ہمارے ساتھ چلنا ہے تو آؤ

ہمارے ساتھ چلنا ہے تو آؤ

ہمارے ساتھ چلنے کی تمنّا ہے تو بسم اللہ !
چلے آؤ
مگر چلنے سے پہلے چند باتیں ہیں
کہ جن کا جان لینا، جان دے دینے سے پہلے ہے
تو ایسا ہے
کہ یہ رستہ کہیں باغات سے ہو کر نہیں جاتا
یہ رستہ
ایسے بازارِ ملامت سے گزرتا ہے
جہاں ہر سمت سے طعنوں کے پتھر مارے جاتے ہیں
سو تم اپنی زباں کو صبر سے
دل کو محبت سےبدل ڈالو
ہمارے مسلکِ توحید میں فرقے نہیں ہوتے
یہاں پر جنس، مذہب، رنگ ، نسل و ذات کے جھگڑے نہیں ہوتے
یہاں پر صرف " اَلاِنسانُ سِرّی" کی صدائیں ہیں
اگر تم علم والے ہو
تو پھر اپنے لغت سے فرق اور تفریق کے الفاظ دھو ٖڈالو
اگر عشقے کی ڈگری چاہئیے تو پھر لغت کو پھینک دینا عین واجب ہے !
کہ جو عشقے کے عالِم ہوں
انہیں سب عالَموں کا علم ہوتا ہے
یہاں کشف و کرامت کا بھی چکر ہی نہیں کوئی
خود اپنے آپ کو پڑھنے سے افضل کشف کیا ہو گا !
بھلا انسان ہو جانے سے بڑھ کر کیا کرامت ہے !!
اور ان باتوں سے پہلے، سب سے پہلے اپنے سینے میں ذرا جھانکو !
تلاشی لو
تمھارا دل ابھی تک ٹھیک سے ٹوٹا بھی ہے یا نئیں ؟؟
اگر اب تک سلامت ہے
تو پھر یہ ساتھ مشکل ہے !
کہ یہ راہِ محبت کی طریقت ہے
یہاں ثابت قدم وہ ہے
کہ جس کا دل شکستہ ہو !
ہمارے ساتھ چلنا ہے ؟
تو آؤ
اب سفر آغاز کرتے ہیں !

Image: Asit kumar patnaik

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

دو کیشیئرز

جمیل الرحمان: جسم کے الاؤ میں
خواب کے بہاؤ میں
اک پرانی حسرت کے
گھاٹ پر اُترنے تک
نظم اُس نے کہنی تھی

زندگی درختوں سے گرتے پتوں سے بدتر ہے

عذرا عباس: فسا د کے پھیلاؤ میں
زندگی درختوں سے گرتے پتوں سے بدتر ہے
پاؤں کے نیچے آ جانے والے پتے

تم مجھے پڑھ سکتے ہو

سید کاشف رضا: تم
مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں