گڈ بائے مسٹر شفیق

گڈ بائے مسٹر شفیق
گورنمنٹ ہائی سکول میں بطور کلرک کام کرنے والے شفیق احمد آج بہت جلد جاگ گئے تھے۔ رات بھر وہ اس تذبذب کا شکار رہے کہ انہیں سو جانا چاہیے یا جاگتے رہناچاہیے۔ ہر بار جب وہ سونے کی کوشش کرتے تو انہیں محسوس ہوتا کہ وہ insomnia میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ انہیں اپنے محلے کا نصر نائی یاد آتا رہا جس نے ایک دفعہ ان کے سامنے اپنی حالت بیان کی تھی کہ وہ گزشتہ دس سال سے نہیں سویا۔ بالآخر اسی بارے میں سوچتے ہوئے کب انکی آنکھ لگ گئی انہیں پتہ ہی نہ چلا۔ محض دو یا تین گھنٹے سونے کے باوجود ان کے چہرے پر تھکن کے آثارتک نہ تھے اور نہ ہی ان کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ پرجوش اور مجبوری کے جگراتے میں جو فرق ہوتا ہے شفیق کھرل کو دیکھ کر محسوس کیا جا سکتا تھا۔

گورنمنٹ ہائی سکول میں بطور کلرک کام کرنے والے شفیق احمد آج بہت جلد جاگ گئے تھے۔ رات بھر وہ اس تذبذب کا شکار رہے کہ انہیں سو جانا چاہیے یا جاگتے رہناچاہیے۔
اٹھ کر جناب نے ایک دو الٹے سیدھے ہاتھ مارے جس کو وہ ورزش کہتے تھے، داڑھی بنانے کا سامان لیا اور غسل خانے میں گھس گئے۔ یہ ان کا معمول تھا۔ آدھ گھنٹے یا شاید پینتالیس منٹ بعد جسم کے گرد تولیہ لپیٹے ہوئے وہ باہر نکلے اور شیشے کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ الماری سے عطر نکالا جو ان کے ایک محلےدار خاص سعودی عرب سے لے کر آئے تھے۔ اس کو ہتھیلی پہ ملا اور ماؤزے تنگ کی طرز کے سلے ہوئے لباس پہ لگا دیا جو وہ پہننے والے تھے۔ اس سارے عرصہ میں وہ یہ سوچتے رہے کہ وہ پیدل سکول جائیں گے یا رکشہ لے لینا چاہیے۔

شفیق احمد کہاں سے آئے تھا کسی کو معلوم نہ تھا۔ پینتیس برس پہلے وہ اس سکول میں بطور جونئیر کلرک آئے تھے اور دوبارہ واپس نہیں گئے تھے۔ ان کے بارے میں افواہیں تھیں کہ ان کے ماں باپ بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے اور محلے کے امام مسجد نے ان کی پرورش کی تھی۔ پرورش کیا تھی کہ ہر شام انہیں بھگایا جاتا کہ ان کے لئے کھانا لایا جائے اور اس میں سے انہیں بھی ایک آدھ روٹی مل جاتی۔ اسی طرح رو دھو کر انہوں نے سکول میں داخلہ لے لیا اور آٹھویں پاس کر کے جونئیر کلرک بھرتی ہو گئے۔ انہوں نے جان بوجھ کر دوردراز کے علاقے کا انتخاب کیا کہ اس کربناک ماضی کے بھوت سے خود کو بچا سکیں۔ ایک افواہ یہ بھی تھی کہ ان کی شادی ہوئی تھی اور پہلی رات ہی ان کی بیوی انہیں چھوڑ کر بھاگ گئی تھی کہ ان کے سر میں بالچر تھا۔

یہ افواہیں سچ تھیں یا جھوٹ لیکن کسی نے کبھی ان سے ماضی کے بارے میں دریافت نہیں کیا اور کبھی بات چھڑتی تو وہ خوبصورتی سے ٹال دیتے۔

