ہاں،یہ بھی روشنی ہے!

ہاں،یہ بھی روشنی ہے!

کچھ نہیں بدلا۔سب کچھ بدل گیا۔اس محل میں اس نے انتیس برساتیں گزاری تھیں۔بارہ سال بعدمحل پر پہلی نگاہ پڑی تو لگا کہ کچھ نہیں بدلا،دوسری نظر سے معلوم ہوا، کچھ پہلے جیسا نہیں۔کتنی برساتیں گزریں تب کہیں جاکر دوسری نظر حاصل ہوئی۔ بوڑھے باپ کی التجا اسے محل میں لائی تھی۔باپ سے دیکھا نہیں گیا کہ شاہی قبیلے کا وارث اپنی رعایا کے دروازے پر کھڑا ہو۔باپ نے بیٹے کو دیکھا۔سمجھا پھر بھی نہیں،بیٹااس کا وارث نہیں۔ بیٹے نے وراثت کا اصول بدل دیا تھا۔باپ، بیٹے کو نام دے سکتا ہے، وراثت بیٹاخود بناتاہے۔راجہ کا بیٹا، راج کوگردکی طرح جھاڑ دیتاہے، اور ننگے پاؤں چلتے ان زمانوں میں پہنچ جاتا ہے، جہاں کی خبر بھی باپ کو نہیں ہوتی۔وہ اپنا حسب نسب نئے سرے سے ترتیب دیتا ہے۔باپ اور اس کے پرکھوں کا شجرہ الگ ہوجاتاہے۔

اس کو محل کی سیر کی ہو س نہیں تھی۔وہ جہاں چاہتا سیر کے لیے جاسکتا تھا۔محل میں اس کی نظریں سیکڑوں لوگوں پر پڑ رہی تھیں۔وہ سب اسے تعظیم و پرستش کے جذبات سے دیکھ رہے تھے،مگراس وقت اس کی نظریں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ رفیق خاص نے پہلی بار اس کی آنکھوں کو بے چین دیکھا تو پریشان ہوا۔وہ سمجھ گیا۔رفیق خاص سے کہا:سنو،ایک بے چینی ایسی بھی ہے جوصرف یاددلانے کے لیے ہے کہ وہ اب بھی آدمی ہے۔آدمی ہونا ایک بات ہے، اور آدمی رہنا دوسری بات ہے۔رفیقِ خاص نے عرض کی،آدمی رہنا بڑی بات ہے۔

سب اشارہ پاکر رخصت ہوئے۔

وہ دونوں،اسی کمرے میں ہیں، جس میں اس نے چند گھنٹو ں کے بچے اور اپنی ہم عمربیوی کو چھوڑ کروفادار غلام کے ساتھ جنگل کا راستہ لیا تھا۔کیا میں اس کے دل کو پڑھ سکتا ہوں؟ اس نے سوچا۔وہ جہاں چاہتا تھا،چھن بھر میں پہنچ جاتا تھا۔وہ خود کو ہزاروں صورتوں میں،سب کی صورتوں میں ڈھال سکتا تھا، وہ آدمی سے بڑھ کر تھا،اس کے پاس وہ ساری روشنی تھی،جو آدمی میں ظاہر ہوسکتی ہے،اور جسے آدمی کی ہستی سہار سکتی ہے۔کیاوہ اس روشنی کے ساتھ،عورت کے دل میں اتر سکتاہے؟ اس نے ایک لمحے کو سوچا۔

تم چپ کیوں ہو؟ کچھ بولو۔
اس نے آنکھیں اس کے چہرے پر ٹھہرادیں۔ لو پڑھ لو۔
وہ اس کے دل میں تھا۔گزرے عالم کی سیر کرنے لگا۔

