گورکھ دھندہ

گورکھ دھندہ

دلدل کے ساتھ میرا رشتہ میری پیدائش سے پہلے کا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ میں پوری طرح سے جنم نہیں لے سکا تھا۔ میرا بہت سا حصہ ایک دلدل میں رہ گیا تھا۔ میں چاہ کر بھی اس سے لا تعلقی اختیار نہیں کر سکتا تھا۔ وہ ہمہ وقت میرا پیچھا کرتا رہتا تھا میں جتنا اس سے نکلنے کی کوشش کرتا اتنا اس میں دھنستا چلا جاتا۔ ایک لڑکے کے لئے اس کا دلدلی ماضی کافی بھیانک تجربہ ہوتا ہے۔ میں ایک سادہ سے دیہاتی گھر میں پیدا ہوا تھا۔ میں ایک گم صم اور اداس رہنے والا بچہ تھا جسے تاریکی سے ڈر لگتا تھا اور رشنی سے بیگانگی سی محسوس ہوتی تھی۔ میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ رات کو ہم سبھی صحن میں چارپائیاں ڈال کر سو جاتے تھے مگر مجھے بہت دیر تک نیند نہ آتی میں اندھیرے میں کچھ کھوجنے کی کوشش کرتا رہتا۔ کچھ سائے کچھ پرچھائیاں ہوتیں جن کے نقوش قدرے واضح ہوتے ذرا غور کرنے سے تصویر مکمل ہو سکتی تھی مگر میں قصداً ایسا نہیں کرتا تھا۔ میں اس خوف اور تجسس کو برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ رات صحن میں نامعلوم آوازیں گونجنے لگتی جو میری چارپائی کی داہنی سمت سے آیا کرتی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ کوئی کیچڑ بھری زمین میں تیز تیز قدموں سے چل رہا ہے۔ اس دھپ دھپ کی آوازوں کے ساتھ کچھ پسینے بھری آوازیں بھی ابھرتی تھی۔ جی ہاں کچھ آوزیں پسینے سے بھری ہوتی ہیں۔ ان کو سنتے ہی آپ اپنے وجود میں چپچپی سی گیلاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ کچھ ہاتھ بہت تیزی سے میری چارپائی کی پائنتی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ میں خوفزدہ نظروں سے ان کی سمت دیکھنے کی کوشش کرتا مگر مجھے کچھ سایوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا اور میں چارپائی کے ایک کونے میں دبک جاتا اور ان ہاتھوں کا اپنی چارپائی تک پہنچنے کا انتظار کرنے لگتا۔ یہ سنسنی بھر ا انتظار ایک خوف، اداسی اور بے چینی بھری لذت کا مرکب ہوتا۔ میں تیزی سے بھیگنے لگتا اور میرا اپنے دلدلی وجود سے رابطہ بحال ہونے لگتا۔ میری نیند کبھی پوری نہیں ہوتی تھی اور ہر صبح میں ایک تھکے ہوئے ٹیس اور تقریباًً بخار بھرے وجود کے ساتھ بیدار ہوتا۔ آہستہ آہستہ میرا رابطہ اپنے دلدلی وجود سے کم ہونے لگتا اور سورج نکلنے کے ساتھ ہی میرا رابطہ اپنے ادھورے وجود سے محض ایک تار جتنا باقی رہ جاتا۔ میں یہ تار کبھی نہیں توڑ پاتا تھا۔ دن میں ایسے کئی واقعات ہو جاتے جو میرے احساس کو کھنچتے ہوئے وہیں دلدلی زمین میں لے جاتے۔

