ہمیں مرنے کی ریہرسل کرنے دو

ہمیں مرنے کی ریہرسل کرنے دو
ہمیں مرنے کی ریہرسل کرنے دو
جب گہری کھائیوں سے کسی کے چیخنے کی
آواز آتی ہے
ہم ہتھیلی پہ ایمبولینیس بناتے ہیں
بے ساکھیاں اونچے نیچے رستوں پر
جھک کر چلتی ہیں
تو بادل ہمارا ہاتھ پکڑ کر بھاگنے لگتے ہیں
پہاڑ ہمیں ایسے کیوں گھورتے ہیں
جیسے ان کے پاؤں میں زنجیریں ہم نے ڈالی ہوں
کوئی ہمارے کانوں پہ پردہ بھی تو ڈال سکتا ہے
کیا ضروری ہے ۔۔۔۔
کہ
ہمارے جسم کونوں کھدروں میں ڈال کر
موت کے گیت گائے جائیں
ہم بہرے بھی تو ہو سکتے تھے !!

Sidra Sahar Imran

Sidra Sahar Imran

Sidra Sehar Imran holds a Masters degree in Urdu. She is one of the prominent names of Contemporary Urdu prose poetry circle.


Related Articles

اے میری، سردیوں کی دھوپ سی، شیریں محبت!

کومل راجہ: اے مجھ پر
سخت جاڑے کے دنوں میں مسرتیں لے کر
اترنے والی جامنی محبت!

بوڑھوں کا گیت

نیک دل عورتو آؤ!
ہماری آنکھوں کے بے بہا پانیوں میں اترو
ہم سمندر ہیں
ہمارے ریتلے ساحلوں پر ننگے پاؤں چہل قدمی کرو

تماشہ

تنہائی کیا ہے؟
بزرگ راتوں میں
چونی کا تخیل
اٹھنی کا تصّور