گرونانک مسلمانوں کی نظر میں

گرونانک مسلمانوں کی نظر میں

پروفیسر مجیب کے انگریزی مضامین کے مجموعے Islamic Influence on Indian Society میں شامل مضمون Guru Nanak Through Muslim Eyes کا ترجمہ محمد ذاکر نے کیا ہے۔پروفیسر محمد ذاکر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبہء اردو سے وابستہ رہنے کے بعد ریٹائر ہوچکے ہیں، عالم آدمی ہیں، سینٹ اسٹیفن سے اکنامکس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اردو کی جانب توجہ کی، وہ بہت سے علمی، ادبی اور تاریخی مضامین کا ترجمہ کرچکے ہیں، اور آج کل ان کا قیام پرانی دہلی میں ہے۔ لسانیات، ادب، ترجمہ اور تاریخ کے اعتبار سے نہایت علمی شخصیت ہیں۔ ترجمے میں قوسین کی عبارتیں مترجم کی ہیں۔

ترجمے میں قوسین میں دی گئی عبارتیں مترجم کی ہیں۔

بشکریہ: اردو ادب، نئی دہلی

ہر ایک مذہب میں ایک تو اصل یا روح ہوتی ہے اور دوسرے اُس کی صفات یا خاص خصوصیات، ایک تو ناقابلِ بیان روحانی تجربے کی CORE یعنی اصل الاصل اور دوسرے وہ صفات یا خاص خصوصیات جو اُسی وقت سے شامل ہونے لگتی ہیں جب روحانی تجربے کو زبان (یعنی الفاظ) کے ذریعے (دوسروں تک) پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور وہ اسے عبادت کے آداب اور سماجی اداروں کی ایسی واضح صورتیں بنادیتی ہیں جو دیکھی دِکھائی جاسکیں۔ صفات یا خاص خصوصیات روحانی تجربے کو تاریخی عمل کا حصہ بنادیتی ہیں، اور عادتوں، روایتوں اور معاشی رشتوں کے موجودہ نظام میں اُنھیں جذب کرنے، اعتدال پر لانے اور برابر کرنے کا کام شروع ہوجاتا ہے۔ سکھ مذہب کی تاریخ پر اسی روشنی میں غور کرنا چاہیے۔ لیکن اس وقت سکھوں کی تاریخ سے بحث نہیں، نہ بعد میں جو نو گرو ہوئے اُن کے اپنے اصل تجربے کی تصدیق سے۔ ہمیں تو گرونانک سے بحث ہے اور اس سوال سے کہ وہ اسلام سے اوراسلام کی اُس سب سے اہم شکل یعنی صوفی ازم (یا تصوف) سے جو ہندوستان میں پیدا ہوئی، متاثر تھے یا نہیں۔

