ہمارے ضمیر پر دستک دینے والے

ہمارے ضمیر پر دستک دینے والے
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ ماما قدیر اوراروم شرمیلا جیسے لوگ جو لانگ مارچ کرتے ہیں، یا بھوک پڑتالیں کرتے ہیں کیا انہیں علم نہیں ہوتا کہ ہمارے جیسے ملکوں میں کبھی بھی کوئی بھی ان کی بات نہیں سنے گا
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ ماما قدیر اوراروم شرمیلا جیسے لوگ جو لانگ مارچ کرتے ہیں، یا بھوک پڑتالیں کرتے ہیں کیا انہیں علم نہیں ہوتا کہ ہمارے جیسے ملکوں میں کبھی بھی کوئی بھی ان کی بات نہیں سنے گا۔ مجھے اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیوں اپنی زندگیوں سے پیار نہیں کرتے؟ کیا انہیں میرے جیسے مڈل کلاسیوں کی طرح ڈر ڈر کر اور سمجھوتے کر کے زندہ رہنا نہیں آتا؟ کون ہے جو انہیں اتنی طاقت دیتا ہے کہ یہ لوگ لاکھوں فوجیوں کے سامنے بھی سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عجیب لوگ ہیں جو ہر وقت انصاف مانگتے ہیں۔ عدالتوں میں دھکے کھاتے ہیں، پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی کیمپ لگاتے ہیں، یہ چپ ہو کر کیوں نہیں بیٹھ جاتے؟ یہ باقی سب کی طرح صبر کیوں نہیں کرتے؟ یہ آمنہ مسعود جنجوعہ کو پتہ نہیں کہ یہاں اٹھائے جانے والوں کا کوئی ریکارڈ نہیں، ان میں سے اب کسی نے واپس نہیں آنا؟ یہ سبین محمود ٹائپ لوگ ڈرتے نہیں؟ یہ پروین رحمان جیسے انسان کیوں کچی بستوں کے لیے اپنا جی ہلکا کرتے پھرتے ہیں؟ یہ ملالہ جیسی لڑکیاں مرتی کیوں نہیں؟ اور اگر بچ جاتی ہیں تو پھر ساری دنیا کا درد کیوں پال لیتی ہیں؟

مختیاراں مائی کے متعلق خبریں پڑھ کر میں ششدر رہ گیا، کیا وجہ تھی کہ یہ عورت اپنے جیسی ہزاروں عورتوں کی طرح خود کشی کرنے کی بجائے چیخ چیخ کر انصاف مانگنے لگی؟ یہ اوکاڑہ کے مزارعین کیوں اس ملک کے طاقتور ترین ادارے کے سامنے چند سو مربعے زمین کی خاطر ڈٹ گئے ہیں؟ کچھ دے دلا کر چپ ہو جائیں، کہیں اور جا کر زمیندارہ کر لیں، اب انسداد دہشت گردی کے مقدمے بھگت رہے ہیں۔ یہ جو لوگ گمشدہ بلوچوں کی تصویریں لے کر پہنچ جاتے ہیں، یہ جو عورتیں کپڑے اتار کر کہتی ہیں کہ ہندوستانی فوج ہمارا ریپ کرتی ہے اور یہ جو ترقیاتی منصوبوں میں آنے والی زمینیں اور گھر بچانے کو بلڈوزروں کے سامنے لیٹ جاتے ہیں ان کو کسی نے نہیں سمجھایا کہ دنیا اس طرح نہیں چلتی؟ دنیا بڑے بڑے منصوبوں اور پریس کانفرنسوں پر چلتی ہے۔

