گلٹی

گلٹی

'نقاط' فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

مصنف: فرخ ندیم

" اوئے تو تو جلدی ہی پوری عورت بن جائے گا" صادق لوہار کے بیٹے نے اچانک گلی کے کونے پہ میرا راستہ روک کر جیسے میرے سر پہ ہتھوڑے برساتے ہوئے کہا تھا ۔ اپنے بارے میں ایسی عجیب و غریب پیشین گوئی سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور حواس جاتے رہے ۔

"خدا کے لئے مجھے گھر جانے دو" میں اس حملے کی تاب نہ لا سکا اور اس کے سامنے گھگھیانے لگا۔

میں گھر سے باہر کم ہی نکلتا تھا۔ ایک تو اس لئے کہ اماں ابا نے مجھے ڈرایا بہت ہوا تھا دوسرا میری گلی میں میرے ہم عمر لڑکے بھی کم ہی تھے۔ یا تومجھ سے چار پانچ سال بڑے تھے یا اسی طرح چھوٹے۔ مجھے اپنے ہم عمر لڑکوں سے کھیلنے کے لئے محلے کی تین گلیاں چھوڑ کرجانا پڑتا۔ بچپن ہی سے مجھے یہ احساس تھا کہ میرا گورا چٹا گول مٹول چہرہ لوگوں سے زبردستی پیار کروا لیتا ہے۔ ویسے بھی پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہونے کی وجہ سے جو اہمیت مجھے ملی تھی وہ شاید گاوں کے کسی بھی لڑکے کو نہیں ملی تھی۔ اماں کو میری اس قدر فکر تھی کہ وہ ایک لمحہ بھی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتیں۔ اس فکر کا مجھے اُس وقت بالکل شعور نہ تھا۔ اُس وقت کی بات کر رہا ہوں جب میری عمر لگ بھگ بارہ تیرہ برس تھی۔ ہمارے گھر کی حالت گاوں کے دوسرے گھروں سے کافی بہتر تھی۔ کچھ رشتہ دار انگلینڈ امریکہ میں بھی تھے۔ جب وہ کبھی گاوں آتے تو ہمارے لئے تحفے تحائف لے کر آتے جو میں اپنے دوستوں کو دکھاتا تو وہ خوش بھی ہوتے اور خاموش بھی۔ عام طور پر سب لڑکے شلوار قمیض پہنتے ۔ مگر جس دن میں پینٹ شرٹ اور ٹی شرٹ پہن کر گھر سے نکلتا چھوٹے بڑے سبھی چمٹنے کو دوڑتے۔ میں ان لوگوں کے التفات سے کچھ زیادہ بے خبر بھی نہ تھا لیکن چونکہ بچپن میں سبھی لوگ لاڈ پیار کرتے آئے تھے اس لئے ان کے اس رویہ پہ کبھی غور کیا ہی نہیں تھا۔ جس ایک دن، صادق لوہار کے بیٹے کوڈے نے شام کے وقت ایک سنسان گلی میں روکا تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس کی ہیبت ناک شکل سے تو میں دن کے وقت بھی گھبرا جاتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ہر وقت تیز نوکیلے دانتوں والی درانتی مجھے سر سے پاوں تک لرزا جاتی اور میں پاس سے گزرنے سے بھی ڈرتا۔ اسی ملک الموت درانتی نے اس دن میرا راستہ روکا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں نے کوڈے لوہار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کبھی نہ دیکھا تھا۔اور اب۔۔۔ اس بار درانتی کی نوک جب اچانک میرے پیٹ میں چبھی تو بے بسی میری انکھوں سے ٹپکنے لگی۔ میں نے اماں کو آواز دینا چاہی مگر میری کسی بھی آواز سے پہلے اس کا ہاتھ میری چھاتی پہ تھا۔ میں بالکل بھی نہ سمجھ سکا کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ میں نے تو ڈر کے مارے آنکھیں اس لئے بند کی تھیں کہ وہ میری گردن مروڑنے لگا ہے۔ لیکن جب وہ ایکدم ہنسنے لگا تو میں نے آنکھیں کھولیں۔ "اوئے اے کی!" تو تو عورت بن گیا ہے۔ تیری چھاتی میں تو گلٹی ہے"

"گلٹی؟ عورت؟" میں نے اپنے ٹوٹے ہوئے سانسوں کو جوڑتے ہوئے خوف ملی حیرانی سے اسے دیکھ کر پوچھا۔

"ہاں عورت۔ دیکھ تجھے بتاتا ہوں، سینے کے بٹن کھول تجھے ابھی دکھاتا ہوں "

"نہیں، مجھے جانے دو، میں خود ہی دیکھ لوں گا" میں نے ڈر کے مارے تھوک نگلا اور ساری ہمت جمع کر کے اس سے اپنا گریبان چھڑاتے ہوئے کہا۔