اسلام اور گرونانک کی تعلیمات میں جو خصوصیات مشترک معلوم ہوتی ہیں وہ ہیں: ایک خدا میں یقین، مساوات، برادری کے طور پر رہنا جس کی بنیاد عمل، عبادت اور شرکت ہو، عبادت اور سماجی فرائض کی ادائیگی کی نامیاتی آمیزش، اور بطور دعا خدا کے ناموں کا ورد۔
اسلام اور گرونانک کی تعلیمات میں جو خصوصیات مشترک معلوم ہوتی ہیں وہ ہیں: ایک خدا میں یقین جو بیک وقت مطلق/ لامحدود/ ماورائے ادراک بھی ہے اور محیطِ کُل یا نافذِ مطلق بھی (یعنی ہمہ اوستی عقیدہ)؛ تمام بنی نوعِ انسان کا خدا ایک ہے جسے کسی جسمانی علامت (یا روپ) سے ظاہر نہیں کیا جاسکتا؛ مساوات یعنی تمام انسان بحیثیت انسان برابر ہیں؛ روحانی اور دُنیوی زندگی، اور عبادت اور سماجی فرائض کی ادائیگی کی نامیاتی آمیزش (اس طرح کہ دونوں اساسی طور پر ایک تسلیم کیے جائیں)؛ برادری کے طور پر رہنا جس کی بنیاد (فرد کے) عمل، عبادت اور جو کچھ یافت ہو اُس میں دوسروں کو فیّاضانہ طور پر شریک کرنا؛ مذہبی آئیڈیل یا نصب العین کے اظہار کے لیے سَدھ سنگھ میں منظم برادری کے طور پر رہنا؛ اور ذکر یعنی بطور دُعا خدا کے ناموں کا وِرد کرنا۔ ان مشترک خصوصی باتوں کی سب سے آسان صراحت یہ ہوگی کہ گرونانک کے ماحول، مسلمانوں کے وحدانیت کے تصور اور ناقابلِ حمایت ذات پات کے نظام کے چلن، صوفیوں کی اپنے خیالات کی تبلیغ، بھکتی تحریک کی وجہ سے عقائد کے امتزاج کے لیے زمین کا ہموار ہونا۔۔۔۔۔ اِن سب باتوں کو بیان کردیا جائے اور پھر ان سب پر غور کرکے یہ دکھایا جائے کہ گرونانک کے لیے یہ ناممکن تھا کہ مسلمان اور ہندو جیسے کہ وہ تھے اُن میں سے کسی ایک کے بھی مذہب کے ساتھ وہ اپنے آپ کو بالکل وابستہ کرلیتے۔ جہاں تک اُن کی تعلیم کی اصل و روح کا تعلق ہے اس کو سمجھنے سمجھانے کے لیے عام طور پر یہی کہا جاتا ہے۔ خاص خصوصیات پر اور اُس تاریخی عمل پر غور کیا جائے جس کی وجہ سے سکھ مذہب کی موجودہ صورت بنی ہے تو یا تو یہ دکھایا جاسکتا ہے کہ سکھ مذہب ایسا مذہب ہے جو آدھے سے زیادہ ایسا اسلامی عقیدہ ہے جو ہندو ماحول (یا اثرات) میں گُم ہوگیا ہے اور یا یہ دکھایا جاسکتا ہے کہ یہ ہندومت کی ایسی اصلاح شدہ شکل ہے جس میں کچھ اسلامی اصولوں کو، خاص طور پر ایسی سماج سازی کو جس میں ذات پات نہ ہو، اپنی اصلاح کے لیے اپنالیا گیا ہے۔
جہاں تک حقائق یعنی خارجی عوامل کا تعلق ہے ایسی صراحتیں کافی معلوم ہوتی ہیں۔ دو قوموں کے خیالات اور عقائد کی باہم آمیزش کی اور دوسرا مذہب قبول کرکے فائدہ اٹھانے کے لیے یا سچے دل سے تبدیلی کی بھی تاریخ میں بہت سی شہادتیں موجود ہیں۔ لیکن تاریخ میں روحانی تجربے کی شہادت بھی ملتی ہے، ایک ایسے کشف کی جو تخلیقی قوت بن جاتا ہے اور ایک نئے مذہب اور ایک ایسے نئے سماج کو جنم دیتا ہے جس کا اپنا ہی حیاتی ولولہ (یا قوتِ حیات) ہوتی ہے۔ نئے مذہب اور اس حیاتی ولولے یا قوتِ حیات کی نوعیت پر غور کرنے سے ہی ہمیں اصل روحانی تجربے کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اسلامی عقیدے کے مطابق اصل دین پیغمبر یا رسول کے ذریعے ساری دنیا کے لوگوں پر براہِ راست اتارا گیاہے۔ منطقی اعتبار سے ہر رسول کو آخری ہونا چاہیے کیوں کہ وہ اپنے کشف کو نامکمل نہیں کہہ سکتا، نہ اپنی قوم سے یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے بعد ایک دوسرے رسول کا انتظار کرو۔ اس بنیادی آفاقی دین کی اصل و روح خدائے واحد میں یقین ہے۔ ہمارے علم و دانست کے مطابق وحدانیت کا سبق سب سے پہلے فرعون اَمینوفِس چہارم 1380 تا 1362 قبل مسیح نے پڑھایا۔ خدائے برتر کی ایک مناجات میں وہ کہتا ہے:

گرونانک کے لیے یہ ناممکن تھا کہ مسلمان اور ہندو جیسے کہ وہ تھے اُن میں سے کسی ایک کے بھی مذہب کے ساتھ وہ اپنے آپ کو بالکل وابستہ کرلیتے۔
"کتنا کچھ ہے جو تو نے بنایا ہے، کتنا کچھ مجھ سے پوشیدہ ہے، تو ایک ہی خدا ہے، تجھ جیسا کوئی بھی نہیں ہوسکتا! تو نے، صرف تو ہی نے اپنی خواہش کے مطابق آدمیوں، مویشیوں اور وحشی جانوروں سمیت دنیا کی یہ وضع بنائی ہے، اُن تمام چیزوں سمیت جو اس زمین پر ہیں اور اُن چیزوں سمیت جو اپنے پیروں سے چلتی ہیں، اور اُن کے سمیت جو اوپر (ہوا میں) اپنے پَروں سے اُڑتی ہیں!"