بالآخر انہوں نے پیدل جانے کا فیصلہ کیا اور سکول کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستہ بھر وہ اسی تصور میں گم رہے کہ آج جب وہ سکول میں داخل ہوں گے تو کس طرح ان کا استقبال کیا جائے گا. پرنسپل انہیں اپنے دفتر میں لے کر جائے گا اور کہے گا کہ شفیق صاحب آج آپ ہمارے مہمان ہیں، آپ نے جو کچھ ہم سب کے لئے کیا ہے ہم سب اس کے لئے آپ کے شکرگزار ہیں اور اسی طرح کے خیالات جو ایک عام شخص اپنے بارے میں سوچتا ہے کہ دوسرے اس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ آج وہ ریٹائر ہو رہے تھے اور وہ جو کچھ سوچ رہے تھے وہ ساری تیاریاں کبھی انہوں نے دوسروں کے لئے کی تھیں۔ کبھی کسی استاد کی ریٹائرمنٹ کا موقع ہو یا میٹرک کے لڑکوں کی الوداعی پارٹی، ایسے مواقع پر ان کا مقصد ان تقریبات کو یادگار بنانا ہوتا تھا۔ وہ اکیلے ہی اس طرح کے مواقع کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لیتے تھے۔ ان کے ماضی میں اس کے علاوہ کچھ بھی یاد کرنے کے قابل نہ تھا۔

راستے میں انہیں اپنا آپ بوجھ محسوس ہو رہا تھا اور ہر وہ ذمہ داری اور سرگرمی انہیں ندامت اور پچھتاوے کا پہاڑ لگ رہی تھی جو وہ پچھلے کئی برسوں سے سرانجام دیتے آئے تھے۔
وہ ابھی ایسا ہی سوچ رہے تھے کہ سکول آ گیا۔ چوکیدار کو دیکھتے ہی ان کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، رات کو انہوں نے چند ایک مخصوص الفاِظ یاد کر لیے تھے جو آج وہ وقتاًفوقتاً کہنے والے تھے۔ مثلاً آپ بہت مہربان ہیں۔ میں ہمیشہ آپ کو یاد رکھوں گا اور چند ایک اور اسی قسم کے جملے۔ سکول میں داخل ہوتے ہی انہیں جھٹکا لگا جب عین ان کے داخل ہوتے وقت چوکیدار نے اپنا منہ دوسری طرف موڑ لیا۔ اس عمل کو انہوں نے چوکیدار اور عموماً درجہ اول کے ملازمین کی فطری جہالت سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا۔ اندر داخل ہوتے ہی انہوں نے محسوس کیا کہ سب کچھ باقی دنوں جیسا تھا، اساتذہ اپنی اپنی کلاسوں میں جا چکے تھے اور پرنسپل آفس بھی خالی پڑا تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کسی ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہیں۔ اس سے ضروری کیا ہو سکتا تھا۔ انہوں نے سوچا اور دفتر کی طرف چلے گئے اور کرسی پر جا کر بیٹھ گئے۔ فراز نامی کلرک نے انہیں اداس بیٹھا دیکھ کر پانی کا گلاس دیا جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کر لیا۔ میز پہ بکھری فائلیں اور رجسٹر انہیں قبر کی مٹی محسوس ہو رہے تھے جو ان کی آدھی سے زیادہ زندگی کھا گئے تھے۔ انہوں نے کوشش کی کہ وہ اس کمرے سے باہر نکل جائیں مگر وہ کہاں جا سکتے تھے۔ اگر وہ نکل گئے اور پیچھے کسی کو یاد آگیا کہ آج تو ان کا آخری دن ہے اور آج ہی وہ کہیں چلے گئے ہیں تو یہ کتنی اداس کر دینے والی کیفیت ہو گی اور یہی کیفیت تو وہ ان لوگوں کے چہروں پر دیکھنا چاہتے تھے۔

اسی دوران چپڑاسی نے ہاف ٹائم کی گھنٹی بجا دی، وہ باہر نکلے اور سٹاف روم میں چلے گئے۔

سٹاف روم میں کوئی خاطر خواہ سرگرمی نہیں تھی۔ انہیں لگا کہ وہ منٹو کے افسانے والا منگو کوچوان ہیں اور سارے سٹاف نے ان کے ساتھ کوئی ہاتھ کر دیا ہے۔ ایک دو اطراف سے آواز بلند ہوئی کہ شفیق صاحب آج ہمیں چھوڑ جائیں گے اور یہ کہ ملنے آتے رہیے گا لیکن یہ سب سطحی تھا۔ اسی دوران میٹرک کا ایک لڑکا اندر داخل ہوا اور یہ جاننے کے بعد کہ کلرک کا اسکول میں آخری دن ہے ان سے ملا اور باہر نکل گیا۔

وقت گزرتا گیا اور چھٹی ہو گئی۔ شفیق صاحب نے بھی اب وہاں رکنا مناسب نہ سمجھا اور اپنے مکان کی طرف چل دیے۔ راستے میں انہیں اپنا آپ بوجھ محسوس ہو رہا تھا اور ہر وہ ذمہ داری اور سرگرمی انہیں ندامت اور پچھتاوے کا پہاڑ لگ رہی تھی جو وہ پچھلے کئی برسوں سے سرانجام دیتے آئے تھے۔

