ہم اپنے ہی دشمن

ہم اپنے ہی دشمن
ہر مجسمے ،تصویر، اور تاریخ کے پیچھے ایک کہانی پنہاں ہوتی ہے۔ ایسی ہی کچھ تصاویر، مجسمے اور تواریخ میرے ذہن میں گردش کرتے ہیں جب وحشت کی، جنونیت کی، نفرت کی، دہشت کی، خوف اور خون کی بات آتی ہے۔ اگر ایک طرف انسانی تاریخ جرات، بہادری اور ذہانت کے کارناموں سے بھری پڑی ہے تو دوسری طرف یہ کروڑوں انسانوں کے خون سے لتھڑی ہوئی بھی ہے۔ اس میں محبت کی مہک ہے تو نفرت کے شرارے بھی ہیں۔ شاید وجود کی بنیاد ہی تضاد ہے۔

ایک طرف انسانی تاریخ جرات، بہادری اور ذہانت کے کارناموں سے بھری ہے تو دوسری طرف یہ کروڑوں انسانوں کے خون سے لتھڑی ہوئی بھی ہے۔ اس میں محبت کی مہک ہے تو نفرت کے شرارے بھی ہیں۔
تاریخ میں یہ پہلی بارنہیں ہے کہ معصوم انسانوں کو خاص کر طلبہ کو جارحیت پسندوں نے اپنے نظریاتی، سیاسی، معاشی یا اختیاراتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے موت کے گھاٹ اتاردیا ہو، ایسا پہلے بھی کئی بار ہوچکا ہے! اگر آپ کی یادداشت کمزور پڑ رہی ہے تو میں آپ کو یاد دلاتا ہوں۔

21اکتوبر 1941 کو دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن فوجوں نے سربیا کے شہر کراگوئیواچ کا گھیراو کیا اور 5000 ہزار سے زائد لوگوں کو موت کے دلدل میں ہمیشہ کے لیے دھکیل دیا۔ اگر بات طلبہ کی ہے تو یہاں یہ بتانا ضروری ہو جاتا ہے کہ جرمن فوجوں نے شہر کے اسکولوں سے طلبہ کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور گولیوں سے چھلنی کردیا۔۔ ان بچاروں کو کیا خبر تھی کہ ان کی زندگی اس طرح رک جائے گی۔

سوال یہ ہے کہ ہٹلر نے یورپی ملک سربیا کے شہر کراگوئیواچ کو ہی کیوں اپنی وحشت کا نشانہ بنایا؟ تاریخ کے اوراق میں اس کا جواب یوں درج ہے کہ سربیا یورپ کا وہ پہلا ملک تھا جہاں نازی جرمنی کی مداخلت کے خلاف عالمی سطح پر مزاحمت کی گئی تھی۔ ہٹلر کو یہ بات گوارا نہ گزری اور اس نے اپنے جنرل کیٹل کو حکم دیا:

ہٹلر کو یہ بات گوارا نہ گزری اور اس نے اپنے جنرل کیٹل کو حکم دیا
"اس جنگ میں اگر ایک جرمن فوجی زخمی ہوتا ہے تو ان کے 50 شہری مارو اور اگر ایک فوجی مرتا ہے تو ان کے 100 شہری مارو"۔
"اس جنگ میں اگر ایک جرمن فوجی زخمی ہوتا ہے تو ان کے 50 شہری مارو اور اگر ایک فوجی مرتا ہے تو ان کے 100 شہری مارو"۔

ہٹلر کے حکم کی تعمیل ہوئی اور سربیا کے شہر انسانی وحشت کی مثال بن گئے۔

کراگوئیواچ میں آج بھی اس دن کے حوالے سے کئی مجسمے کئی تصاویر موجود ہیں جن میں سے پرندے کے پروں کی مانند بنا ہوا ایک سفید مجسمہ ہے جو اس سانحہ میں مارے جانے والے تمام اساتذہ اور طلبہ کی یاد تازہ کردیتا ہے۔ اسے مونیومینٹ آف انٹررپٹڈ فلائیٹ (Monument of Interrupted Flight)کہتے ہیں۔

سربین شاعرہ Desanka Maksimović نے اس منظر کو اپنی نظم میں یوں قید کرلیا تھا۔

It was in a land of peasants
In the mountainous Balkans,
A company of schoolchildren
Died a martyr’s death
In one day.
They were all born
In the same year
Their school days passed the same
Taken together
To the same festivities,
Vaccinated against the same diseases,
And all died on the same day.
It was in a land of peasants
In the mountainous Balkans,
A company of schoolchildren
Died a martyr’s death
In one day.
And fifty-five minutes
Before the moment of death
The company of small ones
Sat at its desk
And the same difficult assignments
They solved: how far can a
traveler go if he is on foot…
And so on.
Their thoughts were full
of the same numbers
and throughout their notebooks in school bags
lay an infinite number
of senseless A’s and F’s.
A pile of the same dreams
and the same secrets
patriotic and romantic
they clenched in the depths of their pockets.
and it seemed to everyone
that they will run
for a long time beneath the blue arch
until all the assignments in the world
are completed.
It was in a land of peasants
in the mountainous Balkans,
a company of small ones
died a martyr’s death
in one day.
Whole rows of boys
took each other by the hand
and from their last class
went peacefully to slaughter
as if death was nothing.
Whole lines of friends
ascended at the same moment
to their eternal residence.