"اپنی قمیض کے بٹن کھولتا ہے یا ساری پسلیاں باہر نکلوائے گا" اس نے درانتی میری ایک پسلی میں اس طرح گھسائی کہ مجھے واقعی ایسے محسوس ہوا جیسے میری ساری انتڑیاں پسلیوں سے پھسلتی میرے پاوں پہ گرنے لگیں گی۔ "میں میں میں مم مم مجھے چھوڑ دو" میں نے اپنے اندر کے خوف کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ میں پیچھے ہٹتا گیا اور درانتی مسلسل میری بائیں پسلی میں گھستی گئی یہاں تک کہ میں نے اپنے آپ کو ویران گلی کی ایک کچی دیوار سے جڑتے ہوئے محسوس کیا۔ "کھال ادھیڑ دوں گا تیری، جیسے کہتا ہوں ویسے کر، ادھر سے میرے ساتھ چل"۔ خوف سے مجھ پہ کپکپی طاری ہو گئی۔ وہ مجھ سے دس سال بڑا تھا۔ لوہے سے کام کرتے اس کے ہاتھ کتنے سخت تھے اس وقت مجھے اندازہ ہوا جب اس نے اپنے دائیں ہاتھ سے میری چھاتی کا ماس ایسے کھینچا جیسے کوئی بھوکی شارک اپنے شکار کو تیز نوکیلے دانتوں سے جھنجھوڑتی ہے۔۔ان دنوں میں نے شارک والی فلم نئی نئی دیکھی تھی۔ مجھے نہیں علم کیوں لیکن مشہور یہی تھا کہ کوڈے لوہار کے اپنے دانت بھی درانتی کے دندوں کی طرح نوکیلے اور تیز تھے۔ صرف میں ہی نہیں گاوں کا ہر وہ بچہ اس سے ڈرتا تھا جو صاف ستھرے ماحول سے تعلق رکھتا تھا۔ شدید درد کی ایک لہر میرا سینہ چیرتی پورے جسم میں خوف بن کر دوڑنے لگی۔ اماں کہتی تھی اس نے رو رو کر خدا سے بیٹا مانگا تھا۔ بیٹا عورت بن رہا تھا۔ کوڈے لوہار نے اندھیرے میں درانتی میری پسلیوں سے نکال کر میری آنکھوں کے سامنے لہرائی تو زندگی میں پہلی بار اندھیرا میرے وجود میں سسکارنے لگا۔"ماں خصم گریبان کھولتا ہے یا میں خود پیٹ کھولوں" وہ مجھ پہ ایسے دھاڑا کہ اس کی آواز دور تک تو نہ گئی ہوگی لیکن میری پسلیاں پھڑپھڑانے لگیں" اماں ں ں ں ں" اتنی زور سے میں نے پکارا کہ میرے وجو د سے چمٹا ہوا اژدھا بل کھولنے پہ مجبور ہو گیا۔ لیکن جاتے جاتے درانتی کا دستہ میری پسلی میں ٹھونکتے ہوئے بولا" بزدل زنانی " اور درانتی چادر میں چھپاتے گلی میں غائب ہو گیا۔

بجائے اس کے کہ میں گھر کو بھاگتا، ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا چکا تھا، شاید اس درد کی وجہ سے جو جو میری پسلیوں اور سینے کی گلٹی میں ہو رہا تھا یا شاید کوڈے لوہار کے الفاظ کی وجہ سے جو میرے دل کے آر پار ہو رہے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں اس درد سے دوہرا ہوتا آس پاس دیکھنے لگا، "بزدل زنانی بزدل زنانی"اور "تیری کھال ادھیڑ دوں گا" کی ضربیں مسلسل میرے وجود پہ پڑ رہی تھیں اور میں ان سے بچنے کی کوشش میں اپنی پشت پہ کھڑی کچی دیوار کے سہارے ایک کھولی سے لگتا جا رہا تھا، یہ ایک ویران سی حویلی کی کھولی تھی جس کا مالک قربان چاچا دو تین سال پہلے مر گیا تھا، اسی جگہ جہاں میں لڑکھڑاتا کراہتا کھولی کے پاس اس وقت گر رہا تھا وہاں قربان چاچا کی بھیڑیں ممیاتی سر جوڑ کر سو جایا کرتی تھیں ۔ ابا جب بھی چھٹی پر آتے بہنوں پہ برستے جاتے، "یہ ہر وقت قربان کی بھیڑوں کی طرح سر جوڑ کر کیوں بیٹھی رہتی ہیں، نہ کام نہ کاج" ابا کو معلوم تھا یا نہیں لیکن میری بہنوں کا حال یہ تھا کہ ادھر ابا گھر میں داخل ہوئے ادھر وہ سمٹ کر ایک کونے میں دبکنے لگیں۔ اور جونہی مجھ پہ نظر پڑتی ان کا لہجہ یکسر بدل جاتا۔ ابا پولیس میں تھے۔ جب بھی اماں سے لڑتے ایک ہی بات کرتے، میرے آگے زبان چلاو گی تو مار مار کر بھیڑ بنا دوں گا، زنانی کا کیا کام ہے مرد کے سامنے نظر بھی اٹھائے ۔ پتا نہیں اماں نے زبان کبھی چلائی یا نہیں لیکن ان کو میں نے بھیڑ بنتے ضرور دیکھا تھا۔ چھ عورتیں گھر کے ایک کونے میں ایسے چھپ کر بیٹھ جاتیں جیسے قربانی کے بہت سے جانور کسی ایک ہی باڑے میں ٹھونس دیے گئے ہوں۔ اب میں اس گھر کی ساتویں عورت تھا۔ مجھے گھر جانے سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ اماں کو خبر ہو ئی تو کیا سوچے گی۔ ابا تو واقعی میں کھال ادھیڑ دیں گے۔ بہنیں کیسے یہ خبر سن سکیں گی۔ وہ تو پہلے ہی گھر میں منحوس سمجھی جاتی تھیں۔ "ایک کے بعد دوسری، پوری چھ منحوس عورتیں"۔ دادی بھی ابا کی طرح یہی کہتے کہتے مر گئیں۔ مجھے آج تک کبھی بھی سمجھ نہ آ سکا کہ وہ خود کو بھی بطور عورت ان میں سے ایک ساتویں "منحوس" کیوں نہیں مانتی تھیں ۔جب چارسو اندھیرا پھیل چکا تو اس اندھیرے میں مجھے اپنا گھر ڈوبتا ہوا محسوس ہوا، میں نے اپنے بٹن کھولے اور اپنی پسلیوں پہ ہاتھ پھیرا جہاں میرے ہاتھوں نے جلد پہ لگے زخم سے ہلکا سا خون بھی رستا ہوا محسوس کیا۔