جب تم اس رات رخصت ہورہے تھے،ایک عجب بے قراری تمھارے قدموں میں تھی۔ تم تین مرتبہ کھڑکی تک گئے،باہر جھانکا،قدم آگے کیے،پھرواپس آئے۔ میرے پیروں کو پہلے چھوا،پھر ان پرپلکیں رکھیں،پھر ہونٹ رکھے۔تپش،نمی،مہک،لرزش،کچھ دوسری ان کہی چیزیں پاؤں کے راستے میرے دل میں اتر گئیں۔میرے پیروں پر ہونٹ تم نے رکھے،زمین میں،مَیں گڑ گئی۔تم نے میرے گال یا ماتھا یا ہونٹ اس لیے نہیں چومے کہ کہیں میں جاگ نہ جاؤں۔ تم بارہ سالوں میں یہ تک نہ جان سکے کہ میں تمھیں آنکھوں سے زیادہ،تمھارے بدن کی خوشبواور بدن کے گرد روشنی کے ایک ہالے سے پہچانتی ہوں۔۔۔۔جانے تم کس روشنی کو ڈھونڈنے گئے تھے۔۔۔۔تم جوں ہی کمرے میں داخل ہوئے تھے، میں نے تمھاری خوشبو محسوس کرلی تھی،حالاں کہ میں اس رات نڈھال تھی،اور خود اپنے جسم سے اٹھتی ایک اور طرح کی مہک محسوس کررہی تھی۔ تم نے سمجھا تم نے مجھ سے معافی مانگ لی،انتظار نہیں کیا کہ میں بتاسکوں کہ مجھ میں معاف کرنے کی سکت ہے بھی یا نہیں۔شاید تمھیں عورت کی استعدادکا خیال بھی نہیں آیا۔ یہ کیسی معافی تھی؟ تمھارادھیان میری طرف تھا کب؟ تم نے پالنے میں سوئے ننھے کو بارباردیکھا،جس کے آنے کا ہم نے بارہ سال۔۔۔پورے بارہ سال۔۔۔۔ہم دونوں نے انتظار کیا۔جب وہ آیا تو تم اسے بارہ گھنٹے بھی نہ دیکھ سکے۔تم نے ثابت کیا،منش کے لیے دنیا ہے،ناری کے لیے منش اور اس کا دیا ہوا تحفہ یعنی بچہ۔ایک نیا منش، جو کوکھ سے سیدھا چھاتی پر آجاتا ہے، پھر سینے میں۔ وہ ایک نئی قید میں آجاتی ہے۔ منش نہیں دیکھتا۔۔۔منش کچھ نہیں دیکھتا کہ کوکھ اور چھاتیاں سوکھتی ہیں تو عورت پر کیا گزرتی ہے،وہ تو دنیا کے لیے نکل چکا ہوتا ہے۔ اس کے دل میں ساری دنیا کے راز جاننے کا جنون ہوتا ہے،نہیں ہوتا تو عورت کے دل کو جاننے کا جنون۔وہ عورت کے دل کوجیتنے،اور آگے بڑھ جانے سے پرسن ہوتاہے۔
وہ دونوں اپنے کمرے میں تھے۔

تم وہ نہیں ہو، کوئی اور ہو۔تم کیسے اس دل کو پڑھ سکتے ہو؟تم پرائے بن گئے ہو۔تمھیں کہاں معلوم ہوگا،میں نے چھ سال تک تمھارے پل پل کی خبر رکھی۔ تم ایک جنگل سے دوسرے جنگل میں گئے، ایک کے چرنوں میں بیٹھے، دوسرے کی بندگی میں پیش ہوئے۔سب کو چپ چاپ چھوڑا، اور آگے چلتے رہے۔تم نے بھوک پیاس کاٹی، بھوگ بلاس ترک کیا۔ بدن سو کھ کر کانٹا بن گیا، مانو یہ کانٹا میرے دل میں چبھ گیا۔اس کے بعد کی مجھے خبر نہیں۔ میں سوچتی تھی،تم ضرور واپس آؤ گے۔مجھے خود معلوم نہیں،مجھے یقین کیوں تھا۔شاید اس لیے کہ میں اس زندگی کو دھیان میں بھی نہیں لاسکتی، جس میں تم نہ ہو۔تم آئے ہو،پر کوئی اور بن کر۔ میں غلط سوچتی تھی،مجھے کہاں خبر تھی کہ جو سدھار جاتاہے،وہ واپس نہیں آتا۔وہ آتابھی ہے تو اور بن کر آتاہے۔

یہاں بیٹھو، میں تمھیں سمجھاتا ہوں۔اس نے اشارے سے بلایا،اور کہا:نہ میں وہ ہوں،نہ تم وہ ہو۔
کیا میں تمھارے بچے کی ماں نہیں ہوں؟

