ہارون رشید کا ایک فرضی کالم

ہارون رشید کا ایک فرضی کالم

یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے بلاگ پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔

مزید فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کتاب کہتی ہے اسے تولا گیا اور وہ ہلکا نکلا۔ اب بھاڑے کے ٹٹو بولیں گے شکریہ راحیل شریف؟ الحذر الحذر۔

جنرل راحیل شریف نے فیصلہ سنا دیا۔ بیچ سمندر میں، ملاح اور بیچ جنگ میں سپہ سالار نہیں بدلا کرتے مگر فسوں خیز جنرل ادنیٰ انسان نہیں ہے۔
جنرل راحیل شریف نے فیصلہ سنا دیا۔ بیچ سمندر میں، ملاح اور بیچ جنگ میں سپہ سالار نہیں بدلا کرتے مگر فسوں خیز جنرل ادنیٰ انسان نہیں ہے۔ ماتھے پر ہاتھ دھرا اپنی دھن میں گھوڑے کو ایڑ لگائی کہ کپتان کا برقی پیغام ملا کہ آن پہنچو۔ بنی گالا پہنچا۔ کپتان پسینے میں شرابور، ورزش کے لیے مخصوص لباس میں ملبوس کسی معصوم جنرل کی طرح لگ رہا تھا۔ اس کے لانبے چہرے سے پسینے کے قطرے گر رہے تھے۔ ایسے سادہ اطوار کا بھانڈ مذاق اڑاتے تھے۔ اللہ کی پناہ ایسے ایسے لوگ، جن کو پیسے سی آئی اے سے ملتے ہوں ان کا اس ملک سے کیا واسطہ؟ کپتان نے مجھے دیکھ کر کہا، ہارون تم کیا کہتے ہو میں بھی جنرل کی طرح، تحریک انصاف کی صدارت کی توسیع نہ لوں؟ برق سی لپکی ذہن میں کہ خان تو تاحیات پارٹی کا چئیرمین ہے مگر ایسا سادہ کہ یہ بھی نہیں معلوم؟ ایسے سادہ لوح کو عوام موقع نہیں دیتی، جو دیسی مرغی کھاتے ہوئے، سالن سے اپنی آستینیں بھگو دے اور شریفوں، زرداریوں، مولانا اور اسفند یار ولیوں کو سر پر بٹھائے رکھتی ہے۔ اسی اثنا میں سفید لبادے میں ملبوس، باوردی ملازم دلکی چال چلتے گھوڑے پر جوس اٹھا لایا، سوچا کپتان نے یہ میزبانی کب سیکھی؟ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کپتان نے گلاس لیا اور غٹاغٹ جوس چڑھا گیا۔ کپتان نے پھر سوال داغا۔ بے اختیار پرویز رشید یاد آیا، اللہ اللہ ایسے ایسے لوگ وزیر اعظم نے وزیر رکھ چھوڑے ہیں جن کو کوئی منشی بھی نہ رکھے۔ ایک خواجہ صاحبان ہیں جن کی گھٹی میں فوج سے نفرت ہے۔ الحذر الحذر
خان کا چہرہ یکدم سرخ ہو گیا۔ لگا کہ جواب نہ ملنے پر خفا ہے، اچانک دیکھا تو صلاح الدین ایوبی اس کی پشت سے سفید گھوڑے پر لپکے چلے آتے ہیں۔ وہ پاس آئے گھوڑے کی لگامیں کھینچیں، حکمت یار کا ای میل پتہ مانگا اور یہ جا وہ جا، میں ہکا بکا، درویش یاد آیا وہی ملائم انداز کہ دلوں کو موہ لے۔

بھاڑے کے ٹٹو کے اب اپنی نفرت آمیز لہجے والی زبانیں سکوڑے بیٹھے ہیں کہ جنرل نے توسیع نہیں لی، پوری داستان اس خاکی اخبار نویس کو معلوم ہے، کسی دن سب بیان کر دی جائے گی۔ برخوردار، بلال الرشید کا زکام صاف کر رہا تھا کہ فسوں خیز، سپہ سالار، صابر کیانی کا مژدہ آیا۔ کوندا سا لپکا کہ دو عشرے ہوتے ہیں، سرخ فوج کو دھول چٹا دینے والے مرد مومن، صلاح الدین ایوبی، ضیاء الحق نے بھی اسی طرح بلا بھیجا تھا صاف انکار کیا۔ ایسا چمکیلی سنہری دھوپ والا دن دیکھتا ہوں کہ ایک ہیلی کاپٹر اڑا چلا آتا ہے، میرے غریب خانے کے سامنے اترتا ہے۔ اندر سے روسیوں کی روح چٹخ دینے والا سادہ مگر چمکیلی آنکھوں والا باوردی جنرل، سفید گھوڑے پر سوار نکلتا ہے۔ سر پٹ دوڑتا گھوڑا میرے سامنے آن رکتا ہے جب جنرل اس کی لگامیں کھینچتا ہے۔ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے کہ آج اس کا کوئی نام لیوا نہیں ہے؟