کمرے میں پہنچ کر جناب نے شرٹ اتاری جیسے دل پہ پڑے بوجھ کو لباس کے بوجھ سے ہلکا کر رہے ہوں، سگریٹ جلائی اور بستر پر اوندھے لیٹ گئے۔

تھوڑی دیر بعد وہ سب ایک قریبی سستے ہوٹل میں بیٹھے کڑاہی گوشت اڑا رہے تھے۔ اور وہ مسٹر چپس کی طرح ان کے بیچ بیٹھے سوچ رہے تھے کہ یہ سب کتنا شاندار ہے اور اس لمحے کے عوض پوری زندگی قربان کی جا سکتی ہے۔
ان کا دماغ آندھی کے بگولے کی مانند گھوم رہا تھا کہ دروازے پہ ہونے والی دستک نے ساری توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ "اب کون ہو سکتا ہے اور اب کسی کے آنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟"

انہوں نے سوچا کہ کوئی ہمسایہ ہو گا اور دستک دے کر چلا جائے گا مگر جب دستک ہوتے دیر ہو گئی تو چاروناچار اٹھے اور دروازہ کھولنے کے لئے آگے بڑھے۔ دروازہ کھولا اور سامنے نویں اور دسویں جماعت کے لڑکے سینوں پر ہاتھ باندھے ان کے منتظر کھڑے تھے۔

"تم سب یہاں؟" کلرک نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

آپ جلدی سے کپڑے پہنیں اور ہمارے ساتھ چلیں۔ لڑکوں نے ایک ساتھ کہا۔

"مگر کہاں؟" انہوں نے پھر پوچھا۔

"آپ چلتے ہیں یا آپ کو اٹھا کر لے جائیں؟" چند لڑکوں نے شرارت سے کہا۔

وہ اندر گئے اور شرٹ پہن کر باہر آ گئے۔

تھوڑی دیر بعد وہ سب ایک قریبی سستے ہوٹل میں بیٹھے کڑاہی گوشت اڑا رہے تھے۔ اور وہ مسٹر چپس کی طرح ان کے بیچ بیٹھے سوچ رہے تھے کہ یہ سب کتنا شاندار ہے اور اس لمحے کے عوض پوری زندگی قربان کی جا سکتی ہے۔ رائیگانی کا جو احساس ان پر سکول سے واپسی پر طاری تھا جلد ہی ان شرارتی لڑکوں کے قہقہوں میں تحلیل ہونے لگا۔
Junaid ud-Din

Junaid ud-Din

Junaid-Ud-Din has competed his BA hons. from GCU Lahore. He is a Pan Islamist Socialist and Freelance Journalist. He is mad about Russian classic literature, Anton Chekhov, Maxim Gorky, Ivan Tergenev, Fudor Dostoevsky and Leo Tolstoy are his inspirations to write. Orhan Pamuk,Mario Vargas Llosa and Naguib Mahfouz are among his favourites.


Related Articles

نولکھی کوٹھی-چوتھی قسط

علی اکبر ناطق: گاؤں میں پردے کا کوئی رواج نہیں تھا اس لیے مولوی کا گھر بھی گاؤں والوں کی طرح ہر لحاظ سے کھلا تھا۔نہ کسی کو تانک جھانک کی عادت تھی اور نہ ہی اس طرح کا ابھی خیال پیدا ہوا تھا۔ جو جب چاہتا ہر گھر میں اپنے ہی گھر کی طرح داخل ہو سکتا تھا۔

لوتھ

محمد حمید شاہد: بسین کے اِس معصوم اور بے ضرر حوالے کوبعد ازاں وقوع پذیر ہونے والے سانحوں نے ثانوی بنادیا تھا۔ اب تو اُس کی یادوں میں بسین کے اَندر بپھرے پانیوں کا شراٹا بہہ رہا تھا اور وہ ایک ایک منظر پوری جزئیات کے ساتھ دیکھتا تھا۔

سر بُریدہ خواب

اسد رضا: ایک دن میں گلی میں چل رہا تھا میں ہر دو قدم پر رک جاتا کہ میرا سایہ میرے ساتھ آ ملے لیکن وہ ہمیشہ کی طرح کسی انتظار میں پیچھے ٹھہرجاتا ایسے میں میرا دل کیا کاش شکر دوپہر ہو جائے اور دھوپ تمام سایوں کو نگل جائے اور یہ آنکھ مچولی ختم ہو۔