تم میرے ہی بچے کی ماں ہو، مگروہ نہیں ہو، جو پہلے تھیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم وہی ہیں جو بارہ سال پہلے تھے،یہ دھوکا ہے،ایک بھول ہے،اور اس بسواس کا نتیجہ ہے کہ ہم سدا موجودتھے،اور سدا موجود رہیں گے۔
میں تو وہی ہیں،مگر تم واقعی بدل گئے ہو۔اس نے اپنی آواز میں اعتماد پیدا کرتے ہوئے کہا۔
اچھی بات ہے کہ تم مجھے پہچاننے لگی ہو۔خود کو بھی پہچان جاؤ گی۔ کوئی شے دائم نہیں،مگر دائم ہونے کا مسلسل دھوکا دیتی ہے،یہ گیان کی طرف پہلا قدم ہے۔

سب لوگ تمھیں سب سے بڑی آتما کہتے ہیں،تمھاری پرستش کرتے ہیں، میں تو پہلے دن سے تمھاری پوجا کرتی تھی۔میں نے سب سے پہلے تمھیں پہچانا تھا۔اس نے پرتیت سے کہا۔

آتما؟ کون سی آتما؟ آتما دھوکاہے۔ آتما ہوتی تو تم یوں نراش ہوتیں؟ آتما ہوتی تو میں اس طرح مارا مارا پھرتا؟
تم بدل گئے ہو، یہ تو تمھارے ان گیروے کپڑوں،ننگے پاؤں،ہاتھ میں کاسے ہی سے ظاہر ہے،مگر تم کاٹھ کے بن جاؤ گے،اس کا مجھے بسواس نہیں ہورہا۔اس کا دل جیسے زخمی تھا۔

اِس پراُس نے خاموشی اختیار کی۔ اس کا چہرہ اب بھی مطمئن تھا۔ اس نے پہلی مرتبہ کمرے کی دیواروں کو دیکھا، اس کھڑکی کو دیکھا،جہاں سے وہ اس رات روانہ ہوا تھا۔ڈھلتے سورج کی زرد کرنیں کمرے کی دیواروں پر پڑرہی تھیں۔کمرہ پہلے ہی کی طرح تھا۔اسے کچھ راتیں یاد آئیں،لیکن رات میں پرچھائیوں کی طرح گزرگئیں۔ اْس نے،اِس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔اسے وہ پھول یاد آئے جنھیں وہ باغ میں بیٹھ کر دیکھا کرتا تھا،ایک لمحے کو کھلے ہوئے،روشن،حسین نظر آتے،اگلے لمحے مرجھاجاتے،اس سے اگلے سمے زمین پر سوکھی زرد پتیاں ہوتیں۔ عورت کا چہرہ بھی پھو ل ہی ہے۔ عورت کا جسم بھی پھول ہے۔ مرد کا جسم بھی پھول ہے۔ اس جہالت کے دور ہونے میں وقت لگتا ہے کہ پھول کا کھلنا، اس کے مرجھانے کی طرف اس کا سفر ہے۔ہر ابتدا، اپنے انت کی طرف بڑھتی ہے۔
تم دنیا کے بڑے بڑے سوالوں کے جواب دیتے ہو، مجھے ایک سوالی سمجھ کر ایک سوال کے جواب کی بھکشا دے دو۔
پہلی بار اس کے دل میں جنبش سی ہوئی۔
پوچھو۔

تمھارے پاس روشنی ہے جو سب کی جہالت دور کرتی ہے۔کیا میرے دل کااندھیرا دور نہیں کرسکتی؟
تم نے صحیح سوال پوچھا۔صحیح سوال،صحیح راستے کی طرف قدم ہے۔
وہ ڈرتے ڈرتے آگے بڑھی۔اس کے ہاتھ کو چھونا چاہا۔اُس نے روک دیا۔وہ تڑپ اٹھی۔میرے صحیح قدم کو تم نے کیوں روک دیا؟ کیا میرا صحیح
قدم،تمھارے صحیح راستے سے ٹکراتاہے؟

تم ہر سوال پوچھو۔پر قدم اٹھانے سے پہلے صحیح راستہ چنو۔صحیح راستہ یہ ہے کہ تمھارے دل کا اندھیرا میں دور نہیں کرسکتا۔ہاں، تم خود چاہو تو دورکرسکتی ہو۔اس نے کمرے کے ننگے فرش پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

