ہندوستانی الاصل اساطیر اور علامات

ہندوستانی الاصل اساطیر اور علامات

قبل اس کےکہ ہم اردو ادب کی اساطیری بنیادوں اور علامتی لفظیات پر گفتگو کریں مناسب یہ معلوم ہوتا ہےکہ ہم اسطور اور علامت کے مفہوم کو سمجھ لیں ۔ بالعموم اسطور سے ایسی کہانی مراد لی جاتی ہے جو سائنٹیفک مفہوم میں صد فی صد صداقت پر مبنی نہیں ہو تی ہے ۔ اس میں اشخاص و کردار اور اعمال طبیعی دنیا سے مختلف ہوتے ہیں ، جنہیں غیر فطری یا نا رسائی کو تسلیم کرتے ہوئے مابعد الطبیعی انسان اور مخلوق کا نام دیا جاتا ہے ۔ اسطور کا سروکار ہمیشہ تخلیق سے ہوتا ہےاور یہ شئے کے وجو کی تعبیر پیش کرتا ہے ، اسطور احساس و تصور کا مرکب ہوتا ہے ، بہتیرے اساطیر اور نیم اساطیر طبیعی سر گرمی اور سماوی ، فوق الفطری طاقتوں کی تعبیرات و تشریحات ہیں ۔ Dictionary of Literary term and Literary theoryکے مصنفین نے اس لفظ کے مختلف زبانوں میں الگ الگ مفاہیم کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فی الوقت اسطور افسانویت کی شناخت کی طرف مائل ہوتا ہے ، ایک ایسی افسانویت کی تر سیل اسطور سے ہوتی ہے جو نفسیاتی حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے ۔(1)

اسطور فی الواقع ما بعد الطبیعی دنیا ، کائناتی نیرنگی و بوقلمونی اور انسانی نفسیات کی پیچیدگی کو سمجھنے اور سمجھانے کی تخیلی اور سری کاوش ہے ۔ بعض ناقدین اور مفکرین نے اسطور اور فطرت کو باہم مربوط کر کے دیکھنے کی سعی کی ہے ۔ تاریخی اسطوریت کے متبادل کے طور پر اساطیر کو کائنات اور ہمارے اطراف جاری سر گرمی کی تمثیل خیال کیا جاتا ہے ، اساطیر تاریخ تو نہیں ، البتہ طبیعی تاریخ ضرور ہے ، سارے استعارے قدیم عہد کی طبیعات کی حیثیت رکھتے ہیں ،ہندوستانی صنمیات کا مطالعہ اس نتیجے تک لے جاتا ہے ۔ انسانی گروہ کے اجتماعی لاشعور نے خالق کے عرفان و ادراک کو حاصل کرنے کی جس نوع کی تخیلی سر گر می پر انہیں آمادہ کیا اس سر گرمی نے انہیں دیوی دیوتاوں تک رسائی بخشی ۔ بہتیرے ایسے دیوی اور دیوتا ہیں جو مظاہر فطرت کے الگ الگ مظہر پر فائز ہیں ۔کئی ایسے ہیں جو فلکیات اور نجوم سے وا بستہ ہیں اور ان کا رشتہ سیاروں اور برو جی جھرمٹوں سے مربوط ہے ۔ دھرتی ماتا ، چندر ما ، سوریہ دیوتا وغیرہ کا ہندوستانی سیاق ہو یا پھر یونانی اساطیری علائم ۔ یہ سب فطرت کی تفہیم و تعبیر کی سعی معلوم ہوتے ہیں ۔