دن میں میں گلیوں میں گھومتا، سکول میں دوستوں کے ساتھ کھیلتا اور فراموش کر دیتا کہ میں ایک دلدلی زمین کا باسی ہوں۔ میں چاہ کر بھی اپنے دوستوں کو اس راز میں شریک نہیں کر پاتا۔ دوپہر سکول سے آنے کے بعد میں تندور پر روٹیاں لگوانے جاتا۔ گرمی جھلستی ہوئی حبس بھری دوپہر ہوتی تھی۔ میرا سارا جسم پسینے سے بھر جاتا۔ میرے پاوں جوتے میں پھسلنے لگتے جو مجھے اس تکلیف دہ احساس کے قریب کر دیتا۔ کچھ دور چلنے کے بعد جب یہ پھسلن حد سے بڑھنے لگتی تو میں آٹے والا برتن ایک طرف رکھ دیتا اور جوتی اتار کے پاوں کو زمین پر رگڑ کر اس پر مٹی لگا دیتا۔ لیکن کچھ قدم چلنے کے بعد یہ مٹی پاوں کے پسینے سے مل کر چلنا مزید دشوار کر دیتی۔ چند قدم کا یہ فاصلہ صرف مجھے بوڑھا کر دیتا۔ میں نے کبھی کسی کو بتایا نہیں لیکن اکثر بے بسی کے عالم میں میری آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔ تندور پر عورتوں کا رش ہوتا۔ وہ عجیب گفتگو کر رہی ہوتی۔ میں ان کی گفتگو میں دلچسپی لینا چاہتا تھا پر میں اس سے لا تعلق رہتا۔ فضاء میں روٹی کی خوشبو، جلتی لکڑیوں کی بو، عورتوں کے پسینے کی بو، گیلے آٹے کی مہک اور مٹی کی خوشبو مجھے اداس کر دینے کے لئے کافی ہوتی تھی۔ میرا سارا دھیان اس برتن کی طرف ہوتا جس میں پانی پڑا ہوتا تھا جو تندور والی ہر روٹی بناتے وقت اپنے ہاتھوں پہ لگایا کرتی۔ کبھی کبھی اس کے پسینے کے چند قطرے بھی پانی میں گر جاتے تھے۔یہ دودھیا سا پانی ہمہ وقت چھلکتا رہتا۔ گھر پہنچنے تک میں اس پانی بھرے کٹورے اور تندور کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ میں یہ بھی سوچتا تھا کہ تندور میں جلنے کے بعد سوختہ لکڑیوں کو باہر کب نکالا جاتا ہو گا۔ میں ان لکڑیوں کو دیکھنا چاہتا تھا۔ گھر پہنچنے کے بعد میں عموماً نلکے پہ نہانے چلا جاتا۔ تندور کے بعد مجھے دوسری بڑی وحشت غسل خانے میں ہوتی تھی۔ غسل خانے کی اینٹوں بھری دیواروں میں جگہ جگہ بالوں کے گچھے پھنسے ہوتے تھے۔ کچھ بالوں کو میں نالی میں بہتا ہوا بھی دیکھتا تھا۔ جس سے مجھے بڑی گھن آتی تھی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میں نے کئی بار نالی سے بال نکال کر ان کو انگلیوں سے رگڑا بھی تھا۔ لیکن جلد ہی مجھ پر کراہت طاری ہونے لگتی تھی اور میں صابن سے مل مل کر ہاتھ دھوتا تھا پھر بھی ایسا لگتا تھا کہ وہ بال میرے ہاتھ سے چپک کر رہ گئے ہیں۔ میں نہانے کے بعد کافی دیر تک کسی کھانے والی چیز کو چھوتے ہوئے ڈرتا تھا۔ ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ میں نے غسل خانے کی اینٹوں والی درز وں میں سفید لفافے پھنسے دیکھے۔ جب میں نے ان کو اپنے گیلے ہاتھوں سے کھینچ کر باہر نکال کر پھیلا کر دیکھا تو اس پر نیم عریاں سی تصویر بنی ہوئی تھی۔ مجھ پر لذت بھر ا خوف طاری ہو گیا۔ جانے کیوں مجھے ایسا لگا جیسے دو آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔ میں کئی دن تک اس خوف میں مبتلا رہا جس نے میرا رابطہ میرے دلدلی وجود سے بحال رکھا۔ ایسا ہی سنسنی بھرا احساس مجھے تب بھی ہوا تھا جب میں نے اپنی گائے کے نوزائیدہ بچے کو چھوا تھا اور کچھ چپچپا سا میری انگلیوں سے چپک گیا تھا۔ میں نے چور نظروں سے گائے کی شرم گاہ کی طرف بھی دیکھا جس سے لیس دار خون ٹپک رہا تھا۔ اس کے بعد میں جب بھی دودھ پینے لگتا مجھے ابکائیں آنے لگتیں۔ امی کے بے حد اصرار اور ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود میں نے کئی سال تک دودھ پینا چھوڑ دیا تھا۔ تندور، غسل خانہ اور رات کی مثلث مسلسل میرے تعاقب میں رہتی۔ میں رات سسکیوں میں اللہ سے باتیں کرتا لیکن یکایک میرا وجود اسی دلدل میں اتر جاتا اور مجھے یقین ہو جاتا کہ خدا دلدل میں رہنے والوں سے اپنا رشتہ توڑ دیتا ہے۔ میں نے نماز پڑھنا بھی چھوڑ دی تھی۔ تندور کے راستے میں آٹے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے دبانا اور اس کی سنسی کو وجود میں محسوس کرنا میرا نیا مشغلہ بن گیا تھا۔ اسی طرح غسل خانے میں میں نے نئے مشاغل ڈھونڈ لیے تھے۔