اماں تو مر جائے گی یہ دیکھ کر لیکن اس کے بعد ڈرتے ڈرتے جو میں نے ٹٹولا تو میرے پاوں سے بچی کھچی زمین بھی سرکنے لگی۔ میری چھاتیوں میں واقعی دونوں طرف چھوٹی چھوٹی گلٹیاں تھیں۔ایک دو دن پہلے نہاتے وقت میں نے چھاتی پہ درد تو محسوس کیا تھا۔ اچھا تو یہ درد تھا!۔ میری ٹانگیں کانپنے لگیں۔ میں نے سوچا کسی طرح یہ ختم ہوں، کیا کروں کیسے چھپاوں یک لخت سارا منظر میری آنکھوں میں گھوم گیا۔ اور میں چکرا کے رہ گیا۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا تو تھا۔ میں بار بار اپنی گلٹیوں کو چھوتا اور کھولی سے مزید جڑتا جاتا۔ میرے سارے وجود پہ قربان چاچا کی بھیڑیں اگ رہی تھیں جو ممیاتے ہوئے میری جلد کے ہر حصے کو چاٹ رہی تھیں۔ ایسے ہی مجھے میری ماں اور بہنیں پیار کرتیں مگر اب سب کچھ ختم ہونے والا تھا۔ میں جب بھی سکول سے یا دوستوں کے ساتھ کھیل کود سے تھک کر گھر لوٹتا تو ساری خواتین کا جمگھٹا میرے گرد جمع ہوتا اور اتنے پیار سے مجھ سے میری بھوک پیاس کے بارے میں پوچھتیں جیسے میں ان کا پیر و مرشد ہوں۔ کئی بار ایسا محسوس ہوا جیسے میں ان کا بادشاہ ہوں اور وہ میری رعایا۔ بادشاہت کا کون سا راز میرے پاس تھا، میں اکثر اپنے آپ سے پوچھتا،لیکن وہ بادشاہت مجھ سے اب چھن رہی تھی۔ میں نے اسے اپنے وجود میں تلاش کرنا چاہا۔ شرم کے مارے ہاتھ ناف کے نچے نہ جائے۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنے آپ کو تسلی دی۔ اپنی چھت سے، اسی لمحے، میں نے لمبی سی آواز سنی، "سوہنے ے ے ے ے" یہ میری دوسری بہن افشاں کی آواز تھی جو چھت پہ چیختی مجھے بلا رہی تھی۔ ہمارے گاوں میں ایسا ہی ہوتا کہ جب کوئی کسی کو بلانا چاہتا تو چھت پہ کھڑے ہوکر اونچی اونچی آوازیں دینا شروع کر دیتا۔ میں کھولی کے پاس دبکا بیٹھا خوف دہشت زدہ کانپ رہا تھا، چاہنے کے باوجود بھی مجھ سے اٹھا نہ گیا ، ایسے جیسے کسی نے کھولی سے میری گلٹیاں باندھ دی ہوں۔ یا شاید میری کھال کے اندر قربان چچا کی روح حلول کر گئی ہو مگر مجھے یاد ہے اصل میں تو میں اپنی گلٹیوں کے بوجھ تلے دبا جا رہا تھا ۔ ایک بار تو مجھے جیسے قربان چاچا اندھیرے میں ہنستاہوا بھی نظر آیا تھا۔ اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ اپنی بھیڑوں کو اولاد کی طرح پالتا، اِدھر اس کی روح نے پرواز کیا اُدھر باڑہ اجڑ گیا۔ اس کی اولاد ہوتی بھی کیسے، شادی ہی نہ ہوئی۔ لوگ کہتے تھے وہ کسی قابل ہوتا تو شادی ہوتی۔ "قربان چاچا اندر سے عورت تھا ،، وہ بھی ڈرپوک بھیڑ تھا ، بزدل زنانی؟ درد میں ڈوبے کئی سوالات میں نے اپنے آپ سے کر دیئے،"مجھے کیا علم" میں نے اپنے ہی آپ کو جواب دیا، لیکن قربان چاچا کا مسئلہ گلٹی والا نہیں تھا ،شاید، دیکھنے کو تو وہ مرد ہی لگتا تھا، یہ بھی ہو سکتا ہے وہ اندرسے بھیڑ ہو"۔ "بے ے ے ے ے" میں نے آواز کی سمت دیکھا، یہ اس باڑے کا ٹوٹا پھوٹا ویران کمرہ تھا جہاں سے کسی مردانہ بھیڑ کی آواز آئی تھی۔ تبھی تو میں نے اپنی گلٹیاں سنبھالیں، چھاتیوں پہ دونوں ہاتھ رکھے اور ہانپتا کانپتا گھر کو بھاگنے لگا۔