انسانی تاریخ میں زندگی وجود ، انسان اور کائنات کے ادراک کے لئے کی جانے والی کوششوں نے جن اساطیر کو جنم دیا ہے ۔ وہ اپنے آپ میں نہ صرف متنوع اور مختلف ہیں بلکہ کائنات میں موجود پیچ کی طرح پیچدار اور گہرائی کی طرح عمیق ہیں ۔ یہ ہماری ذہنی سر گرمی اور تخیلی کار کر دگی کو ایک وسیع علاقہ عطا کرتی ہے ۔ ان علاقوں اور خطوں کی سیر کرنے کے بعد تخیل و حاسہ ، زر خیزی وشادابی کے ساتھ اسرار و رموز کا بیش بہا خزانہ لے کےواپس پلٹتا ہے ۔ زندگی اور موت ، روشنی اور تاریکی اور نور و نار کی کشمکش سے جو تصادم جنم لیتا ہے اور فکرو نظر کی سطح پر جو گھمسان بپا ہوتا ہے ، اساطیر اس وجودی مسئلے کی تفہیم میں تخیل کی رہ نمائی اور رہبری کا فرض بھی انجام دیتے ہیں اور اس طرح وہ غیر منطقی قصے نہ رہ کر عرفان و ادراک ، اسرار رموز اور انکشاف و ذات و کائنات کا بیش قیمت خزینہ اور از حد مفید وسیلہ بن جاتے ہیں ۔ ادب میں اساطیر کا استعمال چاہے وہ تمثیلا ت کی شکل میں یا علامتی پیرائے میں ہوں ، ایک طرف ہماری ذہنی دنیا کو ماضی سے مربوط کر کے اس کی بازیافت کی راہ سجھاتا ہے اور اساطیر کی نئی معنویت و جدید تعبیر کی راہ ہموار کرتا ہے ، تو دوسری طرف معنی کی توسیع کرتے ہوئے انسان کی اجتماعی لا شعور کی سر گرمی اور اس کے تسلسل کو دریافت کرتا ہے ۔

شکیل الرحمان اسطور کی اہمیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں

"فنون میں نفسیاتی تجربو ں کا سفر نہ جانے کب سے جاری ہے تخلیقی فنکاروں نے متھ کےدلکش معنی خیز تجربوں کو نفسیاتی صورتیں دی ہیں ۔رومانیت کے اصول سے آشنا کیا ہے ۔انہیں ڈرامائ پیکروں میں ڈھالا ہے اور اکثر استعاروں میں جلوہ گر کیا ہے ۔اساطیر کا مطالعہ بنیادی طور پر معصوم پراسرار اور حیرت انگیز قدیم اور قدیم تر انسانی تجربوں کی نفسیات کا مطالعہ ہے"

ہندو صنمیات میں خداوں کی تشکیل اس طور پر کی گئی ہے کہ کائنات میں تخریب و تعمیر کا علاحدہ علاحدہ عمل ایک ایک دیوتا سے مخصوص ہے ۔ہندوستانی اساطیر کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان میں سےے بیشتر کردار مرتکز ہیں ہر کردار یا تو مظاہر فطرت میں سے کسی مظہر سے وابستہ ہے یا پھر انسانی صفات میں سے کسی ایسی صفت سے متصف ہے جو ناقابل تسخیراور محیر العقول ہے ۔کئی اسطور ایسے ہیں جو حیوانات اور دریاوں سے وابستہ ہیں ۔اردو ادب میں بیانیہ شاعری بالخصوص مثنوی میں اساطیر کا تفصیلی بیان ملتا ہے ۔غزلیہ شاعری میں اساطیر کا استعمال تلمیحات کی صورت میں ہوا ہے ۔اسطور جب تلمیح میں مبدل ہوتا ہے یا علامت کا روپ دھارن کرتا تو اس صور ت میں قاری کی علمیت سے وسعت و گیرائی کا تقاضا کرتا ہے تلمیح میں بسا اوقات اسطور کا کوئی ایک جزء ہی کار آمد ہوتا ہے ۔اس لئےاسطور کی تلمیحی صورت پورے اسطور کو یاد داشت میں محفوظ رکھنے اور اس کے ہر کردار و وقوعے کو ذہن میں مستحضر کرنے کا تقاضا کرتی ہے ۔اردو شاعری میں جو اسطوری تلمیحات استعمال میں لائی گئی ہیں ان میں سے وافر حصہ ان اساطیر کا ہے جو ہندوستانی تہذیب و تاریخ میں پیوست ہیں اور ادب میں ان کے استعمال سے تمدن و تہذیب اور ذہنی و تخیلی سر گرمی کے مختلف اساطیری روپ اپنے خصائص و اعمال سمیت سامنے آگئے ہیں ۔تہذیب و کلچر کی باہمی آویزش کس طرح ہوئ ہماری تخلیقی سرگرمی کا تخییلی گراف کیا رہا ،وہ کن کن جہتوں میں رہ نورد شوق بن کر پھرتا رہا ہے ،دھرتی سے ہمارا کیا تعلق ہے کہ وہ ماتا سمان بن کر دھرتی ماتا کا روپ دھارن کئےہوئے ۔عورت دیویوں کی صورت مختلف روپوں میں کیوں کر جلوہ گر ہے ۔مرد دیوتائوں کے پیرہن میں کیا کیا شکلیں اختیار کئے ہوئے ہے ،ہماری تہذیبی بنت میں شامل اسطوری عناصر کا قوام کہاں اور کیسے تیار ہوا ہے ؟اسطوری تلمیحات ان تمام پہلووں کی نقد کشائی کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔

ہندوستانی اساطیر و دیومالا کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہماری قدیم تہذیب و تاریخ کا بنیادی متن تصور کئے جاتے ہیں ۔ان سے آستھا وعقائد کی وابستگی ان کو مذہبی حیثیت بھی دیتی ہے ۔مختلف مذہبی رسوم اور تہواروں کا ان اساطیری قصوں سے رشتہ انہیں ایک خاص تہذیبی و ثقافتی سیاق بھی عطا کرتا ہے ۔اس طرح ہمارے قدیم ادب یعنی وید پران رامائن اور گیتا وغیرہ سے ماخوذ اساطیر اپنے سروکاروں کے لحاظ سے مختلف ابعاد کے حامل ہوجاتے ہیں ۔ہماری تخلیقی و تخییلی دنیا نے کس طرح اساطیر سے خود کو منسلک کیا اور اسطوری تلمیحات میں اردو غزل کی حسیات میں ہندوستانی ذہن و تہذیب کو کس انداز سے پیوست کیا اس کا اندازہ درج ذیل مثالوں سے کیا جا سکتا ہے ۔

گرچہ لچھمن ترا ہے رام ولے
اے صنم تو کسی کا رام نہیں
(ولی)

نین راون ہیں ارجن بال
پلکیں بھنویں دھنک بھیم کی
(سراج )

آتش عشق نے راون کو مارا
گرچہ لنکا سا تھا اس دیو کا گھر پانی میں
(میر )

ہر لیا ہے کسی نے سیتا کو
زندگی ہے کہ رام کا بن باس
(فراق)

ہندوستانی صنمیات کے دوسرے کرداروں میں بھی اسطوری تلمیحات کے طور پر غزل کے مصرعوں نے جگہ پائی ہے ۔کرشن جن کا تصور رادھا اور گوپیوں سے بندھا ہوا ہے اور جو وشنو کے آٹھویں اوتار کے روپ میں ہندوستانی اساطیر کا ررومانی کردار ہے،اس کا سانولا پن اور بانسری بجانے کی کلا بھی اس کی ایک خاص شناخت ہے کہ گوپیوں کے اس پر ریجھنے میں بانسری اور سانولے پن کا بھی رول ہے ۔اس کردار کی ایک حیثیت امن دوت کی بھی ہے ۔۔مہادیو جو تباہی و بربادی کا دیوتا ہے اور اسی طرح دوسرے اسطوری کردار جیسے گنیش کالی اوشا،مدن ،کام دیو یہ سارے کردار مابعد الطبیعی دنیا سے وابستہ اور خدائی نظام کے کل پرزے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ان کا ذکر غزلیہ شاعری میں کس انداز سے ہوا ہے دیکھیں :

ہے خال یوں تمہارے ذقن کے اندر
سانولے تن پہ قبا ہے جو تیرے بھاری ہے
جس روپ ہو کنہیا آب جمن کے اندر
لالہ کہتا ہے چمن میں کہ یہ گردھاری ہے
(امانت )

ع: رادھکا کو چین کیا آوے کنہیا جی بغیر
(انشا)

مہادیو جو اترے کیلاش سے اپنی جٹا کھولے
تو شاید بن سکے اس جوگ کے بیراگ کا جوڑا
(انشاء)

مہ جبیں یہ لگائے کیوں ٹیکا
ماہ میں کام کیا ہے دیوی کا
(ولی)

یہ سینہ کہ سنگیت پچھلے پہر کا
وہ چہرہ کہ اوشا پشیماں پشیماں
(فراق)

مدھ کی کٹوریوں میں وہ امرت گھلا ہوا
جس کا ہے کام دیو بھی پیاسا غضب غضب
(اثر لکھنوی )