اِس مرتبہ اُ س نے،اُس کے پاؤں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔بنتی کی،مجھے اپنے دل کااندھیرا دور کرنے سے نہ روکو۔پاؤں پر مٹی جمی تھی،اس کا جی چاہامٹی کا ایک ایک ذرہ پہلے ہاتھ کی لکیروں میں جذب کرے،پھر یہ ہاتھ وہ اپنی آنکھوں کو لگائے،پھراپنے بدن پر پھیرے۔اسے ایک لمحے میں یقین حاصل ہوگیا کہ صرف ایک پل میں معجزہ ہوسکتاہے، وہ دوبارہ جی سکتی ہے۔سالوں سے سوکھی کھیتی،بس پل بھر میں ہری ہوسکتی ہے۔ اس نے لمبی پتلی انگلیوں والے سوکھے پاؤں سے ہولے ہولے مٹی کی تہ ہٹائی۔لمس کاایک تیز سیل اس کے سارے بدن میں سرایت کرگیا۔ہلکی سی روشنی پھیلی۔اندھیرا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔پرندے پہلے پھڑپھڑائے،پھر چہکنے لگے۔سارے میں تازہ پھول کھل اٹھے۔سویا ہوا شہر جاگ پڑا۔اس نے سہج سہج دونوں پاؤں پہلے ہاتھوں سے صاف کیے،پھر دھوئے۔اس نے ان کھردرے پاؤں پر آنکھیں رکھ دیں۔آسمان پر تارے اگ آئے تھے۔کمرے میں مشعل جلادی گئی تھی۔

اس نے پاؤں کو ذراسی جنبش دی۔

جب تم پاؤں پراپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیرتے ہوئے،اپنے بدن کے شہر کو جاگتے ہوئے محسوس کررہی تھیں تو جو روشنی پھیلی تھی،وہ میں تھا، جو پرندہ چہچہایا تھا، وہ میں تھا، جو پھول کھلے تھے،وہ بھی میں تھا۔تم اپنے بدن میں لمس کے جس دھارے کو محسوس کررہی تھیں،وہ بھی میں تھا۔ تمھیں جاننے میں وقت لگے گا کہ تمھارے دل کا اندھیرا اس وقت تک دور نہیں ہوسکتا،جب تک میں تمھارے اندر ہوں۔

میں تمھیں اپنے دروازے کی چوکھٹ سمجھتی ہوں،اور تم خود کو میرے راستے کا پتھر کہتے ہو؟وہ نہیں چاہتی تھی کہ اتنی مدت بعد جاگنے والا شہر دوپہر بھی نہ دیکھے۔
ہر دوسرا، راستے کا پتھر ہے۔تم اپنی روشنی کو خود آکارکرو۔

میں خود کو دوسرا سمجھتی ہوں،اور تمھیں اپنی روشنی محسوس کرتی ہوں۔مجھے میری روشنی سے کیوں دور کرتے ہو؟
تم بھول کا شکار ہو،اس بھول کا،جس کا آغاز تمھارے جنم سے ہوا۔ اسی جنم میں اپنی بھول ختم کرو۔ تمھارے بدن کا شہر کئی سالوں بعد جاگا ہے،تم اس کی سب آوازوں کو سننا چاہتی ہو۔ سنو، ہر آواز شروع ہوتے ہی،اپنے انت کی طرف سفر کرتی ہے۔ہر صبح جب دوپہر کی طرف بڑھتی ہے تو پہلے صبح کا زوال ہوتا ہے،پھر دوپہر کا۔بے بس کر دینے والے لہو کی تپش ٹھنڈی ہوکر رہتی ہے۔کوئی آگ سدا نہیں جلتی۔ہر آگ جلنے بجھنے، شعلے سے راکھ ہونے کا سلسلہ ہے،اور یہ سلسلہ دکھ دیتا ہے۔ تم مجھ میں اپنی روشنی نہیں دیکھ رہیں، اپنا دکھ دیکھ رہی ہو،مگر نہیں جانتی ہو۔اس نے کھیم کے کہانی دہرائی۔ اس نے دیکھا، اس کے سامنے وہ خود کھڑی ہے،ایک موہنی بچی کی صورت، تھوڑی ہی دیر میں خوبرو لڑکی، اگلے چند لمحوں میں کہن سال عورت، پھر لاٹھی ٹیکتی بورھی عورت۔کیاتمھاری آنکھوں پہ بندھی پٹی اب بھی باقی ہے؟ اس نے فتح مندی کے احساس کے ساتھ سوال کیا۔
اس نے سوچا،اگر وہ آج بھی نہ کَہ سکی تو کبھی نہ کَہ سکے گی۔

