ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

ہم وہ روشن دان تھے جن سے
ہوائیں بے دخل کر دی گئیں
ہم نے خود کو جوڑ توڑ کر آسمان بنایا
اور اپنی مرضی کا سورج ٹانک دیا
ہم نے رات بھر جاگ کر پتھر جیسی آنکھوں سے
ستارے کُوٹے
قلعے بنائے ۔۔۔۔
اور خود کو قید کر لیا
ہم نے اونچے میناروں پر خدا سے چغل خوریاں کیں
زندگی پرفحش نگاری کا بہتان لگایا
اور موت پر جھوٹا الزام لگا کر اسے زنداں میں ڈال دیا
زنجیریں ہمارے دم سے زندہ ہیں
ہمیں نیکیوں کے ہار مت پہناؤ ۔۔۔

Sidra Sahar Imran

Sidra Sahar Imran

Sidra Sehar Imran holds a Masters degree in Urdu. She is one of the prominent names of Contemporary Urdu prose poetry circle.


Related Articles

ایک دن بارش کے ساتھ

نصیر احمد ناصر: بارش اے بارش!
کتنی اچّھی ہے تُو
مجھ میں برس کر بھیگ نہ جانا

پابلو نیرودا : چلی کا آخری سلام

حفیظ تبسم:
وہ صنوبر کے سوکھے پیڑوں سے ہاتھ ملاتے
سوال کرتا ہے
جب ٹہنیوں سے ہزاروں پتے جدا ہوئے
جڑوں کے دل میں آخری خواہش کیا تھی

پانچواں مفرد

نصیر احمد ناصر: اگر تم میں انتظار کی شکتی ہوئی
تو میں عناصر کی نئی ترتیب کے ہمراہ
تمہیں ملنے آؤں گا