ہمیشہ بدمست رہو

ہمیشہ بدمست رہو
ہمیشہ بدمست رہو
شاعر: بادلیئر
مترجم: عاصم بخشی

 

ہمیشہ بدمست رہو
اس کے علاوہ اور ہے ہی کیا
واحد راستہ کہ
یہ ہیبت ناک کوہِ زماں کاندھوں کو چٹخ نہ دے،
تمہیں زمین پر چت نہ کر دے
سو تمہیں بے رحم مستیوں میں ڈوب جانا چاہئے
لیکن آخر کس شے کا خمار؟
بادہ و ساغر!
شعر و سخن!
عبادت و ریاضت!
جو نشہ بھی تمہیں راس آئے،
لیکن بدمست رہو
پھر اگر کسی لمحے
تمہاری آنکھ کسی محل کی سیڑھیوں،
اترائیوں میں کسی قطعۂ سبز،
یا اپنے حجرے کی تنہا اداسیوں میں اس طرح کھلے
کہ خمار اتر رہا ہو اور مستی غائب ہو
تو ہوا سے دریافت کرو
لہر سے پوچھو
ستارے، پرندے، گھڑیال،
ہر گامزن شے،
ہر کراہتی شے،
ہر گھومتی، آہیں بھرتی، بولتی شے کا دامن پکڑو
سوال کرو کہ وقت کیا ہوا ہے،
ہوا، لہر، ستارہ، پرندہ، گھڑیال یہی جواب دے گا کہ ’’یہ لمحۂ خمار ہے!
سو وقت کی جنگ میں کام آئے پیادوں میں شمار ہونے کی بجائے ہمیشہ بدمست رہو!
بادہ و ساغر، شعر و سخن، یا عبادت و ریاضت
جو نشہ بھی تمہیں راس آئے۔۔۔‘‘

Image: Jeremy Geddes

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

ننھی ماچس فروش

وہ شام بھی کیا سرد شام تھی ، معلوم ہوتا تھا کہ سرد ہواوں نے سورج کو بھی بجھا دیا ہو ، آہستہ آہستہ سرد ہوتے کوئلے جیسے سیاہ پڑتے ہیں بالکل ویسے ہی یہ شام بھی سیاہ ہوتی جا رہی تھی سال کی یہ آخری شامیں آج سردی سے کچھ نیلگوں نظر آتی تھیں ایسے میں جب شہر کے رہنے والے امراء آتشیں انگیٹھیوں کے سامنے لیٹے ، گرم شالیں اوڑھے اپنے بچوں کو مسیح کی غریب پروری کی داستانیں بیان کر رہے تھے

گیلیلو کو سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے

ثروت زہرا: پھر سے سچ کو
منصور کی سولی کی رسیوں میں پڑی گرہیں
کھولنے کی ضرورت پڑ گئی ہے

غیر حاضر مالک مکان

چارلس سیمیِچ: یقینآ آسان کر سکتا ہے وہ
مسئلہ جب یہ ہو
کہ ہمیں اس کا اتا پتا معلوم ہو
لگام دے سکتا ہے ہمارے تخریبی شکوک کو
ٹھنڈا کرسکتا ہے ہمارے بلند بانگ غصے کو