25 مارچ 1971 یہ تاریخ تو آ پ نہیں بھولے ہوں گے کیونکہ اس تاریخ پر جو خون کے چھینٹے لگے ہیں وہ ہماری ہی گولیوں نے اڑائے تھے۔

یہ جنگ ایک ہی گھر کے اراکین میں چھڑی تھی۔ مشرقی پاکستان جو مغربی پاکستان کی برتاو سے تنگ آ کر بٹوارا چاہتا تھا اور مغربی پاکستان کے اراکین کو یہ گستاخی قبول نہ تھی اور انہوں نے جنگ کا اعلان کردیا۔ یہ ذوالفقار علی بٹھو اور جنرل یحیٰی خان کی ملی بھگت تھی جسے آپریشن سرچ لائیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
جگن ناتھ ہال سے گزرنے پر ممکن ہے کہ آپ کو ان بھاگتے دوڑتے طلبہ کے عکس دکھائی دیں یا پھر آپ کو ان کی چیخیں سنائی دیں!

ہم ہی ہیں جو تنگ نظری کی وجہ سے اپنے ہی دشمن بنتے ہیں،کسی اور سیارے سے کوئی نہیں آتا اور ہماری زمیں کو خون آلود کرتا
اگر ہم دوسروں کو دہشت گرد، قاتل، جاریت پسند کہتے ہیں تو ہمارے ہاتھ بھی تو انسانی خون سے رنگے ہیں جنہیں ہم نے اب تک نہیں دھویا!

16دسمبر2014کو جب آرمی پبلک اسکول پشاور میں کسی کلاس میں بچے ہم آواز ہوکر کوئی نظم پڑھ رہے تھے، کسی کلاس میں انسان اشرف المخلوق ہیں کے موضوع پر مضمون لکھ رہے تھے تو اچانک چند انسانوں نے ایسی چال چلی کہ ان کے مضمون کے سارے الفاظ پھیکے پڑ گئے۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں، اساتذہ اور جو بھی ان کے سامنے آیا سب کو اپنی جنونیت کا نشانہ بنایا!

تاریخ خون کے دھبوں سے داغدار ہے۔ ہماری یادداشت تھوڑی کمزور ہے، ہم سب بھول جاتے ہیں، جیسے ہم بہت سی تواریخ اور سانحے بھول چکے ہیں ویسے ہی گزرتے وقت کے ساتھ یہ زخم بھی شاید بھر جائیں اور یہ درد جو ہماری رگوں میں آج ہمدردی کی حرارت پیدا کرتا ہے اور جس کی وجہ سے آ ج ہم اس سانحےکو یاد رکھنے کے لیےنعمے لکھتے ہیں گاتے ہیں یہ حرارت کب تک رہے گی؟؟

ہم نے پہلے بھی کئی عزم کیے تھے، آج بھی ہم دشمنوں کے بچوں کو پڑھانے کا عزم کرتے ہیں لیکن ہمارے تمام عزم وقتی ہیں اور زیادہ تر جذبات پر مبنی ہیں۔ اگرہمیں عزم کرنا ہی ہے تو ہمیں یہ عزم کرنا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو پاکستانی، ہندوستانی، امریکی، افغانی، ہندو، مسلمان، عیسائی، سندھی، پنجابی، پٹھان، کالا، گورا، امیر، غریب ہونے کے درس کو بھلا کر انسانیت کا درس دیں گے! کیونکہ یہ ہم ہی ہیں جو تنگ نظری کی وجہ سے اپنے ہی دشمن بنتے ہیں، کسی اور سیارے سے کوئی نہیں آتا اور ہماری زمیں کو خون آلود کرتا!! ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جو سوچتے ہیں کہ سبھی انسان ان کی طرح سوچیں، ان کے خیالات پر لبیک کہیں اور زندگی ان کے بتائے اسلوب سے گزاریں لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ تنوع، گوناگونی اک حقیقت ہے اور ہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے۔
جب تک ہم اپنے آج کو نہیں بدلیں گے تب تک ہمارا کل اسی طرح بلکتا، سسکتا، اور وحشت زدہ رہے گا!

Image: Guernica by Picasso

Dr. Nirdosh Odhano

Dr. Nirdosh Odhano

Dr. Nirdosh Odhano is a graduate of Liaquat University of Medical and Health science Jamshoro.


Related Articles

Of Holy Months and Unholy Terror

Zoha Waseem   ‘And so, the contention is, Ramadan is "the month of Jihad". Yet, there can be no moral

State mutation of the Social Sciences

Among the many crimes of the Pakistani state is its mutation of the social sciences into a disfigured medium for crudely-conceived state propaganda.

ایک نیا محاذ

گزشتہ دنوں"اکیسویں آئینی ترمیم اور دینی و سیاسی جماعتوں کے تحفظات" کے نام سے لاہور میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