ہاں میری محبوبہ

ہاں میری محبوبہ

تو نہ تو کوئی بھید ہے
اور نہ ہی بھید بھری تھیلی کا چھٹا ہوا کوئی عین محبوبہ
ہاں میری محبوبہ
تیرا نام پتہ اور شجرہ نسب تو جانتے ہیں ہم
اندر باہر
ظاہر باطن
دونوں سمت ہی آنے جانے والے ہیں ہم
تیرے گھر کے بھیدی ہیں او بھیدن باری
کبھی حقیقی کبھی مجازی
طرح طرح سے تیرے عام سے جسم کی لذت لے لیتے ہیں
اپنا تو کچھ بھی نہیں جاتا
لفظ سے لفظ بنانے والے
کوئی بھی غم ہو
لفظ کی گولی رنگ بدلتے لمحوں کی گنگا میں گھول کے پی جاتے ہیں
سارے گناہ سیاسی
اخلاقی روحانی
اپنے ساتھ لپٹ کر خواب کی گہری بے ہوشی میں
سو جاتے ہیں
دوسرے دن تو نیا سوانگ رچا لیتی ہے
ہم بھی اپنے اپنے نسخے بدل بدل کے جی لیتے ہیں

Image: Gino Rubert

Sarmad Sehbai

Sarmad Sehbai

Sarmad Sehbai is a prominent Pakistani Poet, Playwright and Director. His poetry is known for fresh imagery and modern idioms. He wrote his first tele-play "The Lampost" in 1968 after joining PTV. Three collections of his poetry has been published so far. He also wrote a film "Mah-e-Meer" which was praised by critics and public alike.


Related Articles

کچرے کی حکومت

زاہد امروز: جب اس ہنگامے کا شور
ہماری نیند آلودہ کرتا ہے
ہم کروٹ کروٹ کڑھتے ہیں

کائنات کا آخری دکھ

حفیظ تبسم: پھر خداکے نام کی تختی دیکھ کر گھنٹی بجانے والوں نے
کٹہرے کو کئی بار چوما
اور اندھیرے کے آگے سجدہ ریز ہوگئے

آدرش پہاڑ کی نوک پر رہتا ہے (ایچ-بی- بلوچ)

یہ ایک اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے جس پر تم ہو اس اونچائی کے نیچے بہت سے درخت ہیں انسان