ہیلے کالج کا گرفتار طالب علم پوچھ گچھ کے بعد رہا

ہیلے کالج کا گرفتار طالب علم پوچھ گچھ کے بعد رہا
ہیلے کالج آف کامرس جامعہ پنجاب کے پشتون طالب علم عتیق آفریدی کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ عتیق آفریدی کو گزشتہ ہفتے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے روابط کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی نے کارروائی کرتے ہوئے پیلے کالج پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم عتیق آفریدی کو گرفتار کیا تھا۔ عتیق آفریدی پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے روابط کا الزام تھا۔ محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق عتیق آفریدی خیبر ایجنسی سے تعلق رکھتا ہے اور اسے پنجاب یونیورسٹی کی حدود سے جمعہ 11 مارچ کو چھاپہ مار کر گرفتار کیا گیا تھا۔

عتیق آفریدی کو جمعے کے روز مار پیٹ کے الزام کے تحت یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے پیش کیا گیا تھا جہاں اس نے مبینہ طور پر بیت اللہ محسود اور نیک محمد کو اپنا رہنما قرار دیا تھا اور ان کی موت کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی آفیسر میجر ریٹائرڈ سلیم کے مطابق عتیق آفریدی کا تعلق پشتون ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ موومنٹ سے ہے۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

مدارس کا نصاب تبدیل کیے بغیر شدت پسندی کی روک تھام ممکن نہیں

ماہرین تعلیم کے مطابق جب تک مذہبی تعلیم کا نصاب تبدیل نہیں کیا جائے گا تب تک شدت پسند نظریات کی ترویج جاری رہے گی۔

بہاوالدین زکریا یونیورسٹی؛ داخلوں کے لئے بلا اجازت اشتہاراور طلبہ کے لیے مشکلات

محمد شعیب     بہاوالدین زکریا یونیورسٹی لاہور کیمپس میں مختلف تعلیمی پروگراموں میں داخلے کے لئے ہائرایجوکیشن کمیشن سے

خیبر پختونخواہ؛ علاقائی زبانوں کی تدریس تعطل کا شکار

خیبر پختونخواہ میں علاقائی زبانوں کی تدریس کا درسی کتب تیار نہ ہونے کے باعث تعطل کا شکار ہے۔ صوبہ بھر میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کے دوران انٹرمیڈیٹ کی سطح تک 2012 میں پشتو، ہندکو، چترالی، کوہستانی اور سرائیکی کی لازمی تدریس شروع کی تھی ۔