ہمارا گھر محلے کے دوسرے گھروں سے تھوڑا ہٹ کر تھا۔ درمیاں میں جانوروں کے ایک دو باڑے تھے۔ جن سے دھواں اٹھ کر سارے ماحول میں پھیلتا جا رہا تھا۔ دیہاتوں میں شام کے وقت اپلے جلائے جاتے ہیں تاکہ ان سے اٹھنے والے دھویں سے مکھی مچھر جانوروں سے دور رہیں،میری گلٹیاں سلگتے ہوئے اپلے بن گئے جن سے اٹھتا ہوا دھواں میرے نتھنوں سے گزراتا سانس بند کرنے لگا۔ میں نے پھر چھاتیوں پہ ہاتھ رکھے ۔ اندر گلٹیاں بڑھنے لگی تھیں اور میری چال لڑکھڑانے لگی تھی۔ گھر کے دروازے پہ جا کر دستک کی بجائے میں نے اپنا ماتھا ٹکا دیا۔ کیا عزت رہے گی میری اماں کی۔ لوگ کیا کہیں گے، "اس کی قسمت میں مردانہ اولاد ہے ہی نہیں، کوئی وارث پیدا نہ کیا، منحوس عورت، بیٹا بھی ایسا پیدا کیا جو بارہ تیرہ سال بعد عورت بن گیا۔ اس گھر پہ کوئی زوال ہے، کوئی سایہ ہے یا فقیر کی بددعا"، ابا چھٹی پر آئیں گے تو مجھے کاٹ کے رکھ دیں گے، اس وقت مجھے اپنے ابا کوڈے لوہار کی درانتی کی طرح محسوس ہوئے۔ وہ تو اس کو بھی میرا یا اماں کا قصور سمجھیں گے ۔میرے ابا ان لوگوں میں سے تھے جو سب سے پہلے عورت کے دشمن تھے بعد میں کسی اور جرم کے ۔ اس عمل میں وہ اپنی بڑائی سمجھتے اور جہاں بیٹھتے مرد کی حاکمیت پہ لمبی لمبی تقریریں کرتے۔ میرے ساتھ مستقبل میں کیا ہونے والا تھا میں سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا۔ گیٹ پہ کھڑے کھڑے ہی مجھے خیال آیا کہ ابا اسی دروازے سے گھسیٹے ہوئے مجھے اور میری اماں کو نکال باہر کریں گے، ہو سکتا ہے مجھے کسی سے قتل کروا دیں، "سوہنے ے ے ے " پھر تیسری بہن صائمہ کی درد بھری آواز آئی،" ۔"نیلووووووو" میں نے افشاں کو اس کے لاڈ پیار والے نام سے آواز دینا چاہا مگر ایک دبی ہوئی چیخ میرے حلق سے نکلی اور دم توڑ گئی۔ مجھے سردی لگ رہی تھی، پورا جسم درد سے کانپنے لگ گیا۔ یہ آواز افشاں نے سن لی تھی۔ وہ سوہنے سوہنے کرتی سیڑھیاں اترنے لگی اور میں بس ہوں ہاں کرتا رہ گیا۔ دروازہ کھولتے ہی وہ رونے لگی، "سوہنے ہماری تو جان نکل گئی تھی، کہاں تھا تو اتنی دیر سے" ۔ایک کے بعد دوسری پانچوں بہنیں ننگے پاوں بھاگتی ہوئی آئیں اور مجھ سے ایسے لپٹیں جیسے ان کی کھوئی ہوئی قسمت مل گئی ہو ۔ میں نے سب سے پہلے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ کہیں کوڈا لوہار تو نہیں مڑ کر آگیا۔ مجھے اپنی بہنوں کی فکر ہونے لگی۔ دروازے سے راستہ بناتے میں جلدی سے گھر کے اندر داخل ہوا۔ میں تو اب یہ سمجھتا ہوں کہ ان کو میں کیا ملا انہیں نئی زندگی مل گئی۔ اماں اکثر کہتیں "میری بیٹیوں کو باپ کی تھوڑی بہت شفقت سوہنے کے صدقے سے ملی۔ سوہنا اس گھر کا ہر طرح سے وارث ہے، اوپر اللہ وارث نیچے میرا سوہنا، یہ دنیا میں نہ آتا تو پتا نہیں کہاں کہاں در در کی ٹھوکریں کھاتی" ۔ چھ کی چھ خواتیں مجھ پہ قربان ہو رہی تھیں ایسے جیسے کسی زخمی پرندے کو دیکھ کر اس کے ساتھی کرلاتے ہیں۔ سب سے بڑی ساحرہ جس کو لاڈ پیار سے اماں سارہ کہ کر پکارتی تھیں نے کچھ گڑ بڑ بھانپ لی تھی۔ روتی ہوئی چیخنے لگی،"پیچھے ہٹو سب لوگ" کہتے ہوئے مجھے بلب کی روشنی میں لے جانے لگی۔ مجھے کانپتا دیکھ کر بے چین ہو گئی اور کہنے لگی" سوہنے میری جان ہاتھ تو ہٹاو یہاں سے اور بتاو کہاں تھے تم؟"۔ میں دھاڑیں مار کر رونا چاہتا تھا، کیسے بتاتا کہ کہاں تھا اور میرے ساتھ کیا ہوا اور کیا ہونے جا رہا ہے، "سوہنے میری انکھوں میں دیکھو" ، اس نے تھوڑا آگے بڑھتے ہوئے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، میں نے بے بسی سے سب کی آنکھوں میں ایسے دیکھا جیسے میری زندگی کا آخری دن اور آخری لمحات ہوں۔ کوڈے لوہار کی درانتی میرا کلیجہ چیرتے ہوئے نکل گئی۔ میری آنکھوں سے آنسو ایسی بے چارگی کے ساتھ بہنے لگے کہ جنہیں دیکھ کر گھر میں کہرام مچ گیا۔ اماں بولنے لگی "میرے لال کسی نے کچھ برا تو نہیں کر دیا تیرے ساتھ، ایسے چپ کیوں ہے آخر بولتے کیوں نہیں؟"۔ میں نے ہمت کی اور بدن سے روح تک کے سا رے زخم چھپا گیا،" کچھ نہیں ہوا مجھے، کھیلتے کھیلتے کھولی میں گر گیا تھا" ۔بس یہی جواب تھا اس وقت جو مجھ سے بن پڑا۔ میرے اس جواب کے ساتھ ہی اماں اور بہنوں کی سانس بحال ہوئی، سب سے چھوٹی حیا تو سہمی سہمی سسکیاں لینے لگی تھی جو میری برداشت سے باہر ہوتی جا رہی تھیں۔ سارہ نے میرے دونوں ہاتھ کھولے اور بے اختیار میرے گال ہاتھوں میں لے کر میرا چہرہ پڑھنے لگی، وہ نہ صرف گاوں کے ماحول سے آگاہ تھی بلکہ جانتی تھی میرے وجود کی گھر میں کیا اہمیت ہے۔ کئی بار جی چاہا کہ چیخ چیخ کر بولوں کہ مجھے سوہنا نہیں سوہنی بولو، میں تم جیسا ہی تو ہوں، دل سے دعا کر رہا تھا کہ کاش میری گلٹیاں خود بول پڑیں یا ان میں سے کوئی محسوس کر لے،مگر ایسا نہ ہوا۔ بارہ ہاتھوں کی پر خلوص مجبوری مجھے سمیٹتی ہوئی پساری(کچن) کی طرف لے جانے لگی۔ اماں نے جلدی سے گرم دودھ کا پیالہ میرے سامنے رکھا۔ باقی ساری سمٹ کر کونوں میں بیٹھ گئیں اور مجھے دودھ پیتے دیکھتی رہیں۔ ان سب کو علم ہی نہ تھا کہ اب میں بھی ان کے ریوڑ کا حصہ بن چکا تھا۔ ابا ان کو اکثر ریوڑ ہی تو کہتے تھے۔ میں نے پیالہ منہ کو لگایا تو ایسے لگا جیسے سارا دودھ میری چھاتیوں میں بھرا جا رہا ہو، ہتھوڑے پھرسے ٹھک ٹھک برسنے لگے۔ صائمہ سے چھوٹی چوتھے نمبر والی سبین بولی "سوہنے تمہیں پتا ہے آج پھوپھو کوثر آئیں تھیں تھوڑی دیر کے لئے"۔ "ہاں بیٹا"، اماں اس کی بات کاٹتے ہوئے بولیں، "ابرار لوگ انگلینڈ سے آ رہے ہیں، کل یہاں پہنچ جائیں گے۔ پہلے ہماری طرف ہی آئیں گے"۔ سب سے چھوٹی حیا بھی میرے قریب بیٹھتے ہوئے بولی ۔امی اورسارہ نے باری باری ان کے سامنے روٹی اور سالن رکھا۔ کھانا کھانے کے دوران ساری ایک نوالہ روٹی کا توڑتیں اور دو بار میری طرف دیکھتیں، جس سے مجھے ایسے محسوس ہوتا جیسے میری چھاتیوں میں دودھ ابل رہا ہو۔