"ملک شام اور نوبیا اور سرزمینِ مصر۔۔۔۔۔ تو ہی نے ہر ایک آدمی کو اُس کی جگہ دی ہے اور تو ہی اُن کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ ہر ایک کو تو اُس کا رزق پہنچاتا ہے اور ہر ایک زندگی معیّن ہے"۔

مصر کے لوگ روحانی اعتبار سے اتنے حسّاس نہیں تھے جتنا ان کا فرعون؛ خدائے برتر۔

ایٹون (ATON) میں یقین اَمینوفِس چہارم کے بعد قائم نہیں رہا۔ لیکن یہ یقین کہ ’ایک خدا جس کے جیسا کوئی نہیں‘ باربار سامنے آتا ہے۔ لیکن اگر ہم یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کی مذہبی تاریخ پر غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ ایک خدا میں یہ یقین یا تو ایک دینیاتی اصول کے طور پر مانا جاتا ہے اور ایک عادت بن جاتا ہے جو یقین کرنے و الے کے دماغ کو کوئی قوت بہم نہیں پہنچاتا (یعنی اُس کے فکر و خیال کو متاثر نہیں کرتا) یا یہ وہ بات ہوجاتی ہے جسے صوفی ’وارداتِ دل‘ کہتے تھے، یعنی اپنی نوعیت کی وجہ سے ایک قسم کا براہِ راست آزادانہ اور اصلی کشف۔ اگر یہ مسلمانوں جیسی برادری کے بارے میں جوا علانیہ اپنے آپ کو وحدانیت پرست کہتی ہے سچ ہوسکتا ہے تو پھر یہ سوچنا بالکل غلط ہوگا کہ ایک سچے خدا میں گرونانک کے جیسا پُرجوش اور شدید عقیدہ کسی بھی اعتبار سے یا کسی بھی طریقے سے (کسی دوسرے نے) انہیں بتایا ہوگا۔ تخیل کی آنکھ سے دیکھیں کہ پندرہویں اور سولہویں صدی میں پنجاب کی سماجی زندگی کیا تھی۔ سیاسی طاقت مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی اور وہ اُسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس میں کبھی کبھی زیادتیاں بھی ہوجاتی تھیں جس سے ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس لگتی تھی۔ ایسی صورتِ حال میں یہ سوچنا کہاں تک مُناسب ہوگا کہ حسّاس ہندو مسلمانوں کی وحدانیت پرستی کی طرف راغب ہوئے ہوں گے۔

گرونانک کی پیدائش سے تین سو سال یا اس سے بھی زیادہ مدت پہلے سے مسلمان پنجاب میں رہ رہے تھے۔ اتنی مدت میں تو مسلمانوں کی وحدانیت پرستی نمایاں طور پر نئی چیز نہ رہی ہوگی بلکہ ایک عام بات ہوگئی ہوگی، اور کوئی شہادت ایسی نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ گرونانک کسی ایسے مسلمان سے ملے ہوں جس نے وحدانیت پرستی کی عام بات کو نمایاں طور پر نیا بنادیا ہو۔ وہ کشف جو نانک کو ہوا وہ یقیناًبراہِ راست اور فوری اور تاریخ اور سماجی حالات سے آزاد ہوگا جیساکہ سکھوں کی مذہبی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے۔

گرونانک کی پیدائش سے تین سو سال یا اس سے بھی زیادہ مدت پہلے سے مسلمان پنجاب میں رہ رہے تھے۔ اتنی مدت میں تو مسلمانوں کی وحدانیت پرستی نمایاں طور پر نئی چیز نہ رہی ہوگی بلکہ ایک عام بات ہوگئی ہوگی
گرونانک کو روشنی حاصل ہونے کے کچھ ہی مدت کے بعد اُن سے یہ پُراسرار فقرہ منسوب کیا جاتا ہے: ’نہ کوئی ہندو ہے، نہ مسلمان!‘ اس فقرے کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اُن کے خیال میں ہندو اور مسلمان دونوں اپنے سچے راستوں سے بھٹک گئے ہیں۔ لیکن چوں کہ اُن کے ذہن میں ابھی اُن کے اپنے تجربے کے اثرات تازہ تھے تو اُن کا غالب رجحان ایک اِثباتی دعوے کی طرف زیادہ رہا ہوگا بہ نسبت ناقدانہ جانچ کے جو اُن کے بعد کے بھجنوں میں نظر آتا ہے۔ یہ کہنا کہ ’جو نہ کوئی ہندو ہے نہ مسلمان‘ شاید ایک اور طریقہ تھا یہ کہنے کا کہ ’نہ تو کوئی ہندومت ہے، نہ اسلام‘؛ جو کچھ بجا اور صحیح ہے وہ میرا اپنا وِژن یا اپنی نظر، میرا اپنا طریقِ کار ہے جو مجھے ابھی ملا ہے‘۔ اور اگر گرونانک کا یہی مطلب تھا تو ہمیں اسے ہندومت اور اسلام سے انکار نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے ایک کشف سمجھنا چاہیے اُس ناگزیر ٹکراؤ کا جو (کسی کے اپنے) براہِ راست (روحانی تجربے) اور کسی اور کے بتائے ہوئے تجربے میں ہوتا ہے۔ اس وقت ہندومت ہمارے زیر غور نہیں ہے۔