کوئی ان کو کیوں دنیا داری کا سبق نہیں پڑھاتا، یا اگر پڑھاتا ہے تو انہیں سمجھ کیوں نہیں آتا کہ بھائی یہ دنیا اسی طرح چلتی آئی ہے، اسی طرح چلتی رہے گی۔ ریپ ہوتے رہیں گے، قاتل چھُٹتے رہیں گے، حکومتیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتی رہیں گی، میٹرو اور ڈیموں کی زد میں گھر آتے رہیں گے، عدالتیں سوئی رہیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا اسی طرح چلتی رہے گی، تم لوگ کیوں خواہ مخواہ اپنا آپ ہلکان کرتے ہو، دھوپ میں نکلتے ہو، لاٹھیاں کھاتے ہو، آنسو گیس میں سانس لیتے ہو، ربڑکی گولیاں جھیلتے ہو؟ کچھ فائد ہ ہے اس سب کا؟ کچھ دے دلا کر کچھ مک مکا کر کے سائڈ پر ہو، خود بھی جیو اور اوروں کو بھی جینے دو۔

کوئی ان کو کیوں دنیا داری کا سبق نہیں پڑھاتا، یا اگر پڑھاتا ہے تو انہیں سمجھ کیوں نہیں آتا کہ بھائی یہ دنیا اسی طرح چلتی آئی ہے، اسی طرح چلتی رہے گی۔
یہ کیمرے شیمرے اٹھا کر ہر جگہ جو پہنچ جاتے ہیں، کبھی ڈی ایچ اے کے گھپلے بتاتے ہیں، کبھی ایل ڈی اے کی کرپشن سامنے لے آتے ہیں، کبھی پانامہ لیکس کی چرچا کرتے ہیں، کبھی حکمرانوں کے اثاثے سامنے لے آتے ہیں، یہ صحافی اور رپورٹر اور ایڈیٹر۔۔۔۔ کیا انہیں پتہ نہیں کہ ان کی وقعت ان کے چینلوں اور اخباروں کے مالکان کے نزدیک ایک مکھی کے برابر بھی نہیں ہے۔ یہ پھر بھی ہر اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں کوئی دھماکہ ہو، کوئی ہلاکت ہو کسی قسم کی بھی کوئی خبر ہو۔

آخر ان لوگوں کو ملتا کیا ہے جو ہمارے ضمیر پر ہر روز دستک دیتے ہیں، ہر روز ہمیں جھجھوڑتے ہیں، انصاف کی اپیلیں کرتے ہیں، ہماری پر آسائش زندگی میں باہر بہنے والے خون اور گندے پانی کی کیچڑ سے لتھڑے جوتے لے کر آ جاتے ہیں، یہ کیوں ہمیں ان تکلیف دہ ور بدصورت حقائق کا سامنا کرنے پر مجبور کرتے ہیں جن کو نہ جان کر ہم زیادہ خوش رہ سکتے ہیں۔ یقین جانیے اگر ہم ان مٹھی بھر بے لوث، بے غرض اور درد مند لوگوں سے جان چھڑا لیں تو یقیناً ہم بڑی آسانی سے اپنے اپنے ضمیروں کو سلا کر چین کی بنسی بجا سکتے ہیں۔
Tauseef Ahmad

Tauseef Ahmad

Tauseef Ahmed is a marketing executive from Bahawalpur and regularly writes for Laaltain.


Related Articles

Reframing the Narrative: If not Now, When?

If there has to be a single incident that must get us alert, focused, and united to defeat terrorism in

یہ چار عناصر ہوں تو۔۔

عبدالمجید عابد: یہ شناخت پنجاب اور دیگر صوبوں کے شہری علاقوں میں دیہی علاقوں کی نسبت نمایاں ہے۔ ہمارے لئے فکر کی بات یہ ہے کہ اس شناخت کو بعینہٰ تسلیم کیا جائے یا اسے بدلنے کی سعی کی جائے؟

پاکستانی طلبہ کے نام ایک خط

تصنیف حیدر: کبھی آپ کے ٹیچر، کبھی آپ کے مدرسہ کے معلم، کبھی آپ کے بزرگ آپ کو یہ بات کیوں نہیں بتاتے کہ جن ملکوں میں کھانے کے پیسے نہیں، وہاں اتنی بندوقیں، اتنے بھاری اسلحے، اس مقدار میں دوسرے ہتھیار کہاں سے آجاتے ہیں۔