بستر بچھنے لگے تو گلٹیاں ممیانے لگیں۔ میں سب کی آوازوں میں اپنی آواز تلاشنے لگا، ساتویں کی آواز، مجھے ان سب سے ہمدردی ہونے لگی۔ ایک جملہ میرے سر پہ منٖڈلانے لگا، " ایک عورت ہی دوسری عورت کا دکھ سمجھ سکتی ہے" نیند میری آنکھوں سے ایسے دور تھی جیسے میں خود سے دور یا اماں ابا سے دور۔ یہ دوری میری شناخت پہ سوالیہ نشان تھی ۔ جسم کا کون سا حصہ تھا جس میں درد نہیں تھا۔ ایک ایک حصہ عورت ذات میں ڈھلتے محسوس ہونے لگا۔ سر کے بالوں سے لے کر ناخنوں تک سب کچھ جوں کا توں تھا مگر پھر بھی سب کچھ بدلتا ہوا محسوس کرنے لگا۔ مجھے ایسا لگا جیسے سوچ سوچ کے پاگل ہو جاوں گی۔ میں نے ہمت اپنی ماں سے سیکھی اور برداشت بڑی سارہ سے۔ اس نے ابا جیسے پلسئیے سے لڑتے لڑتے بی اے کر لیا تھا ۔ میں نے سوچا میں بھی انہی کے نقش قدم پہ چلوں گی۔ ایک دن سارے رشتہ دار اور محلہ دار میرے ابا سے بول اٹھیں گے" اقبال! تیری نئی بیٹی عاکفہ نے تو کمال کر دیا" اگر میں سب کو بول کے نہ بتا سکا تو لکھ کر ضرور بتاوں گی۔میں نے اسی وقت سوچا تھا، اور یہ بھی کہ بڑی افسر بن کر کوڈے لوہار کو جیل بھیج دوں گی۔ ہاں، ایک بات لکھنا بھول گیا کہ میں نے اس رات عہد کیا تھا کہ زندگی کے کسی موڑ پر اپنی ان کیفیات پہ کہانی ضرور لکھوں گی تا کہ میں اپنے احساسات لوگوں تک پہنچاوں۔ ویسے بھی مجھے کتابی کیڑا کہا جاتا تھا اور اس وقت بھی میری دو چار کہانیاں ’بچوں کی دنیا ‘میں چھپ چکی تھیں۔ خیر۔۔۔۔ سوچتے سوچتے میں مردوں کے سامنے شرمانے، گھر کے کام کاج، کپڑے دھونے، اور اپنے لئے کپڑوں کے ڈئیزائن سوچنے لگی۔ میرا قد بہنوں سے بڑا بھی نہیں تھا اس لئے کپڑوں کے بارے مطمعن ہو گئی۔ مسئلہ اس وقت پریشان کن ہو گیا جب ابرار لوگوں کی آمد کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ وہ میرا ہی ہم عمر تھا۔ پھپھو نسیم کا بیٹاجو امریکا سے آ رہی تھیں۔ ابرار کے سامنے کیسے جاوں گی؟ اس کے ساتھ کھیلتے مجھے شرم نہیں آئے گی؟ اگر اس کے ساتھ نہ کھیلا ،گھوما پھرا تو وہ کیا سوچے گا۔ وہ تو جب بھی کبھی یہاں آئے ہر وقت چاہتا کہ بس میرے ساتھ ہی رہے ۔ پہلے مجھے اس سے گفتگو میں صرف انگریزی کا مسئلہ ہوتا تھا مگر اب تو اس سے ہزاروں گنا زیادہ خطرناک واقعہ ہو چکا تھا۔ میں اسے کیسے سمجھا پاوں گی۔ اور کیا ،شاید وہ اب دوستی چھوڑ کر مجھ سے محبت کرنے لگے گا؟ ساری رات میں سوچتی رہی کہ میں اسے سارا کچھ بتا دوں گی، اگر زندہ رہی، اس لئے کہ کل ابا بھی آنے والے تھے۔ میری آنکھوں میں آنسو میرے گالوں پہ لکیریں کھینچتے رہے اور اس طرح مجھے نہیں معلوم ہوا کہ کل کا سورج کیسے طلوع ہو گیا۔ صبح میں ٖغسل خانے گئی تو یہ محسوس کیا کہ میں تو بدستور ویسا کا ویسا ہوں اور گلٹیاں بھی موجود ہیں بلکہ مزید بڑھ گئی ہیں۔ عجیب سی الجھن ہونے لگی، نہ میں مرد نہ عورت،شاید قربان چاچا ، سارا دن گھر میں تیاری ہوتی رہی اور میں کبھی عورتوں کی طرح کام کرتی کبھی مردوں کی طرح بھاری بھاری چیزیں اٹھا اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھتا جاتا۔ ہلکا پھلکا بخار سا بھی تھا لیکن میں ٹھان چکی تھی کہ زندگی کی آخری سانس تک قسمت سے لڑتا رہوں گا۔ سہ پہر تین بجے سے پہلے گھر چمک کے شیشے کی طرح صاف ہو گیا۔ جب ساری تیار ہو گئیں تو میں بھی آئینے کے سامنے گئی۔ اپنے آپ کو دیکھا۔ غور سے دیکھا۔ پاس ہی کسی کا دوپٹہ پڑا تھا جو مجھے تنگ کر رہا تھا۔ لیکن میں نے ہاتھ روک لئے مردانہ کپڑوں پر وہ کتنا عجیب لگتا۔ چار بجے کے لگ بھگ ابرار لوگ آ گئے، میں اسے دیکھنے کے لئے بے چین تھی یا بے چین تھا۔ عجیب صورت حال۔ آدھی کہانی آدھا افسانہ۔بار بار میرے ہاتھ چھاتیوں کی طرف بڑھتے مگر مجھے علم تھا سارے لوگ میرا مذاق اڑائیں گے۔ دروازے کے باہر گلی میں میں نے پھوپھو نسیم کو دیکھا، جب وہ میری اماں کو سلمی آپا کہتے ملنے کے لئے آگے بڑھیں تو میں نے دیکھا اپنے خوبصورت لباس میں کتنی پیاری لگ رہی تھیں۔ "میری ہونے والی پیاری ساس" ایک لمحے کو میرے ذہن میں یہ خیال ابھرا لیکن جلدی سے میں نے اسے جھٹک دیا۔ کوثر پھپھو بھی پہنچ چکی تھیں، انہوں نے مجھے اشارے سے بلایا اور بولیں "اپنے دوست سے ملو گے نہیں؟" میرے گال سرخ ہو رہے تھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں۔ ابرار نے جب میری طرف آنکھ بھر کر دیکھا تو میری تو جان نکل گئی۔ میرے قدم پیچھے کی طرف اٹھنے لگے۔ تا کہ بھاگ کے کمرہ بند کر لوں۔ لیکن یہاں کھڑا رہنا بھی ضروری تھا۔ایک دم گلی سے ایک ہیولا سا گزرا، کوڈا لوہار! درانتی بغل میں لئے اسی مکروہ ہنسی کے ساتھ مجھے دیکھتا گزرتا گیا۔"کیا مصیبت ہے" بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ "کیسی مصیبت سوہنے" پاس کھڑی سبین نے مہمانوں کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔ "کچھ نہیں" میں نے ہوش و حواس پہ قابو پاتے ہوئے جواب دیا۔ سبین کو کیا علم تھا کہ تین دن پہلے دیکھی فلم سوہنی مہینوال میرے اعصاب کو کیسے جکڑ رہی تھی۔ ابرار نے مجھے دیکھتے ہی ایک ہلکی سی سمائل دی جو مجھے کھڑے کھڑے کسمسانے پر مجبور کر گئی۔ اس کے ساتھ ہی وہ میری طرف قدم اٹھانے لگا، ہر قدم پہ میری سانس تیز ہونے لگیں۔ مجھے نہیں معلوم کیسے مگر میری آنکھیں خود بخود جھپکنے لگیں۔ شاید میں نے کسی ڈرامے یا فلم میں دیکھا تھا کہ اس صورت حال میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔ جب وہ میرے قریب آیا تو میں نے محسوس کیا کہ اس کا قد بھی میرے جتنا ہی تھا،ویسے بھی ہم دونوں ہم عمر ہی تھے۔جب وہ آگے بڑھ کر مجھے گلے لگانے لگا تو میں شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ بڑی احتیاط سے میں اسے گلے ملی کہ کہیں اسے کوئی گلٹی نہ چبھ جائے۔ اس کے بعد اس نے سلام کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ میرے ہاتھ تو پسینے سے تر تھے۔ سو جلدی سے اپنی رانوں سے دایاں والے کو صاف کیا اور بے بسی سے آگے بڑھا دیا ۔ مجھے اب بھی یاد ہے اس کے بعد ہم دونوں نے اس کا بیگ اٹھایا تھا اور میرے کمرے کی طرف چل دیئے تھے۔ اس نے بغیر کچھ کھائے پیئے جلدی سے اپنا بیگ کھولا اور میرے لئے خریدے سارے تحائف سامنے رکھ دئیے۔ میرا دل مرجھا گیا۔ ابرار نے بھی میرا یہ رویہ بھانپ لیا تھا۔ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا
" عاکف! تمہیں یہ گفٹس پسند نہیں آئے" کتنی اچھی پینٹ اور شرٹ ہے، میں نے خود خریدی، یہ دیکھو جاگرز، نائکی کے ہیں، اور یہ دیکھو ننجا ٹرٹل والا تمہارا سکول بیگ "