مسلمان صوفی جو خدا کو اپنے آپ جاننے کا دعوا کرتے تھے اور جو کچھ یقینی طور پروہ اپنے تجربے سے حاصل کرتے تھے اُسے صاف صاف کھلے طور پر بیان کرتے وقت اُنھیں بہت محتاط (اور ہوشیار) رہنا پڑتا تھا۔ منصور حلاّج کو ’اناالحق‘کہنے کی سزا بھگتنی پڑی اور اُن کی مثال اوروں کے لیے ایک تنبیہ تھی۔ انھوں (صوفیوں) نے عام طور پر اپنے آپ پر یہ قید لگالی کہ بس صرف ’کتابوں‘ ہی سے انکار کریں گے، اُس عقیدے سے انکار کریں گے جو دوسرے اُنہیں بتائیں اور اس کے بدلے اُنھوں نے اُس ’حال‘ یا روحانی کیفیت کو بنیاد بنایا جس میں بندے کا براہِ راست اپنے خالق سے تعلق ہوتا ہے۔ ایک اور صوفی سلیمان الدارانی نے کہا ہے: ’صوفی وہ ہے جس پر ایسی کیفیتیں گزرتی ہیں جو صرف خدا ہی کو معلوم ہوتی ہیں، اور جو خدا کے ساتھ ہوتا ہے اس طرح کہ بس خدا ہی جانتا ہے‘۔ (ظاہر ہے) جہاں خدا سے ایسا رشتہ قائم ہوجائے جو مٹایا ہی نہ جاسکے اور اتنا براہِ راست ہو تو پھر کسی وسیلے کو ماننے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔

یہ ہے نتیجہ اُن ساری باتوں کا جو گرونانک نے خدا کے بارے میں کہی ہیں۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو اُنھوں نے میاں مِٹھا کو جو جواب دیا ہے اُس میں یہ کہہ کر بات صاف کردی ہے کہ ’پہلا نام خدا کا ہے، اُس کے آستاں پر کتنے ہی پیغمبر ہیں‘۔

صوفی سلیمان الدارانی نے کہا ہے: ’صوفی وہ ہے جس پر ایسی کیفیتیں گزرتی ہیں جو صرف خدا ہی کو معلوم ہوتی ہیں، اور جو خدا کے ساتھ ہوتا ہے اس طرح کہ بس خدا ہی جانتا ہے‘۔
یہ (کہنا) کسی پیغمبر سے انکار نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ اُس اسلامی عقیدے کی تصدیق ہے کہ دنیا کی ساری قوموں میں پیغمبر بھیجے گئے ہیں۔ لیکن اس سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ ایک خاص پیغمبر کو تسلیم کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ اُس روحانی تجربے کو تسلیم کرلیا گیا جو کسی دوسرے نے بتایا ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اُس کے سامنے صورتِ حال یہ ہوگی کہ بہت سے پیغمبر ایک ہی دروازہ کھول رہے ہیں تو اُسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ان پیغمبروں میں سے کس پیغمبرکی پیروی اختیار کرے۔ جملۂ معترضہ کے طور پر یہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبرِاسلام کو ماننے کا یہ مطلب ہوتا کہ نہ صرف مسلمانوں کی پوری مذہبی روایت کو تسلیم کرلیا جاتا بلکہ خود اپنے روحانی تجربے سے بھی انکار کردیا جاتا اور جو کچھ وہ ضروری اور سچا سمجھتے تھے اُسے بیان کرنے کی اپنی آزادی کو بھی خیر باد کہہ دیتے۔

