ہمارے دکھوں کا علاج کہاں ہے

ہمارے دکھوں کا علاج کہاں ہے
ہمارے دکھوں کا علاج کہاں ہے
اگر ہمارے دکھوں کا علاج نیند ہے
تو کوئی ہم سے زیادہ گہری نیند نہیں سو سکتا
اور نہ ہی اتنی آسانی اور خوب صورتی سے کوئی نیند میں چل سکتا ہے

اگر ہمارے دکھوں کا علاج جاگنا ہے
تو ہم اس قدر جاگ سکتے ہیں
کہ ہر رات ہماری آنکھوں میں آرام کر سکتی ہے
اور ہر دروازہ ہمارے دل میں کھل سکتا ہے

اگر ہمارے دکھوں کا علاج ہنسنا ہے
تو ہم اتنا ہنس سکتے ہیں
کہ پرندے، درختوں سے اڑ جائیں
اور پہاڑ ہماری ہنسی کی گونج سے بھر جائیں
ہم اتنا ہنس سکتے ہیں
کہ کوئی مسخرہ یا پاگل اس کا تصور تک نہیں کر سکتا

اگر ہمارے دکھوں کا علاج رونا ہے
تو ہمارے پاس اتنے آنسو ہیں
کہ ان میں ساری دنیا کو ڈبویا جا سکتا ہے
جہنم، بجھائے جا سکتے ہیں
اور ساری زمین کو پانی دیا جا سکتا ہے

اگر ہمارے دکھوں کا علاج ۔۔۔جینا ہے
تو ہم سے زیادہ با معنی زندگی کون گزار سکتا ہے
اور کون ایسے سلیقے اور اذیت سے
اس دنیا کو دیکھ سکتا ہے

اگر ہمارے دکھوں کا علاج ۔۔۔۔بولنا ہے
تو ہم ہوا کی طرح گفتگو کر سکتے ہیں
اور اپنے لفظوں کی خوشبو سے پھول کھلا سکتے ہیں

اور اگر تم کہتے ہو ہمارے دکھوں کا علاج کہیں نہیں ہے
تو ہم چپ رہ سکتے ہیں قبروں سے بھی زیادہ

Image: Daehyun Kim

Abrar Ahmed

Abrar Ahmed

Abrar Ahmad has been writing poetry since 1980. He has published two books of poetry till now, one of poems, 'Akhri Din Sey Pehlay' (1997), and other of ghazals, 'Ghaflat Kay Brabar' (2007). His poetry frequently takes up themes of existential angst, meaninglessness of life, disillusionment and displacement.


Related Articles

اجتماعی مباشرت

سید کاشف رضا: تاریخ سے اجتماعی مباشرت
ہم نے کھیل سمجھ کر شروع کی
پھر شور بڑھتا گیا

حرف

سرمد بٹ: لاکھوں مشینی ہجے
مجھے سخت بے معنی لگ رہے ہیں
ایک کلک کی مار یہ دھوکے
کتنے فانی لگ رہے ہیں۔۔۔۔

میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا

حسین عابد: میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا
میں کہیں نپہیں جانا چاہتا
تمہاری طلب کی انگیٹھی پر
ہاتھ تاپتے
میں کہاں جا سکتا ہوں