"مگر میرے کسی کام کے نہیں" میں نے مایوسی سے جواب دیا، اور بے اعتنائی سے چہرہ دوسری طرف کر لیا۔

"کیوں تم ناراض ہو مجھ سے؟" اس نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے پوچھا

"نہیں، ناراض تو نہیں، لیکن ایک بات کا آپ کو علم نہیں" میں نے سارے وجود کی ہمت اکٹھی کر کے اسے جواب دیا۔"

"وہ کیا"؟ اس نے وہیں سے کھڑے کھڑے پوچھا اور میری زندگی کا سب سے برا امتحان شروع ہو گیا۔ میری کھال ممیاتے شور سے اُدھڑنے لگی۔ سانسیں اکھڑنے لگیں اور ٹانگیں کانپنے لگیں۔ ایسی کشمکش کہ صدمے سے میرا وجود نڈھال ہونے لگا۔ یہ میری زندگی کے بڑے ہی عجیب غریب لمحات تھے۔ مجھے جب بھی وہ وقت یاد آتا ہے، پتا نہیں کیوں اب بھی اپنے وجود کی گپاوں کے اندر ایک زلزلہ سا محسوس کرتا ہوں۔ میں نے میں نے وہ کچھ کیا کہ اب سوچ کر ایک بڑا سا قہقہ لگا رہا ہوں۔

"ٹھہرو ، پہلے میں دروازہ بند کر لوں" میں نے تھوڑی دیرسوچتے ہوئے کہا،

"دروازہ بند کرنا ہے" وہ کیوں؟" وہ سراپا حیرت بنا مشکوک نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔

"اس لئے کہ کوئی دیکھ نہ لے" اب میں نے اس کی طرف مڑ کر مگر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، شاید میں اپنی تقسیم کے کرب سے تنگ پڑ گیا تھا جو اس طرح بیباک ہو گیا تھا۔ میں واقعی اس پہ یہ بھی ثابت کرنا چاہتا تھا کہ بے شک میری جنس تبدیل ہو رہی تھی، عورت بن رہا تھا مگر بزدلی کا طعنہ میرے لئے ہتک آمیز تھا۔دروازہ بند کرنے کے بعد میں نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولے، باہرخواتین کی آوازوں سے پورا گھر چہک رہا تھا۔ وہ حیرانی سے مجھے دیکھتا رہا،پھر اپنی چھاتیوں کی طرف اشارہ کر کے اسے کہا کہ اپنے ہاتھ یہاں رکھو،
"وٹ نان سینس" اس نے بے اختیار پیچھے ہٹتے ہوئے کچھ ناراضی سے کہا۔

"آپ رکھو تو سہی، دیکھو یہاں کیا ہے، مجھے کوئی بیماری لگ گئی ہے یا کچھ اور ہے۔" ۔ صدمے سے میری آواز رندھ گئی اسے شاید مجھ پہ رحم آگیا تھا۔ میں اس کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ اس نے میرا ماس کھینچا نہیں تھا صرف ہاتھ رکھے، اور گلٹیوں کو محسوس کرتے بولا" آئی سی"۔

"کیا؟" میں نے حیرت اور اضطراب سے پوچھا

" تم اس سے گلٹی فیل کر رہے ہو؟" اس نے سر سے پاوں تک میرا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔

مارے خفت کے میں تو خاموش۔کوڈے لوہار کی درانتی ہوا میں اچھلی۔

مگر وہ مجھ سے اپنے ہاتھ الگ کر کے جلدی جلدی اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا جس پہ میری بے چینی بڑھنے لگی۔ باہر ابا کی آواز سنائی دی تو دوسری آوازیں وہ چہکار مدھم پڑنے لگی جیسے سب کی پسلیوں میں درانتی چبھی ہو۔ مجھے پوچھے بغیر ابرار نے میرے ہاتھ پکڑے اور اپنی چھاتیوں پہ رکھتے بولا۔

"جسٹ فیل اٹ"۔

’’ہائیں ۔۔۔۔۔۔! یہ کیا؟‘‘ ٹھک سے درانتی کوڈے کے سر پہ لگی۔’’کیا ابرار بھی۔۔۔؟‘‘ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور پھر سے پسینے نکلنے لگے، مگر ابرار کو مسکراتے دیکھ کر ایک دم میرے سر پہ ایک اور ہتھوڑا لگا جس کی گونج سے ساری بھیڑیں بے بے، بے بے کرتی مجھ سے دور بھاگنے لگیں۔

Image: Yulonda Rios

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Niqaat

Niqaat

Quarterly Niqaat is highly regarded in literary circles as a literary magazine. Qasim Yaqoom founded it in 2006 and it is being published regularly.


Related Articles

کانچ اور پتھر

شہزادی کی سواری محل واپس جانے کے لیے دریا پر سے گزری تو لکڑہارے کے ٹکڑے پل پر بچھائےجا رہے تھے ۔

The Red Light of Hope

Anas Baqi The circular red light in front of me suddenly came to life, signaling to speeding drivers that they

Apocrypha

ابنِ مسافر:
کتاب حاصل کرلینے کے بعد چٹان کے نیچے خضر کا بحیثیت خضر وہ آخری دن تھا۔اُس روز کتاب پڑھنے کے بعد وہ لوگوں کے لیے خضر نہ رہا۔وہ کتاب پڑھ کے جیسے اُس نے اپنی موت کو دعوت دے لی تھی۔