ایک رات مجھے یوں لگا کہ میں چپ چاپ اپنے بستر سے اٹھا ہوں اور تندور کی طرف جانا شروع کر دیا۔ تندور کے اوپر ایک بڑی سی پرات پڑی تھی جس کو ہٹا کر میں اس تندور کے اندر اتر گیا۔ شاید میں دھڑام سے گرا تھا۔ ایسے میں مجھے لگا کہ کسی شخص نے اوپر سے پرات سے تندور کو ڈھک دیا ہے۔ خوف کی شدید لہر میرے پورے وجود میں دوڑ گئی ۔ میں چیخنا چاہتا تھا مگر یوں لگا کہ جیسے کسی نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر مجھے چیخنے سے روک دیا ہے۔اس کے بعد شاید میں بے ہوش ہو گیا تھا۔ جانے کتنے سال تک میں اسی طرح تندور میں پڑا رہا۔ بالاآخر میں نے پایا کہ تندور میں ایک سوراخ ہے جو شاید دھوئیں کے اخراج کے لئے بنایا گیا تھا۔ میں اس سوراخ سے لگ کر بیٹھ گیا۔ اب میں خوفزدہ نہیں تھا۔ آہستہ آہستہ مجھے اس سوراخ کی دوسری سمت سے آتی روشنی محسوس ہونے لگی۔ اس روشنی کو تکتے ہوئے کچھ اور عرصہ بیتا۔ پھر میں نے وہاں کچھ چہروں کو ابھرتے دیکھا۔ کافی عرصے تک تو مجھے لگا کہ یہ ایک ہی چہرہ ہے لیکن پھر میں ان میں فرق کو شناخت کرنے کے قابل ہو گیا تھا۔ یہ تین چہرے تھے پہلا شخص جس سے موٹا سا چشمہ لگایا ہوتا تھا اور مجھے ہمیشہ بہت پیار سے بلاتا تھا۔ اس کا ماتھا کافی کشادہ تھا سر کے آگے کے بال جھڑ چکے تھے اور آگے کا ایک دانت ٹوٹا ہوا تھا۔ یہ مجھے اوپر سے بسکٹ پھینکتا تھا جو میں ان چوہوں کو کھلا دیتا تھا جو مسلسل میرا پاوں کترنے میں مصروف ہوتے تھے یوں میں کچھ پل کو آرام حاصل کر لیتا تھا۔ دوسرا شخص جس نے سر پر ہیٹ پہنی ہوتی تھی عموماً سورج کی روشنی کے ساتھ ہی دہانے پر نمودار ہوتا تھا۔ یہ کسی اجنبی زبان میں گفتگو کیا کرتا تھا اور مجھے کچھ کاغذ اور نقشے دکھایا کرتا تھا جس پر عجیب و غریب علامات بنی ہوتی تھیں۔ نہ میں ان علامات کو سمجھ پاتا تھا اور نہ ہی اس کی زبان کا کوئی لفظ میرے پلے پڑتا تھا۔ مگر وہ بہت تحمل کے ساتھ مسلسل مجھے سمجھانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ تیسرا شخص سب سے آخر میں آتا اس وقت دن ڈھلنے والا ہوتا تھا اور انتہائی کم روشنی ہوتی اس لئے میں اس کے چہرے کے نقوش اچھی طرح سے دیکھ نہیں پاتا۔ یہ شاید اپنے ساتھ کوئی لالٹین بھی لاتا تھا جس کی پیلی پیلی روشنی میں مجھے اس کا چہرہ خوفناک لگتا تھا۔ یہ ایک بوڑھا شخص تھا جس نے بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں اور بات کرتے ہوئے اکثر کھانستا رہتا تھا۔ یہ کچھ دعائیں اور وظائف پڑھتا رہتا تھا جسے یہ مجھے دہرانے کا کہتا مگر یا تو یہ بہت آہستہ بولتا تھا یا اس کی آواز بہت کانپتی تھی اسی لئے ہمیشہ میں کوئی نہ کوئی جملہ دہرانے سے رہ جاتا۔

