ہندوستان میں اردو ادب کی چھوٹی (تنگ) دنیا

ہندوستان میں اردو ادب کی چھوٹی (تنگ) دنیا
میں تنہائی میں کررہا تھا پرندوں سے باتیں
میں یہ کہہ رہا تھا۔۔۔
پرندو! نئی حمد گاؤ
کہ وہ بول جو اک زمانے میں
بھنوروں کی بانہوں پہ اڑتے ہوئے
باغ کے آخری موسموں تک پہنچتے تھے
اب راستوں میں جھلسنے لگے ہیں
نئی حمد گاؤ!
پرندے لگاتار لیکن
پرندے ہمیشہ سے اپنے ہی عاشق
سراسر وہی آسماں چیختے تھے
(میں کیا کہہ رہا تھا؍ن ۔م۔راشد)
ہندوستان میں اس وقت دو تین معاملات ایسے ہیں، جن پر ادیب اپنا اعتراض درج کرارہے ہیں، جن میں پروفیسر کالبرگی کے قتل کا معاملہ بھی اہم ہے اور دادری والا معاملہ بھی۔ مجھے خوشی ہے کہ میں ایک ایسے ملک میں رہتا ہوں، جہاں کوششوں کے باوجود آوازیں دبائی نہیں جاسکتی ہیں اور لوگ سچ کو جاننے اور اس کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ ان کے لیے مذہب اور وطن پرستی پر انسان کے زندہ رہنے، عزت سے زندگی گزارنے اور سوچی ہوئی بات بولنے کی آزادی عطا کرنا مقدم ہے۔ میں ایک ہندوستانی ہوں، میرے کئی ہندو مسلمان دوست ہیں اور سب میرے اپنے ہیں، مجھ سے ہزار قسم کے ذہنی اختلافات ہونے کے باوجود ان میں مجھے برداشت کرنے کی قوت ہے اور مجھے ان کی رسمیں، باتیں نا پسند ہونے کے باوجود وہ عزیز ہیں۔سماجیات کا مسئلہ ایک طرف، لیکن میرے ذہن میں اس وقت کچھ خیالات ہیں، کچھ باتیں ہیں، جو میں کہنا چاہتا ہوں۔
میں ایک ہندوستانی ہوں، میرے کئی ہندو مسلمان دوست ہیں اور سب میرے اپنے ہیں، مجھ سے ہزار قسم کے ذہنی اختلافات ہونے کے باوجودان میں مجھے برداشت کرنے کی قوت ہے اور مجھے ان کی رسمیں، باتیں نا پسند ہونے کے باوجود وہ عزیز ہیں۔
ہندوستان میں اردو جاننے والوں کا حلقہ کم ہے اور ادب سے سچا تعلق رکھنے والوں کی دنیا اس سے بھی چھوٹی ہے۔ میں بھی اسی بہت چھوٹی سی دنیا کا ایک فرد ہوں۔ ہمارا زور دن بدن ٹوٹتا جارہا ہے، اردو کی حالت دگرگوں ہوتی جارہی ہے، اچھا ادب پسند کرنے والوں اور لکھنے والوں دونوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔ اور اس کے قصوروار سب سے زیادہ یہی اردو والے ہیں۔ان کی دنیا چھوٹی ہے یا تنگ ہے؟ اس سوال پر غور کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے پروفیسر کالبرگی کے قتل اور دادری جیسے دل سوز حادثے کے علاوہ بھی ہندوستان میں ایسے واقعات ہوئے ہیں، جن پر حکومت سے جوابدہی کی ضرورت ہے۔ ابھی دلتوں کے ساتھ ناانصافی کا ایک واقعہ سامنے آیا ہے، خاص طور پر اترپردیش میں ان دنوں امن و امان کی حالت اتنی پتلی کیوں ہے؟ اور کیسے کچھ ہلکے ذہن کے لوگوں کو مذہب اور برادری کا سہارا لے کر ایک ہنستے بولتے سماج کے منہ پر تالا لگانے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ کیوں اس سماج میں بے رحمی سے ہونے والے ریپ ختم نہیں ہوتے اور بہت سے لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولتیں نہیں مل پاتیں، ملک کی بہت سی ریاستوں میں ایسے کچے گھروں میں لوگ زندگی گزارنے پر کیوں مجبور ہیں، جن کے گھر کے اندر سورج کی کسی بھی کرن کا داخل ہونا ممکن نہیں ہے۔ جن کے چولہے ٹھنڈے ہیں اور جن کے پیٹ اور پیٹھ کا فرق روزبروز کم ہوتا جارہا ہے۔ ان ساری باتوں کو سننے، جاننے اور سمجھنے کے باوجود کیا ساری ذمہ داری ان ٹی آر پی بیسڈ چینلوں کو دے دی جائے گی، جن کا ایک کارندہ مائیک کو مٹھی میں کسے ہمیں کبھی اس تباہی کی سیر کروائے گا کبھی اس تباہی کی اور ہم اپنے گھروں میں کمبل میں دبکے مونگ پھلیاں چھیلتے ہوئے صرف حکومت کی اس اندیکھی پر ’’چچ چچ چچ ‘‘ کرتے رہیں گے۔