کسی کو کشف یا ’وارداتِ دل‘ کا تجربہ ہو تو اُسی کے لیے قیاساًکہا جاسکتا ہے کہ وہی اس کی نوعیت سے واقف ہوتا ہے، لیکن وہ بھی یہ دوسرے کو نہیں بتاسکتا سوائے اس کے کہ اُسے زبان کے ذریعے (یعنی لفظوں میں) بیان کرے۔ اور جب ایک مرتبہ زبان (یعنی الفاظ) کا سہارا لے لیا جائے تو (اصل روحانی ) تجربے کے ساتھ غیر متعلق تلازمات بھی شامل ہوجاتے ہیں (کیوں کہ) بغیر کوئی نام دیے خدا کا حوالہ تو نہیں دیا جاسکتا، اور جب کوئی نام اُس کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اُن دوسرے لوگوں کے عقیدے (جنھوں نے وہ نام پہلے استعمال کیا ہو) لامحالہ روحانی سیاق و سباق کا حصہ بن جاتے ہیں اور اس طرح اگر عقیدے کی یکسانی نہیں تو دونوں میں گہری مشابہت ضرور پیدا کردیتے ہیں اور وہ بہت گمراہ کُن ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس خدا کا کوئی نام جو عام بولی کا حصّہ بن گیا ہو اُسے چھوڑا بھی نہیں جاسکتا کیوں کہ اُسے چھوڑنے کا مطلب ہوگا اُس سارے روحانی تجربے کے جائز (یا معتبر) ہونے سے انکار کرنا جو اُس نام کے ساتھ وابستہ ہے، اور مقصد شاید یہ نہیں ہوتا۔ کبیر صاحب یا گرونانک کے بس میں یہ نہیں تھا کہ خدا کا ایسا نام استعمال نہ کریں جو پہلے ہی سے استعمال میں ہو، اور چوں کہ وہ ہندو اور مسلمان دونوں کے نام استعمال کرتے تھے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ جیسے اُن کا روحانی کام یہ تھا کہ وہ عقیدوں کا ایسا امتزاج پیش کردیں جسے حق و صداقت کی اعلیٰ تر صورت کہا جاسکے جو صرف ہندوانہ بھی نہ ہو، صرف مسلمانی بھی نہ ہو لیکن دونوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ لیکن یہ سب تو اسے عقل کے دائرے میں لانے کی ایک صورت ہے جو اگرچہ ہندو مسلم روحانی ایکتا کی تصدیق و تائید کرتی ہے لیکن یہ صورت حق کو ظاہر نہیں کرتی۔دینیات ہمیشہ تفریق و تقسیم کرتی ہے، سچّا روحانی تجربہ ہمیشہ متحد کرتا ہے، گرونانک کا روحانی تجربہ متحد کرنے والی طاقت تھی اس لیے یہ سچا روحانی تجربہ تھا۔ یہ سچّا ہونے کا دعوا اس بنیاد پرنہیں کرتا کہ اس میں متحد کرنے کی طاقت تھی۔ ہمیں عربی اور سنسکرت، تاریخ اور فلسفے میں الجھنا نہیں چاہیے کیوں کہ گرونانک خدا کو ہری، مراری اور رحیم اور ست کرتار کے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ یہ تو صرف ایسے روحانی تجربے کے پہلو ہیں جن کی مدد سے وہ صفات یا خاص خصوصیات سے چل کر اصل یا روح تک پہنچتے ہیں۔ زبان سے جو الجھاؤ پیدا ہوتا ہے ہم اس سے نہیں بچ سکتے لیکن ہمیں حتی الامکان الفاظ اور ناموں کو ایسے تجربے سے سیدھے سادے طور پر بالکل ایک جیسا سمجھنے سے بچنا چاہیے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے ناقابلِ انتقال ہے (یعنی جو لفظوں میں کماحقہٗ دوسرے کو بتایا ہی نہیں جاسکتا)۔

ایک اور بات جس کی اسلام اور گرونانک کی تعلیم میں باہمی مشابہت ہے وہ ہے ’سہج‘ کا تصور، یعنی نیک چلنی کی خواہش جو آدمی کے دل میں اُن رجحانات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جو اُس کی فطرت میں جبلّی طور پر پیدا ہوتے ہیں برخلاف ترکِ دنیا اور اذیتِ نفس کے
اگر ہم گرونانک کے کشف کو ان کا اپنا سمجھتے ہیں تو اُن کا یہ اصرار کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا جانا چاہیے اور خدا کو کسی بھی جسمانی علامت (یا روپ) سے ظاہر نہیں کرنا چاہیے یقینی طور پر منطقی اور ناگزیر بات ہے۔ وہ ایک نئے عقیدے کے بانی تھے، مذہبی ریفارمر یا مصلح نہیں تھے۔ وہ کسی موجود مذہب میں ایسے یقین کرنے والے نہیں تھے جو دوسروں کے مقابلے میں کچھ اقدار پرزور دینے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے دینی کتابوں کا حوالہ دیتے۔ جو کچھ وہ کہتے اُس کی سند وہ خود تھے۔ کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ اُن لوگوں کی موافقت یا تشفی کرتے جو اُسی مذہب کو مانتے تھے جس میں وہ خود بھی پیدا ہوئے تھے، یا دوسرے مذہبوں کے ماننے والوں کی تشفی کرتے جو اُن کی تعلیمات کو سنتے تھے۔ کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ تاریخ سے گواہی لیتے اور دکھاتے کہ اور لوگ بھی تھے جو ان ہی کی طرح یقین رکھتے تھے۔ جب وہ بت پرستی پر حملہ کررہے تھے تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ مسلم عقائد کی حمایت کررہے تھے۔ وہ یہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ بُتوں اور مندروں کو توڑنے کے ناگوار عمل کی وجہ سے بعض مسلمان حکمران بہت نامقبول ہوگئے تھے اور اب بھی مسلمان حکمرانوں کے لیے مواقع تھے کہ وہ یہ عمل جاری رکھتے جسے اُن (گرونانک) کی روادارانہ فطرت جائز نہیں کہہ سکتی تھی۔

