ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

ہم وہ روشن دان تھے جن سے
ہوائیں بے دخل کر دی گئیں
ہم نے خود کو جوڑ توڑ کر آسمان بنایا
اور اپنی مرضی کا سورج ٹانک دیا
ہم نے رات بھر جاگ کر پتھر جیسی آنکھوں سے
ستارے کُوٹے
قلعے بنائے ۔۔۔۔
اور خود کو قید کر لیا
ہم نے اونچے میناروں پر خدا سے چغل خوریاں کیں
زندگی پرفحش نگاری کا بہتان لگایا
اور موت پر جھوٹا الزام لگا کر اسے زنداں میں ڈال دیا
زنجیریں ہمارے دم سے زندہ ہیں
ہمیں نیکیوں کے ہار مت پہناؤ ۔۔۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Sidra Sahar Imran

Sidra Sahar Imran

Sidra Sehar Imran holds a Masters degree in Urdu. She is one of the prominent names of Contemporary Urdu prose poetry circle.


Related Articles

ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں

عذرا عباس: ہمارے ہاتھ ایک بار پھر گھاس کاٹنے پر لگا دئیے گئے
ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں
ہمیں پھر جوتا جائے گا مال بردار گدھوں کے ساتھ
ہمارا خون چوسنے کے لئے

خام خیالی

نصیر احمد ناصر: جب میں نہیں ہوں گا
تو ہوا
چاروں طرف تنہا پھرے گی

تتلی اور للن کی شادی

وجیہہ وارثی: للن بولا
آج سے تم آزاد ہو اتنی
جتنا کہ میں رہتا ہوں