اس وقت بہت سے لوگوں کے سامنے مسئلہ صرف عدم برداشت کا ہے، اور اس عدم برداشت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوارڈ واپس کیے جارہے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ ایوارڈ واپس کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، حکومت کسی اور کا منہ ان رقموں سے بھر دے گی اور کوئی تیسرا سستا ادیب اٹھ کر جھٹ سے اس خالی ہونے والی کرسی پر بیٹھ جائے گا، ابھی نہ سہی،کچھ دیر میں سہی۔ میرے خیال میں ہندوستان کی سیاست کی تاریخ میں یہ وقت سب سے زیادہ توجہ طلب ہے، جب اتنی بڑی تعداد میں ادیبوں کا غصہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔ شاید اس لیے کہ ایک ادیب دن دیہاڑے قتل کردیا گیا، ایک محقق اپنی دہلیز پر مارا گیا، ایک بولنے والا خاموش کردیا گیا۔ اس ’حرف گیری‘ کی تحریک میں میں ان لوگوں کی جانب ہوں، جو آواز اٹھا رہے ہیں، ایوارڈ واپس کررہے ہیں، کچھ بول رہے ہیں۔ چاہے یہ ایوارڈ ٹی وی یا اخبار میں جگہ دینے والے ایک چھوٹے سے انٹرویو کی ہوس میں ہی کیوں نہ واپس کیا جارہا ہو، چاہے یہ ایک فیشن ہی کیوں نہ بن گیا ہو۔ویسے بھی کچھ لو کچھ دوکی اس دنیا میں جہاں خاموشی کے بدلے اگر سینکڑوں فائدے مل سکتے ہیں تو کچھ بولنے کا بھی تھوڑا بہت فائدہ تو ہونا ہی چاہیے۔
کہ ہندوستان وہ ملک رہ چکا ہے، جہاں کے اردو شاعروں نے ایک دوسرے کے مذاہب کی کتابوں کا ترجمہ کرتے وقت ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا خیال رکھا، مسلمانوں نے ہندوؤں کی مقدس کتابوں کے ترجمے پر ہے رام اور ہے ہنومان لکھتے وقت اور ہندو ادیبوں نے مسلمانوں کے مذہبی تراجم پیش کرتے وقت بسم اللہ لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی
اردو والوں میں ابھی تک ایوارڈ واپس کرنے والے اور بولنے والے ادیبوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ منہ میں جمے ہوئے اس دہی کا نظارہ کرتے ہوئے اپنا منہ بھی تھوڑا بہت کھٹا ہوہی جاتا ہے۔میرے علم کے مطابق رحمٰن عباس اور شمیم عباس کے علاوہ شاید اکا دکا ادیبوں نے ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے، جن پر اردو والے آپس میں چہ میگوئیاں کررہے ہیں، اور کچھ زیر لب مسکرابھی رہے ہیں۔ مگر اس چھوٹی سی دنیا کی تنگی کا اندازہ تب ہوتا ہے جب گیان چند جین کی کتاب ایک بھاشا دو لکھاوٹ دو ادب پر جذباتی قسم کا لمبا چوڑا جواب دینے والے چپ سادھے بیٹھے رہتے ہیں، اپنی کتابوں میں سیکولر ہندوستان کی تصویر پیش کرنے والے ایک سنہری تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہندوستان وہ ملک رہ چکا ہے، جہاں کے اردو شاعروں نے ایک دوسرے کے مذاہب کی کتابوں کا ترجمہ کرتے وقت ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا خیال رکھا، مسلمانوں نے ہندوؤں کی مقدس کتابوں کے ترجمے پر ہے رام اور ہے ہنومان لکھتے وقت اور ہندو ادیبوں نے مسلمانوں کے مذہبی تراجم پیش کرتے وقت بسم اللہ لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی اور پھروہی ایک ایسے واقعے پر خاموشی کی ٹوکری سر پر رکھ لیتے ہیں جس میں ایک انسان کو اس کے مذہب کے مطابق حلال سمجھی جانے والی شے کو کھانے کے الزام میں پیٹ پیٹ کر ماردیا گیا۔
اردو کے کسی ایک معروف ادیب نے اب تک اپنی چپ نہیں توڑی ہے اور اس معاملے پر کوئی بھی ذمہ دارانہ بیان نہیں دیا ہے۔آگے کا مجھے علم نہیں، مگر پیچھے کا افسوس ضرور ہے۔ افسوس ہوتا ہے کہ یہ عجیب لوگ ہیں کہ ان کا ادب زندگی سے کتنا کٹا ہوا ہے، ان کے لیے اپنی زندگی کے علاوہ، اپنے فائدے کی بات کے علاوہ، اپنی مجبوریوں اور مصالت کے اظہار کے علاوہ کوئی بھی دوسری چیز اہمیت نہیں رکھتی ہے۔ یہ اس تنگ ادبی دنیا کے رہنے والے ہیں، جہاں اخباروں میں اپنے بارے میں خبر ڈھونڈنے، اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا دانش ورسمجھنے اور اپنے حریفوں اور کم عمروں کی کھلی اڑانے کارواج ہے۔ جہاں سچ بولنے کی ضرورت سمجھی ہی نہیں جاتی، جہاں ادیب ہونے کا صرف ایک مطلب رہ جاتا ہے کہ موقع ملے تو خود بھی فائدہ اٹھاؤ اور اپنے قریبی لوگوں، شاگردوں کو فائدہ حاصل کرواؤ۔ ان کے لیے اچھا ادب وہ ہے جو یا تو کہیں نہ کہیں ان کے نظریات کی تائید کرتا ہو، یا پھر ان کی بے تحاشا تعریف میں لکھا گیا ہو۔ یہ اپنے پروں میں منہ دیئے اونگھتی ہوئی اس مرغی کے مشابہ ہیں، جن کو اپنی اپنی کرسیاں اتنی عزیز ہیں کہ یہ خوب جانتے ہیں کہ کس معاملے میں کب بولنا ہے، کتنا بولنا اور کیوں بولنا ہے اور کس کی طرف سے بولنا ہے۔ ان ادیبوں کے پیٹ کی داڑھیاں اس وقت نمایاں ہوتی ہیں جب گیان چند کی کتاب کا جواب دینا ہوتا ہے، ان کے ماتھے کا تلک تب روشن ہوتا ہے جب مدرسے میں تعلیم پارہے بچوں کو گالیاں دینا ہوتا ہے، مگر یہ تب بالکل خاموش رہتے ہیں جب زندگی نالیوں میں بہائی جارہی ہوتی ہے۔ ان کو زعم ہے کہ انہوں نے اردو میں تب لکھنا پڑھنا شروع کیا تھا جب ہندوستان میں اردو کو غدار زبان سمجھا جارہا تھا، لیکن آج ان کی تمام تر قوت اظہار سلب کرلی گئی ہے جب ادیب کو صرف غدار نہیں کہا جارہا بلکہ اسے ختم کردیا جارہا ہے، اسے اسی کے گھر پر مارا جارہا ہے۔ یہ بہت اچھے ادیب ہیں، یہ سماج میں رہنے والے تمام مذاہب کی عزت کرتے ہیں، کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتے، اس لیے یہ خاموش ہیں، کیونکہ ان کے لیے ان کا ادبی قد ایک کعبے کی صورت اختیار کرگیا ہے، جو لاکھوں کو اپنے سامنے جھکا سکتا ہے، مگر کسی ابرہہ کے ہاتھوں شہید ہونا اسے منظور نہیں۔
ان ادیبوں کے پیٹ کی داڑھیاں اس وقت نمایاں ہوتی ہیں جب گیان چند کی کتاب کا جواب دینا ہوتا ہے، ان کے ماتھے کا تلک تب روشن ہوتا ہے جب مدرسے میں تعلیم پارہے بچوں کو گالیاں دینا ہوتا ہے، مگر یہ تب بالکل خاموش رہتے ہیں جب زندگی نالیوں میں بہائی جارہی ہوتی ہے
میں لعنت بھیجتا ہوں ایسے تہذیبی نظام پر جہاں ادب اس کال کوٹھری کا نام ہو، جہاں روشن خیالی کی لہر تک نہ پہنچے، جہاں انسان کو کچھ بولنے، کہنے یا سننے سے پہلے بہت حد تک اپنے امیج کا خیال کرنا پڑتا ہو۔ جہاں کسی ادارے سے جڑے رہنے اور اس کے اکابرین کوخوش رکھنے کے لیے فسطائیت پرستوں کی حرکتوں پر خاموش رہنا بہتر خیال کیا جاتا ہو۔ میرے لیے تمل ، کنڑ، مراٹھی، گجراتی، بنگالی اور پنجابی میں لکھنے والا ادیب بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنا اردو، ہندی یا انگریزی میں لکھنے والا۔ میں جن آیتوں اور اشلوکوں کو مقدس نہیں مانتا، ان کی تعظیم مجھ پر فرض نہیں ہے، ان پر میرے جائز اعتراضات کو آپ اپنے مذہب کی توہین نہیں قرار دے سکتے، اگر بات بری لگتی ہو تواپنے کانوں پر ہاتھ رکھیے، میرے ہونٹوں پر نہیں۔ مذہب پر اعتراض کسی پر ذاتی حملہ نہیں ہے، یہ اسی طرح کا مخالفانہ اظہار ہے، جس طرح آپ آئے دن اپنے عمل سے دوسرے مذاہب کے خلاف اپنے نظریات کا کھلم کھلا اظہار کرتے رہتے ہیں۔جب اسے توہین نہیں سمجھا جاتا، تو اسے کیوں سمجھا جائے۔