ایک خدا کے تصور سے بھی زیادہ یہ یقین کہ خدا کے سامنے سارے انسان برابر ہیں یا ذات پات کے نظام پر حملے کا جاری رکھنا جو بھکتی تحریک کا ایک پہلو تھا، ان سب سے پہلی نظر ہی میں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ باتیں اسلام سے لی گئی ہیں۔ جہاں تک پہلی بات کا سوال ہے اس میں شک نہیں کہ اسلام ایسا سماج بنانے کی تلقین کرتا ہے جو مساوات پر قائم ہو لیکن ہندوستان میں مسلم معاشرے میں کہیں مساوات نہیں تھی۔ نسل اور نسب اور خاص طور پر وسط ایشیائی تُرکوں اور تاجکیوں، پٹھانوں اور ہندوستانی مسلمانوں میں تفریق کی بنیاد پر پورا معاشرہ منقسم تھا۔سیّدوں کی سب سے زیادہ عزت کی جاتی تھی چاہے وہ مستحق ہوں یا نہ ہوں۔ مراتب کا فرق نظر انداز کرنا خطرناک ہوسکتا تھا۔ مسلمانوں کا جمہوری سلام، ’السلام علیکم‘ برابر کی حیثیت والوں میں چلتا تھا۔ دربار میں اس کا استعمال نہیں ہوتا تھا؛ اور جہاں کہیں مرتبے یا حیثیت کا زیادہ فرق ہوتا تھا تو (سلام کے لیے) جھکنا اور سر پر ہاتھ رکھنا پڑتا تھا جس سے (ظاہر ہے معاشرے کا) مساوات پر مبنی ہونا بے معنی ہوجاتا تھا۔ مہدوی جو مساوات برتنے پر اصرار کرتے تھے اس لیے کہ قرآن میں اس کا حکم تھا، اُس سے بادشاہوں اور اہلِ دربار کو تکلیف ہوتی تھی اور منجملہ دوسری وجوہ کے اس وجہ سے بھی اُن پر سخت مظالم کیے جاتے تھے۔ بھکتی والے جو مساوات کا دم بھرتے تھے وہ مساوات سماجی سے زیادہ روحانی تھی۔اس کا دار و مدار آدمی کے نیک احساس پر ہوتا تھا، خدا، جو تمام بنی نوعِ انسان کا خدا ہے، کے صاف صاف اور قطعی حکم پر نہیں۔ گرونانک نے آدمیوں کی مساوات کی جو تلقین کی وہ صرف ایسے ’وارداتِ دل‘ کا نتیجہ ہی ہوسکتی تھی جس کا اُن کے خدا کے ایک ہونے کے یقین سے گہرا تعلق ہے۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ گرونانک کا حکم ’کِرت کرو، نام جپو، ونڈچھکو‘ یعنی کام کرو، نام جپو اور مل بانٹ کر کھاؤ۔ اُن کے زمانے کے مسلمانوں کے لیے اُتنا ہی مناسب تھا جتنا کسی اور مذہبی برادری کے لیے۔
ایک اور بات جس کی اسلام اور گرونانک کی تعلیم میں باہمی مشابہت ہے وہ ہے ’سہج‘ کا تصور، یعنی نیک چلنی کی خواہش جو آدمی کے دل میں اُن رجحانات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جو اُس کی فطرت میں جبلّی طور پر پیدا ہوتے ہیں برخلاف ترکِ دنیا اور اذیتِ نفس کے جن کو اس لیے کیا جاتا ہے کہ انسان کی فطرت کی پریشان کُن خواہشات اُس کی تکمیلِ نفس میں سب سے بڑی رکاوٹ مانی جاتی ہیں۔ اسلام میں روحانی زندگی کی بنیاد فطرت پر ہے اور (اس یقین پر کہ) ’خدا کسی شخص پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اُسی قدر جس (کے اٹھانے) کی اُس کو طاقت ہو‘۔ ترکِ دنیا اور اذیتِ نفس اسلام میں منع ہیں۔ لیکن اس معاملے میں ایک خدا میں یقین کی طرح اسلام ایک آفاقی رجحان کی توثیق کرتا ہے۔ مہاتما بدھ نے اذیتِ نفس اور عیش کوشی دونوں کی مذمت کی ہے اور یہ نصیحت کی ہے کہ انسانی فطرت کے تار کو بس اُس حد تک کھینچو کہ یہ اُتنی ہی آواز دے جتنی اُس کے لیے مناسب ہے، اور ایسا نہیں ہوسکتا اگر تار کو ضرورت سے زیادہ کھینچ دیا جائے یا زیادہ ڈھیلا چھوڑ دیا جائے۔ (یونانِ قدیم میں) ڈیلفی کی غیبی آواز جس کی رہنمائی یونانی مذہبی زندگی کی بنیاد تھی، وہ بھی اعتدال قائم کرنے کی تلقین کرتی تھی۔ زرتشت اور کنفیوشس کی تعلیمات میں بھی نارمل یا عام حسبِ معمول زندگی بسر کرنے کی تعریف کی گئی ہے؛ اُن کا آئیڈیل یا نصب العین وہ گرہست آدمی ہے جو کام کرتا ہے، جس کا خاندان ہوتا ہے اور وہ ایسے خلوص سے عبادت کرتا ہے جو اُس کی پوری زندگی میں کارفرما رہتا ہے۔ لیکن اس سادہ آئیڈیل یا نصب العین کا دل پر بہت زیادہ اثر نہیں ہوتا اس لیے کہ اس میں کچھ دلآویزی نہیں ہے اور اسی لیے اس کا مقابلہ پے در پے ایسے نمائشی پن سے ہوتا رہا ہے جسے ہمیشہ لیکن غلط طور پر روحانیت کی نشانی سمجھا جاتا رہا۔