اسطوری لفظیات علائم کاروپ دھار کر ہماری جدید نظم میں بھی جلوہ گر ہوئی ہیں ۔یہاں اساطیر فقط اسطورنہ رہ کر ارضیت اورمقامیت کاپہلو اختیار کرگئےہیں۔ان سے وابستہ حسیات فرد کے احساس کی شدت کے طور پر نمایاں ہوئی ہیں۔مختلف تخلیق کار ایک ہی اسطور کو مختلف معانی ومفاہیم عطا کرتے ہیں جس سے اجتماعی لاشعور کے تصورکی شہادتیں فراہم ہوتی ہیں۔اور ایک طرح سے تخلیقی ذہن اپنے ثقافتی ونسلی سرمایے کی طرف مراجعت کرتا ہوامعلوم ہوتاہے۔تخلیقات میں روشن اساطیر کی وضع سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہےکہ یہ ہماری ارضیت میں کس قدر گہرے پیوست ہیں۔اور یہ خاص ماحولیاتی دائرہ کے انسانی وجود کالازمی جزء بن گئے ہیں۔اس بات کی تصدیق چند نظم نگاروں کے نمونوں سے کی جاسکتی ہے۔میرا جی اس طرز کے سرخیل کہے جاسکتے ہیں ۔ان کے یہاں ارضیت کی طرف مراجعت ،دھرتی سے لگاو کی وہ صفات موجودہیں جس کی بناپر وزیر آغا نے ان کی شاعری کو دھرتی پوجاکی مثال کہاہے۔

تو پاربتی میں شوشنکر
لیکن یہ پہلے جنم کی ہیں باتیں ساری
اب تو ہے وہی دیوی لیکن صورت بدلی ،سیرت بدلی
اور بدلی حالت جیون کی
اور میں ہوں ایک پجاری بے بس تنہا مندر سے باہر
اب تجھ میں روپ نہیں پہلا ،اب مجھ میں پریم نہیں پہلا
وہ روپ کہانی تھی بیتی ،وہ پریم فسانہ تھا بھولا
تو اور میں دونوں ایک ہی قدرت کے تھے مظاہر ،اب روپوش ہوئے
دوموسم تھے مل کر گزرتے ،دو نغمے تھے خاموش ہوئے
اب پہلی بات نہیں باقی
میں متوالا تھا تو ساقی
تو پاربتی میں شو شنکر
لیکن افسوس یہ پہلے جنم کی ہیں باتیں ساری
میں شو شنکر تو پاربتی

میرا جی کے اثر سے دوسرے نظم نگاروں نے بھی ہندوستانی اساطیر کو اپنی نطموں کا حصہ بناتے ہوئے تخلیقی کاوشیں پیش کیں ۔اس ذیل میں قیوم نظر کی نظم بہار نو ،شاد امرت سری کی نظم سمے کا دکھ ،سلام مچھلی شہری کی نظم پوجا ،مختارصدیقی کی نظم خیال چھایا ،عرش صدیقی کی نظم اے جادو گر ،قاضی سلیم کی نظم سنجوگ قابل ذکر اور لائق نظر ہیں ۔

اردو کی داستانوں میں ہندوستانی اساطیر کی کارفرمائی نظر آتی ہے ۔مادھو نل کام کندلا ،بیتال پچیسی اور سنگھاسن بتیسی کے متون میں دیو مالائی فضا اور اساطیری ماحول ملتا ہے ۔ان داستانوں میں ویدک عہد کی تہذیب و ثقافت اور علائم و استعارات جا بجا ملتے ہیں ۔رانی کیتکی کی کہانی اور باغ ارم بھی اس حوالہ سے اہم ہیں ۔مذہبی عقائد طلسماتی دنیا اور دیومالائی عناصر کے فنکارانہ استعمال میں ان داستانوں کو پر اسرار جہان معانی میں تبدیل کر دیا ہے ۔چونکہ اساطیرفقط علائم نہیں ہوتے بلکہ کہانی کی شکل میں ہوتے ہیں اور نفسیاتی عوامل و ما فوق الفطرت حقائق کی تعبیر ہوا کرتے ہیں اس لئے داستان ،ناول اور افسانے میں ان کے جوہر زیادہ کھلتے ہیں ۔اس کے بعد مثنوی اور نظم کی دنیا بھی اپنے اندر اساطیر کو سلیقے سے برتنے کا ملکہ و وسعت رکھتی ہے ۔جبکہ غزل کی شاعری اساطیری کرداروں کے خصائص کو جستہ جستہ اور جزوی طور پر بروئے کار لاتی ہے اور پورے اسطور کو ذہن میں متحرک کرتی ہے ۔اس لحاظ سے دیکھیں تو اساطیر کا فنکارانہ اور تخلیقی استعمال افسانوی بیانئیے اور فکشن میں زیادہ بہتر طریقےسے ہو سکتا ہے ۔

