، اور اس جگہ پیتل کی گھنٹیاں لٹکی تھیں جن کے دھاگے ان کے کالے کچیلے کولہوں کے گرد حمائل تھے۔ وہ ونڑ کے ایک پیڑ کے نیچے بیٹھے سلفیوں میں بھر بھر کے گانجا پیے جا رہے تھے۔ میں ان کے پاس گیا تو ایک نوعمر لنگ کٹے سادھونے، جو ابھی بہ مشکل بالغ ہوا ہو گا، میرے لیے جگہ چھوڑ دی اور ایک بوڑھے سادھو نے میرے بیٹھتے ہی اپنی سلفی میری طرف بڑھا دی۔ باتیں شروع ہوئیں تو ایک سادھو نے مجھے بتایا کہ بہت پہلے رواج تھا کہ ہر اساڑھ کی پہلی کو گاؤں کی ایک نوجوان دوشیزہ کو برہنہ کر کے یہاں لایا جاتا اور کیران کے نورل قصاب کے آباء میں سے ایک قصاب اس دوشیزہ کے پستان قطع کر کے کنویں میں پھینک دیتا۔ اس کے بعد اس دوشیزہ کے سینے میں چاقو پیوست کر کے اسے نیم مردہ حالت میں کنویں میں پھینک جاتا دیا جاتا۔ کنویں کے پیچھے جو ٹوٹی اینٹوں کی شکل میں جو چبوترے کی سی باقیات نظر آتی ہیں، یہاں مجاوروں کا تخت سجتا تھا اور وہ بلندی سے لڑکی کو تڑپتا ہوا دیکھتے تھے اور اس کے ٹھنڈا ہوتے ہی میلے کا مارو بجا دیا جاتا۔ اس نے کہا کہ سالوں پہلے یہ رسم ختم کر دی گئی تھی، لیکن جب سے یہ رسم ختم ہوئی ہے، شہر میں کوڑھ کی وبا پھر سے سر اٹھانے لگی ہے۔ بوڑھے سادھو نے یہ بھی بتایا کہ حضرت شاہ کیران کی زندگی میں کوڑھ کی وبا عام ہوئی تو آپ نے گاؤں کی ایک بدمزاج لڑکی کو اپنے حریم میں پیش کیے جانے کا حکم دیا۔ اس بدبخت نے خیمے میں پیش کیے جانے کے بعد شیخ کا حکم نہ مانا اور شیخ نے اس کے پستان کاٹ کر یہاں کنویں میں ڈالے اور پھر اس کے جسم کو تڑپنے اور مرنے کے لیے اس میں پھینک دیا۔ اس لڑکی کے مرتے ہی گاؤں کے سبھی کوڑھی اچھے ہو گئے۔ لیکن وہاں سے اٹھتے ہی ایک اور سادھو نے میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے مجھے بتایا کہ اصل میں اس رات شیخ عالم استغراق میں تھے کہ اس عورت نے شیخ کی تلوار سے انہیں مار ڈالا اور ان کے ٹکڑے کر کے ایک پاگل اونٹ کو کھلا دیے۔ صبح کے وقت جب لوگ شیخ کی خلوت گاہ کی طرف آئے تو سامنے ریتلے صحن میں وہ پاگل اونٹ کھڑا تھا، اس نے جگالی کرتے ہوئے منہ سے شیخ کا لنگ ثابت حالت میں اگل دیا، جسے بعد میں اس جگہ دفنایا گیا۔ شیخ کے اس بیدردی سے مارے جانے کے بعد گاؤں میں کوڑھ پھیل گیا، لوگ اس لڑکی کو ڈھونڈ لائے اور اسے اس کنویں کے قریب بلی چڑھایا گیا۔ اس کے بعد جب بھی علاقے میں یہ وبا پھیلنے لگتی، اس رسم کو دوہرایا جاتا۔

میں مقبرے کے گرداگرد سجائے گئے عارضی بازاروں کے بیچ میں گزرتا ہوا بساطیوں اور ان کی دکانوں کو خالی نظروں سے دیکھتا جاتا تھا۔ ان میں سے کچھ بہت پرجوش انداز میں گاہکوں کو پکارے جاتے تھے، کچھ کے چہروں پر محض خاموشی اور انتظار تھا۔ میلے کی بھیڑ بھاڑ سے فاصلے پر کچھ خیمے تھے، جن میں تھکے ہارے جاتری سو رہے تھے، کچھ خیموں میں عورتیں آگ جلائے کچھ پکائے جاتی تھیں۔

میں سنگچور سانپ کی ایک لکیر پر چلتے چلتے بھیڑ بھاڑ سے کافی دور نکل آیا۔خبر نہیں کس وقت میں ایک اونچا ٹیلہ اترکر ایک ویرانے میں پہنچ گیا جہاں کہیں گنجے اور کہیں گھنے کری کے کانٹے دار پیڑ تھے۔ پاس ہی کسی پیڑ کی جڑ میں ایک صحرائی لومڑی زمین کھود کر نیچے نم مٹی باہر نکالے جاتی تھی۔ میرے سامنے کچھ فاصلے پر اونٹ کا ایک پرانا ڈھنچر پڑا تھا جو بالکل خشک تھا اور امتداد وقت نے اس کی ہڈیوں کو پیلا دیا تھا۔ میں اس ڈھنچر کے پاس آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ ویرانے میں ہوا چندے زور سے چلنے لگی اور مجھے ریت کے دھندلکے میں قہقہوں اور گریے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ میں ہواؤں کے تھمنے تک اپنے زانو میں سر دیے اس ڈھانچے کے پاس بیٹھا رہا۔ کچھ وقت میں ہوا تھم گئی اور ویرانے میں پھر سے خاموشی چھا گئی۔ مجھے اپنے پیچھے کسی پیڑ پر بڑے بڑے پروں کے پھڑپھڑانے کی آواز سنائی دی، لیکن میں نے مڑ کر دیکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ میں اونٹ کی پسلی کی ایک ہڈی سے زمین پر بے سمت لکیریں کھینچے جا رہا تھا۔میں نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا، میری ڈاڑھی سفید ہو چکی تھی۔
Asad Fatemi

Asad Fatemi

Asad Fatemi is a freelance writer and a poet. He is a former editor of Urdu section of Laaltain. He lives in his hometown in district Jhang.


Related Articles

گدلا پانی

منشا یاد: ممکن ہے آپ کو معلوم ہو کہ محبّت لمس کے بغیر تو قائم رہ سکتی ہے، لفظوں کے بغیر نہیں۔

قیدی (لیوس نکوسی)

تحریر: لیوس نکوسی (5 دسمبر 1936 تا 5 ستمبر 2010) انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1 قیدی سب کے

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 11 دسمبر 1971- "یومِ بختیار صاحب"۔

آج چونکہ کیمپ کی کمان صوبیدار بختیار صاحب کے سپرد تھی لہٰذہ آدھی نفری تو سارا دن" چِندی اور پُھلترُو "لئےرائفلیں صاف کرتی رہی۔باقی نفری صوبیدار صاحب کے اخلاقیات، ملٹری، سیاست اور جنسیات کے موضوع پر دیئے گئے درس سے لطف اندوز ہوتی رہی۔