مسلمانوں میں بنی اُمیّہ کے حکمرانوں نے ایسے گرہست آدمی کا نصب العین بھلادیا جو خلوص سے خدا کی عبادت اور اپنے ساتھ رہنے والوں کی خدمت کرتا ہے، اور ان عرب قبائل نے بھی بھلا دیا جو اسلام کو اپنی آبائی میراث سمجھتے تھے اور اُنھوں نے سیاسی طاقت اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنا دعویٰ مستحکم کرلیا۔ صوفیوں نے انتہائی کوشش کی کہ اسے اس کی صحیح جگہ ملے۔ شیخ ابوبکر شبلی نے صوفی کی یہ تعریف کی کہ صوفی وہ شخص ہے جو ساری بنی نوعِ انسان کو اپنا رشتہ دار سمجھے اور یہ مانے کہ اُسے اُن کی خدمت کرنی ہے اور گزر بسر میں اُن کی مدد کرنی ہے، اور واعظ کے لیے بھی پیغمبرِ اسلام کی یہ حدیث یاد رکھنی ضروری تھی کہ جو شخص اپنی روزی کماتا ہے وہ اللہ کا دوست ہے۔ اسلام جہاں بھی پھیلا اُس نے دستکاروں کی حیثیت بڑھا دی لیکن اس میں شک نہیں کہ طاقت کی ہوس پر دیندار اور سچّے مذہبی لوگ پابندیاں لگانے کے اہل نہ ہوسکے۔ اس کی وجہ سے اسلام کے سماجی معیار اور نصب العین اُلٹ پلٹ ہوگئے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ گرونانک کا حکم ’کِرت کرو، نام جپو، ونڈچھکو‘ یعنی کام کرو، نام جپو اور مل بانٹ کر کھاؤ۔ اُن کے زمانے کے مسلمانوں کے لیے اُتنا ہی مناسب تھا جتنا کسی اور مذہبی برادری کے لیے۔ اگر ہم بالکل ایسی ہی بات کہیں اور تلاش کریں تو وہ مسلمانوں کے عمل میں نہیں بلکہ یہاں سے دور جرمنی میں گرونانک کے ایک ہمعصر مارٹن لوتھر (۱۴۸۳ تا ۱۵۴۶ء) کی تعلیم میں ملے گی جس نے آدمی کے دُنیوی پیشے کو مقدس ہونے کا درجہ دے دیا۔