بہت عرصہ گزرنے بعد میں ان لوگوں کی آمد کا مقصد سمجھ گیا تھا۔ میں ابھی آپ لوگوں کو مکمل تفصیلات سے تو آگاہ نہیں کر سکتا مگر اتنا بتا دیتا ہوں کہ یہ لوگ ایک انتہائی اہم معاملے پر کام کر رہے تھے اور اس میں میری مدد چاہتے تھے۔یقین جانیے میں ہرگز بھی خبط عظمت کا شکار نہیں ہوں مگر انسانیت کی بقاء ہمارے منصوبے کی کامیابی سے مشروط تھی۔ ان تینوں میں سے پہلا ایک ڈاکٹر تھا، دوسرا سراغ رساں تھا جب کہ تیسرا ایک گورکن تھا۔ انہوں نے مجھ سے وفاداری اور رازداری کا حلف لیا اور کسی طرح سے مجھے اس تندور سے باہر کھینچ نکالا۔ باہر نکلنے کے بعد سب سے پہلے تو میرا سامنا تندو تیز روشنی سے ہوا۔ کافی دیر تک تو میری آنکھیں چندھیائی رہیں پھر جب میں دیکھنے کے قابل ہوا تو میں نے خود کو ایک وسیع و عریض دلدلی میدان میں پایا جہاں تاحد نگاہ قبریں ہی قبریں تھیں۔ یہ ایک عجیب قبرستان تھا جہاں کچھ عمودی تھی تو کچھ افقی، میں نے کئی کئی منزلہ قبریں بھی دیکھیں۔ تمام قبروں پر رنگ برنگ نقش و نگار بنائے گئے تھے۔ مگر کسی بھی قبر پر کوئی کتبہ نصب نہیں تھا۔ کچھ قبروں کے بیچ و بیچ اونچے اونچے ستون ایستادہ تھے۔ قبروں کی تعمیر میں مخصوص زوایے کو مد نظر رکھا گیا تھا اس طرح کے سورج کی روشنی تمام قبروں سے منعکس ہوتی ہوئی اور بڑا سا گول دائراہ بناتی تھی جو اوپر کو اٹھتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ پہلے گورکن نے مجھے قبرستان کی تاریخ سے آگاہ کیا کہ کیسے کچھ عرصہ پہلے تک یہاں پر صرف چند قبریں تھیں جو اب بڑھتے بڑھتے اتنی ہو گئی ہیں کہ گورکن کو بھی اس کی صحیح تعداد معلوم نہیں تھی۔ کیا ساری قبریں اس نے بنائی تھیں؟ میرے اس سوال پر اس نے اس حیرانی سے میری سمت دیکھا گویا یہ کہنا چاہتا ہو کہ کیا میں واقعی اس سوال کا جواب جاننا چاہتا ہوں۔ میں خاموش ہو کر رہ گیا۔ سراغ رساں نے مجھے بتایا کہ وہ اکثر سوچا کرتا تھا کہ ریس کے گھوڑے جب رات اصطبل میں باندھے جاتے ہیں تو وہ آپس میں کن امور سے متعلق گفتگو کرتے ہوں گے، اس سوال کی کھوج اسی اصطبل لے گئی اور اپنی اسی تحقیق کے دوران اس کو اس قبرستان کے متعلق معلوم ہوا۔ جب اس نے اپنی تحقیق کا دائرہ آگے بڑھایا تو وہ اس سازش سے آگاہ ہوا تھا۔ جب کے ڈاکٹر کی کہانی کچھ یوں تھی وہ انسانی بستیوں میں رہنے والے چوہوں کی نفسیات کے متعلق کچھ تجربے کر رہا تھا تو اسے چوہوں کی ایک نئی قسم سے آشنائی ہوئی۔ یہ چوہے بارش برسنے کے بعد اپنی بلوں سے نکلتے تھے اور پھر شہر شہر پھیل جایا کرتے تھے۔ ان کا آپسی رابطے کا میکنزم بہت جدید پیمانے پر کام کرتا تھا۔ جب اس قبیلے کے ایک چوہے کو تجربے کے لئے اس نے پہلے سے تیار کردہ ایک گورکھ دھندے میں چھوڑا تو چوہا بنا کوئی غلطی کئے کھانے تک پہنچ گیا۔ اس نے کئی گورکھ دھندے بدل کر دیکھے مگر چوہے کو کبھی بھی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس نے بالا آخر چوہے کو آزاد کر دیا اور ایک سراغ رساں کی مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ سراغ رساں نے اسے بتایا کہ وہ پہلے سے ہی اسی معاملے کی کھوج میں ہے۔ یہ سراغ رساں چوہے کے پیچھے پیچھے اس قبرستان تک پہنچا تھا۔ یہاں اس کی ملاقات گورکن سی ہوئی جو قبرستان کے گرد باڑ لگانے میں مصروف تھا۔ اس نے گورکن سے پوچھا کہ کیا وہ اس قبرستان کو انسانوں کی نظر سے اوجھل رکھنا چاہتا ہے۔ گورکن کا کہنا تھا کہ ایسا بالکل نہیں بلکہ اس نے قبرستان میں چوہوں کی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا ہے جس کے نتیجے میں قبرستان کے پھیلاو میں زبردست تیزی آ گئی ہے۔ یہ اتنا عجیب و غریب معاملہ تھا کہ اس نے گورکن کو چکرا کے رکھ دیا تھا۔