تمھیں یہ کیوں گھمنڈ ہے کہ تمھارا گیان مکمل ہے؟ تمھارے گیان میں صرف تم ہی تم ہو،کوئی دوسرا نہیں۔ تم نے بارہ سال جنگلوں میں گزارے۔ میں نے بھی بارہ سال اس قید خانے میں گزارے، کاٹھ کی طرح نہیں۔ تم نے اپنے لیے ساری کائنات کو چن لیا، مجھے اس محل کے بندی خانے میں ڈال دیا۔ تمھیں خیال آیا کہ جس سفر پر تم نکلے تھے، اس کی آرزو مجھے نہیں ہوسکتی تھی؟تم بھی یہ سوچتے تھے کہ عورت میں آتما نہیں ہوتی؟ کیا تنہائی میں عورت پراس بات کی یلغار نہیں ہوتی کہ دنیا میں دکھ کیوں ہے،بڑھاپا کیوں ہے، موت کیو ں ہے؟ تم اپنی کھوپڑی کو میری کھوپڑی سے بڑاسمجھتے ہوگے،مگر تمھارا دل،میرے دل سے بڑا نہیں ہے۔تمھاری کوکھ ہوتی تو پھر بھی جنگل جاتے؟کوکھ بھی سوچتی ہے۔تم ہر زمانے میں،ہر جگہ،کوئی بھی صورت اختیار کرکے جاسکتے ہو۔تم اس زمانے میں بھی گئے ہو،جب تم اپنی ماں کی کوکھ میں قوس بنے ہوئے تھے؟ میں تمھیں بتاتی ہوں کہ کوکھ بھی سوچتی ہے،اور وہاں موجود جیو بھی سوچتا ہے۔باہر آکر سب بھول بھال جاتاہے۔جانتے ہوجیو کیاسوچتا ہے؟ وہی سوچتا ہے جو کوکھ سوچتی ہے،اور جو کوکھ سوچتی ہے وہی جیو سوچتا ہے۔یہ بھی سنو،کوکھ اور جیو سے پہلے ایک پل ایسا آتا ہے، جب دو سانسیں ایک سانس بنتی ہیں۔ایک نہ بن سکیں تو جیو اور کوکھ میں جھگڑا شروع ہوجاتاہے۔مانو جیو پہلے پل ہی جلاوطن ہوجاتاہے،اور آگے جلاوطن ہوتا رہتا ہے۔لڑتا جھگڑتا رہتا ہے۔تم دوسانسوں کے ایک سانس بننے کو بھول چکے ہو۔اس لیے تمھیں یاد نہیں کہ پریم،گیان سے بڑا ہے۔تم کہتے ہو،ہرشے اپنے زوال کی طرف بڑھتی ہے۔میں کہتی ہوں،ہر شے اپنی تکمیل کی طرف بڑھتی ہے۔ شہر کو آنکھیں کھولنے کے بعد انگڑائی لینی چاہیے، چلنا چاہیے،دوڑنا چاہیے۔ دوپہر ہو، رات ہو،تاکہ پھر ایک صبح ہو۔

یہ ایک چکر ہے۔یہ چکر دکھ دیتاہے۔یہ چکر ختم کروگی تو بریت ہو گی۔ اس نے اپدیش کے انداز میں کہا۔

تم کہتے ہو لہو کی تپش شروع ہوتے ہی خاتمے کی طرف بڑھتی ہے۔ یہ ہے تمھار اگیان! گیان میں اتنی بزدلی،اتنا ڈر بھی ہوتا ہے، مجھے بسواس نہیں آتا۔ جسے تم چکر کہتے ہو، اسی چکر نے تمھیں،مجھے جنم دیا اور پھر ہم نے اُسے جنم دیا۔
تم اور طرح سمجھ رہی ہو۔میں آدمی کے پیدا ہونے کے خلاف نہیں۔

لہو کی تپش کے بغیر آدمی پیدا ہوسکتاہے؟

وہ لاجواب ہوگیا۔ وہ ڈر گیا۔ بارہ سال محل کی چاردیواری میں رہنے والی،کیسے اس کے آنند کے لیے خطرہ ہوسکتی ہے؟ اس نے سوچا۔
لوہا گرم تھا۔

