یاد ایک جھولنا ہے

یاد ایک جھولنا ہے

یاد ایک جُھولنا ہے
جس میں جُھولتا ہے دم بہ دم
ترا بدن مرا بدن
کہ جیسے تیز پانیوں پہ تیرتی ہے
رات بھر
یہ خواب سے اور اصل سے جڑی
حیاتِ جاوداں

تمام رات آسماں تھپکتا ہے
ہر ایک تارے کی کمر
دمِ سحر غلافِ شب لپیٹ لے
جو دن جا چکا ہے اور دوپہر کا وقت ہے

تو رات کے طلسمی جال سے بہت ہی دور
جُھولنے میں پاؤں
جُھولتے ہیں روز و شب
جو گفتگو کا ورد ہے
ترا بدن مرا بدن

جو رات میں اتر رہا ہے دم بہ دم
جو ذات میں اتر رہا ہے دم بہ دم

یہ تیز پانیوں کا اک جو شور ہے
جو رقص آب میں ہے محو
خواہشوں کی جھیل کے کناروں پر چھلک رہا
طویل گفتگو کا ورد ہے
ترا بدن مرا بدن


Related Articles

Mercy Killing

نسرین انجم بھٹی: ماں گنگا نے بتایا!
شیردل بڑابیٹا تھا۔۔۔مست سندھو
جو صدیوں کو خاطر میں نہیں لاتا تھا پر اب
ریت اُس پر چل دوڑی ہے

سرمئی شام میں گھٹی چیخیں

میں نے سنا ہے
ایک شام ہے سرمئی سی سبز قدم
جو آتی جاتی رہتی ہے
اس شام نے مستقل
مجھے دیوار چنا ہے

گیلیلو کو سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے

ثروت زہرا: پھر سے سچ کو
منصور کی سولی کی رسیوں میں پڑی گرہیں
کھولنے کی ضرورت پڑ گئی ہے