ایسے سادہ لوح کو عوام موقع نہیں دیتی، جو دیسی مرغی کھاتے ہوئے، سالن سے اپنی آستینیں بھگو دے اور شریفوں، زرداریوں، مولانا اور اسفند یار ولیوں کو سر پر بٹھائے رکھتی ہے۔
فوجی مستقر پہنچتا ہوں۔ سپہ سالار، کیپسٹن سگریٹ کی ڈبی سے سگریٹ نکالنا چاہتا ہے مگر سگریٹ ندارد، اپنی دھن میں مگن، سوچتی کھوجتی آنکھوں والا، سپہ سالار جس پر بھاڑے کے ٹٹو بہتان لگاتے ہیں وہ جاہل لاعلم ہیں۔ میں نے برخوردار مامون الرشید کو کہا کہ کالے گھوڑے کو ایڑ لگاؤ اور نکڑ والے کھوکھے سے، کیپسٹن سگریٹ کا پیکٹ اٹھا لاؤ۔ سپہ سالار ایک صابر انسان ہے۔ دو لفظوں میں پوری کہانی کہہ دیتا ہے۔ مگر وہ سوچنے والا ہے۔ دشنام طرازی کرنے والوں پر خاموش رہتا ہے۔ بہتیرا کہا کہ اپنی کہانی لکھ دیجیے مگر جواب فقط سحر انگیز خاموشی۔
ہاں کہہ دیں بھاڑے کے ٹٹو،گز گز زبانوں سے کیچڑ اچھالنے والے اور دشنام طرازی کرنے والے شکریہ راحیل شریف کہ اعلیٰ خاندان کے سرخ و سپید فسوں خیز سپہ سالار کو بیچوں بیچ لگامیں نہ کھنچ دینی چاہیے تھیں۔ ابھی ضرب عضب جاری ہے اور جنگ کے درمیان کمانڈر نہیں بدلا کرتے مگر خود دار سپہ سالار توسیع کو لے کر جاری زہریلی تنقید اور دشنام طرازی پر رنجیدہ خاطر تھا۔ دل چاہا کہ جنرل کو گوجر خان عارف کے پاس لے چلوں جس سے روز ہزاروں فیض پاتے ہیں۔ پھر سوچا کہ گنوار ہوں درویش کو کتنی ہی بار مصیبت میں ڈالا۔ اللہ کی پناہ کیسے کیسے گنوار لوگوں کو درویش پناہ دیتا ہے۔ وہی تاریک کمرہ، وہی روشن چہرہ، اس چڑیا والے تجزیہ نگار کی طرح نہیں جو امریکی آشیر باد اور مالی امداد پر چلتا ہے۔ بھاڑے کے ٹٹو۔۔۔ کیسا بدنصیب ہے یہ ملک کہ زرداریوں، شریفوں، چوھدریوں کے نرغے میں پھنس گیا۔ الامان الحفیظ۔

کتاب کہتی ہے اسے تولا گیا اور وہ ہلکا نکلا .اب بھاڑے کے ٹٹو بولیں گے شکریہ راحیل شریف؟ الحذر الحذر۔
Saqib Malik

Saqib Malik

Saqib Malik is a writer who pours his heart out. He tries to portray the truth. He writes about politics, cricket, media and religion. Read him: http://www.archereye.tk/


Related Articles

خواہ مخواہ

سنا ہے وہ شہنشاہ آج کل پھر اپنے سیاسی حریف، پیر سیاست کی بیعت کر چکا ہے جس کے مشوروں کے برعکس شہنشاہ نے سپہ سالاروں کو ناراض کیا

جنتی وصال

لیفٹننٹ جنرل (بظاہر ریٹائرڈ) حمید گل سے شاید اپنے شاگرد مُلا محمد عمر مجاہد کی ناگہانی موت (کے انکشاف) کا صدمہ برداشت نہ ہوسکا اور انہیں اپنے ہم خیال دوستوں سے ملنے کے لیے اس دنیا سے کوچ کرنا پڑا۔

Paris Attacks: In Defense of Secularist Principles

Months after the Charlie Hebdo incident, ISIS is using fear to polarise communities in the West, to mirror its own twisted vision of ideological purity, where like medieval times, your faith is your uniform on the battlefield.