ہدایت نامہ برائے ووٹران

ہدایت نامہ برائے ووٹران

letters-to-the-editor-featured1

پاکستان اپنے قیام سے ہی اچھی قیادت سے محروم رہا ہے، میرے خیال میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہم ایک اچھی قیادت کی بجائے ایک اچھی قوم سے محروم رہے ہیں۔ کیونکہ قیادت بھی قوم سے ہی نکلتی ہے، ہمارے حکمران بھی تو ہم میں سے ہی ہیں، ہمارے افسران بھی تو ہم میں سے ہی چار جماتیں پڑھ کر بنتے ہیں، جبر اور استحصال کا سارا سلسلہ نیچے سے ہی شروع ہوتا ہے۔ تو پھر ایک بات تو طے ہے کہ ان سیاستدانوں کو گالیاں نکالنے اور برا بھلا کہہ کر اپنا خون جلانے سے کچھ نہیں بننے والا، کمزور آدمی جتنا بھی چیخ لے اس کی بات کا وزن نہیں بڑھ سکتا، کمزور محض چیخنے سے مضبوط نہیں ہو سکتا، ہاں وقتی طور پر اس کے دل کی بھڑاس نکل سکتی ہے پر اس کا کیا فائدہ؟

سوال تو یہ ہے کہ کمزور انسان کرے کیا؟ کمزور انسان کو ہوش میں آنے کی ضرورت ہے، سب سے پہلے اسے اس غلط فہمی سے نکلنا ہوگا کہ موجودہ سیاسی طبقہ ہمارا خیرخواہ ہے یا ہم کسی بھی غیر جمہوری راستے سے اپنے حالات بدل سکتے ہیں۔ پاکستانی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے ایک بات تو ثابت ہے کہ یہاں جس کا جبڑا جتنا بڑا ہو اس نے اتنا ہی دوسرے کا گوشت نوچنے کی کوشش کی ہے، چاہے وہ کوئی تھانیدار ہو، سرکاری افسر یا پھر سیاست دان۔ عوام ہر آمر کے انے پر یہ خواب دیکھتی ہے کہ اب شاید حالات بدلیں گے، لیکن اس نقطہ نظر کو تبدیل کرنے کا وقت آگیا ہے لیکن یہ تبدیلی تبھی آئے گی جب ہمارا ووٹر سمجھ داری کا مظاہرہ کرے گا۔ ہمارے ووٹر کو درج ذیل امور پر غور کرنا چاہیئے

1۔ اپنے حلقے میں رہنے والی سیاسی اشرافیہ سے زیادہ عوام کو اہمیت دینا شروع کریں۔
2۔ سیاسی اشرافیہ کی چاپلوسی سے گریز کریں۔
3۔ اس طبقے سے تعلقات کی خاطر اپنا ضمیر مت بیچیں۔
4۔ اپنے کردار کو اتنا بلند کریں۔
5۔ عوام ایک دوسرے سے مضبوط تعلق قائم کریں۔
6۔ شخصی دیانت سیاسی قیادت کے احتساب کے لیے ضروری ہے۔
7۔ ووٹ کا صحیح استعمال کیجیے، اسے ووٹ دیجیے جو اجتماعی فلاح کے منصوبے بنائے نا کہ وقتی اور ذاتی تعلقات کی بناء پر ترقیاتی رقوم خرچ کرے۔
8۔ جس سیاست دان کو آزما چکے ہیں اور وہ آپ کے میعار پر پورا نہیں اترا اسے آئندہ انتخابات میں دوبارہ منتخب مت کیجیے۔
9۔ موروثی سیاست کو فروغ مت دیں۔

Related Articles

دہشت گردوں کے اہداف واضح ہیں۔ اداریہ

ایک ایسے وقت میں جب شدت پسندی کے دو مختلف مگر واضح مظاہر لاہور اور اسلام آباد میں وقوع پذیر ہوئے ہیں، دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ کے اہداف اور لائحہ عمل ابھی تک ابہام کا شکار ہے۔

Four Reasons that Turned a Voter into a Critic

it is important to highlight the major reasons which are turning a supporter like me into a critic.

انتخاب کے حق تک یکساں رسائی۔ اداریہ

انتخابی نظام میں پائے جانے والے نقائص کی نشاندہی اور اصلاحات تجویز کرنے کی کمیٹی میں مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی نہ ہونا ریاستی سطح پر مذہبی اقلیتوں کو طاقت اور اختیار میں مناسب شمولیت سے محروم رکھنے کی اس مجرمانہ غفلت کی غماز ہے۔