ایک اور بات جس میں دونوں میں مشابہت ہے وہ ہے صوفیوں کا تصورِ شیخ اور گرونانک کا گرو کا تصور۔ اس پر غور کرتے وقت یہ پیچیدہ صورت سامنے آتی ہے کہ دو روحانی تحریکیں ایک دوسرے کے متوازی چل رہی ہیں اور دل میں ایسے سوال اٹھتے ہیں جن کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ پہلا سوال یہ کہ جب گرونانک کا کوئی روحانی ہادی یا رہنما نہیں تھا تو اُن کا ’گرو‘ کہنے سے کیا مطلب تھا۔ کیا اس سے ان کا مطلب خدا تھا؟ خدا جو ہدایت اور روشنی کا ابدی سرچشمہ ہے یا کوئی مثالی طور پر تصور کیا ہوا انسانی رہنما تھا، خواہ وہ کوئی بھی ہو؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا فیصلہ سکھ ماہرینِ دینیات اور فلسفیوں پر ہے، وہ کریں یا نہ کریں۔

سکھ مسلمانوں کے مرہونِ منّت نہیں ہیں نہ مسلمان سکھوں کے، اور دونوں کے اپنے اپنے مذہب ایک دوسرے کی تصدیق سے اور محکم ہوں گے۔ اگر سکھ اور مسلمان اپنے اپنے سچّے راستے پر چلیں گے تو انھیں معلوم ہوگا کہ اُن کے راستے اور اُن کی منزل ایک ہی ہیں۔
گرونانک کی برادری کی طرح رہنے کی تنظیم بنیادی طور پر بعض صوفی سلسلوں کی خانقاہوں سے مختلف نہیں تھی۔ لیکن اس معاملے میں بھی ہمیں ایک خیال آتا ہے جو بذاتِ خود منطقی بھی ہے اور کم وبیش تقریباً آفاقی بھی۔ وہ لوگ جن کا عقیدہ اور طرزِ زندگی ایک ہوتا ہے وہ برادری کی طرح ایک جگہ رہنے کے طور طریقے اور ذرائع نکال لیتے ہیں اور وہار، آشرم، صومعہ اور خانقاہیں برادری کی طرح ایک جگہ رہنے کے آئیڈیل یا مثالی تصور کی باہمی مشابہتیں بھی پیش کرتی ہیں اور خصوصیات کا باہمی فرق بھی۔

ہوسکتا ہے کہ یہ بات عجیب معلوم ہو کہ ایک مسلمان اس اندازِ نظر کی مخالفت کرے کہ گرونانک اسلام کی تعلیمات سے متاثر تھے۔ لیکن یہ عقیدہ کہ ’دین‘ یعنی سچّا مذہب تمام انسانوں پر اُتارا گیا ہے، اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے، اور یہ عقیدہ اس بات سے کمزور نہیں ہوتا بلکہ اس کی تصدیق ہوتی ہے اِس بات پر زور دینے سے کہ گرونانک کی تعلیمات سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ ایک آزاد ، اوریجنل یا طبع زاد، اصلی روحانی تجربے کا نتیجہ ہیں۔ سکھ مسلمانوں کے مرہونِ منّت نہیں ہیں نہ مسلمان سکھوں کے، اور دونوں کے اپنے اپنے مذہب ایک دوسرے کی تصدیق سے اور محکم ہوں گے۔ اگر سکھ اور مسلمان اپنے اپنے سچّے راستے پر چلیں گے تو انھیں معلوم ہوگا کہ اُن کے راستے اور اُن کی منزل ایک ہی ہیں۔ اور یہ انکشاف بذاتِ خود ایک روحانی تجربہ ہوگا، ایک ’وارداتِ دل‘ ایک تکمیل ہوگی اُس بات کی جو خدا نے حضرت موسیٰ سے کہی تھی اور جسے مولانا جلال الدین رومی کی حکایت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:’تجھے ملانے کے لیے بھیجا گیا ہے نہ کہ الگ الگ کرنے کے لیے‘۔

Related Articles

ساکت زندگی (آوازیں)-پیڈرو سیرانو کی ایک نظم

آپ ایسے دیکھتے ہیں جیسے آپ یہاں دائم موجود رہیں گے۔
آپ اسی انداز ہی سے تو دیکھتے ہیں، بغیر کسی دلیل کے سہارے کے

فنون لطیفہ میں اختلال ذہنی کی مختصر تاریخ

فنون لطیفہ نے ذہنی عارضے کو نامانوس اور حقارت آمیز جاننے کی بجائے اسے انسانی حالت کا ایک حصہ سمجھنے کی راہ ہموار کی ہے یہاں تک کہ اسے مثبت اور کارآمد بھی سمجھا گیا ہے۔

عورتوں کی تعلیم پر ایک آزاد خیال عورت کی نظر

جس طرح انسانی آزادی کی تحریک نے ممالک کو آزاد کیا۔ حرفتی تحریک نے پیشہ ور کا عقدہ وا کیا اسی طرح ہم بھی عورتوں کے تعلیمی نصاب میں ایک سریع السیر انقلاب چاہتے ہیں تاکہ عورت بندی خلاص ہو۔