سنو، جب تم چلے گئے تو میں چھ سال روئی۔ پھر میں نے ایک خواب دیکھا۔ اپنی کھوپڑی میں بھرے سارے جہان کی شکتیوں کو بلالو تاکہ اس خواب کو سنتے ہوئے،تمھار اآنند برقرارہے۔ ساتویں سال کی پہلی رات تھی۔ وہ محل کے دوسرے کمرے میں سونے لگا تھا۔ میں نے آدھی رات سے پہلے کنیزوں کو جانے کے لیے کَہ دیا۔ نیند خواب کی طرح تھی۔ میرااس پر اختیار نہیں تھا۔ ذراذراسی دھند پھیلنا شروع ہوئی۔مدھم سرکا آغاز ہوا۔ خیال کا سلسلہ ٹوٹنے لگا،اور ایک نئی دنیا کا دروازہ معمولی چیں کے ساتھ کھلنے لگا۔پھر مکمل بے خبری۔ پھر ایک نئی دنیا میں تھی۔جیسے بیج پھوٹتاہے تو دھرتی کی ناف پر ایک لکیر سی ابھرتی ہے۔ مدت کے بعد وہ لکیر ابھر ی۔بیج نے اودھم مچایا۔مانو دھرتی کی گہرائی میں بھونچال آیا۔ بالآخر بیج ٹوٹ گیا،اور بھونچال کو قرار آگیا۔ بے خبری سے پہلے کی حالت لوٹ آئی۔ اتنی سرشاری۔

اس نے دیکھا، اس کا ہاتھ اس کے کاندھے تک آیا۔ لگا،جیسے اس کی گردن دبوچ ڈالے گا۔ کیا یہ خواب تھا اور بیج کس درخت کا تھا؟ اس کی آواز میں عجب درد تھا۔

وہ اس کی ڈاڑھی میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہنے لگی۔ تم نے ہی تو کہا ہے کہ تم سب صورتوں میں ڈھل جاتے ہو۔ وہ درخت تم ہی تھے۔ جب اس نے اس کے سینے کے بالوں پر ہاتھ رکھا تو اس نے محسوس کیا کہ اس نے اطمینان کا سانس لیاہے۔ اس نے مزاحمت ترک کردی تھی۔وہ اس کے سینے سے ہونٹوں تک پہنچی۔ اِدھررات آدھی ہوئی تھی،مشعل بجھادی گئی تھی،اُدھر دونوں کے بدن دہک رہے تھے۔ آگ آگ سے ٹکرا رہی تھی۔سمندر ہچکولے کھارہا تھا۔بارش تھی کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ بھول چکا تھا کہ بارش ختم ہونے کے لیے شروع ہوتی ہے۔بارش کتنی اچھی ہے،اس نے محسوس کیا، لیکن بارش بالآخر تھم گئی۔دونوں کے جسم بارش میں نہائے درخت کی طرح چمک رہے تھے۔دوسانسیں،ایک سانس بننے کے بعد ہموار تھیں۔

مجھے بسواس ہے کہ یہ رات ایک نئے سویرے کو جنم دے گی،اور اس مرتبہ تم اسے اپنی روشنی پانے کے سفر میں اکیلا نہیں چھوڑ گے!

اس نے آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا،مسکرایا،اور کہا :ہاں! یہ بھی روشنی ہے۔
وہ دوسری مرتبہ مسکرایا تھا۔اس کے گواہ دیوتا نہیں تھے، اکیلی وہ تھی۔
اس نے وہ مسکراہٹ جس پتھر میں قید کی،اسے ابھی کسی نے دریافت نہیں کیا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

ایک بوتل سیون اپ

بوتل دیکھتے ہی نصیر کی آنکھیں چمک اٹھیں، ایسے جیسے قارون کا خزانہ ہاتھ آگیا ہو۔

نور نہار

ممتاز حسین: لینز دکان کے اندر کن کھجورے کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اور کن کھجورا دلی نہاری والے کے بیٹے کے خون میں لت پت کپڑوں میں گھسا ہوا تھا

لوتھ

محمد حمید شاہد: بسین کے اِس معصوم اور بے ضرر حوالے کوبعد ازاں وقوع پذیر ہونے والے سانحوں نے ثانوی بنادیا تھا۔ اب تو اُس کی یادوں میں بسین کے اَندر بپھرے پانیوں کا شراٹا بہہ رہا تھا اور وہ ایک ایک منظر پوری جزئیات کے ساتھ دیکھتا تھا۔