جدید افسانہ بھی اس لحاظ سے قابل قدر اور لائق تحسین ہے کہ اس میں بھی ہندوستانی اساطیر اور دیو مالائی علامات کا احیا ہوا وہ تمثیلات کہ جو بالخصوص ہندستانی الاصل اساطیر پر مبنی ہیں ان کے استعمال سے کہانیوں اور قصوں کو نئے معانیاتی جہات میسر ہوئے اور ان اساطیر کو عصری حسیت اور انسلاک مقدر ہوا ،نیز ہم عصر زندگی میں ان کی اہمیت اور سروکاروں کے پہلو روشن ہوئے ۔اسطور کو تخلیقی توانائی میں تبدیل کرنے والوں میں پہلا نام راجیندر سنگھ بیدی کا ہے ۔انہوں نے گرہن اپنے دکھ مجھے دے دو ،بھولا ،اور ایک چادر میلی سی جیسی تخلیقات میں اساطیر کو استعمال کیا ۔ہم عصر زندگی میں اساطیر کی اہمیت اور روز مرہ کے معمولات میں دیو مالائی عناصر کی کارفرمائ کو حسن و خوبی کے ساتھ اجاگر کیا ۔یہاں بیدی کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ افسانہ کردار ،فضا یا پلاٹ کے مختلف گوشوں میں کہیں نہ کہیں اسطور کو اس طرح کھپاتے ہیں کہ وہ لفظ بھر رہتے ہوئے بھی جہان معانی کو اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں ۔ہندوستانی اساطیر کے فنکارانہ استعمال میں کمال مہارت کا مظاہرہ کرنے میں ایک اور نام انتظار حسین کا ہے ۔جنہوں نے بودھی جاتک کتھا اور دیو مالا کے زیر اثر کہانیاں تخلیق کیں ۔اور پرانے عقائد و رسوم کو اپنے ارد گرد عمل پیرا دیکھا ۔بطور مثال ان کا افسانہ مور نامہ کو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کس طرح زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر اشوتھاما راوی کا پیچھا کرتا ہے کہ راوی کو مور نامہ لکھنے کا پرسکون لمحہ تک میسر نہیں آتا ۔

قصہ مختصر یہ کہ اردو کے حصے میں ہندوستانی اساطیر و علامات کا وافر ذخیرہ آیا جو تخلیقی بنت میں شامل ہو کر ادراک و عرفان کا وسیلہ بنا۔یہ اساطیر و علائم لفظ واحد کی سطح پر بھی عمل پیرا رہے اور تمثیل و حکایت کی سطح پر بھی ۔لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ہمارا ادبی مذاق ذہنی مدار اور لفظیاتی تجوری ان اساطیر کو محفوظ اور مستحضر رکھنے میں کامیاب ہے یا نہیں ۔تلفظ ،تحریر اور معنی کی مختلف سطحوں پر ان اساطیر سے ہم عصر نسل کا رویہ کیا ہے ؟ہمارے یہاں قرات و پڑھت کا جو معیار و رفتار ہے اور لفظیا ت کی کھپت کا جو طور ہے اس کی نو عیت کیا ہے ۔لفظیات کو رائج کرنے اور عام محاورے میں انہیں باقی رکھنے کے ذرائع کیا ہیں ۔اساطیر و علائم کی صورت میں ہمارا جو بیش بہا ذخیرہ ہے اسے لفظیاتی سرمائے اور روز مرہ کا حصہ کس طرح بنایا جائے کی زبان سے شناسائی رکھنے والے ان کی ادائیگی اور با معنی ادائیگی پر قادر ہو سکیں ؟یہ ہمارا آج کا اہم سوال ہے ۔

Image: M. F. Hussain

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

باغِ مذاہب اور امن کی آشا

عبدالباسط ظفر: باغ کے چار حصے ہیں جن میں سے دو ابراہیمی ادیان یہودیت اور اسلام کے لیے مختص ہیں جبکہ بقیہ دو حصوں میں مشرقی مذاہب میں سے ہندومت اور اور بدھ مت کی نمائندگی کی گئی ہے۔

صوفی فکر شدت پسندی کا واحد جواب ہے- اسرار

روحانیت کی اس روایت سے وابستہ ہونا خود کو محدود کرنا نہیں بلکہ اپنی مٹی اور شناخت سے وابستہ ہونے کا نام ہے۔

Lahore Music Meet 2015 in Photos

Lahore Music Meet 2015 that took place on 4th and 5th of April featured performances, talks and workshops covering diverse