میں ادب برائے زندگی کا قائل نہیں ہوں، مگر وہ زندگی پیش تر از ادب کا قائل ضرور ہوں۔تجریدیت، ابہام یہ سب ادب کا حصہ ہیں، مگر زندگی کی گتھی ادب کی طرح جتنی الجھی ہوئی ہو، اتنی ہی اچھی معلوم ہو یہ ضروری نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم بولیں، آواز اٹھائیں، چاہے ہماری آواز کتنی ہی منحنی ہویا صدا بصحرا کی سی حیثیت کیوں نہ رکھتی ہو کیونکہ چیخ توتب بھی نکلتی ہے جب صحرا میں بچھو ڈنک ماردیتے ہیں۔ دوسری زبان کے ادیبوں کی طرح ہندوستان کے اردو ادیبوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے غم میں برابر کے شریک رہیں، کیونکہ ہماری زبانیں الگ ہوسکتی ہیں، ہمارے مسائل بہت الگ نہیں ہیں، اور اگر ہوں بھی تو بھی ہمیں انہیں سمجھنے اور ان کو ختم کرنے کے زاویوں پر غور کرنا چاہیے۔ ہندوستان میں رہنے والے اردو کے ادیب بندڈبوں میں رہتے ہیں، انہیں تازہ ہوا کی ضرورت ہے، انہیں اپنے اداروں پر یہ ذمہ داری عائد کروانی چاہیے کہ وہ ترجمے کی ایک بڑی تحریک شروع کریں اور دوسری مقامی زبانوں کے ادب کو اردو میں منتقل کریں، یہ صرف ادب کا ہی نہیں سماجیات کے مطالعے کا بھی ایک پہلو ہے، اس سے دوسرے سماجوں پر پڑنے والے سیاسی اثرات کا بھی علم ہوتا ہے۔ان کے ذہنوں، ان کے مزاجوں سے آگاہی ہوتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ زبانوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے اور لوگ بھی بالغ ہوتے ہیں، بصورت دیگر ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے، کہ کونے میں بیٹھ کر لکھے، پڑھے جاؤ اور اپنے ادب کو ادب عالیہ سمجھو۔ آخر اظہار رائے کی آزادی کا مطالبہ قتل جیسی سنگین واردات پر ہی کیوں ہو، کیا یہ ’ون پارٹ وومن‘ جیسے ناولوں پر پابندی لگائے جانے پر نہیں کیا جاسکتا، جس کے مصنف پیرومل مورگن کو اس سماج کی بے ہودہ ہا ہا کار سے تنگ آکر ساری زندگی کے لیے اپنے قلم کی نوک توڑلینے مجبور ہونا پڑگیا تھا۔
Tasneef Haider

Tasneef Haider

Tasneef Haider is running Adabi Dunya. He is working as a freelance scriptwriter and trying to promote Urdu literature through internet.


Related Articles

کانچ اور پتھر

شہزادی کی سواری محل واپس جانے کے لیے دریا پر سے گزری تو لکڑہارے کے ٹکڑے پل پر بچھائےجا رہے تھے ۔

مونچھ نامہ

سارے مردوں کی طرح ہمیں بھی اپنی مردانہ خوب صورتی پر ناز ہے، اور ناز بھی کیوں نہ ہو، ہمارے پاس دو عدد اور بحیثیت مجموعی ایک عدد گھنی سیاہ تاو دار مونچھیں جو ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ مونچھ تو مرد کی شان، ٓان بان، پہچان، مان، پران، جان اور کبھی کبھی بلائے جان بھی ہوا کرتی ہے، اف ! ایسا حسن جو سنبھالے نہ سنبھلتا ہو ۔ تو بس ہمارے لیے بھی ہماری مونچھیں ایسی ہی تھیں جو باتوں سے نہیں بنتیں۔

امتناع کا مہینہ - اختر حسین جعفری

اس مہینے میں غارت گری منع تھی، پیڑ کٹتے نہ تھے، تیر بکتے نہ تھے