گلِ حیاء کی ڈائری کا ایک ورق

گلِ حیاء کی ڈائری کا ایک ورق

poetryچمن میں ڈیرے ڈالے ہیں یہ کہہ کے کچھ درندوں نے

کہ ہم تزئینِ گلشن کا فریضہ لے کے آئے ہیں

کلی کا مسکرا کے پھول بننا بھی فحاشی ہے

فقط پتوں کے برقعے میں تبسم کی اجازت ہے

کسی کوئل کی کو کو بھی غنا کی ذیل میں ہے

اور خوشبو کا کسی جھونکے کی انگلی تھام کر چلنا نہیں جائز

کہ جھونکے غیر محرم ہیں

وگرنہ ہم تمہاری پشت پر درّے لگائیں گے

ہوا! اٹکھیلیاں مت کر

کہ شاخیں جھومتی ہیں تو چمن میں رقص کی بنیاد پڑتی ہے

بجائے رقص اب طاؤس کو مرغ مقدس سے

اذانیں سیکھنا ہوں گی

یہاں ہر سر کشیدہ سرو کو اب سر جھکانا ہوگا

ورنہ ہم اسے پھانسی سزا دیں گے

!خدایا

کنکروں والی ابابیلوں کو جلدی بھیج

(عطاءتراب)

(Published in The Laaltain - Issue 6)


Related Articles

خواہش کی ٹافی

سرمد بٹ: جادو ہے
خواہش کی ٹافی
ایک مسلسل جادو
اب چوسو یا چباؤ
مرضی تمہاری ہے

ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

سدرہ سحر عمران: زنجیریں ہمارے دم سے زندہ ہیں
ہمیں نیکیوں کے ہار مت پہناؤ

تاریخ کا آخری جنم

نصیر احمد ناصر: تم جانتی ہو
درد کی ڈوری کا آخری سرا کہاں گم ہوا ہے
مجھے معلوم ہے
اسے کہاں سے تلاشنا ہے