ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

ہم وہ روشن دان تھے جن سے
ہوائیں بے دخل کر دی گئیں
ہم نے خود کو جوڑ توڑ کر آسمان بنایا
اور اپنی مرضی کا سورج ٹانک دیا
ہم نے رات بھر جاگ کر پتھر جیسی آنکھوں سے
ستارے کُوٹے
قلعے بنائے ۔۔۔۔
اور خود کو قید کر لیا
ہم نے اونچے میناروں پر خدا سے چغل خوریاں کیں
زندگی پرفحش نگاری کا بہتان لگایا
اور موت پر جھوٹا الزام لگا کر اسے زنداں میں ڈال دیا
زنجیریں ہمارے دم سے زندہ ہیں
ہمیں نیکیوں کے ہار مت پہناؤ ۔۔۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Sidra Sahar Imran

Sidra Sahar Imran

Sidra Sehar Imran holds a Masters degree in Urdu. She is one of the prominent names of Contemporary Urdu prose poetry circle.


Related Articles

ساگردیوتا

نصیر احمد ناصر: میں صدیوں کے ساحل پہ تنہا
تمہارے جنم روپ، ساروپ کا منتظر ہوں

دیہاتیوں کا گیت

نصیر احمد ناصر:
ہم دیہاتی لوگ ہیں
ہم جانتے ہیں
دھرتی ہم سے اور کچھ نہیں
ہمارے کالبوت واپس مانگتی ہے!

خدا ایک آنسو مِرا بارشوں میں بہا دے

نصیر احمد ناصر: خدا، میری آنکھوں کو نظمیں بنا دے
خدا، میری نظمیں کہیں دور دیسوں کو جاتے
پرندوں کی ڈاریں بنا دے