ان تینوں افراد نے جب چوہوں پر اپنی تحقیقات بڑھائیں، جن میں ان کی آپسی گفتگو کی ریکارڈنگ، ان کی حرکات و سکنات کے زاویوں کی پیمائش، ان کے داخلی پیچیدہ خاندانی معاملات کی چھان بین اور ان کے منفرد جنسی تجربات وغیرہ کو پرکھا گیا تو ان لوگوں پر اس سازش کی حقیقت آشکار ہوئی۔ اب انہیں ایک ایسا فرد چاہیے تھا جو دلدل کی خوشبو، اس کے زائقے اور لمس کو اچھی طرح سے پہچانتا ہو نیز اس کی چھٹی حس غیر معمولی طریق پر کام کرتی ہو ۔ یوں یہ مجھ تک پہنچے۔ ہم نے مل بیٹھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی پر کام شروع کر دیا تھا۔ میرا کہنا یہ تھا کہ باڑ لگانا مسئلے کا ہرگز بھی پائیدار حل نہیں۔ بلکہ ہمیں چوہوں کو دھوکا دینے کے حوالے سے کام کرنا ہوگا۔ یہ ایک مشکل کام تھا۔ ماحول میں زرا سی بھی تبدیلی چوہوں کی تیز حس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی۔ مگر اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا جو کچھ بھی کرنا تھا بہت جلد کرنا تھا۔ چوہوں نے کھلے عام قبروں کے اوپر اچھل کود شروع کر دی تھی۔ ہم نے قبرستان کے بیچوں بیچ ایک عظیم کائناتی گورکھ دھندے کے لئے کھدائی شروع کر دی تھی۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Asad Raza

Asad Raza

Asad Raza is an anthropologist. He is a researcher by profession and is interested in reading and writing stories.


Related Articles

فیصلہ

اسد رضا: میں اُس کے سوال پر مسکرایا اور سامنے سے اُٹھتی ایک لہر کی طرف دیکھا جو آہستہ آہستہ شوذب کے قدموں تک پہنچ چُکی تھی۔ اُس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ بات کچھ کچھ سمجھ چکا ہے۔

ایک عاشق نامراد کا ادبی شکوہ

کہانی کا کچھ تو انجام ہو جائے، دیکھو، کہانیاں کچھ ٹوٹی پھوٹی سی میں بھی لکھ لیتا ہوں، کوئی اوپر بیٹھا بھی لکھ رہا ہے، ان گنت کہانیاں، خوشگوار اور بھیانک کہانیاں۔

رُکی ہوئی زندگی

محمد حمید شاہد: اِس عادت نے شائستہ کے بَدن میں کسمساہٹ – بے قراری اور اِضطراب کی موجیں رَکھ دِی تھیں۔ وہ سارے گھر میں اِدھر اُدھر بکھرے تعطل کو باہر دھکیلتی رہتی